امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک

شیعہ حضرات با جماعت تراویح پڑھنا کیوں نظر انداز کرتے ہیں؟

0 ووٹ دیں 00.0 / 5

فرمایا خدائے عزّوجلّ قرآن حکیم کے ۷ویں پارہ بنی اسرائیل کی انہتر ویں آیت میں کہ:
”(اے رسول) اور رات کے خاص حصّے میں نماز تہجّد پڑھا کرو۔ یہ سنّت تمہاری (خاص) فضیلت ہے۔ قریب ہے کہ (قیامت کے دن) خدا تم کو مقام محمود تک پہونچائے۔“
(سورہ ۷۱، آیت ۹۷)
رسول خدانے فرمایا :
”جس نے ماہ رمضان کی راتوں میں قیام اللیل قائم کی خلوص دل اور اللہ تعالیٰ سے ثواب پانے کی خاطر، اسکے تمام پچھلے گناہ معاف کردیئے جائیں گے۔“
(صحیح البخاری، جلد ۳ ، کتاب ۲۳، نمبر ۶۲۲)

شیعہ حضرات با جماعت تراویح پڑھنا کیوں نظر انداز کرتے ہیں؟

اہل سنّت حضرات عام طور پر رات کی خاص نماز تراویح کو رمضان کے مہینے میں جماعت کے ساتھ ادا کرنے کو سنّت خیال کرتے اور مانتے ہیں۔ شیعہ حضرات کو اگرچہ اس طرح کے نوافل کی ترغیب ہے۔ لیکن ان کو باجماعت پڑھنے کا حکم نہیں ہے۔ شیعوں کا یہ عمل رسول اللہ کے احکام اور آپ کی سنت کے عین مطابق ہے۔
برادران و خواہران اہل سنّت رمضان مہینے کی ابتدائی راتوں میں تراویح با جماعت پڑھنے آتے ہیں۔ وہ نماز میں کھڑے ہوتے ہیں اور قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہیں۔ اللہ ان کے پرُ خلوص ارادے اورعمل کا ثواب عطا فرمائے۔
لیکن قرآن حکیم نے اور نہ ہی رسول کریم نے رمضان کی راتوں کی اس عبادت کو با جماعت پڑھنے کا حکم دیا اور نہ ہی ذکر کیا۔ یہ مسلمانوں نے بعد میں خود اختیار کیا۔
اس تراویح لفظ کے لغوی معنی یوں لیں گے کہ تراویح جمع ہے ’ترویحہ‘ کی اس کے معنی ہیں۔ ایک چھوٹا سا وقفہٴ آرام ہر چہار رکعتوں کی نماز کے بیچ میں۔ بعد میں رمضان کی ان باجماعت نمازوں کو تراویح کہنا شروع کیا۔

تراویح کی باجماعت نماز کی ابتداء کہاں سے ہوئی۔

در اصل یہ مانی ہوئی حقیقت ہے کہ رمضان کی راتوں کی یہ باجماعت نماز کے شروع کرنے کا سہرا خلیفہٴ دوم حضرت عمر بن الخطاب کے سر جاتا ہے یہ ان ہی کے حکم سے ہوا ہے۔
ابو ہریرہ نے کہا کہ رسول خدا نے فرمایا کہ :
”جو بھی رمضان کے مہینے میں خلوص دل اور پختہ ایمان سے اللہ سے ثواب کی امید لئے نماز پڑھتا ہے۔ تو اس کے پچھلے سارے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔“
ابن شہاب (دوسرے درجے کے مفسّر) نے بتایا کہ:
”جب اللہ کے رسول کا انتقال ہوا تو مسلمان قوم اس نوافل نماز کو فُرادہ پڑھتے رہے۔ جماعت کے ساتھ نہیں۔ اور خلیفہ اول کے دور تک ایسا ہوتا رہا۔ اور حتی کے حضرت عمر خلیفہ دوم کے ابتدائی دور خلافت میں بھی۔
عبدالرحمن بن عبدالقاری نے بتایا کہ میں حضرت عمر بن الخطاب کی مفارقت میں ایک رات ماہ رمضان میں مسجد میں لوگوں کو دیکھا کہ مختلف گروہوں میں نماز پڑھ رہے ہیں۔ کوئی فرد تنہا پڑھ رہا ہے اور کوئی شحص چھوٹی جماعت میں پڑھ رہا ہے۔
حضرت نے کہا میرے خیال میں ان لوگوں کو یکجا کرکے ایک قاری کی پیشوائی میں یعنی ان کو ایک ساتھ جماعت میں اکٹھا پڑھیں۔ لہٰذا انھوں نے اپنے خیال کو عملی جامہ پہنانے کے لئے طے کرلیا کہ تراویح با جماعت پڑھی جائے گی اور اس کے لئے انھوں نے اُبَی ابن کعب کو تراویح کی جماعت کا امام بنادیا۔ پھر ایک رات دوبارہ ان کی معیت میں گیا تو دیکھا کہ لوگ ایک امام کے پیچھے یہی نماز پڑھ رہے ہیں۔ پھر حضرت عمر نے کہا کہ بہترین بدعت ہوئی ہے۔ (مذہب میں تبدیلی) لیکن نماز جو وہ نہیں پڑھتے ہیں اور اس وقت سوتے ہیں۔ وہ بہتر ہے جو وہ ادا کررہے ہیں۔ ان کا مطلب تھا وہ نماز جو شب کے آخری حصّے میں پڑھتے ہیں۔“
(صحیح بخاری ، جلد ۳ ، کتاب ۲۳، نمبر ۷۲۲)
”اس کو بدعت اس لئے کہا گیا کہ رسول اللہ اس طرح کی نوافل با جماعت نہیں پڑھتے اور نہ ہی یہ پہلے خلیفہ حضرت صدیق کے زمانے میں اورنہ ہی رات کے ابتدائی حصّوں میں اور نہ ہی اتنی رکعتوں میں۔“
(قثتلانی، ارشاد الساری، شرح صحیح البخاری، جلد ۶، صفحہ ۴)
(النواوی شرح صحیح مسلم، جلد۶ صفحہ ۷۸۲)
حضرت عمر وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے ماہ رمضان کی شبوں میں تراویح شروع کی۔ انھوں نے لوگوں کو اس کے لئے اکٹھا کیا اور مختلف مقامات کا حکم دیا۔ اور یہ سلسلہ ماہ رمضان۴۱ ہجری میں شروع ہوا۔ اور انھوں نے اس کے لئے قرآن مجید کی تلاوت کے لئے تراویح میں عورتوں اور مردوں کی پیشوائی کی۔“
(ابن سعد، کتاب الطباقات، جلد ۳، صفحہ ۱۸۲)، (السیوطی، تاریخ الخلفاء، صفحہ ۷۳۱)، (العیاشی، عمدة القاری فی شرح البخاری، جلد ۶ صفحہ ۵۲۱)

مسجدوں میں جماعت یا گھروں میں فرادا۔

رسول اللہ نے تاکید کی تھی اور فرمایا تھا کہ نوافل نمازیں فردا ً فرداً اپنے گھر کے اندر اور مسجد کی جماعتوں سے پڑھنا بہتر ہے۔ یہ صاحب خانہ کیلئے اور گھر پر برکتیں نازل کا سبب بنتی ہیں۔ اور بچوں کو اسلامی تربیت اور ترغیب میں کافی مدد گار ثابت ہوتی ہیں۔
رسول خدا نے ارشاد فرمایا۔
”اے لوگو! اپنی نمازیں اور عبادت اپنے اپنے گھروں میں کرو۔ اس لئے کہ بہترین عبادت وہ ہے جو وہ اپنے گھر میں بجالاتا ہے۔ سوائے باجماعت واجب نمازوں کے۔“
(صحیح بخاری، جلد ۹، کتاب ۲۹، نمبر ۳۹۳، نسائی ، سنن، جلد ۳ ص۱۶۱، ص ۸۹۱)
ایک دفعہ عبداللہ ابن مسعود نے رسول خدا سے دریافت کیا کہ بہتر کیا ہے گھر میں کرنے والی عبادت یا مسجد میں؟ آپ نے فرمایا:
”کیا تم نہیں دیکھتے کہ میرا گھر مسجد سے کتنا نزدیک ہے؟ اپنے گھر عبادت مجھے زیادہ محبوب ہے۔ بہ نسبت مسجد میں۔ سوائے واجب نمازوں کے۔“
(ابن ماجہ، سنن جلد ۱ ص ۹۳۴، نمبر ۸۷۳۱)
زید بن ثابت راوی ہیں کہ رسول اللہ نے ایک چھوٹا سا کمرہ کھجور کے پتّوں کا بنایا تھا۔ اپنے گھر سے نکلے اس میں عبادت کی۔ کچھ دوسرے لوگ اور آپ کے ساتھ شامل ہوگئے آپ کی عبادت میں۔ دوسری شب پھر لوگ نماز میں شریک ہونے کے لئے آپ کے پاس آئے۔ لیکن آپ نے تاخیر کی اور نہیں آئے۔ چنانچہ ان لوگوں نے اپنی اپنی آوازیں بلند کی اور دروازے کو کھٹکھٹانے لگے۔ آپ باہر تشریف لائے غصیلے حالت میں ان لوگوں کو تنبیہ کی کہ تم لوگ اپنے فعل پر اصرار کررہے تھے۔ مجھے ڈر ہے یہ تم لوگوں پر واجب نہ ہوجائے۔ اس لئے تم لوگ یہ عبادت اپنے اپنے گھروں پر کرو۔ اس لئے کہ آدمی کی بہترین عبادت وہ ہے جو گھر میں بجالائے۔ سوائے واجب با جماعت نمازوں کے۔
(صحیح البخاری، جلد ۸، کتاب ۳۷، نمبر ۴۳۱)

کیا شیعہ آئمّہ نے تراویح پڑھی؟

حضرت امام محمد باقر ع اور حضرت امام جعفر صادق ع سے دریافت کیا گیا کہ کیا نوافل نمازوں کو جماعت کے ساتھ پڑھا جاسکتا ہے رمضان کی راتوں میں۔
دونوں حضرات عنے جواب میں رسول اللہ کی ایک حدیث کا حوالہ دیا۔آپ نے فرمایا تھا۔
”بیشک نوافل نمازیں ماہ رمضان کی راتوں میں جماعت کے ساتھ پڑھنا ایک جدّت ہے (بدعت ) ہے۔“
(الشوکانی - نیل الاوطار، جلد ۳ ص ۰۵)
سنّی علماء کا تراویح کا گھروں میں پڑھنے کے بارے میں کیا کہنا ہے۔
عُلَماء عام طور پر اس پر متفق ہیں کہ گھر میں تراویح بجالاسکتے ہیں۔ لیکن اس کی اہمیت کے بارے میں ایک رائے نہیں ہوسکے۔ کہ آیا ایک شخص اپنے گھر پر فرادہ پڑھ سکتا ہے یا کہ مسجد میں باجماعت۔
نواوی، صحیح مسلم مشہور مُفسّر نے ایک فہرست مرتب کردی ہے ایسے علماء کی جو دوسرے نمبر یا زیادہ مشہور نظریہ کی حمایت کرتے ہیں۔ وہ پھر تحریر کرتے ہیں۔ مالک، ابو یوسف، کچھ شافعی علماء، اورعلماء کا کہنا ہے کہ اپنے اپنے گھروں میں فرادہ پڑھنا بہتر ہے۔
(النواوی، شرح صحیح مسلم جلد ۶ صفحہ ۶۸۲)

حاصل کلام:

شیعہ حضرات رات کی نماز جسے تہجّد یا قیام اللیل یا صلوة اللیل (نماز شب) کو ہر مہینے میں خاص کر ماہ رمضان میں رات کے آخری حصّے میں پڑھنا پسند کرتے ہیں اور زیادہ باعث ثواب خیال کرتے ہیں۔
چنانچہ یہ نوافل نمازیں زیادہ کرکے اپنے گھروں میں ادا کرتے ہیں۔ اور جماعت کے ساتھ کبھی نہیں۔ اور اس طرح عمل کرنے سے قرآن الحکیم کے حکم اور سنت رسول کے عین مطابق کرتے ہیں۔

آپ کا تبصرہ شامل کریں

قارئین کے تبصرے

فرخ رضا:بیس رکعت تراویح سنت ہے۔
2020-05-01 07:59:54

مسند امام زید میں سیدنا امام زید نے اپنے والد جناب علی زین العابدین سے اور انہوں نے اپنے والد جناب امام حسین سے اور انہوں نے اپنے والد سیدنا علی المرتضی سے روایت کیا ہے۔کہ سیدنا علی المرتضی نے اپنے دور میں اماموں کو حکم دیا کہ وہ رمضان میں بیس رکعت تراویح کی جماعت کرواٸیں اور ہر دو رکعت کے بعد سلام کریں۔ اور ہر چار رکعت کے بعد تھوڑی دیر رک جاٸیں تاکہ کوٸی حاجت والا اپنی حاجت پوری کر لے۔ لہزا شیعہ کو ہٹ دھرم چھوڑ دینی چاہیے اور اپنے اماموں کی بات مان لینی چاہیے۔ اور اگر نہی بھی مانتے تو کوٸی بات نہی ہماری صحت پر کوٸی اثر نہی۔ ہمارے لٸے اجماع صحابہ اور خل

*
*

امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک