امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک

ساتویں پارے کا مختصر جائزه

0 ووٹ دیں 00.0 / 5

ساتویں پارے کا مختصر جائزه
،ساتویں پارے کےچیدہ نکات

وَإِذَا سَمِعُوا مَا أُنزِلَ إِلَى الرَّسُولِ تَرَىٰ أَعْيُنَهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ

1. ابتدائے اسلام میں مشرکین نے اپنے مفادات کو خطرہ میں دیکھ کر مسلمانوں کو ستانا شروع کیا تو سرکار دو عالم نے حبشہ کی طرف ہجرت کرنے کا حکم دے دیا اور جناب جعفر طیارعلیہ السلام کو قافلہ سالار بنا دیا، یہ ہجرت ایک طرف مسلمانوں کی تسکین کا ذریعہ تھی کہ اذیت کے ماحول سے نکل گئے اور دوسری طرف اسلام کی اشاعت کا بہترین وسیلہ تھی جو اجتمائی ہجرت کے بغیر ممکن نہ تھی چنانچہ جناب جعفرؑ نے نجاشی کے یہاں پناہ لی اور ادھر مشرکین نے عمرو عاص وغیرہ کو بھیج دیا کہ ان لوگوں کو واپس لے آئے انہوں نے نجاشی کو تحفہ تحائف دے کر واپسی کا مطالبہ کیا اس نے جناب جعفرؑسے صورت حال دریافت کی آپ نے فرمایا کہ ہم نہ ان کے غلام ہیں نہ مقروض ہیں اور نہ کسی کو قتل کر کے آئے ہیں ہم ان کے مظالم سے پناہ لینے آئے ہیں اور ہمارا جرم یہ ہے کہ ہم آخری نبی(ص) پر ایمان لے آ ئے ہیں جس کے پیغامات یہ ہیں ........... یہ سن کر نجاشی دنگ رہ گیا کہ تو بعینہ حضرت عیسیٰؑ کے پیغامات ہیں اور قرآن سنانے کی فرمائش کی جناب جعفرؑنے سوره مریم کی آیات پڑھ کر سنائیں تو نجاشی کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور عمرو عاص کے منہ پر ایک طمانچہ مار کر اسے نکال باہر کر دیا اور مسلمان وہاں ایک مدت تک سکون و اطمینان سے رہے اور یہ جناب جعفرؑ کی ایسی فتح تھی کہ جب خیبر کے موقع پر وہ واپس آئے تو پیغمبر اسلام (ص)نے فرمایا کہ میں کس چیز سے زیادہ مسرت کا اظہار کروںفتح خیبر سے یا رجوعِ جعفرؑسے اور حقیقت یہ ہے کہ یہ موقع انتہائی حسین تھا جب روح ابو طالب وجد کر رہی تھی کہ اسلام کے دو فاتح اکٹھا ہورہے ہیں ایک بیٹے نے یہودیت کے محاذ کو فتح کیا ہے اور دوسرے نے عیسائیت کے محاذ کو.......... یا ایک نے زور بازو کا مظاہرہ کیا ہے اور دوسرے نے زور بیان کا ایک نے قرآن کی عظمت کا اظہار کیا ہے اور دوسرے نے اہل بیت کی جلالت کا ایک نے کفر کے حوصلے پست کیے ہیں اور دوسرے نے اسلام کی شوکت میں اضافہ کیا ہے اور یہ تمام باتیں عین ان کی توقع اور تمنا کے مطابق واقع ہوئی ہیں۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ

2. دین اسلام نے شراب اور جوائے کی شدت سے مخالفت کی ہے اور اس کے دینی اور دنیاوی نقصانات سے آگاہ کیا ہے کہ شراب عقل کی بربادی اور جوا مال کی بربادی اور حرام خوری کی دعوت ہے،لیکن حیرت کی بات ہے کہ مسلمان معاشروں میں ان مفاسد کی طرف سے توجہ ہٹتی جا رہی ہے اور شراب سے پر ہیز کرنے والے بھی جوے کی لعنت میں گرفتار ہیں اور عالم اسلام کا یہ بد ذوقی ہے کہ دنیا کے مشہور ترین جواریوں کو بھی خادم الحرمین کا درجہ دینے کے لئے تیار ہے اسلام کا اس سے بڑا مذاق اور ضمیر فروشی کا اس سے زیادہ واضح مظاہرہ اور کیا ہوسکتا ہے۔

قُل لَّا يَسْتَوِي الْخَبِيثُ وَالطَّيِّبُ وَلَوْ أَعْجَبَكَ كَثْرَةُ الْخَبِيثِ

3. یہ ایک عام قانون ہے جس سے خبیث وطیب ایثار اور خبیث وطیب افر اوسب مراد ہیں کہ خبیث لاکھ اچھا معلوم ہو طبیب کے برابر نہیں ہوسکتا طیب خدا کی نگاہ میں پاکیزہ ہوتا ہے اور خبیث خدا کی نگاہ میں خبیث ہوتا ہے اور خدا کی نگاہ سے گر جانے کے بعد کوئی حیثیت نہیں رہ جاتی ہے۔دنیا میں خبیث افراد کا راحت و آرام میں رہنا اس بات کی علامت نہیں ہے کہ وہ نگاہ خدا میں محبوب کی حیثیت رکھتے ہیں متاع دنیا کا قانون الگ ہے اور بوبیت پروردگار کا نظام الگ۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنفُسَكُمْ ۖ لَا يَضُرُّكُم مَّن ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ ۚ إِلَى اللَّـهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيعًا فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ

4. انسانیت کی تباہی کے اسباب میں سے ایک بڑا سبب تقلید آباء بھی ہے جس کی بیماری ہر دور میں رہی ہے اور اس کی مذمت قرآن مجید نے بڑے کھلے الفاظ میں کی ہے اور اس نکتہ کی طرف توجہ دلائی ہے کہ جب تمہارے باپ دادا صاحبان علم و ہدایت نہیں تھے تو ان کی تقلید کے کیا معنی ہیں ۔یہ تو یہود و نصاری کا عالم تھا لیکن آج دنیائے اسلام و ایمان میں بھی ایسے نادان و احمق پائے جاتے ہیں جو باپ دادا کی احمقانہ رسموں کو کلیجے سے لگائے بیٹھے ہیں جب کہ یہ جانتے ہیں کہ ان کے پاس دین و دنیا کا اتنا علم بھی نہیں تھا جتنا خود ان کے پاس ہے اور اس کا راز صرف یہ ہے کہ ان کی تربیت انہیں رسموں کی چھاؤں میں ہوئی ہے اور انہیں ابتدا سے انہیں رسموں کی لوریاں دی گئی ہیں تو اگر صاحبان ایمان ایسی حماقتیں کر سکتے ہیں تو اگر دوسرے لوگ حقائق کے روشن ہو جانے کے بعد بھی باپ دادا کے مذہب پراڑے ہوئے ہیں تو کیا حیرت کی بات ہے۔

إِذْ قَالَ الْحَوَارِيُّونَ يَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ هَلْ يَسْتَطِيعُ رَبُّكَ أَن يُنَزِّلَ عَلَيْنَا مَائِدَةً مِّنَ السَّمَاءِ

5. اس دستر خوان کے بارے میں مفسرین نے بڑی بڑی تفصیلات بیان کی ہیں اور اس کے تمام کھانوں کا تذکرہ کیا ہے لیکن ان کا مدرک اسرائیلیات کے علاوہ کچھ نہیں ہے لہذا اجمالی ایمان ہی کافی ہے۔امیر المومین علیہ السلام نے اپنے خطبہ میں جناب عیسیٰ علیہ السلام کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام پتھر کا تکیہ بناتے تھے موٹا لباس پہنتے تھے معمولی غذا کھاتے تھے بھوک ان کی غذا نور ماہتاب ان کا چراغ مشرق و مغرب ان کا سائبان اور زمین سے اگنے والی گھاس ان کا پھل تھی نہ کوئی زوجہ جو فتنوں میں مبتلا کر سکے نہ اولاد جس کا رنج ہو نہ مال جو اپنی طرف متوجہ کر سکے نہ طمع جو باعث ذلت ہو دونوں پیر ان کی سواری اور دونوں ہاتھ ان کے خادم تھے لیکن اس کے باوجودقوم نے انہیں الزامات سے معاف نہیں کیا اور جادوگر کہہ دیا تو دوسروں کا کیا ذکر ہے۔

قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ اللَّـهُمَّ رَبَّنَا أَنزِلْ عَلَيْنَا مَائِدَةً مِّنَ السَّمَاءِ

6. جناب عیسیٰ علیہ السلام کا مطالبہ قوم کے تقاضے کی ترجمانی اور اپنی طرف سے اتمام حجت کی بنا پر تھا اور نہ نبی خدا کو ان مادی غذاؤں کی پرواہ نہیں ہوتی ہے وہ راہ خدا میں ہر طرح کی مصیبت برداشت کرنے کے لئے تیار رہتا ہے اور یہیں سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کے حوارین اور سرکار دو عالم(ص) کے مخلص اصحاب میں کس قدر فرق تھا کہ حوارین نے طرح طرح کی غذاؤں کا مطالبہ کر دیا اور اصحاب مخلصین نے طرح طرح کی مصیبتوں کا سامنا کیا اور ان اُف تک نہیں کی اور اسی معیار پر امام حسینؑ کو کہنے کا حق تھا کہ جیسے اصحاب مجھے ملے ہیں ان کی نظیر کہیں بھی نہیں پیدا ہوئی ہے کہ تین دن کی بھوک اور پیاس کے باوجودسماوی دستر خوان یا ارضی غذاؤں کا مطالبہ نہیں کر رہے ہیں اور جہاد خدا کے لئے کمر باندھے ہوئے ہیں۔

إِن تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ ۖ وَإِن تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ

7. اس فقرہ سے نبوت کے جن جذبات کی ترجمانی ہوتی ہے ان کا اظہار لفظوں کے ذریعےناممکن ہے ایسے سخت ترین حالات میں بھی نبی یہ نہیں چاہتا کہ اس کی قوم پر عذاب نازل ہو جائے؛ اور خدائی معاملات میں دخل بھی نہیں دے سکتا ہے تو انتہائی حسین لہجہ میں گذارش کرتا ہے کہ بالآخر یہ سب تیرے ہی بندے ہیں۔

امام سجاد علیہ السلام نے بھی کس حسین انداز سے مناجات کی ہے اور یہ فقرات عرض کیے ہیں کہ۔

پروردگار! تو ہمیں جنت میں جگہ دے گا تو تیرا رسول خوش ہو گا کہ میرا امتی جنت میں آ گیا اور جہنم میں ڈال دےگا تو تیرے دشمن خوش ہوں گے کہ تیرا کلمہ گو جہنم میں چلا گیا اور مجھے یقین ہے کہ تو رسول کے مقابلہ میں دشمن کی خوشی کو مقدم نہ کرے گا۔

اللہ! قربان جائیے اس حسن طلب پر ایسی معرفت ہوتو انسان امام کہا جائے اور ایسی مناجات کرے تو کلیم ِ طوربھی رشک کریں۔

سورة الأنعام

الْحَمْدُ لِلَّـهِ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَجَعَلَ الظُّلُمَاتِ وَالنُّورَ ۖ ثُمَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُونَ

8. سوره مبارکہ کا آغاز عظمت پروردگار کے تذکرے سے کیا گیا ہے جس میں آسمان و زمین کی خلقت اور نور وظلمت کی تخلیق و تقدیر بھی شامل ہے جو کسی غیر خدا کے بس کی بات نہیں ہے اور جس کے بعد شرک یا خدا سے انحراف کا کوئی عقلی جواز نہیں رہ جاتا ہے۔اور اسی لئے کفر اختیار کرنے والوں کو متوجہ کیا گیا ہے کہ وہ خدا قدرت کے اعتبار سے خالق ہے عظمت کے اعتبار سے زمین و آسمان کا معبود ہے علم کے اعتبار سے تمہارے ظاہر و باطن کا جاننے والا ہے اور قوموں کے ساتھ سلوک کے اعتبار سے منحرفین کو صفحۂ ہستی سے مٹا کر دوسری قوموں کو آباد کرنے والا ہے ۔

قُلْ أَرَأَيْتَكُمْ إِنْ أَتَاكُمْ عَذَابُ اللَّـهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ أَغَيْرَ اللَّـهِ تَدْعُونَ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ

9. آیات کریمہ میں قدرت خدا کے اعلان کے بعد انسان کو اس کی فطرت کی طرف متوجہ کیا گیا ہے کہ ہم نے اس کی فطرت میں اپنی توحید اور عظمت کے دلائل ودیعت کر دیے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اگر مصیبت پڑ جاتی ہے تو سب کو ہمیں یاد آتے ہیں کسی کو اس کا اپنا خدا یاد نہیں آتا ہے اس لئے کہ یہ بات اس کی فطرت میں محفوظ ہے کہ کائنات کا اختیار رب العالمین کے ہاتھ میں ہے اور دوسرا کوئی صاحب اختیار نہیں ہے باطل پرستوں کا یہ اندازِ کار ہر مرحلہ پر دیکھا گیا ہے کہ پہلے اپنے خود ساختہ رہبروں کے پیچھے چلتے ہیں اور کونظرانداز کر دیتے ہیں اور اس کے بعد جب مصیبت پڑ جاتی ہے تو اپنے والے یاد نہیں آتے ہیں بلکہ ہر مصیبت میں اہل حق ہی کو آواز دیتے ہیں۔

فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُكِّرُوا بِهِ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ أَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّىٰ إِذَا فَرِحُوا بِمَا أُوتُوا أَخَذْنَاهُم بَغْتَةً فَإِذَا هُم مُّبْلِسُونَ

10. یہ قدرت کا ایک نظام عقاب و عتاب ہے کہ وہ پہلے پیغام پہنچاتا ہے اس کے بعد مختلف مصیبتوں کے ذریعہ متوجہ کرتا ہے کہ بندہ ہوش میں آ جائے اور جب یہ سب تدبیر میں بے اثر ہو جاتی ہیں تو رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے انسان جی بھر کر گناہ کرلے اور کوئی حسرت باقی نہ رہ جائے جیسا کہ گذشتہ اقوام کے حالات میں دیکھا گیا ہے۔اس کے بعد جب ان میں غرور پیدا ہونے لگتا ہے کہ اتنی سرکشی اور بغاوت کے بعد بھی خدا کچھ نہیں کر سکا اور راحت و آرام کے دروازے کھلے ہوئے ہیں تو اچانک عذاب نازل ہو جاتا ہے اور سارا سلسلہ ختم ہو جاتا ہے اور انسان یکسر مایوس ہوجاتا ہے کہ اب خدا کے علاوہ کسی دوسرے سہارے کا تصور بھی ممکن نہیں ہے۔

وَلَا تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُم بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ ۖ مَا عَلَيْكَ مِنْ حِسَابِهِم مِّن شَيْءٍ وَمَا مِنْ حِسَابِكَ عَلَيْهِم مِّن شَيْءٍ فَتَطْرُدَهُمْ فَتَكُونَ مِنَ الظَّالِمِينَ

11. مذہب میں سودے بازی کا رواج بہت پرانا ہے اور ہر شخص اس میں اپنی ایک الگ حیثیت چاہتا ہے چنانچہ کفار نے بھی یہ مطالبہ کیا کہ ہم اسلام لانے کے لئے تیار ہیں بشرطیکہ غرباء اور فقراء آپ کی محفل میں نہ آیا کریں ورنہ ہم ان کے برابر بیٹھ کر اپنی حیثیت خراب نہیں کرسکتے ہیں۔پروردگار عالم نے اس مطالبہ کو شدت سے ٹھکرا دیا اور غرباء و فقراء کی تعریف بھی کر دی کہ ان روساء پر واضح ہو جائے کہ تمہارے مطالبہ کی تکمیل کے بعد تم ایمان لے بھی آئے تو یہ رسول اور دین خدا پر ایمان نہ ہوگا، یہ اپنی حیثیت اور شخصیت پر ایمان ہو گا اور اسلام اس طرح کے ایمان کا متحمل نہیں ہے جہاں شخصیت پرستی اور قوم پرستی کا جذبہ پایا جاتا ہو۔

وَذَرِ الَّذِينَ اتَّخَذُوا دِينَهُمْ لَعِبًا وَلَهْوًا وَغَرَّتْهُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا ۚ

12. دین کے معاملے میں مختلف قسم کے افراد ہوتے ہیں بعض لوگ اپنے دین پرمکمل طور سے عمل کرتے ہیں اور بعض اس کو صرف غرض کے مواقع پر استعمال کرتے ہیں اور بعض اس کے احکام کو دو حصوں میں بانٹ د یتے ہیں بعض احکام کو قابل عمل قرار دیتے ہیں اور بعض کو نظر انداز کردیتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے دین کو کھیل تماشہ بنالیا ہے ،ورنہ اگر ان کے ذہن میں قانون الہی ہوتا تو اس پر عمل درآمد کرنے میں اپنی ذاتی فکر اور رائے کو دخل نہ د یتےایسے افراد کے ساتھ ایک بڑا محتاط طرزعمل بتایا گیا ہے کہ عملاً ان سے کنارہ کشی بھی کی جائے تا کہ انسان ان کے جرم میں شریک نہ ہو سکے اور بالکل قطع تعلق بھی نہ کر لیا جائے کہ وہ اپنے جرائم میں مکمل طور پر آزاد ہو جائیں بلکہ قرآن کے ذریعہ ان کو برا بر نصیحت کی جاتی رہے تا کہ راہ راست پر آنے کے امکانات باقی رہیں۔

وَكَيْفَ أَخَافُ مَا أَشْرَكْتُمْ وَلَا تَخَافُونَ أَنَّكُمْ أَشْرَكْتُم بِاللَّـهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ عَلَيْكُمْ سُلْطَانًا ۚ فَأَيُّ الْفَرِيقَيْنِ أَحَقُّ بِالْأَمْنِ ۖ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ

13. باطل جب دلائل کے میدان میں شکست خوردہ ہو جاتا ہے تو تخويف وترہیب کا سہارا لیتا ہے جناب ابراہیم ؑنے اس مسئلہ کو بھی حل کر دیا کہ خدائے برحق کے ماننے والے باطل سے ہرگز نہیں ڈرا کرتے تو وہ بے جان خداؤں سے کسی طرح خوفزدہ ہو جائیں گے کاش امت اسلامی بھی اس نکتے کی طرف متوجہ ہوجاتی۔

وَلَا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ فَيَسُبُّوا اللَّـهَ عَدْوًا بِغَيْرِ عِلْمٍ ۗ

14. یہ اسلام کا عظیم اخلاقی نقطہ ہے جس سے اس کی عملی سیاست کا اندازہ ہوتا ہے کہ وہ انسان کی اس کمزوری پر نگاہ رکھتا ہے کہ جب اس کے معبودوں کو برا کہا جائے گا تو وہ بھی تمہارے معبود کو برا کہے گا اور اس طرح خدا کو برا بھلا کہلانے کے مجرم تم خود قرار پاؤ گے۔

آپ کا تبصرہ شامل کریں

قارئین کے تبصرے

کوئی تبصرہ موجودنہیں ہے
*
*

امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک