امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک

ماہ رمضان کی فضیلت (٢)

1 ووٹ دیں 05.0 / 5

ماہ رمضان کی فضیلت (٢)
(يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ) ( ۱ ) .
ترجمہ: اے صاحبان ایمان تمہارے اوپر روزے اسی طرح لکھ دیئے گئے ہیں جس طرح تمہارے پہلے والوں پر لکھے گئے تھے شاید تم اس طرح متّقی بن جاؤ.
عزیزان گرامی! ہماری گفتگو کا موضوع ماہ مبارک رمضان کی فضیلت تھا جس کے بارے میں گذشتہ درس میں کسی حدّ تک بیان کیا گیا اور آج بھی اسی موضوع پر گفتگو جاری رہے گی تو کل ہم نے عرض کیا کہ یہ مہینہ برکتوں اور رحمتوں کا مہینہ ہے اس مہینہ کا نام رمضان اسی لئے رکھا گیا کہ اس میں روزہ دار کے گناہوں کو مٹا کر اسے کمال کی سعادت سے فیضیاب کیا جاتا ہے اس ماہ کے دن ورات کی قدر کریں. رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں :
عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ فَضَّالٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الرِّضَا ، عَنْ آبَائِهِ ، عَنْ عَلِيٍّ ( عليهم السلام ) ، قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ( صلى الله عليه و آله ) خَطَبَنَا ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ : " أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ قَدْ أَقْبَلَ إِلَيْكُمْ شَهْرُ اللَّهِ بِالْبَرَكَةِ وَ الرَّحْمَةِ وَ الْمَغْفِرَةِ ، شَهْرٌ هُوَ عِنْدَ اللَّهِ أَفْضَلُ الشُّهُورِ ، وَ أَيَّامُهُ أَفْضَلُ الْأَيَّامِ ، وَ لَيَالِيهِ أَفْضَلُ اللَّيَالِي ، وَ سَاعَاتُهُ أَفْضَلُ السَّاعَاتِ ، ( ۲ )
اے لوگو!
خدا کا مہینہ تمھارے پاس آیا ہے .وہ مہینہ جو تمام مہینوں پر فضیلت رکھتا ہے ، جس کے دن بہترین دن ، جس کی راتیں بہترین راتیں اور جس کی گھڑیاں سب سے بہترین گھڑیاں ہیں
اور پھر اس ماہ کی فضیلت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا :
 أَنْفَاسُكُمْ فِيهِ تَسْبِيحٌ ، وَ نَوْمُكُمْ فِيهِ عِبَادَةٌ  ( ۳ )
اس ماہ میں تمھارا سانس لینا تسبیح اور تمھارا سونا عبادت شمار ہوتا ہے اس سے بڑھکر عزیزان گرامی اس ذات ذوالجلال کا اپنے بندوں پر کیا لطف و کرم ہو سکتا ہے کہ انسان کوئی عمل بھی نہیںکررہا مگر وہ خدا اس قدر رؤوف ہے اپنے بندوں پر کہ انہیں اجر پہ اجر دیتا جارہا
امام صادق علیہ السلام اپنے فرزند ارجمند کونصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
الإمامُ الصّادقُ عليه السلام ـ مِن وَصِيَّتِهِ لِولْدِهِ عِندَ دُخُولِ شَهرِ رَمَضانَ ـ ، فاجهَدُوا أنفُسَكُم فإنّ فيهِ تُقسَمُ الأرزاقُ ، و تُكتَبُ الآجالُ ، و فيهِ يُكتَبُ وَفدُ اللّه ِ الذين يَفِدُونَ إلَيهِ ، و فيهِ ليلةٌ العَمَلُ فيها خَيرٌ مِن العَمَلِ في ألفِ شَهرٍ ( ۴ )
جب ماہ مبارک آجائے تو سعی وکوشش کرو اس لئے کہ اس ماہ میں رزق تقسیم ہوتا ہے تقدیر لکھی جاتی ہے اور ان لوگوں کے نام لکھے جاتے ہیں جو حج سے شرفیاب ہونگے .اور اس ماہ میں ایک رات ایسی ہے کہ جس میں عمل ہزار مہینوں کے عمل سے بہتر ہے
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس مقدس مہینہ کے بارے میں فرماتے ہیں :
أنّ شهرکم هذا لیس کالشّهور ، أنّه اذا أقبل الیکم أقبل بالبرکة و الرّحمة، و اذا أدبر عنکم أدبر بغفران الذّنوب ، هذا شهر الحسنات فیه مضاعفة ، و اعمال الخیر فیه مقبولة ( ۵ )
یہ مہینہ عام مہینوں کے مانند نہیں ہے.جب یہ مہینہ آتا ہے تو برکت ورحمت لیکرآتا ہے اور جب جاتا ہے تو گناہوں کی بخشش کے ساتھ جاتا ہے ، اس ماہ میں نیکیاں دو برابر ہوجاتی ہیں اور نیک اعمال قبول ہوتے ہیں .
یعنی اسکا آنا بھی مبارک ہے اور اس کا جانا بھی مبارک بلکہ یہ مہینہ پورے کا پورا مبارک ہے لہذا اس ماہ میں زیادہ سے زیادہ نیک عمل کرنے کی کوشش کریں،کوئی لمحہ ایسا نہ ہو جو ذکر خدا سے خالی ہو اور یہی ہمارے آئمہ ھدٰی علیہم السلام کی سیرت ہے .امام سجاد علیہ السلام کے بارے میں ملتا ہے :
کان علی بن الحسین علیه السلام اذا کان شهر رمضان لم یتکلّم الّا بالدّعا و التّسبیح والاستغفار والتکبیر ( ۶ ) .
جب رمضان المبارک کا مہینہ آتا تو امام زین العابدین علیہ السلام کی زبان پر دعا، تسبیح ،استغفار اور تکبیر کے سوا کچھ جاری نہ ہوتا
عزیزان گرامی!
وہ خدا کتنا مہربان ہے کہ اپنے بندوں کی بخشش کے لئے ملائکہ کوحکم دیتا ہے کہ اس ماہ میں شیطان کو رسیوں سے جکڑدیںتا کہ کوئی مومن اس کے وسوسہ کا شکار ہوکر اس ماہ کی برکتوں سے محروم نہ رہ جائے لیکن اگر اسکے بعد بھی کوئی انسان اس ماہ مبارک میں گناہ کرے اور اپنے نفس پر کنٹرول نہ کرسکے تو اس سے بڑھکر کوئی بدبخت نہیں ہے.رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے:
قد وکّل الله بکلّ شیطان مرید سبعة من الملائکة فلیس بمحلول حتّیٰ ینقضی شهرکم هذا ( ۷ )
خدا وند متعال نے ہر فریب دینے والے شیطان پر سات فرشتوںکو مقرر کر رکھا ہے تاکہ وہ تمہیں فریب نہ دے سکے، یہاں تک کہ ماہ مبارک ختم ہو
کتنا کریم ہے وہ ربّ کہ اس مہینہ کی عظمت کی خاطر اتنا کچھ اہتمام کیا جارہا ، اب اس کے بعد چاہئے تو یہ کہ کوئی مومن شیطان رجیم کے دھوکہ میں نہ آئے اور کم از کم اس ماہ میں اپنے آپ کو گناہ سے بچائے رکھے اور نافرمانی خدا سے محفوظ رہے ورنہ غضب خدا کا مستحق قرار پائے گا اسی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

من أدرک شهر رمضان فلم یغفرله فأبعده الله ( ۸ ) 

جوشخص ماہ رمضان المبارک کو پائے مگر بخشا نہ جائے تو خدا اسے راندہ درگاہ کردیتاہے

اس میں کوئی ظلم بھی نہیں اس لئے کہ ایک شخص کے لئے آپ تمام امکانات فراہم کریں اور کوئی مانع بھی نہ ہو اس کے باوجود وہ آپکی امید پر پورا نہ اترے تو واضح ہے کہ آپ اس سے کیا برتاؤ کریں گے.
عزیزان گرامی!
اس مبارک مہینہ سے خوب فائدہ اٹھائیں اسلئے کہ نہیں معلوم کہ آئندہ سال یہ سعادت نصیب ہو یا نہ ہو؟
تاکہ جب یہ ماہ انتھاء کو پہنچے تو ہمارا کوئی گناہ باقی نہ رہ گیا ہو جب رمضان المبارک کے آخری ایّام آتے تورسول گرامی اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعافرمایا کرتے:
اللّهمّ لاتجعله آخر العهد من صیامی شهر رمضان ، فان جعلته فاجعلنی مرحوما ولا تجعلنی محروما ( ۹ )
خدایا!
اس ماہ رمضان کو میرے روزوں کا آخری مہینہ قرار نہ دے ، پس اگر یہ میرا آخری مہینہ ہے تو مجھے اپنی رحمت سے نواز دے اور اس سے محروم نہ رکھ.
آئیں ہم سب بھی مل کر یہی دعا کریں کہ اے پالنے والے ہمیں اگلے سال بھی اس مقدس مہینہ کی برکتیں نصیب کرنا لیکن اگر تو اپنی رضا سے ہمیں اپنے پاس بلا لے توایسے عالم میں اس دنیا سے جائیں کہ تو ہم راضی ہو اور ہمارے امام ہم سے خوشنود۔۔


حوالہ:


سورہ بقرہ: ١٨٣
. بحار الأنوار ٦٩: ٣٥٦
. بحار٩٦: ٣٥٦
. فروع کافی ٤: ٦٦
. وسائل الشیعہ١٠:٣١٢
. فروع کافی٤: ٨٨
. بحار الأنوار ٩٦: ٣٧٢
. بحار الأنوار ٧٤: ٧٤
. آدابی از قرآن : ٣٩٨

https://alhassanain.org/urdu/?com=book&id=238

آپ کا تبصرہ شامل کریں

قارئین کے تبصرے

کوئی تبصرہ موجودنہیں ہے
*
*

امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک