امام محمد باقر عليہ السلام اور سياسی مسائل-قسط-۱۲
امام محمد باقر عليہ السلام اور سياسی مسائل:
اس ميں شکوک و شبہات پائے جاتے ہيں (اگرچہ يقين کے قريب احتمال يہی ہے کہ زيدی تھے) کے علاوہ کسی تحريک نے کوئی خاص کاميابی حاصل نہيں کی۔ جس کا نتيجہ يہ نکلا کہ:
الف: وہ لوگ خدا کے برگزيدہ بندوں، يعني ائمہ طاہرين کے بجائے ہر اس علوی کے پيچھے چل پڑے جو تلوار اٹھا لے۔
ب: ثقافتی اعتبار سے تفسير، فقہ و کلام ميں امامی شيعوں کے مقابلہ ميں زيدی شيعہ کوئی منظم اور مربوط ثقافت نہيں اپنا سکے۔ يہ لوگ فقہ ميں تقريبا ابوحنيفہ کے اور کلام ميں پورے طور پر معتزلہ کے پيروکار تھے۔ اس کے مقابلہ ميں شيعہ آئمہ خصوصا امام باقر اور امام صادق کے علمی اقدامات کی وجہ سے ايسا مکتب پيدا ہوا جس کی اپنی ايک خاص اور بھرپور ثقافت تھی، جو بعد ميں مکتبِ جعفری کے نام سے مشہور ہوا۔ اگرچہ مکتبِ باقری کے نام سے شہرت بھی غلط نہيں ہے۔ يہ فکری مکتب جو تمام معاملات ميں علومِ اہلبيت کو منظم طور پر پيش کرتا ہے، يہ ان دو اماموں کي نصف صدی (سال 94 سے 148 ہجری تک) کی دن رات کی کوششوں کا نتيجہ ہے۔
اس زمانے کے سياسی حالات ميں جب کہ اموی اور ان کے بعد عباسی حکمران اپنی حکومت کی بقاء کے لیے ہر مخالف طاقت اور ہر مخالفت کو کچل ديا کرتے تھے، ايسے موقف کے انتخاب کے ساتھ طبیعی طور پر اہم سياسی اقدامات نہيں کيے جا سکتے تھے۔ اور ہر جگہ واحد خوبی يہی نہيں ہوتی کہ ہر صورت اور ہر قيمت پر سياسی عمل ميں شرکت کی جائے چاہے اس کے لیے معارف حق کے بيان سے چشم پوشی کرنی پڑے اور ايک پوری امت پر راستہ ہميشہ کے لیے بند کر ديا جائے۔ آئمہ طاہرين نے اس دور ميں اپنا بنيادی موقف يہی قرار دے ديا تھا کہ اسلام کے حقيقی دينی معارف کو بيان کيا جائے اور اپنا اصلی کام يہی چن ليا تھا کہ مذہبی ثقافت کی تدوين کی جائے جس کا نتيجہ آج ہم بخوبی ديکھ رہے ہيں۔
اس کا يہ مطلب بھی نہيں ہے کہ آئمہ نے ظالم حکمرانوں کے خلاف کبھی کوئی موقف نہيں اپنايا۔ تقريبا تمام شيعہ اور حتی کہ بنی اميہ بھی بخوبی جانتے تھے کہ شيعہ رہبر خلافت کے دعويدار ہيں اور ان کا موقف يہ تھا کہ خلافت ان کا اور ان کے آباء کا حق تھا اور قريش نے زبردستی اس پر قبضہ کر ليا ہے۔ اسی لیے آئمہ اپنے شيعوں کو سوائے ضروری و استثنائی اور خاص دلائل کي بنياد پر حکمرانوں کے ساتھ تعاون کرنے سے منع کيا کرتے تھے۔ ليکن يہ عدم تعاون ايک باضابطہ، مسلسل اور مسلحانہ تحريک اور انقلابی قيام کی صورت ميں سامنے نہيں آيا۔ بنا براين مخالفت اور عدم تعاون کی دعوت اور منفی رويہ امام کے واضح موقف ميں شامل تھا۔
عقبہ بن بشير نامی ايک شيعہ امام باقر کے پاس آيا اور اپنے قبيلہ ميں اپنے بلند مقام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگا: ہمارے قبيلہ ميں ايک عريف (حکومت کی طرف سے منظور شدہ کسی قوم کا ترجمان يا سردار) تھا جو مر چکا ہے۔ قبيلہ کے لوگ چاہتے ہيں کہ مجھے اس کي جگہ عريف بنا ديں۔ آپ اس بارے ميں کيا کہتے ہيں؟ امام نے فرمايا:
کيا تم اپنے حسب اور نسب کا ہم پر احسان جتاتے ہو ؟ اللہ تعالی مؤمنوں کو ان کے ايمان کی وجہ سے بلند مقام ديتا ہے حالانکہ لوگ اسے معمولی سمجھتے ہيں اور کافروں کو ذليل کرتا ہے جبکہ لوگ اسے بڑا سمجھتے ہيں۔ اور يہ جو تم کہہ رہے ہو کہ تمہارے قبيلہ ميں ايک سردار تھا جو مر چکا ہے اور قبيلہ والے تجھے اس کی جگہ پر رکھنا چاہ رہے ہيں، تو اگر تجھے جنت بری لگتی ہے اور وہ تجھے ناپسند ہے تو اپنے قبيلہ کی سرداری کو قبول کر لے کيونکہ اگر حاکم نے کسی مسلمان کا خون بہايا تو، تو اس کے خون ميں شريک سمجھا جائے گا اور شايد تجھے ان کی دنيا سے بھی کچھ نہ ملے۔
الاختصاص ص261
يہ روايت بتاتی ہے کہ امام کس طرح سے اپنے شيعوں کو حکومت ميں کسی بھی مقام حتی کہ عريف بننے سے بھی روکتے تھے جس کی کوئی خاص حيثيت بھی نہيں ہوتی تھی۔ اور اس کي دليل يہ تھی کہ لوگوں پر حکمرانوں کے ظلم و ستم اور ان کے گناہوں ميں شيعہ شريک نہ ہوں۔
امام باقر مختلف طريقوں سے لوگوں کو حکمرانوں پر اعتراض اور ان کو نصيحت کرنے کی ترغيب دلايا کرتے تھے۔ آپ سے منقول ايک روايت ميں آيا ہے کہ:
مَنْ مَشَى إِلَى سُلْطَانٍ جَائِرٍ فَأَمَرَهُ بِتَقْوَى اللَّهِ وَوَعَظَهُ وَخَوَّفَهُ، كَانَ لَهُ مِثْلَ أَجْرِ الثَّقَلَيْنِ مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ، وَمِثْلَ أُجُورِهِمْ.
جو ظالم حاکم کے پاس جاکر اسے خدا سے ڈرائے اور نصيحت کرے اور اسے قيامت کا خوف دلائے، اس کے لئے جن و انس کا اجر ہے۔
دعائم الاسلام ج١ ص95
تقيہ وہ بنيادی ترين ڈہال ہے جس کی آڑ ميں شيعوں نے بنو اميہ اور بنو عباس کے سياہ دورِ حکومت ميں اپنی حفاظت کی۔ جيسا کہ امام باقر نے اپنے بابا سے نقل کيا کہ آپ نے فرمايا:
إِنَّ التَّقِيَّةَ مِنْ دِينِي وَدِينِ آبَائِي وَلَا دِينَ لِمَنْ لَا تَقِيَّةَ لَهُ۔
بے شک تقيہ ميرا اور ميرے اجداد کا دين ہے۔ اور جس کے پاس تقيہ نہيں اس کے پاس دين نہيں۔
الکافی ج1 ص183-184
متعدد تاريخی دلائل اور شواہد واضح طور پر اس بات کا اظہار کرتے ہيں کہ خاندانِ اہلبيت ميں امامت کا دعوی موجود رہا ہے۔ اور يہ بات زيادہ تر لوگوں کے لیے اظہر من الشمس تھی اور سب جانتے تھے کہ آئمہ کرام امامت کو صرف اپنا حق سمجھتے ہيں۔ امام باقر اور دوسرے تمام آئمہ حکمرانوں کے کاموں کو باطل اور شرعی طور پر ناجائز قرار ديتے تھے اور اسلامی معاشرے ميں سچی امامت کو برقرار کرنے کی ضرورت کو لوگوں کے لیے بيان کرتے رہتے تھے:
اسی طرح اے محمد (بن مسلم) اس امت کا جو بھی شخص ظاہر و عادل اور خدا کی طرف سے منصوب امام کے بغير زندگی گزارے وہ گمراہی ميں پڑ گيا اور حيرانی و سرگردانی ميں مبتلا ہوا۔ اور اگر اسی حال ميں مر گيا تو کفر و نفاق کی حالت ميں مرا۔ اے محمد! ظالم حکمران اور ان کے پيروکار خدا کے دين سے منحرف ہو گئے ہيں۔ وہ خود بھی گمراہی ميں ہيں اور دوسروں کو بھی گمراہی کی طرف کھينچ رہے ہيں۔ جو کام وہ انجام ديتے ہيں يہ اس راکھ کی مانند ہے جس پر طوفانی دن ميں تيز ہوا چلی ہو اور جو کچھ انہوں نے انجام ديا ہے اس ميں سے کچھ بھی ان کے ہاتھ نہيں آئے گا۔ اور يہ حق سے دور کرنے والی گمراہی کے علاوہ کچھ اور نہيں ہے۔
الکافی ج1 ص 183
ان جملات کا قدرتی نتيجہ لوگوں کو اہلبيت کی طرف بڑھانا اور عوام پر حاکموں اور واليوں کے ظلم و ستم کو ظاہر کرنا تھا۔ امام کا بار بار اس بات پر اصرار کہ نماز، روزہ، حج اور زکاۃ کے ساتھ ولايت بھی اسلام کے پانچ بنيادی احکام ميں سے ايک ہے، يہ بھی اسی بنياد پر تھا۔ جيسا کہ حديث کے بقيہ حصہ ميں ولايت پر تاکيد کی خاطر فرمايا: ع
وَلَمْ يُنَادِ بِشَيْءٍ كَمَا نُودِيَ بِالْوَلَايَةِ، فَأَخَذَ النَّاسُ بِأَرْبَعٍ وَتَرَكُوا الْوَلَايَةَ.
خدا نے لوگوں کو ولايت سے بڑھ کر کسي چيز کي طرف نہيں بلايا ہے۔ اس کے باوجود لوگوں نے چار کو لے ليا اور ولايت کو چھوڑ ديا۔
الکافی ج1 ص478
المناقب ج2 ص280
روايت ہوئی ہے کہ ايک دن امام باقر ہشام بن عبد الملک کے پاس گئے اور اسے خليفہ اور امير المؤمنين کی حيثيت سے سلام نہيں کيا۔ ہشام ناراض ہوا اور اپنے ارد گرد موجود افراد کو حکم ديا کہ امام کي سر زنش کريں۔ اس کے بعد ہشام نے امام سے کہا:
لَا يَزَالُ الرَّجُلُ مِنْكُمْ شَقَّ عَصَا الْمُسْلِمِينَ وَ دَعَا إِلَى نَفْسِهِ.
ہر زمانے ميں آپ ميں سے کوئي نہ کوئي مسلمانوں کے درميان اختلاف ڈالتا ہے اور لوگوں کو اپني طرف بلاتا ہے۔
اس کے بعد امام کو برا بھلا کہنا شروع کيا اور دوسروں کو بھی حکم ديا کہ امام کی سر زنش کريں۔ اس موقع پر امام نے لوگوں کی طرف رخ کر کے فرمايا:
اے لوگو! کہاں جا رہے ہو اور کہاں لے جائے جا رہے ہو ؟تمہارے پہلے کو اللہ نے ہمارے ذريعہ ہدايت دي اور تمہارا اختتام بھی ہم پر ہی ہو گا۔ اگر تم نے جلدی زمام حکومت کو ہاتھ ميں لے ليا ہے، تو آخر کار امت مسلمہ کے امور ہمارے ہی ہاتھ ميں ہوں گے۔ کيونکہ ہم وہ خاندان ہيں کہ عاقبت ہمارے ساتھ ہی ہے۔ خدا کا فرمان ہے:
نيک انجام متقين کے لیے ہے۔
ہشام نے امام کی گرفتاری کا حکم دے ديا۔ جو لوگ آپ کے ساتھ قيد خانہ ميں تھے، وہ آپ سے متاثر ہوئے اور آپ سے محبت کرنے لگے۔ جب ہشام کو اس بات کی اطلاع ملی تو اس نے حکم ديا کہ آپ کو مدينہ واپس بھجوا ديا جائے۔
تذکرۃ الحفاظ ج1 ص119
امام باقر کے زمانے ميں اموی حکام اہلبيت کے معاملہ ميں بہت سخت گيری کرتے تھے اور يہ سخت گيری ان کے امامت اور دينی سياسی رہبری کے دعوی کی وجہ سے تھی کہ وہ بنو اميہ کو غاصب سمجھتے تھے۔ تاريخ (کہ جس کے درست يا غلط ہونے کا کچھ صحيح طور پر معلوم نہيں ہے) بتاتی ہے کہ اموی خلفاء ميں صرف عمر بن عبد العزيز تھا جس نے اہلبيت کے ساتھ نسبتا نرم رويہ اپنايا تھا۔ اسی لیے اہلسنت نے امام باقر سے روايت کی ہے آپ نے فرمايا ہے کہ:
عمر بن عبد العزيز نجيب بني اميہ۔
عمر بن عبد العزيز بني اميہ کا نيک آدمي ہے۔
قرب الاسناد ص172
اسی طرح شيعہ کتابوں ميں بھی آيا ہے کہ عمر بن عبد العزيز بيت المال سے اہلبيت کا حصہ ادا کيا کرتا تھا اور اس نے فدک بھی بنی ہاشم کو واپس کر ديا تھا۔
الخصال ج1 ص51
امالی طوسی ص80
تاريخ الخلفاء ص232
ايک روايت ميں آيا ہے کہ: ايک مرتبہ امام باقر عمر بن عبد العزيز کے پاس گئے تو اس نے آپ سے نصيحت کرنے کی خواہش کی۔ آپ نے فرمايا: ميری نصيحت يہ ہے کہ چھوٹی عمر کے مسلمانوں کو اپنے بچوں کی طرح، متوسط عمر والوں کو اپنے بھائيوں کي طرح اور بزرگوں کو اپنے باپ کي طرح سمجھو۔ اپنے بچوں پر رحم کرو، اپنے بھائيوں کي مدد کرو اور اپنے باپ سے نيکي کرو۔
بھجۃ المجالس ج3 ص250
مختصر تاريخ دمشق ج23 ص77
اموی دور ميں اہلبيت پر سب سے زيادہ سختياں ہشام بن عبد الملک کی جانب سے ہوئيں۔ اسی کے سخت اور توہين آميز جملات تھے جنہوں نے زيد بن علی کو (سال 122 ہجري ميں) کوفہ ميں قيام کرنے پر مجبور کر ديا۔ زيد کے ساتھ ہشام کی ملاقات ميں اس نے حتی کہ امام باقر کی بھی توہين کی اور امويوں کے مخصوص اندازِ تمسخر اور طريقہ اذيت کے مطابق امام کہ جن کا لقب باقر تھا، انہيں 'بقرہ‘‘ (گائے) کہا۔ زيد اس کی اس جسارت پر بہت ناراض ہوئے اور فرمايا:
سَمَّاهُ رَسُولُ اللَّهِ الْبَاقِرَ، وَأَنْتَ تُسَمِّيهِ الْبَقَرَةَ، لَشَدَّ مَا اخْتَلَفْتُمَا! وَلَتُخَالِفَنَّهُ فِي الْآخِرَةِ كَمَا خَالَفْتَهُ فِي الدُّنْيَا، فَيَرِدُ الْجَنَّةَ وَتَرِدُ النَّارَ.۔
رسول اللہ نے انہيں باقر کہا ہے اور تو انہيں بقرہ (گائے) کہہ رہا ہے۔ تيرے اور رسول اللہ کے درميان کس قدر اختلاف ہے! تو آخرت ميں بھی ان کی اسی طرح مخالفت کرے گا جس طرح سے دنيا ميں کر رہے ہو۔ اس وقت وہ جنت ميں اور تو جہنم ميں داخل ہو گا۔
شرح نھج البلاغہ ابن ابی الحديد ج7 ص132
عمدۃ الطالب ص194
ہشام کی موجودگی ميں ايک عيسائی نے رسول اللہ کی توہين کی ليکن ہشام نے کسی رد عمل کا اظہار نہيں کيا۔ اس مسئلہ پر بعد ميں زيد نے بہت سخت رد عمل دکھايا تھا۔ جيسا کہ کہا گيا ہے، يہی رويہ اموی حکومت کے خلاف زيد کے قيام کا اصلی اور اہم محرک بنا تھا۔ اور يہ بات سچ ہے کہ وسيع اسلامی مملکت خاص طور پر مشرقی علاقے اور ايران ميں اموی حکومت کے خلاف مسلسل چلنے والی تحريکوں کا آغاز اسی سے ہوا تھا۔ع
جيسا کہ شيعہ کتابوں ميں آيا ہے۔
امام باقر کو ان کے فرزند امام جعفر صادق کے ساتھ شام بلايا گيا تا کہ وہاں ان کی توہين کی جائے اور اس طرح سے حکمران بننے اور مخالفت کرنے کا سودا ان کے سر سے نکال ديا جائے۔ امام صادق نے ايک طويل روايت ميں اس واقعہ کو بيان کيا ہے۔ ہم ذيل ميں اس روايت کا کچھ حصہ آپ کی زبان مبارک سے نقل کرتے ہيں:
ايک سال ہشام حج کرنے کے لیے مکہ آيا ہوا تھا۔ امام باقر اور امام صادق بھی اس سال حج کے لیے وہاں موجود تھے۔ امام صادق نے چند ايسے جملے بيان فرمائے جو بنی اميہ پر بنی ہاشم کی برتری کو بيان کر رہے تھے، امام نے فرمايا:
حمد اس خدا کے لیے جس نے محمد (ص) کو نبی بنايا اور ہميں ان کے وسيلے سے کرامت بخشی۔ پس ہم اس کی مخلوق ميں برگزيدہ، اس کے بندوں ميں انتخاب شدہ اور اس کی جانب سے منصوب خليفہ ہيں۔ تو باسعادت وہ ہے جس نے ہماری پيروی کی اور بدبخت وہ ہے جس نے ہم سے دشمنی اور ہماری مخالفت کی۔
يہ خبر ہشام تک پہنچی تو وہ دمشق تک خاموش رہا اور اس بارے ميں کچھ نہيں بولا۔ دمشق پہنچ کر اس نے مدينہ کے حاکم کے پاس ايک قاصد بھيجا اور اس سے کہا کہ امام باقر اور امام صادق کو شام بھيج دے۔ دونوں امام شام پہنچے۔ ہشام نے ان کی توہين کرنے کے لیے انہيں تين دن تک اجازت نہيں دی اور چوتھے دن اپنے پاس بلايا۔ اس وقت دربار ميں بہت سے بڑے لوگ اور قريش کی بڑی شخصيتيں موجود تھيں۔ اس نے امام باقر (جو سن رسيدہ تھے) سے درخواست کی کہ تير اندازی کے مقابلہ ميں شرکت کريں۔ پہلے تو امام نے بڑھاپے کا بہانہ کر کے اسے ٹالنا چاہا ليکن ہشام نے اصرار کيا۔ مجبورا امام نے کمان ہاتھ ميں لی اور پہلا تير نشانہ پر بٹھايا۔ اس کے بعد يکے بعد ديگرے نو تير ايک دوسرے کے اوپر بٹھائے۔
ہشام جو حيرت زدہ رہ گيا تھا، کہنے لگا:
ما ظننت ان في الارض احدا يرمي مثل ھذا الرامي۔
ميں نہيں سمجھتا کہ زمين پر کوئي ان جيسا تير انداز ہو گا۔
اس کے بعد بنو اميہ اور بنو ہاشم کی رشتہ داری کا حوالہ دے کر اس نے کوشش کی کہ ان دو خاندانوں کو مساوی قرار دے۔ امام باقر نے تاکيد کی کہ دوسرے خاندان اہلبيت ميں موجود فضائل و کمالات سے محروم ہيں۔
ہشام نے اپنی گفتگو کے دوران امير المؤمنين کے بارے ميں شيعوں کے اعتقاد کا مذاق اڑايا اور بولا: علی (ع) علم غيب کا دعوی کيا کرتے تھے، حالانکہ خدا نے کسی کو بھی اس سے آگاہ نہيں کيا ہے۔ جواب ميں امام نے امير المؤمنين کے وسيلہ سے معارف قرآن اور علوم پيغمبر (ص) کے فروغ کی طرف اشارہ کيا۔ آخر کار ہشام نے ان کی آزادی اور مدينہ روانگی کا حکم صادر کر ديا۔ اسی دوران شام ميں رہنے والے عيسائيوں اور امام باقر کے درميان ايک ملاقات ہوئی جو حديث کی کتابوں ميں تفصيل سے درج ہے۔ اسی کے بعد ہشام نے حکم ديا تھا کہ جلد از جلد امام دمشق سے روانہ ہو جائيں تا کہ کہيں شام کے رہنے والے آپ کے علم سے متاثر نہ ہو جائيں۔ اس کے فورا بعد اس نے مدينہ کے گورنر کے نام ايک خط بھيجا جس ميں اس نے امام باقر اور امام صادق کے بارے ميں يہ لکھا:
ابو تراب کے يہ دو بيٹے جو مدينہ کے لیے شام سے روانہ ہو گئے ہيں، جادوگر ہيں اور اسلام کا جھوٹا اظہار کرتے ہيں۔ کيونکہ يہ عيسائي راہبوں سے متاثر ہو گئے ہيں اور نصاری کی طرف مائل ہو گئے ہيں۔ ميں نے رشتہ داری کی وجہ سے ان کو تکليف نہيں پہنچائی ہے۔ جب وہ مدينہ پہنچيں تو لوگوں سے کہو: جو ان سے کوئی معاملہ يا مصافحہ يا سلام کرے گا ميں اس سے بری الذمہ ہوں۔ کيونکہ يہ اسلام سے منحرف ہو گئے ہيں۔
لوگ ان باتوں ميں آ گئے اور آپ کی توہين کی، ليکن امام نے ان کو نصيحت کی اور انہيں عذاب الہی سے ڈرايا يہاں تک کہ وہ آپ کی توہين سے دستبر دار ہو گئے۔
دلائل الامامۃ ص104
امان الاخطار ص52
بحار الانوار ج46 ص306
تفسير علی بن ابراہيم قمی ص88
مناقب آل ابی طالب ج3 ص334 اور 348
مندرجہ بالا روايات اہلبيت کا چہرہ مسخ کرنے کے لیے ہشام کی مکاريوں کی نشاندہی کرتی ہے نيز يہ بھی بتاتی ہیں کہ آئمہ طاہرين اہلبيت (ع) کا عظيم مرتبہ دکھانے کے لیے کس قدر اصرار کيا کرتے تھے۔
التماس دعا.....

