امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک

ماہ رمضان کی فضیلت(۱)

2 ووٹ دیں 03.0 / 5

ماہ رمضان کی فضیلت
( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ) ( ۱)
ترجمہ:اے صاحبان ایمان تمہارے اوپر روزے اسی طرح لکھ دیئے گئے ہیں جس طرح تمہارے پہلے والوں پر لکھے گئے تھے شاید تم اس طرح متّقی بن جاؤ.
رمضان کا مہینہ ایک مبارک اور باعظمت مہینہ ہے یہ وہ مہینہ ہے جس میں مسلسل رحمت پروردگار نازل ہوتی رہتی ہے اس مہینہ میں پروردگار نے اپنے بندوں کو یہ وعدہ دیا ہے کہ وہ ان کی دعا کو قبول کرے گا یہی وہ مہینہ ہے جس میں انسان دنیا و آخرت کی نیکیاں حاصل کرتے ہوئے کمال کی منزل تک پہنچ سکتا ہے.اور پچاس سال کا معنوی سفر ایک دن یا ایک گھنٹہ میں طے کر سکتا ہے. اپنی اصلاح اور نفس امارہ پر کنٹرول کی ایک فرصت ہے جو خدا وند متعال نے انسان کو دی ہے خوش نصیب ہیں وہ لوگ جنہیںایک بار پھر ماہ مبارک رمضان نصیب ہوا اور یہ خود ایک طرح سے توفیق الھی ہے تا کہ انسان خدا کی بارگاہ میں آکر اپنے گناہوں کی بخشش کا سامان کر سکے ، ورنہ کتنے ایسے لوگ ہیںجو پچھلے سال ہمارے اور آپ کے ساتھ تھے لیکن آج وہ اس دار فنا سے دار بقاء کی طرف منتقل ہو چکے ہیں
عزیزان گرامی ! اس مہینہ اور اس کی ان پر برکت گھڑیوںکی قدر جانیں اور ان سے خوب فائدہ اٹھائیں اس لئے کہ نہیں معلوم کہ اگلے سال یہ موقع اور یہ بابرکت مہینہ ہمیں نصیب ہو یا نہ ہو
ماہ مبارک عبادت و بندگی کا مہینہ ہے امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں :
عَنِ اَلصَّادِقِ عَنْ آبَائِهِ عَلَيْهِمُ السَّلاَمُ عَنْ رَسُولِ اَللَّهِ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ عَنِ اَللَّهِ تَعَالَى أَنَّهُ قَالَ: يَا عِبَادِيَ اَلصِّدِّيقِينَ تَنَعَّمُوا بِعِبَادَتِي فِي اَلدُّنْيَا فَإِنَّكُمْ بِهَا تَتَنَعَّمُونَ فِي اَلْآخِرَةِ ( ۲)
خدا وند متعال فرماتا ہے: اے میرے سچے بندو ! دنیا میں میری عبادت کی نعمت سے فائدہ اٹھاؤ تاکہ اس کے سبب آخرت کی نعمتوں کو پا سکو
یعنی اگر آخرت کی بے بہا نعمتوں کو حاصل کرنا چاہتے ہو تو پھر دنیا میں میری نعمتوں کو بجا لاؤں اس لئے کہ اگر تم دنیا میں میری نعمتوں کی قدر نہیں کرو گے تو میں تمہیں آخرت کی نعمتوں سے محروم کر دوں گا .اور اگر تم نے دنیا میں میری نعمتوں کی قدر کی تو پھر روز قیامت میں تمھارے لئے اپنی نعمتوں کی بارش کردوں گا
انہیں دنیاکی نعمتوں میں سے ایک ماہ مبارک اور اس کے روزے ہیں کہ اگر حکم پرور دگار پر لبیک کہتے ہوئے روزہ رکھا ، بھوک و پیاس کو تحمل کیا تو جب جنّت میں داخل ہو گے توآواز قدرت آئے گی:
( كُلُوا وَاشْرَبُوا هَنِيئًا بِمَا أَسْلَفْتُمْ فِي الْأَيَّامِ الْخَالِيَةِ) ( ۳)
ترجمہ: اب آرام سے کھاؤ پیو کہ تم نے گذشتہ دنوں میں ان نعمتوں کا انتظام کیا ہے
ماہ مبارک کے روز و شب انسان کے لئے نعمت پروردگار ہیں جن کا ہر وقت شکر ادا کرتے رہنا چاہئے لیکن سوال یہ پیدا پوتا ہے کہ ان بابرکت اوقات اور اس زندگی کی نعمت کا کیسے شکریہ ادا کیا جائے ، امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
من قال أربع مرّات اذا أصبح ، ألحمد لله ربّ العالمین فقد أدّٰی شکر یومه و من قالها اذا أمسٰی فقد أدّٰی شکر لیلته ( ۴)
جس شخص نے صبح اٹھتے وقت چار بار کہا :الحمد لله ربّ العالمین اس نے اس دن کا شکر ادا کردیا اور جس نے شام کو کہا اس نے اس رات کا شکر ادا کردیا
کتنا آسان طریقہ بتادیا امام علیہ السلام نے اور پھر اس مہینہ میں تو ہر عمل دس
برابر فضیلت رکھتا ہے ایک آیت کا ثواب دس کے برابر ، ایک نیکی کا ثواب دس برابر،امام رضاعلیہ السلام فرماتے ہیں :
من قرء فی شهر رمضان آیة من کتاب الله کان کمن ختم القرآن فی غیره من الشّهور ( ۵)
جو شخص ماہ مبارک میں قرآن کی ایک آیت پڑھے تو اس کااجر اتنا ہی ہے جتنا دوسرے مہینوں میں پورا قرآن پڑھنے کا ہے
کسی شخص نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا :
یا رسول الله ! ثواب رجب أبلغ أم ثواب شهر رمضان ؟ فقال رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم : لیس علی ثواب رمضان قیاس ( ۶)
یا رسول اللہ! 

رجب کا ثواب زیادہ ہے یا ماہ رمضان کا؟

تو رسولخدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

ماہ رمضان کے ثواب پر قیاس نہیںکیا جا سکتا.گویا خدا وند متعال بہانہ طلب کر رہا ہے کہ کسی طرح میرا بندہ میرے سامنے آکر جھکے تو سہی کسی طرح آکر مجھ سے راز و نیاز کرے تو سہی تا کہ میں اس کو بخشش دوں
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ماہ مبارک کی فضیلت بیان فرماتے ہیں :
عَنْ أَبِي اَلْحَسَنِ عَلِيِّ بْنِ مُوسَى اَلرِّضَا عَنْ أَبِيهِ عَنْ آبَائِهِ عَلَيْهِمُ السَّلاَمُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اَللَّهِ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ : إِنَّ شَهْرَ رَمَضَانَ شَهْرٌ عَظِيمٌ يُضَاعِفُ اَللَّهُ فِيهِ اَلْحَسَنَاتِ وَ يَمْحُو فِيهِ اَلسَّيِّئَاتِ وَ يَرْفَعُ فِيهِ اَلدَّرَجَاتِ( ۷)
ماہ مبارک عظیم مہینہ ہے جس میں خداوند متعال نیکیوںکو دو برابرکر دیتا ہے. گناہوں کو مٹادیتا اور درجات کوبلند کرتا ہے.
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا :
عَنْ أَبِي عَبْدِ اَللَّهِ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ قَالَ: «إِذَا سَلِمَ شَهْرُ رَمَضَانَ سَلِمَتِ اَلسَّنَةُ» وَ قَالَ «رَأْسُ اَلسَّنَةِ شَهْرُ رَمَضَانَ » ( ۸)
اگر کوئی شخص ماہ مبارک میں سالم رہے تو پورا سال صحیح و سالم رہے گا اور ماہ مبارک کو سال کا آغاز شمار کیا جاتا ہے .اب یہ حدیث مطلق ہے جسم کی سلامتی کو بھی شامل ہے اور اسی طرح روح کی بھی یعنی اگر کوئی شخص اس مہینہ میں نفس امارہ پر کنٹرول کرتے ہوئے اپنی روح کو سالم غذا دے تو خدا وند متعال کی مدد اس کے شامل حال ہوگی اور وہ اسے اپنی رحمت سے پورا سال گانہوں سے محفوظ رکھے گا اسی لئے تو علمائے اخلاق فرماتے ہیں کہ رمضان المبارک خود سازی کا مہینہ ہے تہذیب نفس کا مہینہ ہے اس ما ہ میں انسان اپنے نفس کا تزکیہ کر سکتا ہے
اور اگر وہ پورے مہنیہ کے روزے صحیح آداب کے ساتھ بجا لاتا ہے تو اسے اپنے نفس پر قابو پانے کا ملکہ حاصل ہو جائے گا اور پھر شیطان آسانی سے اسے گمراہ نہیں کرپائے گا
عزیزان گرامی ! جو نیکی کرنی ہے وہ اس مہینہ میںکر لیں ، جو صدقات و خیرات دینا چاہتے ہیں وہ اس مہینہ میں حقدار تک پہنچائیں اس میں سستی مت کریں .مولائے کائنات امیرالمؤمنین علیہ السلام فرماتے ہیں اے انسان تیرے پاس تین ہی تو دن ہیں ایک کل کا دن جو گذر چکا اور اس پر تیرا قابو نہیں چلتا اس لئے کہ جو اس میں تو نے انجام دینا تھا دے دیا اس کے دوبارہ آنے کی امید نہیں اور ایک آنے والے کل کا دن ہے جس کے آنے کی تیرے پاس ضمانت نہیں ، ممکن ہے زندہ رہے، ممکن ہے اس دنیا سے جانا پڑ جائے، تو بس ایک ہی دن تیرے پاس رہ جاتا ہے اور وہ آج کا دن ہے جو کچھ بجا لانا چاہتا ہے اس دن میں بجا لا.اگر کسی غریب کی مدد کرنا ہے تو اس دن میں کر لے ، اگر کسی یتیم کو کھانا کھلانا ہے تو آج کے دن میں کھلا لے ، اگر کسی کو صدقہ دینا ہے توآج کے دن میں دے ، اگر خمس نہیں نکالا تو آج ہی کے اپنا حساب کر لے ، اگر کسی ماں یا بہن نے آج تک پردہ کی رعایت نہیں کی تو جناب زینب سلام اللہ علیھا کاواسطہ دے کر توبہ کرلے، اگر آج تک نماز سے بھاگتا رہا تو آج اس مبارک مہینہ میں اپنے ربّ کی بارگاہ میںسرجھکا لے خدارحیم ہے تیری توبہ قبول کر لے گا اس لئے کہ اس نے خود فرمایا ہے :

(وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ ) ( ۹)
اے میرے بندے مجھے پکار میں تیری دعا قبول کروں گا .عزیزان گرامی! یہ مہینہ دعاؤں کا مہینہ ہے بخشش کامہینہ ہے. اور پھر خود رسول مکرم اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:
إنّما سُمِّيَ الرَّمَضانُ لأنّهُ يَرمَضُ الذُّنوبَ (۱۰ )
رمضا ن المبارک کو رمضان اس لئے کہا جاتاہے چونکہ وہ گناہوں کو مٹا دیتا ہے .آئیں مل کر دعاکریں کہ اے پالنے والے تجھے اس مقدس مہینہ کی عظمت کا واسطہ ہم سب کو اس ما ہ میں اپنے اپنے نفس کی تہذیب واصلاح اور اسے اس طرح گناہوں سے پاک کرنے کی توفیق عطا فرماجس طرح تو چاہتا ہے اس لئے کہ تیری مدد کے بغیر کوئی کام ممکن نہیں ہے. آمین
 

حوالے:
1.     سورہ بقرہ : ١٨٣
2.    . اصول کافی ، باب العبادة ،ح ٢
3.    . سورہ الحاقة:٢٤
4.    . اصول کافی باب التحمید والتمجید ،ح ٥
5.    . بحار الأنوار٩٣:٣٤٤
6.    . بحارالأنوار٩٧: ٤٩
7.    . وسائل الشیعہ ١٠: ٣١٢
8.    . وسائل الشیعہ ١٠: ٣١١
9.    . سورہ مومن : ٦٠
10.    . کنزالعمال ، ح ٢٣٦٨٨

https://alhassanain.org/urdu/?com=book&id=238

آپ کا تبصرہ شامل کریں

قارئین کے تبصرے

کوئی تبصرہ موجودنہیں ہے
*
*

امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک