مخزن علم اہلبیت، باقرالعلوم علیہ السلام-قسط-۱۰
مخزن علم اہلبیت، باقرالعلوم علیہ السلام:
ماہ رجب 57ہجری کی پہلی تاریخ تھی، جب آسمانِ ولایت و امامت کا پانچواں آفتاب نمودار ہوا۔ جسکی روشنی سے سارا مدینہ منور ہو گیا۔ اس امر میں بھی شاید خاص امر الہی پوشیدہ ہو، کہ پانچ اور سات جسکو ملانے سے 57 بنتا ہے۔ آپ سلسلہ امامت کے پانچویں امام اور سلسلہ عصمت کے ساتویں معصوم ہیں۔ آپ (ع) کی عمر مبارک 57 برس ہوئی۔ جس سے آپکی سن ولادت اور عمر مبارک کو یاد رکھنا کافی آسان ہے۔ اسم گرامی الہام خداوندی اور پیش نہاد رسول اکرم ص سے محمد قرار پایا۔ یوں سلسلہ عصمت اور بعد رسول آپ (ع) پہلے ہمنام محمد ہیں۔ آپ (ع) اپنے فرزند ارجمند امام جعفر صادق علیہ السلام کی نسبت سے ابو جعفر مشہور ہوئے۔ علم و دانائی اور شائستہ بیانی نے اپنے متاثرین کو باقر العلوم لقب دینے پر مجبور کیا۔ باقر العلوم کا مطلب علم کی دیوار میں شگاف ڈالنے والا۔ کیونکہ آپ (ع) نے اسرار رموزِ علوم و فنون کو اس قدر وسعت دی اور انکی کچھ اسطرح تشریح کی، کہ تاریخ میں اسکی مثال نہیں ملتی۔ حد یہ ہے کہ عالم اسلام کے بڑے بڑے علماء و مفکرین بھی آپ کے خرمن علم کے خوشہ چینوں میں تھے اور آپ (ع) کے علم و دانش سے خوب فائدہ اٹھایا۔ تو گویا آپ (ع) نے درِ علم نبی کی واضح مثال و مصداق قائم کیا۔ آپ (ع) کے والد ماجد حضرت امام زین العابدین اور والدہ ماجدہ جناب فاطمہ بنت الحسن (ع) تھی۔ لہذا آپ (ع) کو یہ شرف حاصل ہوا کہ آپ (ع) کے والد، دادا، نانا، بیٹا اور پوتا امام تھے۔ تاریخ میں آپ (ع) سے متعلق جن مشہور واقعات کا ذکر ملتا ہے، ان میں سے چند یہ ہیں:
آپ ابھی کمسن ہی تھے کہ کھیل کود کے دوران گھر کے کنویں میں گر گئے۔ والدہ محترمہ یہ دیکھ کر رونے لگیں اور امام سجاد کو آواز دی۔ امام سجاد اُس وقت نماز میں مشغول تھے آپ نے بیٹے کو کنویں سے نکالنے کی بجائے آرام سے اپنی نماز جاری رکھی اور نماز ختم کرنے کے بعد آ کر اپنے بچے کو کنویں سے نکالا، یہاں تک کہ امام باقر علیہ السلام کا لباس تک تر نہ ہوا اور صحیح و سالم باہر آ گئے۔ امام سجاد نے فرمایا کہ:
خدا اپنے ولی کا خود محافظ ہے۔ یوں فاطمہ بنت الحسن پر یہ بات واضح ہو گئی کہ نماز کو چھوڑ کر بچے کو بچانے کی بجائے امام نے اپنے معمول کی نماز کیوں جاری رکھی۔
ایک مرتبہ آپ سات سال کی عمر میں اپنے والد کے ساتھ حج پر جا رہے تھے۔ راستے میں ایک حیرت زدہ شخص نے سوال کیا، فرزند! تم کون ہو ؟ کہاں جا رہے ہو اور زاد راہ کیا ہے ؟ آپ نے اپنے جواب سے اُس شخص کو لا جواب کر دیا، اور فرمایا میرا سفر من اللہ اور الی اللہ (اللہ سے اور اللہ کی طرف) ہے۔ میرا زادِ راہ تقوی ہے۔ میرا نام محمد ابن علی ابن الحسین ابن علی ابن ابی طالب ہے۔ آپ (ع) کو یہ امتیاز بھی حاصل ہوا کہ رسول اکرم (ص) نے جابر بن عبد اللہ انصاری کو آپ کا نام بتایا اور خبر دی کہ تمھاری انکے ساتھ ملاقات ہو گی تو ان کو میرا سلام پہنچانا۔ قدرت نے جابر کو امام سے اس حال میں ملایا کہ آپ (جابر) ضعیف اور بوڑھے ہو چکے تھے۔ امام اپنے والد سید سجاد کے ہمراہ کہیں جا رہے تھے کہ جابر نے آپ کو دیکھا اور آگے بڑھے۔ اپنے والد کے حکم پر حضرت نے جابر کی پیشانی پر بوسہ دیا۔ جابر نے گلے لگا کر رسول گرامی اسلام کا سلام پہنچایا۔ کیا کہنے اُس سلام کے، یہ اُس ہستی کا سلام تھا، جس پر خالق اکبر نے صبح و شام تمام مخلوق پر یہ لازم قرار کر دیا کہ ان پر درود و سلام بھیجیں۔ یہ سعادت جابر ابن عبد اللہ انصاری کو نصیب ہوئی کہ آپ اسلام کے امین قرار پائے۔
28رجب 60ء کو جب سید الشہداء امام حسین علیہ السلام نے اسلام کی بقاء کا سفر شروع کیا تو ان میں آپ (ع) بھی شریک تھے۔ اس وقت آپ کی عمر مبارک 4 سال کے لگ بھگ تھی۔ آپ نے اپنی آنکھوں سے پاکیزہ اوصاف کی رذائل کیساتھ جنگ دیکھی۔ آپ (ع) نے اپنی آنکھوں سے اپنے پیاروں اور 72 جانثاروں کو تہہ تیغ ہوتے دیکھا۔ تین دن کی سخت ترین گرمی اور دھوپ میں پیاس کی شدت کو برداشت کرنے والوں میں آپ بھی شریک تھے۔ شب عاشور خیموں کے لُٹنے، چادروں کے چھننے اور سید سجاد علیہ السلام کی علالت کو آپ نے اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا تھا۔ کربلا سے کوفہ، کوفہ سے شام اور شام سے مدینہ تک کے تمام مظالم کو سر کرنے والوں میں آپ بھی شامل تھے۔ کربلا کے پیغام رسانوں، مقصد امام حسین کی پہچان کرانے والوں اور روداد غم سنانے والوں میں آپ سید سجاد (ع) اور سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کے ساتھ برابر کے شریک تھے۔ وگرنہ یزید نے یہ ٹھان لیا تھا کہ حسین علیہ السلام کے مقصد کو کربلا میں ہی دفن کر دیا جائے، مگر ان حضرات نے قیام حسینی کے مقصد کو اپنے خطبوں اور غم کی روداد میں کوہ بہ کوہ اور قریہ بہ قریہ کچھ اسطرح سنایا اور پہنچایا کہ یزید اور یزیدی قصر کی اینٹ سے اینٹ بجنے لگی اور یزیدیت کو تا دم حشر لائق نفرت بنا دیا۔
اس تھوڑے سے عرصے میں ان خدمات کا ذکر نہیں کر سکتا کہ جو حضرت امام محمد باقرعلیہ السلام نے انجام دیں لیکن اتنا ضرور ہے کہ وہ عظیم اسلامی مدرسہ جس میں شاگردوں کی تعداد چار ہزار تک پہنچی اور امام جعفرصادق علیہ السلام نے اپنے زمانہ میں چلا یا وہ حضرت امام باقر کی کوششوں کا نتیجہ تھا۔

