امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک

سچائی اور صداقت

0 ووٹ دیں 00.0 / 5

سچائی اور صداقت
نفسیاتی ماہرین معتقد ہیں کہ سچائی یا صداقت سے مراد انسان کا وہ قول یا فعل ہے جس کے بر خلاف اس کے دل و دماغ میں کوئی ارادہ یا کوئی محرک نہ ہو اور وہ دل کی بات صاف گوئی کے ساتھ صریحا زبان  پر  لائے ۔(سالاری فر،۱۳۸۴،ص ۱۱۷)عائلی نظام کی عمارت اس وقت مستحکم ہوگی جب وہ سچائی اور صداقت کی بنیادوں پر استوار ہو۔ سچائی اور صداقت سے حاصل ہونے والا اعتماد میاں بیوی اور اولاد کی عائلی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔وفاداری اور اخلاص پر مبنی تعلقات کی عمارت کا ستون اعتماد ہے ۔باہمی اعتماد صحیح و سالم روابط کی اصلی بنیاد ہے۔اولسن اور اس کے ساتھیوں کے نظرئے کے مطابق ہمیں یہ سیکھنے کی ضرورت ہے کہ  ہم دوسروں کے ساتھ سچائی ، صداقت اور صاف گوئی پر مبنی طرزِ عمل کیسے اختیار کریں ۔ یہ امر اگرچہ بہت مشکل ہے لیکن اچھے تعلقات قائم کرنے کے لئے بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔(اولسن  ڈفرن ، اولسن،۱۳۸۸،ص ۸۹) یہ حضرات اعتماد، راستبازی اور اطمینان و وثوق کے قابل ہونے کو ایک کامیاب زندگی کی بنیاد قرار دیتے ہیں۔
اعتماد کا فقدان کنبے کو بہت سے بحرانوں اور سخت نقصانات سے دوچار کرتا ہے ۔ ان خطرناک  نقصانات میں سے ایک بدگمانیاں ،غلط فہمیاں  اور شکوک و شبہات ہیں ۔ بدگمانی اور غلط فہمی ایک نفسیاتی بیماری اور خطرہ ہے
(شدید بدظنی اور بدگمانی کی حالت میں انسان نقصان اور خطرے کے وسوسے کا شکار ہوسکتا ہے ۔ چنانچہ وہ یہ خیال کرتا ہے کہ اس کے خلاف سازش ہو رہی ہے ۔نیز اسے زہر دینے یا برو کرنے یا اس کے بلند اہداف سے دور رکھنے کی کوشش ہو رہی ہے۔کچھ لوگوں کو بددلی کا وسوسہ لاحق ہوتا ہےچنانچہ جو یہ سمجھتا ہے کہ اس کی بیوی اس کا منگیتر بےوفاہے۔  واضح ہے اگر ان لوگوں کا نفسیاتی معالج کے ذریعے علاج کروانا ہے۔)
جو اچھے تعلقات کو خراب کرتا ہے۔  یہ بیماری عام طور پر  بے اعتمادی کے نتیجے میں لاحق ہوتی ہے ۔ جو افراد اس روحانی و نفسانی بیماری سے دوچار ہوتے ہیں وہ نہ صرف یہ کہ دوسرے فریق کے سکون کو برباد کرتے ہیں بلکہ خود بھی نفسیاتی و روحانی آرام و سکون سے محروم ہوتے ہیں ۔ ایسے لوگوں کے اذہان و افکار ہمیشہ تکلیف دہ خیالات سے لبریز ہوتے ہیں۔ بدگمانی کا شمار گناہان کبیرہ اور بدترین اخلاقی مفاسد میں ہوتا ہے جو فرد اور کنبے کی بربادی پر منتہی  ہوتا ہے ۔ بدظنی انسان کو بے جا تجسس اور دوسروں کے اسرار کا کھوج لگانے کی ترغیب دیتی ہے اور عائلی امن و سکون کو برباد کرتی ہے۔ قدرتی بات ہے کہ میاں بیوی کو چاہئے کہ ایک دوسرے کا اعتماد حاصل کریں  اور بدظنی کے اسباب کا قلع قمع کریں ۔ بدگمانی گاہے  روحانی و نفسیاتی مشکلات کا نتیجہ ہوتی ہے ۔ چنانچہ بعض لوگ ہر بہانے سے یا بلاوجہ اپنے شریک حیات سے بدظنی اور بے اعتمادی برتتے ہیں ۔
اگرچہ اس بیماری کے تربیتی اسباب کا تعلق اس فرد کے ماضی سے ہوتا ہے جس کے نتیجے میں یہ بدگمانی، بدظنی اور شکاکیت اس کے رگ  و پے میں راسخ ہو چکی ہوتی ہے اس کے باوجود یہ بیماری بجائے خود قابل علاج ہے۔بے اعتمادی کے باعث جنم لینے والے نقصانات میں سے ایک نقصان ایک دوسرے کے اندرونی معاملات کا کھوج لگانے اور تجسس کا جذبہ ہے۔بے جا تجسس اور کھوج لگانے کی کوشش انسانی عزت و احترام کے لئے خطرہ ہے  اور انسان کے نفسیاتی آرام و سکون کو برباد کرتی ہے۔بے اعتمادی کے باعث میاں اور بیوی ہمیشہ ایک دوسرے کے امور کی بے جا ٹوہ میں لگے رہتے ہیں ۔   اجتماعی سرمایہ خاص کر باہمی اعتماد انسانی تعاملات اور باہمی برتاؤ   کے  کام کو آسان بناتا ہے۔ اس کے برعکس بے جا  تجسس  اور وسوسہ انگیز تحقیقات  گھریلو اختلافات اور تناؤ کا سرچشمہ ہیں۔درج ذیل آیت کریمہ میں خداوندمتعال بطور صریح لوگوں کو تجسس سے منع فرماتا ہے:

اے ایمان والو !بہت سی بدگمانیوں سے بچو کیونکہ بہت سی بدگمانیاں  گناہ  ہیں  اور ایک دوسرے کے بارے میں تجسس نہ کرو ۔(حجرات/۱۲) 

قرآن کریم نے تجسس یعنی  دوسروں کے اسرار کا کھوج لگانے سے صریحاً منع کیا ہے جو اس موضوع کی اہمیت کی دلیل ہے ۔ دوسروں کے  ذاتی معاملات و اسرار  کا کھوج لگانا بہت بڑا گناہ ہے۔ کنبے کے اندر ایک دوسرے کی نگرانی  اور ضرورت کے بغیر افراد خانہ کے ذاتی امور کا ٹوہ لگانا ان کی شخصیت کو مخدوش بنا دیتا ہے اور وہ ہمیشہ یہ محسوس کرتے ہیں  کہ وہ کسی کے زیر نظر ہیں۔  یہ امر افراد کی شخصیت اور دوسروں کے ساتھ ان کے روابط کو نقصانات سے دوچار کرتا ہے ۔
جیسا کہ اشارہ ہوچکا  اعتماد کی فضا کو شفاف اور بحال کرنے کے نتیجے میں بدظنی اور بے جا تجسس کے راستے بند ہو جاتے ہیں۔ اس کے برخلاف صداقت اور اخلاص کا جذبہ اطمینان بخش  ماحول فراہم کرتا ہے۔

آپ کا تبصرہ شامل کریں

قارئین کے تبصرے

کوئی تبصرہ موجودنہیں ہے
*
*

امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک