امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک

ایک مشہور جملہ

0 ووٹ دیں 00.0 / 5

مِدادُ العُلماءِ أفضَلُ مِن دِماءِ الشُّہداءِ

ایک مشہور جملہ ہے جس کے معنی ہیں: علما کے قلم کی سیاہی شہداء کے خون سے افضل ہے۔ اس جملے کا تذکرہ شیعہ قدیمی کتب میں نہیں ملتا ہے؛ البتہ دسویں صدی ہجری میں لکھی گئی شیعہ تفسیری کتاب مَنہَجُ‌ الصّادقین میں اس جملے کو حدیث کے عنوان سے بیان کیا گیا ہے۔
علم حدیث کے محقق علی اکبر غفاری کے مطابق یہ جملہ حدیث کا جملہ نہیں ہے؛ وہ مزید کہتے ہیں کہ یہ جملہ امام جعفر صادقؑ سے منقول ایک حدیث کی غلط تشریح کا نتیجہ ہے۔ اس حدیث کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ عالم دین کے قلم کی سیاہی شہید کے خون سے افضل ہو۔ اس حدیث کو شیخ صدوق نے نقل کیا ہے۔
اس کے مقابلے میں علامہ محمد باقر مجلسی اور احمد بن فہد حلی جیسے علماء نے امام جعفرصادقؑ سے منقول حدیث سے استناد کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالم کے قلم کی سیاہی شہید کے خون سے افضل ہے؛ اس کی وجہ یہ ہے کہ عالم کا قلم دین کی حقیقت اور باطن کو مرحلہ کمال تک پہنچاتا ہے جبکہ شہید کا خون ظاہر دین کو کمال دیتا ہے۔ نیزعالم کے قلم سے تحریر کی گئی چیز اس کی موت کے بعد بھی کارآمد رہتی ہے لیکن شہید کے خون میں ایسی خصوصیت نہیں پائی جاتی۔
پس منظر
«مِدادُ العُلماءِ أفضَلُ مِن دِماءِ الشُّہداءِ؛ 

علما کے قلم کی سیاہی شہداء کے خون سے افضل ہے» ایک مشہور جملہ ہے جو شیعہ متاخر علما کی تفسیری کتب مں حدیث کے عنوان سے بیان ہوا ہے؛ منجملہ ملا فتح اللہ کاشانی (متوفیٰ: 988ھ)نے اپنی تفسیر مَنہَجُ‌ الصّادقین میں اس عبارت کو دیگر چند احادیث کے ساتھ بیان کیا ہے۔[1] اسی طرح سید عبد الحسین طیب (1893-1991ء) نے اپنی تفسیر اَطیَب‌ُ الْبیان میں اسے حدیث کے عنوان سے نقل کیا ہے۔[2] اس جملے کے بارے میں شیعہ علما کے مابین اختلاف رائے پایا جاتا ہے کہ یہ جملہ حدیث ہے یا نہیں؟؛ نیز اس کی تشریح کے سلسلے میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے۔[3]
«مدادالعلماء..» والا جملہ حدیث ہے یا نہیں؟
جن قدیمی کتابوں میں

«مِدادُ العُلماءِ أفضَلُ مِن دِماءِ الشُّہداءِ»

والا جملہ نقل ہوا ہے ان میں اس کے سلسلہ سند ذکر نہیں ملتا ہے اسے صرف حدیث کے طور پر ذکر کیا گیا ہے۔[4] متعدد علماء نے اس کا ذکر حدیث کے طور پر کیا ہے؛ لیکن اس کے بارے میں کوئی علمی بحث پیش نہیں کی ہے۔ مثال کے طور پر آیت‌ اللہ بروجردی سے منسوب ایک قول میں کہا گیا ہے کہ وہ اس جملے کو حدیث سمجھتے تھے۔[5]
دوسری طرف مرتضی مطہری نے اپنی کتاب حماسہ حسینی میں اسے بطور "جملہ" یاد کیا ہے۔[6] ایک تحقیق میں کہا گیا ہے کہ علم حدیث کے محقق علی اکبر غفاری پہلے شخص ہیں جنہوں نے اس فقرے کی سند اور مضمون کے بارے میں تفصیل سے تحقیق کی ہے۔[7] علی اکبرغفاری کے نزدیک جملہ "مداد العلما..." حدیث نہیں ہے؛ بلکہ یہ ایک اور روایت کی غلط تشریح ہے۔[8]
کیا علماء کے قلم کی سیاہی شہداء کے خون سے افضل ہے؟
علماء کے درمیان اس بات میں اختلاف ہے کہ آیا علماء کے قلم کی سیاہی شہداء کے خون سے افضل ہے:
مخالفین
مرتضی مطہری کا کہنا ہے کہ یہ بات قابل قبول نہیں کہ شہداء کے خون سے علما کے قلم کی سیاہی افضل ہو۔ انہوں نے اس بات پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس جملے کی بنیاد پر شہید اور شہادت کا مرتبہ کم ہوتا ہے۔[9] علی اکبر غفاری کے مطابق یہ جملہ شیخ صدوق سے نقل شدہ ایک روایت سے لیا گیا ہے جس کا مضمون یہ نہیں کہ شہداء کا خون علماء کے قلم کی سیاہی سے افضل ہے۔ زیر بحث روایت[10]، شیخ صدوق نے اپنی دو کتابوں من لایحضرہ الفقیہ اور اَمالی[11] میں نقل کیا ہے۔ شیخ صدوق کے مطابق، امام جعفر صادقؑ نے فرمایا: "جب قیامت کا دن آئے گا تو خدا تعالیٰ لوگوں کو ایک وسیع میدان میں جمع کرے گا اور وہاں ترازو رکھے جائیں گے۔ اس وقت علماء کے قلم کی سیاہی اور شہداء کے خون کو تولا جائے گا تو علماء کے قلم کی سیاہی، شہداء کے خون سے زیادہ وزنی ہو جائے گی۔[12]
علی اکبرغفاری کے نزدیک "علماء کے خون کا وزن شہداء کے خون سے زیادہ وزنی ہے" یعنی حجم اور وزن کے لحاظ سے علماء کا خون شہداء کے خون سے زیادہ اور بھاری ہے۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ دعوتِ الٰہی اور تبلیغ دین یہاں تک کہ شہادت اور جان کا نذرانہ دینے کا جذبہ وغیرہ بھی علما کے قلم کی سیاہی اور ان کے استدلال کے ذریعے انجام پاتے ہیں۔ پس اس روایت کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ شہید کے خون پر عالم کے قلم کی سیاہی فضیلت کی حامل ہو۔[13]
موافقین
شہید کے خون پر عالم کے قلم کی برتری کے حامیوں میں سے ایک علامہ باقر مجلسی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عالم کا قلم دین کی حقیقت و حقانیت کو مرحلہ کمال تک پہنچا دیتا ہے جبکہ شہید کا خون ظاہر دین کے کمال کا باعث بنتا ہے۔[14] احمد بن فہد حلی کا بھی یہی کہنا ہے کہ ایک عالم کا قلم اس کی موت کے بعد بھی افادیت کا حامل اور ابدی رہتا ہے جبکہ شہید کا خون ایسا نہیں ہوتا۔[15] نیز فیض کاشانی اس سلسلے میں کہتے ہیں کہ عالم کا قلم دین کو گمراہ کن افکار سے بچاتا ہے جو انسان کو جہنم اور خدائی نعمتوں سے دائمی محرومی کا باعث بنتے ہیں۔ لیکن شہید کا خون اسی دنیا میں دشمنان دین کے حملوں سے لوگوں اور ان کے اموال کو تحفظ فراہم کرنے کا ذریعہ ہے۔[16]
دیگر روایات کے ساتھ عدم مطابقت
سوال کیا جاتا ہے کہ احادیث میں آیا ہے کہ ہر نیکی کے اوپر ایک نیکی ہے، سوائے خدا کی راہ میں شہادت کے،[17] جبکہ جملہ "مداد العلماء" عالم کے قلم کو شہادت سے بھی افضل قرار دیتا ہے۔ اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ شہادت سے متعلق احادیث میں خود عمل بذات خود مد نظر نہیں ہے بلکہ شہید مد نظر ہے۔ اس لحاظ سے شہید کا عمل دوسرے عمل سے افضل ہے؛ لیکن "مداد العلماء" کے جملہ میں خود عمل اور معاشرے میں اس کے نتائج مد نظر ہیں اور اس کا مفہوم یہ ہے کہ معاشرے پر اس کے اثرات، افراد کی رہنمائی اور دین کی بنیادیں قائم کرنے میں علماء کا قلم شہداء کے خون سے زیادہ کارگر ہے۔[18]


حوالہ جات

1.    - کاشانی، منہج الصادقین، 1336شمسی، ج9، ص206۔
2.    - طیب، اطیب البیان،1378شمسی، ج14، ص302۔
3.    - ملاحظہ کیجیے: مطہری، حماسہ حسینی، 1390شمسی، ج2، ص226؛ غفاری، تلخیص مقباس الہدایہ، 1360شمسی، ص247و248۔
4.    - ملاحظہ کیجیے: کاشانی، منہج الصادقین، 1336شمسی، ج9، ص206؛ طیب، اطیب البیان، 1378شمسی، ج14، ص302۔
5.    - حسینی طہرانی، مطلع انوار، 1431ھ، ج3، ص396۔
6.    - مطہری، حماسہ حسینی، 1390شمسی، ج2، ص226۔
7.    - جدی، «اعتبارسنجی سندی و دلالی حدیث»، ص199۔
8.    - ملاحظہ کیجیے: غفاری، تلخیص مقباس الہدایہ، 1360شمسی، ص247۔
9.    - مطہری، حماسہ حسینی، 1390شمسی، ج2، ص226۔
10.    - ملاحظہ کیجیے: غفاری، تلخیص مقباس الہدایہ، 1360شمسی، ص247۔
11.    - شیخ صدوق، من لایحضرہ الفقیہ، 1413ھ، ج4، ص399؛ شیخ صدوق، امالی، 1376شمسی، ص168۔
12.    - شیخ صدوق، من لایحضرہ الفقیہ، 1413ھ، ج4، ص399؛ شیخ صدوق، امالی، 1376شمسی، ص168۔
13.    - ملاحظہ کیجیے:غفاری، تلخیص مقباس الہدایہ، 1360شمسی، ص247؛ فتاحی‌زادہ، مبانی و روش‌ہای نقد حدیث، 1389شمسی، ص52۔
14.    - مجلسی، روضة المتقین، 1406ھ، ج13، ص108۔
15.    - ابن‌فہد حلی، عدة الداعی، 1407ھ، ص77۔
16.    - فیض کاشانی، الوافی، 1406ھ، ج1، ص145۔
17.    - «فَوْقَ کُلِّ ذِی بِرٍّ بِرٌّ حَتَّی یقْتَلَ الرَّجُلُ فِی سَبِیلِ اللہ…» (کلینی، الکافی، 1363شمسی، ج2، ص349.)
18.    - «پاسخ بہ نامہ‌ہا»، در مجلہ پاسدار اسلام، 1 دی 1364شمسی، ص62۔
مآخذ
1.    ابن‌فہد حلی، احمد بن محمد، عدة الداعی و نجاح الساعی، بی‌جا، دارالکتب الإسلامی، 1407ھ۔
2.    «پاسخ بہ نامہ‌ہا»، در مجلہ پاسدار اسلام، شمارہ 49، تاریخ درج مطلب: 1 دی 1364ہجری شمسی۔
3.    جدّی، حسین و دیگران، «اعتبار سنجی سندی و دلالی حدیث: (یرجح مداد العلماء علی دماء الشہداء) از منابع فریقین»، در مجلہ حدیث و اندیشہ، شمارہ 29، 1399ہجری شمسی۔
4.    شیخ صدوق، محمد بن علی، اَلْاَمالی، تہران، کتابچی، چاپ ششم، 1376ہجری شمسی۔
5.    شیخ صدوق، محمد بن علی، من لایحضرہ الفقیہ، تصحیح: علی‌اکبر غفاری، قم، دفتر انتشارات اسلامی، چاپ دوم، 1413ھ۔
6.    طیب‌، سید عبدالحسین، اطیب البیان فی تفسیر القرآن،‌ تہران،‌ انتشارات اسلام، 1378ہجری شمسی۔
7.    غفاری، علی‌اکبر، تلخیص مقباس الہدایہ، نشر صدوق، 1360ہجری شمسی۔
8.    فتاحی‌ زادہ، فتحیہ، مبانی و روش‌ہای نقد حدیث در کتب اربعہ، قم، دانشگاہ قم، 1389ہجری شمسی۔
9.    فیض کاشانی، محمد محسن بن شاہ مرتضی، الوافی، اصفہان، کتابخانہ امام أمیر المؤمنین علی علیہ‌السلام، 1406ھ۔
10.    کاشانی، فتح‌ اللہ،‌ منہج الصادقین فی الزام المخالفین، تہران، کتابفروشی محمدحسن علمی، 1336ہجری شمسی۔
11.    کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تہران،‌ دار الکتب الاسلامیہ، 1363ہجری شمسی۔
12.    مجلسی، محمدتقی، روضۃ المتقین فی شرح من لا یحضرہ الفقیہ، قم، مؤسسہ فرہنگی اسلامی کوشانبور، 1406ھ۔
13.    مطہری، مرتضی، حماسہ حسینی، تہران، انتشارات صدرا،‌ 1390ہجری شمسی۔

آپ کا تبصرہ شامل کریں

قارئین کے تبصرے

کوئی تبصرہ موجودنہیں ہے
*
*

امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک