امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک

بیوی بچوں پر زبردستی کرنا

0 ووٹ دیں 00.0 / 5

 امر بالمعروف
۱سوال: کیا مرد حجاب کے لیے بیوی بچوں پر زبردستی کر سکتا ہے؟
جواب: نہیں، وہ حجاب کے لیے بیوی پر زبردستی نہیں کر سکتا، ہاں گھر سے باہر نکلنے پر پابندی لگا سکتا ہے اور حجاب کے ساتھ باہر جانے کی شرط کر سکتا ہے۔ اسی طرح سے بالغ لڑکیوں کو بھی حجاب کے لیے مجبور نہیں کر سکتا، انہیں نصیحت اور امر بالمعروف کے ذریعہ اس کام سے روک سکتا ہے۔
۲سوال: کیا مفید ہونے اور ضرر نہ ہونے کی صورت میں، غیر شیعہ اور کافر کو امر بالمعروف و نہی عن المنکر کرنا واجب ہے؟
جواب: ہاں، تمام شرائط پائے جانے کی صورت میں واجب ہے۔ اس کی شرطوں میں سے ایک شرط یہ ہے کہ وہ شخص گناہ کرنے یا واجب ترک کرنے سے معذور نہ ہو اور جاہل مقصر بھی نہ ہو، پہلے اسے نصیحت کرے، اس کے بعد اگر وہ باز نہیں آ رہا ہو تو امر بالمعروف کرنا واجب ہے اور ضروری ہے کہ اسے ایسی چیز سے روکا جائے جس کے ارتکاب سے شارع مقدس قطعا راضی نہیں ہو جیسے زمین پر فساد پھیلانا، قتل و خون ریزی کرنا وغیرہ، ان کاموں سے روکنا ضروری ہے اگر چہ اس کا انجام دینے والا جاہل قاصر ہی کیوں نہ ہو۔
۳سوال: امر بالمعروف اور نہی از منکر کے کیا شرایط ہیں؟
جواب: امر بالمعروف اور نہی ا‍‌‎ز منکر کے واجب ہونے میں مندرجہ ذیل شرایط لازم ہیں:
۱۔ معروف اور منکر کی ۔گر چہ اجمالا۔ شناخت ہونا، اس بنا پر جو شخص معروف اور منکر کی شناخت نہیں رکھتا، اور ان کو ایک دوسرے سے تشخیص نہیں دے سکتا،اس پر امر بالمعروف اور نہی از منکر واجب نہیں ہے، ہاں کبھی امر بالمعروف اور نہی از منکر کرنے کے لیے معروف اور منکر کی شناخت حاصل کرنا واجب ہو جاتا ہے۔
۲۔ احتمال تا‎‌‍ثیر دے رہا ہو ، اس بنا پر اگر اس کی بات کا سامنے والے پر اثر نہں ہوگا تو مجتہدین کے درمیان مشہور ہے کہ اس صورت میں امر بالمعروف اور نہی از منکر واجب نہیں ہے، لیکن احتیاط واجب ہے کہ ایسے شخص کے غلط کاموں سے ناراضگی اور کراہت کا اظہار کرے گر چہ معلوم ہو کہ اس پر کوئی اثر نہیں ہوگا۔
۳۔ وہ شخص اپنے غلط کاموں کو تکرار کرنے کا قصد رکھتا ہو، اس بنا پر اگر اپنے غلط کام کو دوبارہ تکرار نہ کرنا چاہتا ہو تو امر بالمعروف اور نہی از منکر واجب نہں ہے۔
۴۔ غلط کام کرنے والا اپنے کام میں معذور نہ ہو مثلا یقین رکھتا ہو جو کام انجام دیا ہے حرام نہیں تھا یا جو کام ترک کیا ہے واجب نہیں تھا، ہاں اگر منکر ایسے کاموں میں سے ہو کہ شریعت اس کے انجام دینے سے راضی نہ ہو مثلا قتل نفس محرم ( جس کا قتل کرنا حرام ہے) اس سے روکنا واجب ہے، گرچہ انجام دینے والا معذور ہو، بلکہ اگر مکلف بھی نہ ہو۔
۵۔ امر بالمعروف اور نہی از منکر کرنے والے کے لیے قابل توجہ جانی، مالی یا عرضی خطرہ اور غیر قابل تحمل مشقت اور دشواری نہ ہو، مگر یہ کہ وہ معروف ۔ نیک یا منکر۔ بد کام شریعت کے نظر میں اتنا مہم ہو کہ اس کے لیے ضروری ہے کہ ضرر اور دشواریاں تحمل کی جایے۔
اور اگر خود امر بالمعروف اور نہی از منکر کرنے والے کے لیے ضرر نہ ہو لیکن دوسرے مسلمین کے لیے قابل توجہ جانی، مالی یا عرضی ضرر رکھتا ہو تو امر بالمعروف اور نہی از منکر واجب نہیں ہوگا بلکہ اس صورت میں ضرر کی اہمیت اور اس کام کو مقایسہ کیا جائے گا کے بعض اوقات ضرر کی صورت میں بھی امر بالمعروف اور نہی از منکر ساقط نہیں ہوگا۔

آپ کا تبصرہ شامل کریں

قارئین کے تبصرے

کوئی تبصرہ موجودنہیں ہے
*
*

امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک