امام باقر (ع) پہلی اسلامی یونیورسٹی کے بانی-قسط-۸
امام باقر (ع) پہلی اسلامی یونیورسٹی کے بانی:
آپ کی والدہ دوسرے امام حضرت حسن بن علی ع کی بیٹی تھیں، اور والد علی بن حسین بن علی ع تھے ، اس اعتبار سے آپ پہلے شخص ہیں جو ماں اور باپ کی طرف سے علوی اور فاطمی ہیں۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کا دور امویوں اور عباسیوں کے سیاسی اختلافات اور اسلام کا مختلف فرقوں میں تقسیم ہونے کے زمانے سے مصادف تھا جس دور میں مادی اور یونانی فلسفہ اسلامی ملکوں میں داخل ہوا جس سے ایک علمی تحریک وجود میں آئی۔ جس تحریک کی بنیاد مستحکم اصولوں پر استوار تھی ۔ اس تحریک کے لیے ضروری تھا کہ دینی حقایق کو ظاہر کرے اور خرافات اور نقلی و جعلی احادیث کو نکال باہر کرے ۔ ساتھ ہی زندیقوں اور مادیوں کا منطق اور استدلال کے ساتھ مقابلہ کر کے انکے کمزور خیالات کی اصلاح کرنا۔ نامور دہری اور مادہ پرست علماء کے ساتھ علمی مناظرہ و مذاکرہ کرنا تھا یہ کام امام وقت حضرت امام محمد باقر (ع) کے بغیر کسی اور سے ممکن نہ تھا ۔آپ علیہ السلام نے حقیقی عقاید اسلامی کی تشہیر کی راہ میں علم کے دریچوں اور درازوں کو کھول دیا اور اس علمی تحریک کو پہلی اسلای یونورسٹی کے قیام کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ آپ کے بارے میں امام حنبل اور امام شافعی جیسے علماء کہتے ہیں کہ:
ابن عباد حنبلی کہتے ہیں : ابو جعفر بن محمد مدینہ کے فقہا میں سے ہیں۔ آپ کو باقر کہا جاتا ہے، اس لیے کہ آپ نے علم کو شگافتہ کیا اور اس کی حقیقت اور جوہر کو پہچانا ہے۔
الامام الصادق و المذاہب الاربعہ ج۔1۔ص149
محمد بن طلحہ شافعی کہتے ہیں: محمد بن علی، دانش کو شگافتہ کرنے والے اور تمام علوم کے جامع ہیں، آپ کی حکمت آشکار اور علم آپ کے ذریعہ سر بلند ہے۔ آپ کے سر چشمہ و جود سے دانش عطا کرنے والا دریا پر ہے۔ آپ کی حکمت کے لعل و گہر زیبا و دلپذیر ہیں۔ آپ کا دل صاف اور عمل پاکیزہ ہے۔ آپ مطمئن روح اور نیک اخلاق کے مالک ہیں۔ اپنے اوقات کو عبادت خداوند میں بسر کرتے ہیں۔ پرہیز گاری و ورع میں ثابت قدم ہیں۔ بارگاہ پروردگار میں مقرب اور برگذیدہ ہونے کی علامت آپ کی پیشانی سے آشکار ہے۔ آپ کے حضور میں مناقب و فضائل ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ نیک خصلتوں اور شرافت نے آپ سے عزت پائی ہے۔
الامام الصادق و المذاہب الاربعہ ۔ج ۔1۔ص 149

