روزے کے بارے میں چند احادیث
روزے کا فلسفہ
حديث ۲ :
قالَ الصّادِقُ عليه السلام: اِنَّـما فَرَضَ اللّه ُ الصِّـيامَ لِيَسْتَوى بِهِ الْغَنِىُّ وَ الْفَقيرُ. [من لا يحضره الفقيه، ج 2، ص 43، ح 1]
امام صادق عليه السلام نے فرمایا: پروردگار عالم نے روزہ کو واجب کیا تاکہ فقیر اور غنی، مساوی ہوں۔
اخلاص کے امتحان کا روزہ
حديث ۳-
قالَ أَميرُ الْمُؤْمِنينَ عليه السلام: فَـرَضَ اللّه ُ ... الصِّيـامَ اِبْتِلاءً لاِِخْلاصِ الْخَلْقِ. [نهج البلاغه، حكمت 252]
امام علی علیہ السلام نے فرمایا: پروردگارعالم نے خلق الہی کے اخلاص ،جانچنے کے لئے روزے کو واجب قرار دیا۔
روزہ قیامت کی یاد دہانی کےلئے
حديث:۴
قالَ الرِّضا عليه السلام: اِنَّـما اُمِـرُوا بِالصَّـوْمِ لِكَىْ يَعْرِفُوا أَلَمَ الْجُوْعِ وَ الْعَطَشِ فَيَسْـتَدِلُّوا عَلى فَقْرِاْلاْخِـرَةِ. [وسائل الشيعه، ج 4، ص 4، ح 5؛ علل الشرايع، ص 10]
امام رضا عليه السلام نےفرمایا: لوگوں کو روزہ رکھنے کا حکم اس لئے دیا گیا ہے تاکہ وہ بھوک اور پیاس کا درد محسوس کریں اور اس کی وجہ سے آخرت کی فقر اور بے چارگی کو سمجھ سکیں.
روزه، بدن کی زكات
حديث ۵-
قال رَسُول اللّهِ صلي الله عليه و آله وسلم: لِكُـلِّ شَيْى ءٍ زَكـاُةٌ وَ زَكاةُ الاَْبْدانِ الصِّيامُ. [الكافى، ج 4، ص 62، ح 3]
رسول خدا صلي الله عليه و آلہ وسلّم نےفرمایا: ہر چیز کےلئےزکوة ہے اوربدن کی زکات روزہ ہے۔
روزه آگ کی ڈھال ہے
حديث ۶ :
قالَ رَسُولُ اللّهِ صلي الله عليه و آله وسلم: أَلصَّوْمُ جُنَّـةٌ مِنَ النّـارِ. [الكافى، ج 4، ص 162]
رسول خدا صلي الله عليه و آله وسلم نےفرمایا: روزہ آتش (جہنّم) کےلئےسپر اور ڈھال ہے۔ «يعنی قیامت کے دن انسان کے روزہ وجہ سے،جہنم کی آتش سے محفوظ رہے گا» ۔
روزه کی اهميّت
حديث ۷:
قالَ رَسُولُ اللّهِ صلي الله عليه و آله وسلم: أَلصَّـوْمُ فِى الْحَـرِّ جِـهادٌ. [بحار الانوار، ج 96، ص 257]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:انسان کا گرمی میں روزہ رکھنا جہاد ہے۔
نفــس کاروزه
حديث۸ :
قالَ أَميرُ الْمُؤْمِنينَ عليه السلام: صَوْمُ النَّـفْسِ عَنْ لَذّاتِ الدُّنْيا أَنْفَـعُ الصِّيــامِ. [غُرر الحكم، ج 1، ص 416، ح 64]
امیر المؤمنین علی علیہ السلام نے فرمایا:نفس کا روزہ، دنیاوی لذتوں سے زیادہ نفع بخش روزہ ہے۔
(یعنی دنیا کی لذتوں سے خوداپنی نفس کو نکالنا اور نفس کا لگام دینا سب سے زیادہ فائدہ مند روزہ ہے۔)
حقیقی روزہ
صفحه اختصاصي حديث و آيات ۹ قالَ أَميرُ الْمُؤْمِنينَ عليه السلام: أَلصِّيـامُ اِجْتِـنابُ الْمَحـارِمِ كَما يَمْتَنِعُ الرَّجُلُ مِنَ الطَّعامِ وَ الشَّرابِ. [بحار، ج 93، ص 249]
امام على عليه السلام نے فرمایا: روزہ حرام اور محارم چیزوں سے پرہیز کا نام ہےجیسا کہ انسان کھانے اورپینے سے پرہیز کرتا ہے۔
بہترين روزه
حديث ۱۰:
قالَ أَميرُ الْمُؤْمِنينَ عليه السلام: صَـوْمُ الْقَلْبِ خَيْرٌ مِنْ صِيـامِ الِلّسانِ وَ صَوْمُ الِلّسانِ خَيْرٌ مِنْ صِيامِ الْبَطْنِ. [غُرر الحكم، ج 1، ص 417، ح 80]
امام علی علیہ السلام نےارشاد فرمایا: قلب کا روزہ، زبان کے روزے سے افضل ہے اور زبان کا روزہ ،شکم کے روزے سےافضل ہے۔