امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک

روزہ داری :

0 ووٹ دیں 00.0 / 5

روزہ داری :
(يَأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلىَ الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُون )۔(۱۵)
اے ایمان والو! تم پر روزے کا حکم لکھ دیا گیا ہے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر لکھ دیا گیا تھا تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو ۔
۱۔ روزہ مؤمنین کے لئے :
روزہ اہم ترین عبادات میں سے ہے یہی وجہ ہے کہ اس آیت میں روزہ کے واجب ہونے پر تاکید ہو ئی ہے اور اس روزہ کا فلسفہ بھی تقوا الہی بیان ہوئی ہے ۔ روزہ روح انسان کی تقویت اور پرہیز گاری کا ایک بہترین ذریعہ ہے روزہ میں تمام مشکلات کے ساتھ اس گرمی کو برداشت کرنا ہے قرآن مجید کی اس آیت سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ روزہ کے دریعے سے انسان کی روح کو آمادہ کیا جاتا ہے۔ اس آیت میں چند نکتوں کی طرف اشارہ ہوا ہے ۔
۱۔ مؤمنین کو مخاطب قرار دے کر یہ فرمانا چاہتا ہے کہ اس روزہ داری کا لاذمہ ایمان ہے ۔
۲۔ آپ سے پہلے والی امت بھی روزہ رکھتے تھے تاکہ ان کے اصل ہونے پر تاکید ہو جائے ۔
۳۔ اور اس عمل کے لئے انسان کو تقوا کی وصیت کی گئی ہے ۔
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا :

لذة ما في النداء أزالت تعب العبادة و العناء .(۱۶)


لذت خطاب

(يَأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ )

فرماکر سختی اور ر نج کو انسان سے دور کیا گیا ہے ۔
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا : رمضان کے روزے صرف پہلے والے انبیاء پر ہی واجب تھے اور ان کی امت پر واجب نہیں تھے (۱۷)
امام سجاد علیہ السلام نے فرمایا : خدا وند عالم نے ہمیں روزہ ماہ رمضان کے ساتھ تمام امتوں سے چن لیا ہے (۱۸)
امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا :

قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى‏ كُلُ‏ عَمَلِ‏ ابْنِ‏ آدَمَ‏ هُوَ لَهُ غَيْرَ الصِّيَامِ هُوَ لِي وَ أَنَا أَجْزِي بِهِ (۱۹)
خدا وند عالم کا فرمان ہے کہ فرزند آدم جو بھی کام کرتا ہے وہ اپنے لئے کرتا ہے یعنی وہ عمل اسی کے لئے ہی ہے لیکن روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا اجر دینے والا ہوں ۔
۲۔ روزہ کیوں واجب ہے ؟
روزہ واجب ہونے کی اہم ترین دلیل یہی آیت ہے جو کہ بیان ہوئی ہے روزہ اس لئے واجب کیا گیا ہے تاکہ تم پرہیز گار بن جاؤ اگر کوئی روزہ رکھتاہے اور حکم خدا کی اطاعت کرتے ہوئے کھانے پینے کو چھوڑ دیتا ہے اور اپنے نفس پر کنٹرول کرتا ہے جو اس کے نفس کے لئے اہم ترین چیز کھانا پینا ہے اس کو چھوڑ دیتا ہے تو یہی اس کے لئے تقوا ہے جسے خدا وند عالم چاہتا ہے ۔
اسی وجہ سے امیر المؤمنین فرماتے ہیں ۔

راس التقوا ترک الشهادة ۔(۲۰)
یعنی اصل تقوا شہوت کو ترک کرنا ہے یعنی جو بھی انسان کا دل چاہتا ہے اس کے خلاف عمل کرنا ۔
رسول خدا نے جابر بن عبد اللہ انصاری سے فرمایا :

اے جابر!

یہ رمضان کا مہینہ ہے جو بھی دن کو روزہ رکھے اور رات کو عبادت کرے اور اپنے پیٹ اور شرم گاہوں کی حفاظت کرے اور اپنی زبان کو کنٹرول میں رکھے تو وہ گناہوں سے اس طرح سے خارج نکل جائے گا جس طرح وہ خود اس مہینے سے گزرتا ہے ۔جابر نے عر ض کیا یا رسول اللہ یہ کلام تو بہت ہی خوبصورت ہے رسول اللہ نے فرمایا یہ شرائط بہت سخت ہے (۲۱)
ایک اور روایت میں آیا ہے کہ:

صيام‏ القلب‏ عن‏ الفكر فى الآثام أفضل من صيام البطن عن الطّعام (۲۲)
روزہ دار اپنی فکر اور دل کو گناہوں سے پاک رکھنا بہتر ہے بھوک میں رہنے سے حقیقت میں گناہوں سے بچنا اصل ہے اور کھانے پینے سے پرہیز کرنا فرع ہے یہی تقوا کا اصلی ہدف اور مقصد ہے ۔
اسی وجہ سے اگر اصل اور فر ع کی جگہ تبدیل ہو جائے تو اصلی مقصد فوت ہو جاتا ہے اگر روزہ دار اپنے ہدف اور مقصد کو کھو دے تو صرف بھوک اور پیاس کے علاوہ اس کو کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا ۔
پیغمبر اسلام کا فرمان ہے :
چہ بسیار روزہ داری کہ بہرہ اش از روزہ گرسنگی و تشنگی است
و چہ بسیار شب بیداری کہ بہرہ اش از قیام بیداری است (۲۳)

یعنی بہت سارے روزہ دار ایسے ہیں کہ جن کا روزہ صرف بھوک اور پیاس کے علاوہ کچھ نہیں اور بہت سارے شب بیداری کرنے والے ایمان اور تقوا نہ ہونے کی وجہ سے صرف انکے جاگے رہنے کے علاوہ کچھ نہیں ہے ۔
پس اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر انسان تقوا و پرہیز گاری کے ساتھ روزہ رکھے تو اس سے بہتر اور کوئی عبادت نہیں ہو سکتی یہاں تک کہ اس کے سانس بھی تسبیح و عبادت شمار ہوتی ہے ۔
پیغمبر اکرم صل اللہ علیہ والسلم کا فرمان ہے :

الصَّائِمُ فِي عِبَادَةِ اللَّهِ وَ إِنْ كَانَ نَائِماً عَلَى فِرَاشِهِ مَا لَمْ يَغْتَبْ مُسْلِماً (۲۴)
روزہ دار اگر بستر پر سو بھی جائے عبادت شمار ہوتا ہے یہ اسوقت تک عبادت شمار ہوتا ہے جب تک کسی مسلمان بھائی کی غیبت نہ کرے ۔
تقوا اور پرہیز گاری اور اپنے نفس پر کنٹرول کرنے کی شرائط جتنی سخت ہوں اتنا ہی اس کو ثواب زیادہ ثواب ملے گا جیسا کہ گرمیوں میں روزہ رکھنا بہت سخت ہے لیکن اس میں زیادہ ثواب ملے گا اور انسان کے خلوص میں اضافہ ہوگا ۔
اسی وجہ سے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا فرماتی ہے

فَرَضَ‏ اللَّهُ‏ الصِّيَامَ‏ تَثْبِيتاً لِلْإِخْلَاصِ .(۲۵)
خداوند عالم نے روزے کو فرض کیا ہے تاکہ اخلاص ثابت رہے یعنی تاکہ اخلاص قائم رہے ۔
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا :

أَفْضَلُ‏ الْجِهَادِ الصَّوْمُ‏ فِي الْحَرِّ .(۲۶)
بہترین جہاد گرمیوں میں روزہ رکھنا ہے ۔اسی طرح کے روزے گناہوں کو ہم سے دور کرسکتے ہیں اورجہنم کی آگ ہمارے درمیان پردہ ہوگا ۔
کسی اور جگہ پر امام صادق علیہ السلام نے فرمایا :

الصَّوْمُ‏ جُنَّةٌ مِنَ‏ النَّار .(۲۷)
روزہ جہنم کی آگ سے بچاتا ہے ۔
روزہ کے ذریعے سے ہم شیطان کو ناکام بناتے ہیں اور اس کے چہرے کو کالا کرسکتے ہیں ۔
امام علی علیہ السلام سے پوچھا گیا یا علی ہماری جانیں آپ پر فدا ہو جائیں ہمیں کوئی ایسا عمل بتا دیں جس سے شیطان ہم سے دور ہو جائے ؟ تو امام علی نے فرمایا روزہ رکھنے سے شیطان کا چہرہ سیاہ ہوجاتا ہےاورصدقہ دینے سے شیطان کی کمر ٹوٹ جاتی ہے اور خدا کی راہ میں دوستی اور نیک کام انجام دینے سے شیطان دور ہو جاتا ہے اور استغفار کرنے سے شیطان کے دل کی رگیں کٹ جاتی ہیں۔
۳۔ روزہ کے آثار :
روزہ کے واجب ہونے کی دلیل کے علاوہ اس کے بہت سارے آثار بھی ہیں ان میں سے بعض درجہ ذیل ہیں ۔
الف ۔ یقین پیدا ہونا :
حدیث معراج میں ہم پڑھتے ہیں پیغمبر اکرم صل اللہ علیہ والسلم خداوندمتعال سے سؤال کرتے ہیں روزے کی جائیداد کیاہے ؟
روزہ کی حکمت کو ارث کے طور پر لیتے ہیں اور حکمت معرفت کو ارث کے طور پر لیتی ہے اور معرفت یقین کو ارث کے طور پر لیتی ہے اور جب بندہ یقین تک پہنچ جاتا ہے تو اس کو فرق نہیں پڑتا کہ دن کو وہ سختی سے گزارے یا آرام سے گزارے ۔
ب ۔ آرامش قلب :
امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں :

َالصِّيَامُ وَ الْحَجُّ تَسْكِينُ‏ الْقُلُوب ۔(۲۸)
روزہ اور حج دلوں کو آرام پہنچاتے ہیں ۔
پ ۔ اجتماعی آثار :
ایک دن ہشام بن حکم نے امام صادق علیہ السلام سےشریعت میں روزے کے واجب ہونے کی علت کی پوچھا تو امام نے فرمایا: خدا وند متعال نے روزہ کو واجب قرار دیا ہے تاکہ فقیر اور امیر کے درمیان مساوات قائم ہو جائے یہ اس وجہ سے ہیں کہ ثروتمند بھوک کو احساس کرسکیں اور فقیر پر رحم کریں امیر حضرات جب بھی کوئی چیز چاہتے ہیں تو وہ مل جاتی ہیں لذا خداوند متعال یہی چاہتا ہے کہ وہ بندوں کے درمیان مساوات برقرار رہے اور بھوک اور درد کا مزہ کو چکھائے تاکہ امیروں کے دل غریبوں کے لئے دکھ جائے اور ان پر رحم کریں(۲۹)
ت ۔ سلامتی کے آثار :
پیغمبر اسلام کا فرمان ہے :

وَ قَالَ النَّبِيُّ ‏ صُومُوا تَصِحُّوا .(۳۰)
روزہ رکھو تاکہ صحت مند رہو جاؤ ۔
ث ۔ دعا کا قبول ہونا :
امام کاظم علیہ السلام نے فرمایا :

دَعْوَةُ الصَّائِمِ‏ تُسْتَجَابُ عِنْدَ إِفْطَارِهِ .(۳۱)۔

روزہ دار کی دعا افطار کے وقت قبول ہوتی ہے ۔
ج ۔ مغفرت :
پیغمبر اکرم صل اللہ علیہ والسلم نے فرمایا :

مَنْ‏ صَامَ‏ يَوْماً تَطَوُّعاً ابْتِغَاءَ ثَوَابِ اللَّهِ وَجَبَتْ لَهُ الْمَغْفِرَة ..(۳۲)
جو بھی اپنی اختیار سے خدا کی خوشنودی کی خاطر ایک دن روزہ رکھے تو اس کی مغفرت واجب ہو جاتی ہے ۔
۴۔ رمضان : روزہ اور قرآن کا مہینہ :
روزہ داری کے موضوع کے ساتھ ساتھ اس مہینے کی صفات کو بھی خیار رکھنا چاہیے رمضان روزہ داروں کے لئے بہترین مہینہ ہے
اور بابرکت مہینہ ہے جو کہ مخصوص روزہ داروں کے لئے ہیں ماہ مبارک رمضان کی خصوصیات کے بارے میں قرآن مجید کی سورہ بقرہ آیت ۸۵ میں آیا ہے ۔
اور رمضان کو کیوں رمضان کہتے ہیں اس کی دلیل بیان کرتے ہوئے پیغمبر اکرم فرماتے ہیں :إنما سمي رمضان لأنه يرمض‏ الذنوب‏ أي يحرقها ۔ یعنی رمضان کو رمضان کہا جاتا کیونکہ یہ گناہوں کو مٹا دیتا ہے ۔
ماہ رمضان کی خصوصیات یہ ہے کہ تمام آسمانی کتابیں اس مہینے میں نازل ہوئی ہیں ۔ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں : تورات چھٹی رمضان کو نازل ہوئی ہے انجیل بارہ رمضان کو اور زبور اٹھارہ رمضان کو اور قرآن مجید شب قدر میں نازل کیا گیا ہے(۳۳)
تمام آسمانی کتابیں تربیت اور تعلیم حاصل کرنے کے لئے رمضان کے مہینہ میں نازل ہوئی ہیں ۔ پیغمبر اکرم صل اللہ علیہ والسلم نے شعبان کے مہینے کے آخری جمعہ کے خطبہ میں فرمایا : اے لوگو!خدا کا بابرکت مہینہ اور مغفرت اور رحمت کا مہینہ تمہاری طرف آرہا ہے یہ مہینہ دوسرے مہینوں سے افضل ہیں اس مہینے کے دن دوسرے مہینوں کے دنوں سے افضل ہیں اس مہینے کی راتیں دوسرے مہینوں کے راتوں سے افضل ہیں اور اس مہینے کے تمام لحضات اور گھنٹے دوسرے مہینوں کے لحضات اور کھنٹوں سے افضل ہیں ۔
ماہ رمضان ایسا مہینہ ہے کہ جس میں خدا وند عالم کی طرف سے تمہارے لئے دعوت ہوتی ہے اور ان لوگوں میں سے شمار ہوتے ہو کہ جنکو کو خدا وند عالم نے اکرام حسن کیا ہے تمہاری ہر سانس اس مہینے میں تسبیح شمار ہوتی ہے اور اگر اس مہینے میں سوجائے تو عبادت شمار ہوتی ہے اس مہینے میں تمہاری عبادات اور دعائیں قبول ہوں گی ۔
پس اپنے خدا سے خالص نیت اور پاک دلوں کے ساتھ خدا سے مانگو خدا وند عالم آپ کو اس مہینہ میں روزہ رکھنے اور قرآن پاک کی تلاوت کرنے کی توفسق دے ۔کیونکہ اس مغفرت والی مہینے سے کوئی شخص محروم ہو جائے تو وہ بدبخت ترین انسان شمار ہوتا ہے ۔
اس مہینے میں روزہ کی بھوک اور پیاس سے دوسرے فقیروں کی بھوک و پیاس کو یاد کریں اور فقیر و بیواؤں کا خیار رکھیں بوڑھوں کا احترام کریں اور ان پر رحم کریں اور صلہ رحمی کا خیال رکھیں اپنے خاندان اور رشتہ داوں کوآپس میں مضبوط کریں اپنی زبانوں کو گناہوں سے بچائیں اور اپنی آنکھوں کو نامحرم سے بچا کر رکھیں اور ناجائز چیزوں کو سننے سے اپنی کانوں کو محفوظ رکھیں یتیموں کے ساتھ شفقت اور مہربانی سے پیش آجائیں تاکہ تمہارے یتیموں کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک کیا جائے ۔(۳۴)
یہ ماہ رمضان کی کچھ خصوصیات ہیں کہ جن کی وجہ سے انسان کے گناہوں اور فسادات میں کمی آجاتی ہے ۔
اس مہینہ میں قرآن نازل ہوا ہے اور شب قدر اسی مہینہ میں ہے ماہ رمضان کے ان تیس دنوں میں خدا کی معرفت اور اس کی طرف جانے کا راستہ فراہم ہو جاتا ہے اور انسان کو توبہ و ہدایت کا راستہ نصیب ہو گا باران رحمت بھی اسی مہینہ میں نازل ہوتی ہیں یہی وجہ ہے کہ روایت میں آیا ہے کہ اس مہینے میں جہنم کے تمام دروازے بند ہو جاتے ہیں اور شیطان زنجیروں میں بند کیا جاتا ہے۔ 

جیسا کہ پیغمبر اسلام کا فرمان ہے :

تُغَلَّقُ‏ فِيهِ‏ أَبْوَابُ‏ النِّيرَانِ‏ وَ تُفَتَّحُ فِيهِ أَبْوَابُ الْجِنَان (۳۵) ۔

اس مہینے میں جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں ۔
وَ قَد وَكَّلَ‏ اللَّهُ‏ بِكُلِ‏ شَيْطَانٍ‏ مَرِيدٍ سَبْعَةً مِنْ مَلَائِكَتِهِ فَلَيْسَ بِمَحْلُولٍ حَتَّى يَنْقَضِيَ شَهْرُكُمْ هَذَا .(۳۶)
خدا وند متعال نے ہر شیطان پر ستر ملائکہ کو نگہبان قرار دیا ہے کہ شیطان میں یہ جرات نہ ہو کہ تمہارے اندر نقوذ کرے اور ماہ رمضان کے ختم ہونے تک شیطان تمہارے پاس نہیں آسکتا ہے ۔
اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس مہینے میں توبہ اور اصلاح اور خدا کی طرف پلٹنے کا دروازہ کھلا ہے اور گناہ او رفساد کا دروازہ بند ہیں لیکن اگر انسان خود خدا کی رحمت سے بھاگنا چاہے تو یہ رحمت کے درواز ے اس نے خود اپنے ہاتھوں سے بند کیے ہیں اور جہنم کے دروازے اپنے او پر کھول دیے ہیں ۔
(راہی بسوی عافیت خیر می رود ---------- راہی بسوی ہاویہ اکنون مخیری )
یعنی ایک راستہ جنت کی طرف جا رہا ہے اور ایک راستہ جہنم کی طرف جارہا ہے لیکن اختیار آپ کے پاس ہے کہ کس راستے کو اختیار کرنا ہے

حوالہ جات:

۱۵. بقرہ /۱۸۳ )

۱۶ مجمع البیان ذیل آیہ

۱۷ میزان الحکمہ ج ۵ ص ۴۶۵ کتاب الصوم )

۱۸ ۔ ہمان میزان الحکمہ

۱۹ کنز العمال ج ۲۳۶۱۲

۲۰ ۔ ہمان کنزالعمال

۲۱ ۔ ( فروع کافی ج ۴ص۸۷ )

۲۲ میزان الحکمہ ۱۰۶۴۸ )

۲۳ ۔ بحار الانوار ج۹۶ص۲۹۴

۲۴ من لا یحضر الفقیہ ج ۲ ص ۷۴ )

۲۵ ۔ بحار الانوار ج ۹۳ ص ۲۵۶

۲۶ بحار الانوار ج۹۳ ؛ ص۲۵۶

۲۷. بحار الانوار ؛ ج۹۳ ؛ ص۱۲۶ )

۲۸ ۔ بحار الانوار ؛ ج۷۵ ؛ ص۱۸۲ )

۲۹ ۔ وسائل الشیعہ ج ۱۰ ص ۷ )

۳۰ بحار الانوار ؛ ج۹۳ ؛ ص۲۵۵)

۳۱ ۔ بحار الانوار ؛ ج۹۳ ؛ ص۲۵۵ )

۳۲ بحار الانوار ؛ ج۹۳ ؛ ص۲۴۷

۳۳ ۔ وسائل الشیعہ ج۷باب ۱۶۲۱۸ )

۳۴ ۔ ہمان ج ۷ ح ۲۰ )

۳۵. بحار الانوار ؛ ج۹۳ ؛ ص۳۶۳ )

۳۶. وسائل الشیعة ج۱۰ ص۳۰۴ )

https://alhassanain.org/urdu/?com=book&id=418

آپ کا تبصرہ شامل کریں

قارئین کے تبصرے

کوئی تبصرہ موجودنہیں ہے
*
*

امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک