امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک

شب قدر مخفی کیوں؟؟؟

0 ووٹ دیں 00.0 / 5

شب قدر مخفی کیوں؟؟؟
  جواد پاروی
اس میں کوئی شک نہیں کہ "لیلۃ القدر" "ماہ مبارک مضان" کے مہینے میں ہے۔
 کیونکہ قرآنی آیات اور روایات کا ماحصل یہی ہے۔ لیکن رمضان المبارک کی راتوں میں سے
'' شب قدر'' کون سی رات ہے؟
 اس میں بہت بحث موجود ہے اور اس حوالے سے بہت سی تفسیریں کی گئی ہیں جن کے مطابق رمضان المبارک کی پہلی رات، سترھویں رات، انیسویں رات، اکیسویں رات، تئیسویں رات، ستائیسویں رات، اور انتیسویں رات میں سے کوئی ایک رات شب قدر ہو سکتی ہے۔
 روایات کے مطابق شب قدر رمضان کے آخری عشرے میں پائی جاتی ہے جیسا کہ نبی مکرم ﷺ کا فرمان ہے:
'' اِلتَمِسوها في العَشرِ الأواخِرِ مِن شَهرِ رَمَضانَ''
(شب قدر کو رمضان کے آخری دس دنوں میں تلاش کرو)۔(۱)
لیکن کونسی رات ہے اس کا تعین کسی بھی روایت میں نہیں ہوا۔
یہاں تک کہ جب امام صادق ؑ سے شب قدر کی تعیین کےلئے اصرار کیا تو آپؑ نے فرمایا:
''مَا أَیْسَرَ لَیْلَتَیْنِ فِیما تَطْلُبُ''
(حاجات اور آرزووں کی تکمیل کے لئے دو راتین کتنی آسان ہیں)۔[2]
البتہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ معصومین علیہم السلام کو بھی شب قدر کا علم نہیں تھا بلکہ وہ یہ بات یقینی طور پر جانتے تھے اور جان بوجھ کر مصلحتوں کی بنا پر اس کا اظہار نہیں کیا ۔
اس بات کی تائید امام باقر علیہ السلام کی اس روایت سے ہوتی ہے جب امام ؑ سے کسی نے پوچھا:
 کیا آپ جانتے ہیں کہ شب قدر کون سی رات ہے؟
 تو امام ؑ نے فرمایا:
''کَیْفَ لَا نَعْرِفُ وَ الْمَلَائِکَةِ تَطُوفُ بِنافِیها''
( ہمیں کیسے معلوم نہ ہو درحالیکہ اس رات فرشتے ہمارے گرد طواف کرتے ہیں)۔ [3]
شب قدر کو معین نہ کرنے کا فلسفہ جو علماء و فقہاء نے بیان کیا ہے وہ یہ ہے کہ خدا نے اپنی رضا کو کسی ایک عبادت میں منحصر نہیں رکھا بلکہ ہر طرح کی اطاعت و پیروی میں مخفی رکھا تاکہ لوگ صرف ایک طرح کی اطاعت بجا لا کر مطمئن ہونے کی بجائے مختلف قسم کی عبادتوں کی طرف رجوع کریں اور رب کریم سے رابطہ استوار کرنے اور قربت بڑھانے کی حدالامکان سعی کریں۔
 جس طرح خدا نے اپنے غضب کو ہر طر ح کے گناہوں کے درمیان چھپا دیا تا کہ انسان تمام گناہوں سے دور رہیں اور خدا کے خشم و غضب سے دور رہنے کی خاطر ہر قسم کے گناہوں سے اجتناب کریں، اسی طرح خداوند تبارک تعالی نے شب قدر کو کئی دنوں کے اندر مخفی رکھا تاکہ ہم تمام راتوں کی قدر جان سکیں اور زیادہ سے زیادہ فیوضات الہی سے بہرہ مند ہوں۔
اس رات کو صیغہ راز میں رکھنے سےلوگوں کی عبادت الٰہی کے لیے کوششیں زیادہ ہوتی ہیں کیونکہ انسان فطرتا مفاد پرست اور لالچی ہے اسی لئے اس ایک شب قدر کی تلاش میں اور اسکو درک کرنے کے لیے رمضان المبارک کی تمام راتوں میں احیاءکریں گے۔ نتیجتا انسان کی عبادت اور اس کا اجر بھی بڑھ جاتا ہے۔
 شب قدر ربِ حق کی طرف لوٹنے اور گناہوں سے توبہ کرنے اور راہِ راست پر چلنے کا ایک بہترین موقع ہے۔
 یقینا ماہ مبارک رمضان کی آخری راتوں میں شب قدر کا وجود پایا جاتا ہے ۔لہذا آئیے اس موقع کو ضائع نہ کریں اور شب قدر کی تلاش کی بجائے اس کے روحانی اور معنوی فیوضات سے استفادہ کریں۔
 بعض بزرگان اہل تشیع، شب قدر کو درک کرنے کے لیے پورے سال کی راتوں کو جاگ کر عبادت میں گزارتے تھے تو ہم سال بھر میں کم از کم یہ دس دن دنیا و ما فیہا کی رنگینوں سے منہ موڑ کر اپنی اصلاح اور نجات کے لئے مختص کریں، کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ شب گزر جائے اور ہم نجاست، گناہ اور آلودگی میں ڈوبے رہیں اور نہیں معلوم کہ آئندہ سال کی یہ رات نصیب حال ہو یا نہ ہو !!!


حوالہ جات:
[1] - بحارالانوار، جلد94، صفحه10
- [2] نور الثقلین، جلد 5، صفحه 625
[3] -تفسیر البرهان، جلد5، صفحه517

آپ کا تبصرہ شامل کریں

قارئین کے تبصرے

کوئی تبصرہ موجودنہیں ہے
*
*

امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک