بندوں کودعاء کی سفارش
بندوں کودعاء کی سفارش، رب العزت نے اپنے اس ارشاد سےکی ہے۔
اُدْعُوْنِیْ اَسْتَجِبْ لَکُمْ
مجھے پکارو اور( مجھ سے دعا مانگو )میں تمہای دعا کو قبول کرونگا (١)
قُلْ ادْ عُوْا ﷲ ۔
اے رسول میرے بندوںسے کہو کہ مجھ سے دعا مانگیں (٢)
يَامُوْسیٰ مُرعِبَادِی يَدْعُوْنِیْ ۔
اے موسیٰ میرے بندوں کو حکم دو کہ وہ مجھے پکاریں (اور مجھ سے دعا مانگیں )(٣)
يَا عِیْسیٰ مُرْهُمْ اَنْ يَدْعُوْنِیْ مَعَکَ ۔
اے عیسیٰ مومنین کو حکم دو کہ وہ آپکے ساتھ مل کر دعا کریں (٤)
حضرت موسیٰ و عیسیٰ جیسے بزرگترین انبیاء بلکہ خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ صلىاللهعليهوآلهوسلم کو دعا کے لئے مامور کرنا دعا کی فضیلت واہمیت پر بہترین دلیل ہے۔
پیغمبر اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم اور آئمہ کے فرامین میں بھی دعا کی اہمیت و فضیلت روز روشن کی طرح واضح ہے ۔
پیغمبر اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم فرماتے ہیں :
يَاعَلِیْ اُوْصِیْکَ بِالدُّعَاءِ ۔
اے علی میں تمہیں دعا کی سفارش کرتا ہوں (٥)
قال امام محمد باقر ـ:اَفْضَلُ الْعِبَادَةِ اَلْدُّعَاءُ ۔
امام محمد باقر ـ فرماتے ہیں افضل اور بہترین عبادت دعا ہے (٦)
قال علی ـ:اَحَبُّ الْاعَمَال اِلَی ﷲ عَزَّ وَجَلْ فِیْ الْاَرْضِ الدُّ عَاءُ ۔
حضرت علی ـ فرماتے ہیں خدا کے نزدیک زمین پر محبوب ترین عمل دعا ہے (٧)
قال رسول الله صلىاللهعليهوآلهوسلم :اَلْدُّعَاءُ مُخُ الْعِبَادَةِ وَلَاَ یُهْلِکَ مَعَ الّدُعَا ء اُحَد ۔
رسول اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم :دعاعبادت کی اصل اور بنیاد ہے دعا کی صورت میں کوئی شخص ہلاک نہیں ہوتا (٨)
قال الامام علی ـ:اَلدُّعُا تُرْسُ الْمُوُمِنْ ۔
امام علی ـ فرماتے ہیں دعا مومن کے لئے ڈھال اور نگہبان ہے
اور اسے شیطان کے حملہ اور گناہوں سے محفوظ رکھتی ہے (٩)
قال الامام الصادق ـ: عَلَیْکَ بِالدُّعَاءِ: فَاِنَّ فِیْهِ شِفَاء مِنْ کُلِّ دَاءٍ ۔
حضرت امام صادق ـ فرماتے ہیں تیرے لیے دعا ضروری ہے کیونکہ اس میں ہر بیماری کی شفا ہے (١٠)
قال رسول الله صلىاللهعليهوآلهوسلم :تَرْکُ الدُّ عَاءِ مَعْصِيَة :
پیغمبر اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم فرماتے ہیں دعا کا ترک کرناگنا ہ ہے (١١)
قال رسول الله صلىاللهعليهوآلهوسلم :اِدْفَعُوْا اَبْوَابَ الْبَلَاءِ بِالّدُ عَاءِ :
رسول اکر مصلىاللهعليهوآلهوسلم فرماتے ہیں مصیبتوں اور مشکلات کو دور کرو دعا کے ذریعے (١٢)
قال امام علی ـ: مَنْ قَرِعَ بَابَ ﷲ سُبْحِانَهُ فُتِحَ لَه :
حضرت علی ـ فرماتے ہیں جو شخص بھی (دعا کے ذریعے )اللہ کے دروازے کو کھٹکائے گا تو اس کے لئے (قبولیت کا دروازہ) کھول دیا جا ئے گا(١٣)
دوسری حدیث میں فرماتے ہیں کہ یہ ممکن نہیں ہے کہ خدا ونددعا کا دروازہ کھلا رکھے لیکن قبولیت کا دروازہ بند کر دے (١٤)
---------
(١)سورہ غافرہ آیة ٦٠(٢)سورہ اسراء آیة ١١٠(٣،٤)کلمة ﷲ صفحہ ٤٠٩ حدیث ٤٠٥و٤٠٦ (٥) وسائل الشیعہ ابواب دعا ،باب دوم حدیث ٣(٦،٧)کافی کتاب الدعائ(٨ تا 14)میزان الحکمة باب دعاء