امام باقرعلیہ السلام اور ہشام بن عبد الملک-قسط-۶
حضرت امام محمد باقرعلیہ السلام اور ہشام بن عبد الملک
تواریخ میں ہے 96 ھ میں ولیدبن عبد الملک فوت ہوا (ابو الفداء) اور اس کا بھائی سلیمان بن عبد الملک خلیفہ مقرر کیا گیا (ابن الوردی ) 99 ھ میں عمر بن عبد العزیز خلیفہ ہوا ابن الوردی اس نے خلیفہ ہوتے ہی اس بدعت کو جو 41 ھ سے بن امیہ نے حضرت علی پر سب و شتم کی صورت میں جاری کر رکھی تھی حکما روک دیا (ابو الفداء) اور رقوم خمس بنی ہاشم کو دینا شروع کیا ۔
کتاب الخرائج ابو یوسف،
یہ وہ زمانہ تھا جس میں علی کے نام پر اگر کسی بچے کا نام ہوتا تھا تو وہ قتل کر دیا جاتا تھا اور کسی کو بھی زندہ نہ چھوڑا جاتا تھا۔
تدریب الراوی سیوطی
اس کے بعد 101 ھ میں یزید بن عبد الملک خلیفہ بنایا گیا(ابن الوردی) 105 ھ میں ہشام بن عبد الملک بن مروان بادشاہ وقت مقرر ہوا (ابن الوردی)۔
ہشام بن عبد الملک، چست، چالاک، کنجوس و متعصب، چال باز، سخت مزاج، کجرو، خودسر، حریص، کانوں کا کچا تھا اور حد درجہ کا شکی تھا کبھی کسی کا اعتبار نہ کرتا تھا۔ اکثر صرف شبہ پر سلطنت کے لائق لائق ملازموں کو قتل کرا دیتا تھا۔ یہ عہدوں پر انہیں کو فائز کرتا تھا جو خوشامدی ہوں، اس نے خالد بن عبد اللہ قسری کو 105 ھ سے 120 ھ تک عراق کا گورنر تھا قسری کا حال یہ تھا کہ ہشام کو رسول اللہ سے افضل بتاتا اور اسی کا پروپیگنڈہ کیا کرتا تھا۔
تاریخ کامل ج5 ص103
ہشام آل محمد کا دشمن تھا اسی نے زید شہید کو نہایت بری طرح قتل کیا تھا،
تاریخ اسلام ج1 ص49
اسی نے اپنے زمانہ ولیعہدی میں فرزدق شاعر کو امام زین العابدین کی مدح کے جرم میں بمقام عسقلان قید کیا تھا۔
صواعق محرقہ ص 120
ہشام کا سوال اور اس کا جواب:
تخت سلطنت پر بیٹھنے کے بعد ہشام بن عبد الملک حج کے لیے گیا وہاں اس نے امام محمد باقر علیہ السلام کو دیکھا کہ مسجد الحرام میں بیٹھے ہوئے لوگوں کو پند و نصائح سے بہرہ ور کر رہے ہیں یہ دیکھ کر ہشام کی دشمنی نے کروٹ لی اور اس نے دل میں سوچا کہ انہیں ذلیل کرنا چاہئے اور اسی ارادہ سے اس نے ایک شخص سے کہا کہ جا کر ان سے کہو کہ خلیفہ پوچھ رہے ہیں کہ حشر کے دن آخری فیصلہ سے قبل لوگ کیا کھائیں اور پئیں گے اس نے جا کر امام علیہ السلام کے سامنے خلیفہ کا سوال پیش کیا آپ نے فرمایا جہاں حشر و نشر ہو گا وہاں میوے دار درخت ہوں گے، وہ لوگ انہیں چیزوں کو استعمال کریں گے بادشاہ نے جواب سن کر کہا یہ بالکل غلط ہے کیونکہ حشر میں لوگ مصیبتوں اور اپنی پریشانیوں میں مبتلا ہوں گے ان کو کھانے پینے کا ہوش کہاں ہو گا ؟ قاصد نے بادشاہ کا گفتہ نقل کر دیا، حضرت نے قاصد سے فرمایا کہ جاؤ اور بادشاہ سے کہو کہ تم نے قرآن بھی پڑھا ہے یا نہیں، قرآن میں یہ نہیں ہے کہ "جہنم" کے لوگ جنت والوں سے کہیں گے کہ ہمیں پانی اور کچھ نعمتیں دیدو کہ پی اور کھا لیں اس وقت وہ جواب دیں گے کہ کافروں پر جنت کی نعمتیں حرام ہیں۔
تو جب جہنم میں بھی لوگ کھانا پینا نہیں بھولیں گے تو حشر و نشر میں کیسے بھول جائیں گے جس میں جہنم سے کم سختیاں ہوں گی اور وہ امید و بیم اور جنت و دوزخ کے درمیان ہوں گے یہ سن کر ہشام شرمندہ ہو گیا۔
ارشادمفید ص 408
تاریخ آئمہ ص 414
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کی دمشق میں طلبی
علامہ مجلسی اور سید ابن طاؤس رمقطراز ہیں کہ ہشام بن عبد الملک اپنے عہد حکومت کے آخری ایام میں حج بیت اللہ کے لیے مکہ معظمہ میں پہنچا وہاں حضرت امام محمد باقر علیہ السلام اور حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام بھی موجود تھے ایک دن حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے مجمع عام میں ایک خطبہ ارشاد فرمایا جس میں اور باتوں کے علاوہ یہ بھی کہا کہ ہمیں روئے زمین پر خدا کے خلیفہ اور اسکی حجت ہیں ، ہمارا دشمن جہنم میں جائے گا، اور ہمارا دوست نعمات جنت سے متنعم ہو گا۔
اس خطبہ کی اطلاع ہشام کو دی گئی ، وہ وہاں تو خاموش رہا، لیکن دمشق پہنچنے کے بعد والی مدینہ کو فرمان بھیجا کہ محمد بن علی اور جعفر بن محمد کو میرے پاس بھیجدے ، چنانچہ آپ حضرات دمشق پہنچے وہاں ہشام نے آپ کو تین روز تک اذن حضور نہیں دیا چوتھے روز جب اچھی طرح دربار کو سجا لیا، تو آپ کو بلوا بھیجا آپ حضرات جب داخل دربار ہوئے تو آپ کو ذلیل کرنے کے لیے آپ سے کہا کہ ہمارے تیر اندازوں کی طرح آپ بھی تیر اندازی کریں حضرت امام محمد باقر نے فرمایا کہ میں ضعیف ہو گیا ہوں مجھے اس سے معاف رکھ، اس نے بہ قسم کہا کہ یہ ناممکن ہے پھر ایک کمان آپ کو دلوایا آپ نے ٹھیک نشانہ پر تیر لگائے ، یہ دیکھ کر وہ حیران رہ گیا اس کے بعد امام نے فرمایا، بادشاہ ہم معدن رسالت ہیں، ہمارا مقابلہ کسی امر میں کوئی نہیں کر سکتا، یہ سن کر ہشام کو غصہ آ گیا، وہ بولا کہ آب لوگ بہت بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں آپ کے دادا علی بن ابی طالب نے غیب کا دعوی کیا ہے آپ نے فرمایا بادشاہ قرآن مجید میں سب کچھ موجود ہے اور حضرت علی امام مبین تھے انہیں کیا نہیں معلوم تھا۔
جلاء العیون،
ثقة الاسلام علامہ کلینی تحریر فرماتے ہیں کہ ہشام نے اہل دربار کو حکم دیا تھا کہ میں محمد بن علی (امام محمد باقر علیہ السلام) کو سر دربار ذلیل کروں گا تم لوگ یہ کرنا کہ جب میں خاموش ہو جاؤں تو انہیں کلمات ناسزا کہنا، چنانچہ ایسا ہی کیا گیا آخر میں حضرت نے فرمایا، بادشاہ یاد رکھ ہم ذلیل کرنے ذلیل نہیں ہو سکتے ،خداوند عالم نے ہمیں عزت دی ہے، اس میں ہم منفرد ہیں یاد رکھ عاقبت کی شاہی متقین کے لیے ہے یہ سن کر ہشام نے:
فامر بہ الی الحبس،
آپ کو قید کرنے کا حکم دیدیا، چنانچہ آپ قید کر دیئے گئے۔
قید خانہ میں داخل ہونے کے بعد آپ نے قیدیوں کے سامنے ایک معجز نما تقریر کی جس کے نتیجہ میں قید خانہ کے اندر کہرام عظیم برپا ہو گیا، بالآخر قید خانہ کے داروغہ نے ہشام سے کہا کہ اگر محمد بن علی زیادہ دنوں قید رہے تو تیری مملکت کا نظام منقلب ہو جائے گا ان کی تقریر قید خانہ سے باہر بھی اثر ڈال رہی ہے اور عوام میں ان کے قید ہونے سے بڑا جوش ہے یہ سن کر ہشام ڈر گیا اور اس نے آپ کی رہائی کا حکم دیا اور ساتھ یہ بھی اعلان کرا دیا کہ نہ آپ کو کوئی مدینہ پہنچانے جائے اور نہ راستے میں آپ کو کوئی کھانا پانی دے، چنانچہ آپ تین روز کے بھوکے پیاسے داخل مدینہ ہوئے۔
وہاں پہنچ کر آپ نے کھانے پینے کی سعی، لیکن کسی نے کچھ نہ دیا، بازار ہشام کے حکم سے بند تھے یہ حال دیکھ کر آپ ایک پہاڑی پر گئے اور آپ نے اس پر کھڑے ہو کر عذاب الہی کا حوالہ دیا یہ سن کر ایک پیر مرد بازار میں کھڑا ہو کر کہنے لگا بھائیو! سنو، یہی وہ جگہ ہے جس جگہ حضرت شعیب نبی نے کھڑے ہو کر عذاب الہی کی خبر دی تھی اور عظیم ترین عذاب نازل ہوا تھا میری بات مانو اور اپنے کو عذاب میں مبتلا نہ کرو یہ سن کر سب لوگ حضرت کی خدمت میں حاضر ہو گئے اور آپ کے لیے ہوٹلوں کے دروازے کھول دئیے۔
اصول کافی،
علامہ مجلسی لکھتے ہیں کہ اس واقعہ کے بعد ہشام نے والی مدینہ ابراہیم بن عبد الملک کو لکھا کہ امام محمد باقر کو زہر سے شہید کر دے۔
جلاء العیون ص262
کتاب الخرائج و البحرائح میں علامہ راوندی لکھتے ہیں کہ:
اس واقعہ کے بعد ہشام بن عبد الملک نے زید بن حسن کے ساتھ باہمی سازش کے ذریعہ امام علیہ السلام کو دوبارہ دمشق میں طلب کرنا چاہا لیکن والی مدینہ کی ہمنوائی حاصل نہ ہونے کی وجہ سے اپنے ارادہ سے باز آیا اس نے تبرکات رسالت جبرا طلب کئے اور امام علیہ السلام نے بروایتے ارسال فرما دئیے۔

