غیرمسلمانوں کے لئےدعاء کرنا جائز ہے؟
غیرمسلمانوں کے لئےدعاء کرنا کیسا ہے؟
تحریر: گروہ مرکز ملی پاسخگویی به سوالات دینی
استغفار کفار کے لئے تب تک جائز ہے جب تک کہ ان کی ہدایت کی کوئی امید ہو، اوراگر ان کی پوری ہستی تاریکی اور گمراہی میں ڈوبی ہوئی ہو تو چاہے دعا ءکی جائے، اس کا کوئی اثر نہیں ہوگا۔
سوال:
آیات قرآنی ہر غور و فکر اور تدبر کے مطابق، کیا غیر مسلموں کے لئے دعاء اور طلب مغفرت کرنا جائز ہے؟
اگر ہاں! تو یہ توالی اور تبری کے ساتھ کس طرح ہم آہنگ ہے؟
اور اگر نہیں، تو کیوں اور کس دلیل کی وجہ سے؟
کیا وہ خدا کی مخلوق نہیں ہیں اور خدا نے انہیں ہدایت کے لئے نہیں خلق نہیں کیا ہے؟
جواب:
مقدمه:
خداوند متعال کائنات کا خالق ہے اور اس کی عام رحمت ،تمام مخلوقات پر ہونی چاہئے۔ ایک مؤمن انسان بھی اپنی وجود کی صلاحیت کے لحاظ سے، اگر وہ خدا کی اسماء اور صفات کا مظہر بننا چاہتا ہے تو اسے دیگر مخلوقات کے ساتھ خیرخواہ اور مہربان ہونا چاہئے۔ اس لئے صحیح ایمان کے عناصر، دین کے نظام میں ایک اہم اور بہت نمایاں عنصر ہیں اور اس لئے یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ کیا یہ خیرخواہی اور مہربانی ہر مخلوق، چاہے مؤمن ہو یا کافر، پر محیط ہونی چاہیے یا یہ ایمان اور مؤمنوں کے دائرے تک محدود ہونی چاہئے؟ اس موضوع پر آگے گفتگو کی جائے گی۔
قرآن اور کافر کے لئے استغفار کرنے کی ممانعت:
خداوند متعال قرآن کریم میں فرماتے ہیں:
مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَىٰ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ
"نبی اور ایمان والوں کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ مشرکوں کے لیے مغفرت طلب کریں خواہ وہ ان کے قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں جبکہ یہ بات ان پر عیاں ہو چکی ہے کہ وہ جہنم والے ہیں"۔(1)
یہ واضح ہوگیا کہ وہ جہنمی ہیں۔
پس کافروں کے لئے استغفار کا نامناسب ہونا اس وقت ہے جب مسلمانوں کے لئے واضح ہو جائے کہ وہ جہنمی ہیں۔ اس اقتباس کا مطلب یہ ہے کہ تبیین سے پہلے، کافروں کے لئے استغفار کرنا جائز ہے۔
اس بات کامؤید یہ ہے حضرت ابراہیم (علیہالسلام) کی سیرت میں ملتاہے۔کہ
حضرت ابراہیم (علیہالسلام) ایک عرصے تک اپنے کافر چچا کے لئے صحت اور اللہ تعالیٰ سے اس کے لئے معافی طلب کرتے رہے۔ اس دوران، ان کے چچا نے ان کے ساتھ بدترین سلوک کیا:
قَالَ أَرَاغِبٌ أَنْتَ عَنْ آلِهَتِي يَا إِبْرَاهِيمُ ۖ لَئِنْ لَمْ تَنْتَهِ لَأَرْجُمَنَّكَ ۖ وَاهْجُرْنِي مَلِيًّا قَالَ سَلَامٌ عَلَيْكَ ۖ سَأَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّي ۖ إِنَّهُ كَانَ بِي حَفِيًّا
اس نے کہا: اے ابراہیم! کیا تو میرے معبودوں سے برگشتہ ہو گیا ہے؟ اگر تو باز نہ آیا تو میں تجھے ضرور سنگسار کروں گا اور تو ایک مدت کے لیے مجھ سے دور ہو جا۔ ابراہیم نے کہا: آپ پر سلام ہو! میں آپ کے لیے اپنے رب سے مغفرت طلب کروں گا یقینا وہ مجھ پر نہایت مہربان ہے۔ ؛ (2)
منکر کے پاس جب منطق نہیں ہوتی تو طاقت کے استعمال پر اتر آتا ہے، لیکن جس کے پاس منطق ہوتی ہے وہ اس دھمکی کے جواب میں سلام پیش کرتا ہے اور مغفرت طلب کرتا ہے۔
آلِهَتِي الہٌ :
کی جمع ہے۔ وہ اپنے بہت سے معبودوں کا ذکر کرتا ہے۔ چنانچہ کلدانی مذہب میں ان کے معبودوں کے پانچ ہزار تک ناموں کے کتبوں کا انکشاف ہوا ہے۔
وَاهْجُرْنِي مَلِيًّا:
آزر نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنے پاس سے ایک طویل مدت یا ہمیشہ کے لیے دور ہونے کو کہا۔ اس سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام آزر کے پاس ہوتے تھے۔ اس سے اس بات کو تقویت ملتی ہے جو کہتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد اس وقت زندہ نہیں تھے۔
واضح رہے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ابتدائے دعوت میں آزر کے لیے استغفار کی۔ یہ استغفار ایک مدت تک کے لیے تھی۔ جس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے سَاَسۡتَغۡفِرُ کا وعدہ کیا تھا۔ چنانچہ دعوت حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ابتدائی دنوں کے بعد جب حضرت ابراہیم علیہ السلام پر واضح ہو گیا تھا کہ آزر اللہ کا دشمن ہے تو اس سے بیزاری اختیار کی۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی آخری زندگی میں اپنے والدین کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہیں:
رَبَّنَا اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ الْحِسَابُ.
اے ہمارے رب مجھے اور میرے والدین اور ایمان والوں کو بروز حساب مغفرت سے نواز۔ ۔ (ابراہیم: 41)
اس آیت سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والدین کا ایمان قطعی طور پر ثابت ہو جاتا ہے، کیونکہ یہ دعا حضرت اسماعیل و اسحاق علیہما السلام کی ولادت کے بعد عالم پیری میں کی تھی۔ اس وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والدین یقینا وفات پا چکے تھے۔
قابل توجہ بات یہ ہے کہ آزر کے لیے اب کا لفظ استعمال ہوا ہے جو حقیقی باپ اور چچا دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے، جبکہ والد صرف حقیقی باپ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس آیت میں والدین کا لفظ استعمال ہوا ہے، اس کے باوجود لوگ اب سے مراد حقیقی باپ لیتے ہیں اور والد سے مراد آدم یا نوح علیہما السلام لیتے ہیں۔ کچھ لوگ کہتے ہیں: یہاں والدی نہیں ولدی ہے، یعنی میرے دو بیٹوں کو بخش دے۔
اِنَّ هذَا لَشَیۡءٌ عُجَابٌ ۔
اس سے معلوم ہوا کہ آزر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد نہیں ہیں۔ آزر تو اللہ کا دشمن تھا۔ اس سے بیزاری ہوئی تھی۔ اب آخری عمر میں اس کے لیے طلب مغفرت کیسے ممکن ہے۔(ماخوذ از بلاغ القرآن)
لیکن جب یہ واضح ہوگیا کہ ان کے چچا کی ہدایت کی کوئی امید نہیں تو انہوں نے ان کے لئے مزید استغفار نہیں کیا؛ اللہ تعالیٰ اس بارے میں فرماتے ہیں:
وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَاهِيمَ لِأَبِيهِ إِلَّا عَنْ مَوْعِدَةٍ وَعَدَهَا إِيَّاهُ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ أَنَّهُ عَدُوٌّ لِلَّهِ تَبَرَّأَ مِنْهُ ۚ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لَأَوَّاهٌ حَلِيمٌ﴿ سوره التوبة ۱۱۴﴾
"اور(وہاں)ابراہیم کا اپنے باپ (چچا) کے لیے مغفرت طلب کرنا اس وعدے کی وجہ سے تھا جو انہوں نے اس کے ساتھ کر رکھا تھا لیکن جب ان پر یہ بات کھل گئی کہ وہ دشمن خدا ہے تو وہ اس سے بیزار ہو گئے، ابراہیم یقینا نرم دل اور بردبار تھے"۔
اور ابراہیم کا اپنے چچا کے لئے طلب مغفرت صرف اس وعدے کی وجہ سے تھا جو انہوں نے اسے دیا تھا اور جب ان کے لئے واضح ہوا کہ وہ اللہ کے دشمن ہیں تو انہوں نے اس وعدے کو چھوڑ دیا؛ بے شک ابراہیم بہت مہربان (اور) صابر تھے۔ (3)
«تفسیر نمونہ» میں آیا ہے: «... اس معنی کے مطابق مسلمان اپنے مشرک دوستوں اور رشتہ داروں کے لئے اس وقت تک استغفار اور دعاء کر سکتے ہیں جب تک وہ زندہ ہوں اور ان کی ہدایت کی امید ہو، لیکن جب یہ واضح ہو جائے کہ ان کی ہدایت کی کوئی امید نہیں اور وہ کفر و شرک کی حالت میں دنیا سے چلے گئے ہیں تو ان کے لئے دعاء اور استغفار نہیں کرنا چاہئے»۔ (4)
اوپر کی آیات سے حضرت ابراہیم (علیہالسلام) اور پیغمبر اکرم (صلیالله علیہ و آلہ) اور مؤمنین کے ساتھ جو بات واضح ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ استغفار کی اجازت نہیں ہے، ان کافروں کے لئے جو اللہ کے دشمن ہونے اور جہنمی ہونے میں واضح ہو چکے ہیں، نہ کہ تمام کافروں کے لئے؛ اسی طرح یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ دعاء کی مختلف اقسام میں ان کے لئے استغفار کا طلب ممنوع ہے، نہ یہ کہ تمام حالات اور دعاء کے اقسام ان کے لئے ممنوع ہیں۔
دعاء کرنے کے بارے میں کفار کے لئے دوسری مثالوں کے حوالے سے ہماری کوئی خاص ہدایت نہیں ہے، سوائے اس کے کہ ماہ مبارک رمضان میں ہر نماز کے بعد ایک دعاء آئی ہے جس کے اکثر الفاظ عمومی ہیں اور مسلمان اور کافر دونوں شامل ہیں؛
شیخ کفعمی نے مصباح و بلد الامین اور شیخ شہید نے اپنے مجموعہ میں رسول ﷲ سے نقل کیا ہے کہا آپ نے فرمایا: جو شخص رمضان المبارک میں ہر واجب نماز کے بعد یہ دعا پڑھے تو خدا وند اس کے قیامت تک کے گناہ معاف کر دے گا اور وہ دعا یہ ہے:
«اَللّـهُمَّ اَدْخِلْ عَلى اَهْلِ الْقُبُورِ السُّرُورَ اَللّـهُمَّ اَغْنِ كُلَّ فَقيرٍ، اَللّـهُمَّ اَشْبِعْ كُلَّ جائِعٍ، اَللّـهُمَّ اكْسُ كُلَّ عُرْيانٍ، اَللّـهُمَّ اقْضِ دَيْنَ كُلِّ مَدينٍ، اَللّـهُمَّ فَرِّجْ عَنْ كُلِّ مَكْرُوبٍ، اَللّـهُمَّ رُدَّ كُلَّ غَريبٍ، اَللّـهُمَّ فُكَّ كُلَّ اَسيرٍ، اَللّـهُمَّ اَصْلِحْ كُلَّ فاسِدٍ مِنْ اُمُورِ الْمُسْلِمينَ، اَللّـهُمَّ اشْفِ كُلَّ مَريضٍ، اللّهُمَّ سُدَّ فَقْرَنا بِغِناكَ، اَللّـهُمَّ غَيِّر سُوءَ حالِنا بِحُسْنِ حالِكَ، اَللّـهُمَّ اقْضِ عَنَّا الدَّيْنَ وَاَغْنِنا مِنَ الْفَقْرِ، اِنَّكَ عَلى كُلِّ شَيءٍ قَديرٌ»
اے معبود ! قبروں میں دفن شدہ لوگوں کو شادمانی عطا فرما اے معبود! ہر محتاج کو غنی بنا دے
اے معبود! ہر بھوکے کو شکم سیر کر دےاے معبود! ہر عریان کو لباس پہنا دے
اے معبود! ہر مقروض کا قرض ادا کر اے معبود! ہر مصیبت زدہ کو آسودگی عطا کر
اے معبود! ہر مسافر کو وطن واپس لا اے معبود! ہر قیدی کو رہائی بخش دے
اے معبود! مسلمانوں کے امور میں سے ہر بگاڑ کی اصلاح فرما دے
اے معبود! ہر مریض کو شفا عطا فرما
اے معبود! اپنی ثروت سے ہماری محتاجی ختم کر دے
اے معبود! ہماری بد حالی کو خوشحالی سے بدل دے
اے معبود! ہمیں اپنے قرض ادا کرنے کی توفیق دے اور محتاجی سے بچا لے بے شک تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔
اگرچہ ممکن ہے کہ اس "کُلّ" کی خاص طور پر مسلمانوں کی طرف اشارہ کرنے کی کوئی دلیل ہو،
لیکن ایسا لگتا ہے کہ یہ دلائل اس طرح کے نہیں ہیں کہ وہ حدیث کی عمومی حیثیت کو ختم کر سکیں۔
البتہ یہ دعاء خاص طور پر ماہ مبارک رمضان کے لئے ہے اور ہو سکتا ہے کہ یہ وقتی موقعیت ایسی خصوصیات رکھتی ہو کہ جس کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہ اجازت دی ہو کہ وہ ہر انسان کے لئے، چاہے وہ موحد ہو یا کافر، دعاء کریں۔
نکات قابل توجہ:
۱- کافر مختلف اقسام کے ہوتے ہیں، کچھ مستضعف ہو سکتے ہیں یعنی ان تک حق کی بات نہیں پہنچی اور اسلام کی حقانیت ان کے لئے ثابت نہیں ہوئی، اور یوں کہہ لیں کہ ان پر حجت مکمل نہیں ہوئی۔
جبکہ کچھ دوسرےمعاند ہوتے ہیں یعنی ان کے لئے اسلام اور دینِ الہی کی حقانیت ثابت ہو چکی ہے اور ان پر حجت مکمل ہو چکی ہے، پھر بھی وہ اپنے کفر پر اصرار کرتے ہیں۔
وہ دعاء، جو منع کی گئی ہے، کافر معاند کے لئے ہے۔
۲- اگرچہ دعاء کرنے میں زیادہ پابندیاں نہیں ہیں، مگر دعاء کی قبولیت کے کچھ شرائط ہیں، جن میں سے ایک اس فرد کی قابلیت ہے، جس کے لئے ہم دعاء کر رہے ہیں۔ حالانکہ ہم کافر کے حق میں اس کی زندگی کے دوران دعاء کر سکتے ہیں، اگر وہ کفر کی حالت میں دنیا سے چلا جائے، تو خود انہوں نے دعاء کی قبولیت کے مواقع کو ختم کر دیا ہے اور ہماری دعاء ان کے حق میں قبول نہیں ہوگی۔
اس لحاظ سے ان کے حق میں دعاء کرنا معنی نہیں رکھتا اور اسلام نے اس کی اجازت نہیں دی۔
3- کفار اور مشرکین کے لئے دعاء اور استغفار کرنا
اس وقت تک جائز ہے جب تک ان کی ہدایت کی امید باقی رہے، مگر جب یہ یقین ہو جائے کہ یہ افراد جان بوجھ کر حق کی مخالفت کر رہے ہیں اور حجت ختم ہونے کے بعد ایمان نہیں لاتے، تو ایسے میں ان کے لئے دعاء اور استغفار نہیں کرنا چاہئے۔
ایک روایت میں امام کاظم (علیہ السلام) فرماتے ہیں: «اس میں کوئی حرج نہیں کہ ایک عیسائی ڈاکٹر کے لئے دعاء کی جائے؛ آپ کی دعاء ان کے لئے کوئی نفع نہیں دے گی اور خدا اسے قبول نہیں کرے گا»۔ (6)
یہ روایت اسی عمومی قاعدے کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ جب تک ان میں ہدایت کی امید باقی ہے، ان کے لئے دعاء کرنے میں کوئی حرج نہیں، اگر وہ جان بوجھ کر حق اور حقیقت کی مخالفت کر رہے ہیں، تو پھر ان کے لئے دعاء کرنا فائدہ مند نہیں ہے اور قبول بھی نہیں ہوگی۔
اسی طرح سے کہ کفار اور فاسقین نے اپنی خود قابلیتِ ہدایت کو ختم کر دیا ہے اور دانستہ طور پر اپنے کفر اور فسق پر اصرار کر رہے ہیں، خداوند متعال اپنے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) سے فرماتا ہے:
اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ كَفَرُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ ﴿ سوره التوبة 80﴾
"(اے رسول) آپ ایسے لوگوں کے لیے مغفرت کی دعا کریں یا دعا نہ کریں (مساوی ہے) اگر ستر بار بھی آپ ان کے لیے مغفرت طلب کریں تو بھی اللہ انہیں ہرگز معاف نہیں کرے گا، یہ اس لیے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا ہے اور اللہ فاسقین کو ہدایت نہیں دیتا"۔
یعنی :جب یہ لوگ بدتر جرم جو کفر اور فسق سے عبارت ہے، کے ارتکاب میں مشغول ہیں، عین اس وقت ان کے لیے درگزر اور معاف کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اس بات کے ناممکن اور نامعقول ہونے کی طرف اشارہ فرماتے ہوئے فرمایا: اے رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم خواہ آپ بنفس نفیس ان کے لیے ستر بار بھی مغفرت کی دعا کریں پھر بھی یہ لوگ قابل عفو و درگزر نہیں ہیں کیونکہ ان کی طرف سے جرم ہنوز جاری ہے۔ ستر سے کثرت مراد ہے، حد بندی نہیں(بلاغ القرآن)۔
پس ان کے لئے استغفار کریں یا نہ کریں، (حتی کہ) اگر آپ ان کے لئے ستر بار استغفار کریں،تب بھی خدا انہیں نہیں بخشے گا! کیونکہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کا انکار کیا؛ اور اللہ فاسقوں کی قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔ (7)
۴- یہ سوچنا ممکن ہے کہ کیسے یہ جائز ہے کہ میں کافروں کے لئے دعاء کروں، حالانکہ میری دعاء سے وہ طاقت حاصل کرتے ہیں اور مسلمانوں پر تسلط حاصل کر لیتے ہیں اور ظلم کرتے ہیں؟
یہاں یہ کہنا چاہیے کہ جہاں دعاء کو جائز سمجھا گیا ہے، دعاء کا مقصد کافر کا کافر ہونا یا اس کے کفر کو بڑھانا نہیں ہے، بلکہ صرف یہ ہے کہ اس کے ہدایت کے لئے راہ ہموار ہو اور ہر مسلمان بھی غیر مسلم، جیسے کہ یہودی، عیسائی وغیرہ کے لئے دعاء کرتا ہے (خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں وہ ساتھ رہتے ہیں اور ہمسایہ ہیں وغیرہ...) تو یقیناً اس کا مقصد اس کے کفر کو بڑھانا نہیں ہے، بلکہ انسانی حیثیت اور اس کے ہدایت کے موقع کو مدنظر رکھنا ہے۔
نتیجہ:
کافروں کے لئے استغفار اس وقت تک جائز ہے جب تک ان کے ہدایت کی امید موجود ہو، لیکن اگر ان کی تمام وجود تاریکی اور ضلالت سے بھر جائے اور وہ گمراہی کے راستے پر قائم رہیں یا کفر کی حالت میں مر جائیں، تو اس صورت میں ان کے لئے مغفرت طلب کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے اور اگر دعاء کی بھی جائے تو اس کا اثر اور فائدہ نہیں ہوگا