میراث خاتم المرسلین(ص)
- شائع
-
- مؤلف:
- سیدمنذر حکیم ا ور عدی غریباوی
- ذرائع:
- منارۂ ہدایت،جلد ١ (سیرت رسول خداۖ)
میراث خاتم المرسلین(ص)
خدا وند عالم فرماتا ہے :
( هو الذی بعث فی الامیین رسولاً منهم یتلوا علیهم آیاته و یزکّیهم و یعلّمهم الکتاب و الحکمة و ان کانوا من قبل لفی ضلال مبین )( سورۂ جمعہ :۲)
خدا وہ ہے جس نے امّیوں میں خود انہیں میں سے ایک رسول(ص) بھیجا جو ان کے سامنے اس کی آیتوں کی تلاوت کرتا ہے اور ان کو پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے اگر چہ اس سے پہلے وہ کھلی گمراہی میں تھے۔
یقینا خاتم الانبیاء حضرت محمد (ص) کی بعثت کے عظیم فوائد تاریخ اسلام کے ذریعہ آشکار ہو چکے ہیں آپ(ص) کی نبوت سے یہ درج ذیل امور روشن ہوئے ہیں:
۱۔ آپ(ص) کی خدائی رسالت عام تھی آپ(ص) نے بشریت تک اسے پہنچایا۔
۲۔ امت مسلمہ تمام قوموں کے لئے مشعل رسالت اٹھائے ہوئے ہے۔
۳۔ اسلامی حکومت ایک منفرد الٰہی نظام اور خود مختار سیاست والا نظام ہے ۔
۴۔ معصوم قائد و رہبر رسول(ص) کے خلیفہ ہیں اور بہترین طریقہ سے آپ(ص) کی نمائندگی کرتے ہیں۔
جب ہم بطورِ خاص رسول(ص) کی اس میراث کو دیکھتے ہیں جوکہ سنی ہوئی، لکھی ہوئی اور تدوین شدہ ہے تو ہمارے لئے ضروری ہو جاتا ہے کہ اس کے دو حصے کریں کیونکہ ہم نے رسول(ص) کی میراث کی تعریف اس طرح کی ہے :
ہر وہ چیز جو رسول(ص) نے امت اسلامیہ اور بشریت کے سامنے پیش کی ہے خواہ وہ پڑھی جانے والی ہو یا سنی جانے والی ہو، اسے میراث رسول(ص) کہتے ہیں اس لحاظ سے اس کی دو قسمیں ہیں:
۱۔ قرآن مجید
۲۔ حدیث شریف-سنت
یہ دونوں نعمتیں آسمانی فیض ہیں جو رسول(ص) کے واسطہ سے انسان تک پہنچی ہیں ، خدا نے وحی کے ذریعہ ان دونوں کو قلبِ محمد(ص) پر اتارا جو کہ اپنی خواہش سے کچھ بولتے ہی نہیں ہیں۔
قرآن مجید اول تو اس لحاظ سے بھی ممتاز ہے کہ اس کا اصل کلام اور اس کا مضمون دونوں ہی خدا کی طرف سے ہے پس یہ الٰہی کلام معجزہ ہے اور اسی طرح اس کا مضمون بھی معجزہ ہے ، اس کی جمع آوری اور تدوین -جیسا کہ تاریخ سے ثابت ہو چکا ہے-رسول(ص) ہی کے زمانہ میں مکمل ہو چکی تھا اور یہ کلام تواتر کے ساتھ بغیر کسی تحریف کے ہم تک پہنچا ہے ۔
ایسے تاریخی ثبوت کی کمی نہیں ہے کہ جو اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ نصِ قرآنی کی تدوین عہد رسول(ص) ہی میں ہو چکی تھی۔ ہم یہاں قرآنی اور غیر قرآنی ثبوت پیش کرتے ہیں۔
۱۔ خدا وند عالم کا ارشاد ہے :
( و قالوا اساطیر الاولین اکتتبها فهی تملی علیه بکرة و اصیلًا (فرقان: ۵)
وہ کہتے ہیںکہ یہ تو اگلے لوگوں کے افسانے ہیں جن کو لکھوا لیا ہے، صبح و شام یہی ان کے سامنے پڑھے جاتے ہیں۔
۲۔حضرت علی بن ابی طالب فرماتے ہیں:
''ما نزلت علیٰ رسول اللّه (ص) آیة من القرآن الا اقرانیها واملاها علّ فکتبتها بخطی و علّمنی تاویلها و تفسیرها ناسخها و منسوخها و محکمها و متشابهها و خاصها و عامها و دعا اللّه ان یعطینی فهمها و حفظها، فما نسیت من کتاب اللّه و علماً املا ه علّ و کتبته منذ دعا لی بمادعا'' ) - (کافی ج۱ ص ۶۲ و ۶۳، کتاب فضل العلم باب اختلاف الحدیث۔)
رسول(ص) پر قرآن کی جو آیت بھی نازل ہوتی تھی آپ(ص) اسے مجھے پڑھاتے اور اس کا املا کراتے تھے اور میں اپنے ہاتھ سے لکھتا تھا آپ مجھے اس کی تاویل ، تفسیر، ناسخ و منسوخ، محکم و متشابہ،خاص و عام کی تعلیم دیتے تھے اورآپ نے خدا سے یہ دعا کی کہ خدا مجھے اسے سمجھنے اور حفظ کرنے کی صلاحیت مرحمت کرے چنانچہ جب سے رسول(ص) نے خدا سے میرے لئے دعا کی ہے اس وقت سے میں قرآن کی آیت اور ان کے لکھوائے ہوئے علم کو نہیں بھولا ہوں۔
مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ رسول(ص) نے پورے قرآن کی تبلیغ کی ہے- پورا قرآن پہنچایا ہے -آج مسلمانوں کے پاس جو قرآن ہے یہ وہی قرآن ہے جو رسول(ص) کے عہد میں متداول تھا اس میں کسی قسم کی کمی بیشی نہیں ہوئی ہے ۔
رہی سنت اور حدیث نبی(ص) تووہ کلام بشری ہے اور اس کامضمون خدا کا ہے اپنی کامل فصاحت کے سبب یہ ممتاز ہے ۔ اس میں رسول(ص) کی عظمت ، عصمت اور آپ(ص) کا کمال جلوہ گر ہے ۔
یہیں سے یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ قرآن مجید اس قانون کا پہلا مصدر اوراولین سر چشمہ ہے کہ بشر کو زندگی میں جس کی ضرورت پیش آسکتی ہے خدا وند عالم فرماتا ہے:
( قل ان هدی اللّه هو الهدیٰ و لئن اتبعت اهوائهم بعد الّذی جائک من العلم مالک من اللّه من ولی ولا نصیر (بقرہ: ۱۲۰ ۔)
کہہ دیجئے کہ ہدایت تو بس پروردگار ہی کی ہدایت ہے اور اگر آپ(ص) علم آنے کے بعد ان کی خواہشوں کی پیروی کریں گے تو پھر خدا کی طرف سے بچانے کے لئے نہ کوئی سرپرست ہوگا اور نہ مددگار۔
قرآن مجید ، حدیث و سنت نبی(ص) کو خدائی قوانین کے لئے دوسرا سر چشمہ قرار دیتا ہے ، یعنی سنت نبی (ص) قرآن کے بعد اس اعتبار سے قانون خدا کا سر چشمہ ہے کہ رسول(ص) قرآن کے مفسر ہیں، اسوۂ حسنہ ہیں جس کی اقتداء کی جاتی ہے لوگوں کو چاہئے کہ آپ(ص) کے احکام پر عمل کریں اور جس چیز سے روکیں اس سے باز رہیں۔( نحل:۴۴، احزاب:۲۱ ، حشر:۷)
مگر افسوس عہد رسول(ص) کے بعد اور اوائل کے خلفاء کے زمانہ میں سنت نبی بہت سخت حالات سے گذری ہے ابو بکر و عمر نے حدیث رسول(ص) کی تدوین پر پابندی لگا دی تھی اور جو حدیثیں بعض صحابہ نے جمع کر لی تھیں انہیں ان دونوںنے یہ کہہ کر نذرِ آتش کر دیا تھا کہ تدوین حدیث اور اس کے اہتمام سے لوگ رفتہ رفتہ قرآن سے غافل ہو جائیں گے، یا حدیث و قرآن میں التباس کی وجہ سے قرآن ضائع ہو جائیگا۔
لیکن اہل بیت ، ان کے شیعوں اور بہت سے مسلمانوں نے قرآن مجید سے درس لیتے ہوئے حدیث کا ویسا ہی احترام کیا جیسا کہ اس کا حق تھاچنانچہ انہوںنے اسے حفظ کرنے زبانی بیان کرنے اور حکومت کی طرف سے تدوین پر پابندی کے باوجود اس کی تدوین کا اہتمام کیا، حدیث کی تدوین پر پابندی کا سبب جو بیان کیاجاتا ہے حقیقت میں وہ اصل سبب نہیں ہے کیونکہ بعد والے علماء اور خلفاء نے اس پر پابندی کی مخالفت کی اور تدوین حدیث کی ترغیب دلائی۔
سب سے پہلے جس نے تدوینِ حدیث کا کام شروع کیا اور اسے اہمیت دی وہ رسول(ص) کی آغوش کے پروردہ آپ(ص) کے وصی، علی بن ابی طالب ہیں جو خود فرماتے ہیں:
''و قد کنت ادخل علیٰ رسول اللّه کل یوم دخلة فیخلینی فیها ادور معه حیثما دار ۔ وقد علم اصحاب رسول الله(ص) انه لم یصنع ذلک باحد من النّاس غیری...و کنت اذا سألته اجابنی و اذا سکتّ وفنیت مسائلی ابدأنی، فما نزلت علیٰ رسول اللّه آیة من القرآن الا اقرانیها و املاها علیّ فکتبتها بخطی و علّمنی تاویلها و تفسیرها... و ما ترک شیئاً علّمه اللّٰه من حلال ولا حرام ولا امر ولا نهی کان او یکون منزلاً علیٰ احد قبله من طاعة او معصیة الا علمنیها و حفظته فلم انس حرفاً واحداً...'' (بصائر الدرجات: ۱۹۸، کافی ج۱ ص ۶۲و ۶۳۔)
میں ہر روزایک مرتبہ رسول(ص) کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا اس وقت آپ(ص) صرف مجھے اپنے پاس رکھتے تھے، چنانچہ جہاں وہ جاتے میں بھی وہیں جاتا تھا، رسول(ص) کے اصحاب اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیںکہ رسول(ص) نے میرے علاوہ کسی اور کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کیا...جب میں آپ(ص) سے سوال کرتا تھا تو آپ(ص) مجھے جواب دیتے تھے اور جب میرا سوال ختم ہو جاتا تھا اور میں خاموش ہو جاتا تھا تو آپ(ص) اپنی طرف سے سلسلہ کا آغاز کرتے تھے ، رسول(ص) پر جو آیت نازل ہوتی تھی اس کی تعلیم آپ(ص) مجھے دیتے تھے اور مجھے اس کا املا کراتے تھے اور میں اسے اپنے ہاتھ سے لکھ لیتا تھا اور مجھے اس کی تاویل و تفسیر کی تعلیم دیتے تھے... حلال و حرام امر و نہی اور جو ہو چکاہے یا ہوگا یا آپ(ص) سے پہلے کسی پر اطاعت و معصیت کے بارے میں نازل ہونے والی چیز کا جو علم خدا نے آپ کوعطا کیا تھاوہ سب آپ(ص) نے مجھے سکھایا اور میں نے اسے یاد کر لیا اور اس میںسے میں ایک حرف بھی نہیں بھولا ہوں۔
حضرت علی(ع) نے رسول(ص) کے املا کو ایک کتاب میں جمع کیا ہے جس کانام جامعہ یا صحیفہ ہے۔
ابوعباس نجاشی ، متوفی-۴۵۰ھ-کہتے ہیں: ہمیں محمد بن جعفر-نحوی تمیمی نے جو نجاشی کے شیخ تھے- عذافر صیرفی کے حوالے سے خبر دی ہے کہ انہوں نے کہا: میں حکم بن عتیبہ کے ساتھ ابو جعفر-امام محمد باقرعلیہما السلام-کی خدمت میں حاضر تھا اس نے ابو جعفر سے سوال کیا وہ ان کی بہت تعظیم و عزت کرتا تھا لیکن کسی چیز کے بارے میں دونوں میں اختلاف ہو گیا تو ابو جعفر نے فرمایا:
بیٹا! ذرا میرے جد حضرت علی کی کتاب نکالو: انہوں نے کتاب نکالی وہ عظیم کتاب لپٹی ہوئی تھی، ابو جعفر اسے لیکر دیکھنے لگے یہاں تک کہ اس مسئلہ کو نکال لیا اور فرمایا: یہ حضرت علی کی تحریر اور رسول(ص) کا املا ہے پھر حکم کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا؛ اے ابو محمد، سلمہ اور ابو المقدام تم ادھر ادھر جہاں چاہو چلے جائو خدا کی قسم تمہیں کسی قوم کے پاس اس سے بہتر علم نہیں ملے گا ان پر جبریل نازل ہوتے تھے۔۔ ( تاریخ التشریع الاسلامی ص ۳۱)
ابراہیم بن ہاشم نے امام محمد باقر کی طرف نسبت دیتے ہوئے روایت کی ہے کہ آپ(ص) نے فرمایا:
'' فی کتاب علی کل شیء یحتاج الیہ حتی ارش الخدش''۔( تاریخ التشریع الاسلامی ص ۳۲)
حضرت علی کی کتاب میں ہر وہ چیز موجود ہے جس کی ضرورت پڑ سکتی ہے یہاں تک خراش کا جرمانہ بھی لکھا ہوا ہے ۔
اس کا مطلب یہ ہے علی کا جامعہ یا صحیفہ آپ کی دوسری تدوین ہے جو کھال پر لکھا ہوا ہے ، اس کا طول ستر ہاتھ ہے ۔
ابو بصیر سے روایت ہے کہ انہوںنے امام جعفر صادق سے کچھ دریافت کیا تو آپ(ص) نے فرمایا:
''ان عندنا الجامعة ، صحیفة طولها سبعون ذراعاً بذراع رسول اللّه و املائه فلق فیه و خط علی، بیمینه فیها کل حلال و حرام و کل شیء یحتاج الیه النّاس حتی الارش فی الخدش'' ۔( تاریخ التشریع الاسلامی ص ۳۳)
ہمارے پاس جامعہ ہے ، یہ ایک صحیفہ ہے جس کا طول ، رسول(ص) کے ہاتھ کے لحاظ سے، ستّر ہاتھ ہے، یہ رسول نے املا لکھوایا ہے اورعلی نے اپنے ہاتھ سے لکھا ہے ۔اس میں حلال و حرام کی تفصیل اور ہر اس چیز کاحکم و بیان ہے جس کی لوگوں کو ضرورت پڑ سکتی ہے یہاں تک کہ اس میںایک معمولی خراش کی دیت بھی لکھی ہوئی ہے ۔
یہ ہے سنت کے سلسلہ میں اہل بیت کا موقف۔
لیکن شیخین کے عہدِ خلافت میں حکومت کے موقف سے بہت ہی منفی آثار مترتب ہوئے کیونکہ سو سال تک تدوین سنت سے متعلق کوئی کام نہیں ہو سکا اس موقف کی وجہ سے بہت سی حدیثیں ضائع ہو گئیں اور مسلمانوں کے ثقافتی اسناد و مصادر میں اسرائیلیات داخل ہو گئے اور قیاس و استحسان کا دروازہ پوری طرح کھل گیا اور وہ بھی تشریع و قانون کے مصدروں میں سے ایک مصدر شمار ہونے لگا بلکہ بعض لوگوں نے تو اسے سنت نبوی پر مقدم کیا ہے کیونکہ بہت سے نصوص علمی تنقید کی رو سے صحیح نہیںمعلوم ہوتے تھے لیکن اس سے اہل سنت کے نزدیک رسول(ص) کی صحیح حدیثیں بھی مخدوش ہو گئیں چنانچہ وہ حدیثیں زمانۂ مستقبل میں اس چیز کو بھی پورا نہیں کر سکیں جس کی امت کو احتیاج تھی۔
لیکن اہل بیت نے اس تباہ کن رجحان کا مقابلہ پوری طاقت سے کیا اور سنت نبوی (ص) کو مومنین کے نزدیک ضائع نہیں ہونے دیا انہوں نے اپنی امامت و خلافت کے اقتضاء کے مطابق اس کی توجیہ کی کیونکہ زمام دار منصوص امام و خلیفہ ہی ہوتا ہے اور وہی شریعت اور اس کی نصوص کو ضائع ہونے سے بچا تاہے ۔
سنت نبوی کی تحقیق کرنے والے کے لئے ضروری ہے کہ وہ سنت کے ان مصادر کا مطالعہ کرے جو اہل بیت اور ان کا اتباع کرنے والوں کے پاس ہیں کیونکہ گھر کی بات گھر والے ہی بہتر جانتے ہیں۔
اہل بیت کے پاس جو سنت ہے وہ عقیدے ، فقہ اور اخلاق و تربیت کے تمام ابواب پر حاوی ہے اس میں ہر وہ چیز موجود ہے جس کی ضرورت بشریت کو زندگی میں پڑ سکتی ہے۔
اس حقیقت کی تصریح رسول(ص) کے نواسہ حضرت امام جعفر صادق نے اس طرح کی ہے : ''ما من شیء الا و فیہ کتاب او سنة''۔( الکافی ج۱ ص۴۸)
کوئی چیز بھی ایسی نہیں ہے کہ جس کے بارے میں قرآن و حدیث میں حکم موجود نہ ہو۔