امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک

امام باقر علیہ السلام اور راہب کا قبول اسلام-قسط-۷

0 ووٹ دیں 00.0 / 5

دمشق سے روانگی اور ایک راہب کا مسلمان ہونا:

علامہ مجلسی تحریر فرماتے ہیں کہ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام قید خانہ دمشق سے رہا ہو کر مدینہ کو تشریف لئے جا رہے تھے کہ ناگاہ راستے میں ایک مقام پر مجمع کثیر نظر آیا، آپ نے تفحص حال کیا تو معلوم ہوا کہ نصاری کا ایک راہب ہے جو سال میں صرف ایک بار اپنے معبد سے نکلتا ہے آج اس کے نکلنے کا دن ہے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام اس مجمع میں عوام کے ساتھ جا کر بیٹھ گئے ،راہب جو انتہائی ضعیف تھا، مقررہ وقت پر برآمد ہوا،اور اس نے چاروں طرف نظر دوڑانے کے بعد امام علیہ السلام کی طرف مخاطب ہو کر بولا:

1۔ کیا آپ ہم میں سے ہیں فرمایا میں امت محمدیہ سے ہوں۔
2۔ آپ علماء سے ہیں یا جہلا سے فرمایا میں جاہل نہیں ہوں۔
3- آپ مجھ سے کچھ دریافت کرنے کے لیے آئے ہیں فرمایا نہیں۔
4- جب کہ آپ عالموں میں سے ہیں کیا ؟ میں آپ سے کچھ پوچھ سکتا ہوں، فرمایا ضرور پوچھیے۔ یہ سن کر راہب نے سوال کیا:

 1 ۔ شب و روز میں وہ کونسا وقت ہے، جس کا شمار نہ دن میں ہے اور نہ رات میں ، فرمایا وہ سورج کے طلوع سے پہلے کا وقت ہے جس کا شمار دن اور رات دونوں میں نہیں ، وہ وقت جنت کے اوقات میں سے ہے اور ایسا مبترک ہے کہ اس میں بیماروں کو ہوش آ جاتا ہے درد کو سکون ہوتا ہے جو رات بھر نہ سو سکے اسے نیند آتی ہے یہ وقت آخرت کی طرف رغبت رکھنے والوں کے لیے خاص الخاص ہے۔

2۔ آپ کا عقیدہ ہے کہ جنت میں پیشاب و پاخانہ کی ضرروت نہ ہو گی ؟ کیا دنیا میں اس کی مثال ہے ؟ فرمایا بطن مادر میں جو بچے پرورش پاتے ہیں ان کا فضلہ خارج نہیں ہوتا۔
3 ۔ مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ کھانے سے بہشت کا میوہ کم نہ ہو گا اس کی یہاں کوئی مثال ہے، فرمایا ہاں ایک چراغ سے لاکھوں چراغ جلائے جاتے ہیں تب بھی پہلے چراغ کی روشنی میں کمی نہ ہو گی۔

4 ۔ وہ کون سے دو بھائی ہیں جو ایک ساتھ پیدا ہوئے اور ایک ساتھ مرے لیکن ایک کی عمر پچاس سال کی ہوئی اور دوسرے کی ڈیڑھ سو سال کی، فرمایا"عزیز اور عزیر پیغمبر ہیں یہ دونوں دنیا میں ایک ہی روز پیدا ہوئے اور ایک ہی روز مرے پیدائش کے بعد تیس برس تک ساتھ رہے پھر خدا نے عزیر نبی کو مار ڈالا (جس کا ذکر قرآن مجید میں موجود ہے) اور سو برس کے بعد پھر زندہ فرمایا اس کے بعد وہ اپنے بھائی کے ساتھ اور زندہ رہے اور پھر ایک ہی روز دونوں نے انتقال کیا۔

یہ سن کر راہب اپنے ماننے والوں کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگا کہ جب تک یہ شخص شام کی حدود میں موجود ہے میں کسی کے سوال کا جواب نہ دوں گا سب کو چاہئے کہ اسی عالم زمانہ سے سوال کرے اس کے بعدوہ مسلمان ہو گیا۔

جلاء العیون ص 261

آپ اگرچہ اپنے علمی فیوض و برکات کی وجہ سے اسلام کو برابر فروغ دے رہے تھے لیکن اس کے باوجود ہشام بن عبد الملک نے آپ کو زہر کے ذریعہ سے شہید کرا دیا اور آپ بتاریخ 7 ذی الحجہ 114 ھ پیر کے دن، مدینہ منورہ میں جام شہادت نوش فرما گئے۔ اس وقت آپ کی عمر 57 سال کی تھی۔ آپ جنت البقیع میں دفن ہوئے۔

 کشف الغمہ ص93

جلاء العیون ص264

جنات الخلودص26

دمعہ ساکبہ ص449

انوار الحسینہ ص48

شواہد النبوت ص181

روضة الشہداء ص434

شبلنجی اور ابن حجر مکی نے لکھا ہے کہ:

"مات مسموما کابیہ"

آپ اپنے پدر بزرگوار امام زین العابدین علیہ السلام کی طرح زہر سے شہید کر دیئے گئے۔

 نور الابصار ص31

صواعق محرقہ ص120

آپ کی شہادت ہشام کے حکم سے ابراہیم بن ولید والی مدینہ کی زہر خورانی کے ذریعہ واقع ہوئی ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ:

خلیفہ وقت ہشام بن عبد الملک کی مرسلہ زہر آلود زین کے ذریعہ سے واقع ہوئی تھی۔

جنات الخلود ص26

دمعہ ساکبہ ج2 ص 478

شہادت سے قبل آپ نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے بہت سی چیزوں کے متعلق وصیت فرمائی اور کہا کہ بیٹا میرے کانوں میں میرے والد ماجد کی آوازیں آ رہی ہیں وہ مجھے جلد بلا رہے ہیں۔

 نورالابصار ص131

 آپ نے غسل و کفن کے متعلق خاص طور سے ہدایت کی کیونکہ امام کو امام ہی غسل دے سکتا ہے.

شواہد النبوت ص181

علامہ مجلسی فرماتے ہیں کہ:

 آپ نے اپنی وصیتوں میں یہ بھی کہا کہ 800 درہم میری عزاداری اور میرے ماتم پر صرف کرنا اور ایسا انتظام کرنا کہ دس سال تک منی میں بزمانہ حج میری مظلمومیت کا ماتم کیا جائے۔

 جلاء العیون ص264

علماء کا بیان ہے کہ وصیتوں میں یہ بھی تھا کہ میرے بند ہائے کفن قبر میں کھول دینا اور میری قبر چار انگلیوں سے زیادہ اونچی نہ کرنا۔

جنات الخلود ص 27

آپ کا تبصرہ شامل کریں

قارئین کے تبصرے

کوئی تبصرہ موجودنہیں ہے
*
*

امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک