امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک

تعقیبات

0 ووٹ دیں 00.0 / 5

تعقیبات دعاؤں، اذکار اور بعض قرآنی آیات کے مجموعے کو کہا جاتا ہے جنہیں روزانہ کی نمازوں کے بعد پڑھنا مستحب ہے۔

تعقیبات نماز میں سے بعض مشترک ہیں جنہیں ہر نماز کے بعد ان کا پڑھنا مستحب ہے۔ جبکہ روزانہ کی نمازوں کے لئے الگ الگ دعائیں اور اذکار بھی نقل هوئے ہیں جن کی تاکید کی گئی ہے۔ حضرت زہراءؑ کی تسبیح، آیت الکرسی اور سجدہ شکر مشہور تعقیبات میں سے ہیں۔

تعریف
تعقیبات کے معنی لغت میں کسی شخص یا چیز کے پیچھا کرنا یا پیچھے پڑنے کے ہیں۔[1] فقہی اصطلاح میں مستحب اعمال کے اس مجموعے کو کہا جاتا ہے جنہیں بعض عبادات کے بعد انجام دئیے جاتے ہیں۔ اسی طرح ان دعاؤں اور اذکار کو بھی تعقیبات کہا جاتا ہے جنہیں نماز کے بعد پڑھے جاتے ہیں۔[2]

ایک روایت کے مطابق تعقیبات کی تعبیر امام صادقؑ سے نقل ہوئی ہے[3] اس کے بعد صدیوں سے یہ یہی تعبیر رائج ہے۔

قرآن میں
بعض مفسرین سورہ انشراح کی دو آیات:

فَإِذَا فَرَغْتَ فَانصَبْ ﴿۷﴾ وَإِلَیٰ رَبِّک فَارْغَب ﴿۸﴾[؟–؟] [4]

کو تعقیبات کے بارے میں جانتے ہیں۔[5]

بعض مفسرین جیسے ابن عباس نے، آیت شریفہ:

وَمِنَ اللَّیلِ فَسَبِّحْهُ وَأَدْبَارَ السُّجُودِ ﴿۴۰﴾[ ق–۴۰][؟–؟] [6]

کو نماز کے بعد تسبیح یا تعقیبات کے بارے میں قرار دیتے ہیں، لیکن اہل سنت کے بعض مفسرین نے اس آیت کی تفسیر روزانہ کی واجب نماز کے بعد والے نوافل سے کی ہے۔ [7] تطوع کے اسی معنی کو ایک اور نماز کے بعد جسے اہل سنت کی اہم فقہی متون میں تعقیب کی اصطلاح میں استعمال کیا ہے۔ [8]

بعض حدیثی منابع میں واجب نمازوں کے بعد بعض سورتوں کے پڑھنے کی سفارش آئی ہے من جملہ ان میں معوذات [9]، سورہ یسں[10] اور آیت الکرسی [11] قابل ذکر ہیں۔

تعقیبات کی فضیلت میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی مومن نماز کے بعد اتنی دیر تک تعقیبات میں مصروف رہے کہ دوسری نماز کا وقت ہو جائے تو اس دوران وہ خدا کا مہمان ہے اور خدا پر ضروری ہے کہ اپنے مہمان کی عزت کرے۔ [12]

تعقیبات نماز کے اذکار
نماز کے بعد مختلف اذکار کی سفارش ہوئی ہیں جن میں سب سے زیادہ مشہور ذکر تسبیحات حضرت زہراء(س) ہے، جس کا طریقہ یہ ہے ٣٤ بار "اللہ اکبر"، ٣٣ بار "الحمد للہ" اور ٣٣ بار "سبحان اللہ" پڑھا جائے۔[13] اس کے علاوہ تمجید، حمد، تسبیح، تہلیل اور حضور(ص) پر صلوات پر مشتمل مختلف اذکار کی تاکید کی گئی ہے۔ [14]

روایات اور فقہی کتابوں میں بھی اس سلسلے میں مختلف مأثورہ دعائیں اور اذکار نقل ہوئے ہیں امامیہ منابع وارد ہونے والے اذکار اور دعاؤوں میں سب سے مشہور ذکر یہ ہے۔"لا اله الا الله وحده وحده۔۔۔‌" [15] اسی طرح دعائے "اللهم انی اسألک من کلِ خیرٍ احاط بِه علمک۔۔۔‌" کی بھی احادیث میں تاکید ہوئی ہے۔ [16]

مشترک دعاؤں کے علاوہ روزانہ کی ہر نماز کے لئے، مخصوص دعا بھی بیان ہوئی ہے۔ [17] بعض دوسرے منابع میں آیا ہے کہ نمازی جس چیز کا نیاز مند ہے، وہ خدا سے طلب کرے اور دعا کرے۔ [18]

روایات میں کہا گیا ہے کہ واجب نماز کے بعد دعا پڑھنا، نوافل بجا لانے سے زیادہ افضل ہے۔ [19] روایات کے مطابق واجب نمازوں بالخصوص صبح، ظہر اور مغرب کے بعد کی جانے والی دعا مستجاب ہوتی ہے۔ [20] بعض فقہی منابع اس نکتہ کی تاکید کرتے ہیں کہ اذکار اور ماثور دعائیں غیر ماثور دعاؤں پر فضیلت رکھتی ہیں۔ [21]

سجدہ شکر اور تعقیبات نماز
تفصیلی مضمون: سجدہ شکر
احادیث میں نماز کے بعد جن چیزوں کی تاکید ہوئی ہے ان میں سے ایک سجدہ شکر ہے۔ سجدہ شکر میں سو بار شکر بجالانا یا سو بار عفو(بخشش) کی درخواست کرنے کی تاکید ہوئی ہے۔ [22] بعض منابع میں سجدہ شکر کو شیعوں کی خصوصیات میں سے قرار دیا گیا ہے۔ [23] حالانکہ اصل میں سجدہ شکر شیعہ اور اہل سنت کا مشترک عمل ہے، بعض اہل سنت علماء کے مطابق سجدہ شکر نماز کے بعد ادا کرنا، بدعت کے خوف کی وجہ سے ہے اور اس کو نماز میں داخل کرنا مکروہ ہے۔ [24]

نماز کی تعفیر اور تعقیب
تعقیبات کے ختم ہونے پر جن عبادی آداب کی تاکید ہوئی ہے، وہ تعفیر ہے اور وہ ایسی حالت ہے جب نمازی اپنی گالوں کو زمین پر رگڑتا ہے۔ [25] اسی طرح یہ بھی تاکید ہوئی ہے کہ نمازی تعفیر کی حالت میں، اپنے سینے، پیٹ کو بھی زمین کے ساتھ لگائے۔ [26]

نماز جماعت کے بعد والے اعمال
نماز جماعت کے باب میں تاکید ہوئی ہے کہ امام جماعت جب تک سارے نمازیوں کی نماز ختم نہ ہو تسبیح میں مشغول رہے، لیکن مجموعی طور پر تعقیبات کو مختصر کرنے کی سفارش ہوئی ہے۔[27] اہل سنت کی روایات میں خصوصاً رمضان میں لوگوں کی تھکاوٹ کو مد نظر رکھتے ہوئے نماز کے بعد تعقیبات کو مکروہ قرار دیا گیا ہے۔ [28] اور بعض اوقات "اطالہ قعود" (زیادہ بیٹھنا) امام جماعت کے لئے مکروہ ہے۔[29]

فقہی منابع میں
فقہی منابع میں تعقیبات کی بحث بہت مختصر بیان ہوئی ہے۔ [30] حالانکہ بعض دوسرے متون جن میں نماز کے مستحبات پر زیادہ توجہ دی گئی ہے، تعقیبات کے پر بھی تفصیلی بحث کی گئی ہے۔ [31]

شیعہ منابع میں جس قدر دعائیں اور ذکر دیکھنے کو ملتے ہیں، اہل سنت منابع میں اتنی نہیں ہے۔ انکے متعدد منابع میں بعض ماثور اور غیر ماثور دعاؤں کو نماز کے بعد پڑھنا مستحب کہا گیا ہے۔ حالانکہ انکے بعض منابع میں نماز کے بعد بیٹھنا اور ذکر و دعا میں مشغول ہونے کو بدعت اور نماز کے مستحبات میں داخل ہونے کی خوف سے مکروہ کہا گیا ہے۔ [32]

تالیف
بعض فقہی کتابیں تعقیبات کے موضوع پر بھی لکھی گئی ہیں جن میں سے بعض یہ ہیں: "التعقیب و التعفیر" کے عنوان سے ایک رسالہ جس کا مولف ابوالعباس ابن نوح سیرافی ہے۔ [33]، ابن فہد حلی کا رسالہ جس کا عنوان "الفصول فی دعوات اعقاب الفرائض"،[34] اور محقق کرکی کا رسالہ ہے۔ [35]

حوالہ جات
1.    - لغت نامہ دہخدا، فرہنگ لغت عمید، فرہنگ فارسی معین۔
2.    -لغت نامہ دہخدا، فرہنگ لغت عمید، فرہنگ فارسی معین۔
3.    -کلینی، الکافی، ج ۳، ص ۳۴۱؛ ابن بابویہ، من لایحضره الفقیہ، ج ۱، ص ۳۲۹۔
4.    -انشراح/۸/۹۴-۷۔
5.    - نک: طبری، التفسیر، ج ۳۰، ص ۲۳۷-۲۳۶؛ طبرسی، مجمع البیان، ج ۱۰، ص ۳۹۱؛ ابن قدامہ، المغنی، ج ۱، ص ۲۷۳؛ صاحب جواہر، جواہر الکلام، ج ۱، ص ۳۹۰۔
6.    - ق/۵۰/۴۰۔
7.    - نک: طبری، التفسیر، ج ۲۶، ص ۱۸۲؛ ابن کثیر، تفسیر القرآن العظیم، ج ۴، ص ۲۳۱۔
8.    -نک: ابن قدامہ، المغنی، ج ۱، ص ۴۵۷؛ ابن مفلح، المبدع، ج ۲، ص ۱۹۔
9.    -احمد بن حنبل، مسند، ج ۴، ص ۱۵۵ و ۲۰۱؛ ابو داوود سجستانی، السنن، ج ۲، ص ۸۶۔
10.    -شیخ بہایی، مفتاح الفلاح، ص ۱۱۷۔
11.    - ابن کثیر، تفسیر القرآن العظیم، ج۱، ص۳۰۸۔
12.    - کلینی، الکافی، ج ۳، ص ۳۴۱۔
13.    - کلینی، الکافی، ج ۳، ص ۳۴۳-۳۴۲؛ ابوالصلاح حلبی، الکافی، ص ۱۲۴؛تسبیحات کے بعد کے ذکر کے لئے، نک: طوسی، النهایه، ص ۸۵۔
14.    - کلینی، الکافی، ج ۳، ص ۳۴۱۔
15.    - ابوالصلاح حلبی، الکافی، ص ۱۲۴؛ طوسی، النهایہ، ص ۸۵-۸۴؛ قس: مسلم بن حجاج، صحیح، ج ۲، ص ۸۸۸؛ ابو داوود سجستانی، السنن، ج ۲، ص ۱۸۴۔
16.    - کلینی، الکافی، ج ۳، ص ۳۴۳؛ ابن بابویہ، من لایحضره الفقیہ، ج ۱، ص ۳۲۳؛ دوسری دعاؤں کے لئے، نک: کلینی، الکافی، ج ۳، ص ۳۴۶-۳۴۳؛ ابن بابویہ، من لایحضره الفقیہ، ج ۱، ص ۳۲۵-۳۲۴ و ۳۲۸-۳۲۷۔
17.    -ابن بابویہ، من لایحضره الفقیہ، ج ۱، ص ۳۲۷-۳۲۶؛ ابوالصلاح حلبی، الکافی، ص ۱۲۴؛ طوسی، مصباح المتہجد، ص ۲۰۰؛ ابن طاووس، فلاح السائل، ۱۷۱-۱۷۰؛اس بارے میں مستقل رسالہ، نک: آقابزرگ، الذریعہ، ج ۴، ص ٢١٨
18.    -ابوالصلاح حلبی، الکافی، ص ۱۲۴؛ محقق حلی، المعتبر، ج ۲، ص ۲۴۸۔
19.    -کلینی، الکافی، ج ۳، ص ۳۴۲؛ علامہ حلی، نهایۃ الاحکام، ج ۱، ص ۵۱۰۔
20.    -کلینی، الکافی، ج ۳، ص ۳۴۵-۳۴۳۔
21.    -محقق حلی، المعتبر، ج ۲، ص ۲۴۸۔
22.    -کلینی، الکافی، ج ۳، ص ۳۴۴؛ ابن بابویہ، من لایحضره الفقیہ، ج ۱، ص ۳۳۴-۳۲۹۔
23.    -ابن بابویہ، من لایحضره الفقیہ، ج ۱، ص ۳۳۱۔
24.    -نک: ابن عابدین، رد المحتار، ج ۱، ص ۴۵۲؛ حصکفی، الدر المختار، ج ۲، ص ۱۱۹۔
25.    -ابن بابویہ، من لایحضره الفقیہ، ج۱، ص۳۳۲؛ ابوالصلاح حلبی، الکافی، ص۱۲۴۔
26.    -یحیی بن سعید حلی، الجامع للشرایع، ص۷۸۔
27.    -کلینی، الکافی، ج۳، ص۳۴۱۔
28.    -ابن ابی شیبہ، المصنف، ج۲، ص۱۶۸-۱۶۷۔
29.    -نک: ابن مفلح، المبدع، ج۲، ص۹۳؛ مرداوی، الانصاف، ج۲، ص۲۹۹۔
30.    -محقق حلی، شرائع الاسلام، ج۱، ص۹۰؛ علامہ حلی، تبصره المتعلمین، ص۴۹؛ شہید ثانی، الروضہ البهیہ، ج۱، ص۳۹۶-۳۹۵۔
31.    -شہید اول، الالفیہ، ص۱۲۹ کے بعد؛ قمی، غنائم الایام، ج۳، ص۸۷ کے بعد؛ نراقی، مستند الشیعہ، ج۵، ص۳۹۲ کے بعد؛ صاحب جواہر، جواہر الکلام، ج۱، ص۳۹۰ کے بعد۔
32.    -نک: ابن تیمیہ، کتب و رسائل و فتاوی، ج۲۲، ص۵۱۹-۵۱۸ و ج۲۴، ص۲۲۲؛ ابن مفلح، الفروع، ج۲، ص۱۱۶۔
33.    -نجاشی، الرجال، ص۸۷-۸۶
34.    -چ سنگی در حاشیہ مکارم الاخلاق، ۱۳۴۱ق
35.    -اس موضوع پر دوسرے متون مختلف زبانوں عربی، فارسی، اردو و گجراتی، نک: آقابزرگ، الذریعہ، ج۳، ص۱۲ و ج۴، ص۲۱۹-۲۱۸ و ج۶، ص۳۹۳ و ج۱۰، ص۳۲ و ج۱۱، ص۴۷ و ج۱۲، ص۹۵- ۹۳ و ج۱۵، ص۶ و ج۲۲، ص۱۷ و ج۲۵، ص۱۱۵-۱۱۴۔
ماخذ
o    قرآن کریم ترجمہ محمد حسین نجفی۔
o    ابن ابی شیبہ، عبداللہ، المصنف، کمال یوسف حوت کی کوشش، ریاض، ۱۴۰۹ھ۔
o    ابن بابویہ، محمد، من لایحضرہ الفقیہ، علی اکبر غفاری کی کوشش، قم، ۱۴۰۴ھ۔
o    ابن تیمیہ، احمد، کتب و رسائل و فتاوی، بہ کوشش عبدالرحمان محمدقاسم عاصمی، مکتبہ ابن تیمیہ۔
o    ابن طاووس، علی، فلاح السائل، قم، دفتر تبلیغات اسلامی۔
o    ابن عابدین، محمد امین، رد المحتار، بیروت، ۱۴۱۵ق/۱۹۹۵ء۔
o    ابن قدامہ، عبداللہ، المغنی، بیروت، ۱۴۰۵ق؛
o    ابن کثیر، تفسیر القرآن العظیم، بیـروت، ۱۴۰۱ھ۔
o    ابن مفلح، ابراہیم، المبدع، بیـروت، ۱۴۰۰ھ۔
o    ابن مفلح، محمد، الفروع، ابو الزہراء حازم قاضی کی کوشش، بیروت، ۱۴۱۸ھ۔
o    ابوالصلاح حلبی، تقی، الکافی، رضا استادی کی کوشش، اصفہان، ۱۴۰۳ھ۔
o    ابو داوود سجستانی، سلیمان، السنن، محمد محیی الدین عبدالحمید کی کوشش، قاہرہ، ۱۳۶۹ھ۔
o    احمد بن حنبل، مسند، قاہرہ، ۱۳۱۳ھ۔
o    آقا بزرگ، الذریعہ۔
o    حصکفی، محمد، الدر المختار، بیروت، ۱۳۸۶ھ۔
o    شہید اول، محمد، الالفیہ، علی فاضل قائینی کی کوشش، قم، ۱۴۰۸ھ۔
o    شہید ثانی، زین الدین، الروضہ البہیہ، محمد کلانتر کی کوشش، بیروت، دارالتعارف۔
o    شیخ بہایی، مفتاح الفلاح، بیروت، ۱۴۰۵ھ۔
o    صاحب جواہر، محمد حسن، جواہر الکلام، محمود قوچانی کی کوشش ، تہران، ۱۳۹۴ھ۔
o    طبرسی، فضل، مجمع البیان، بیروت، ۱۴۱۵ق/۱۹۹۵ء۔
o    طبری، التفسیر، بیروت، ۱۴۰۵ھ۔
o    طوسی، محمد، النہایہ، بیروت، دارالاندلس۔
o    طوسی، محمد، مصباح المتہجد، تہران، ۱۳۳۹ھ۔
o    علامہ حلی، حسن، تبصرہ المتعلمین، احمد حسینی و ہادی یوسفی کی کوشش، تہران، ۱۳۶۸ہجری شمسی۔
o    علامہ حلی، حسن، نہایہ الاحکام، مہدی رجایی کی کوشش، قم، ۱۴۱۰ھ۔
o    قمی، ابوالقاسم، غنائم الایام، عباس تبریزیان کی کوشش، مشہد، ۱۴۱۸ھ۔
o    کلینی، محمد، الکافی، علی اکبر غفاری کی کوشش، تہران، ۱۳۹۱ھ۔
o    محقق حلی، جعفر، المعتبر، ناصر مکارم شیرازی اور دوسروں کی کوشش ، قم، ۱۳۶۴ہجری شمسی۔
o    محقق حلی، جعفر، شرائع الاسلام، عبدالحسین محمد علی کی کوشش، نجف، ۱۳۸۹ق /۱۹۶۹ء۔
o    مرداوی، علی، الانصاف، محمد حامد فقی کی کوشش، بیروت، ۱۴۰۶ق / ۱۹۸۶ء۔
o    مسلم بن حجاج، صحیح، محمد فؤاد عبدالباقی کی کوشش، قاہرہ، ۱۹۵۵ء۔
o    نجاشی، احمد، الرجال، موسی شبیری زنجانی کی کوشش، قم، ۱۴۰۷ھ۔
o    نراقی، احمد، مستند الشیعہ، قم، ۱۴۱۵ھ۔
o    یحیی بن سعید حلی، الجامع للشرایع، جعفر سبحانی اور دوسروں کی کوشش، قم، ۱۴۰۵ھ۔

آپ کا تبصرہ شامل کریں

قارئین کے تبصرے

کوئی تبصرہ موجودنہیں ہے
*
*

امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک