وارث علم انبیاء، باقرالعلوم، امام محمد باقر(ع)قسط-۱
وارث علم انبیاء، باقر العلوم، امام محمد باقر (ع)
حضرت امام محمد باقر(ع) یکم رجب المرجب 57 ھ یوم جمعہ مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔
اعلام الوری ص 155
جلاء العیون ص 260
جنات الخلود ص 25
علامہ مجلسی لکھتے ہیں کہ:
جب آپ بطن مادر میں تشریف لائے تو آباؤ اجداد کی طرح آپ کے گھر میں آواز غیب آنے لگی اور جب نو ماہ کے ہوئے تو فرشتوں کی بے انتہا آوازیں آنے لگیں اور شب ولادت ایک نور ساطع ہوا، ولادت کے بعد قبلہ رو ہو کر آسمان کی طرف رخ فرمایا، اور (آدم کی مانند) تین بار چھینکنے کے بعد حمد خدا بجا لائے، ایک پورا دن دست مبارک سے نور ساطع رہا، آپ ختنہ کردہ ،ناف بریدہ، تمام آلائشوں سے پاک اور صاف متولد ہوئے۔
جلاء العیون ص 259
اسم گرامی ،کنیت اور القاب:
آپ کا اسم گرامی "لوح محفوظ" کے مطابق اور سرور کائنات کی تعیین کے مطابق "محمد"تھا۔ آپ کی کنیت "ابو جعفر" تھی، اور آپ کے القاب بہت زیادہ تھے، جن میں باقر، شاکر، ہادی زیادہ مشہور ہیں۔
مطالب السؤل ص 369
شواہد النبوت ص 181
اسم باقر کی وجہ تسمیہ:
باقر، بقر سے مشتق ہے اور اسی کا اسم فاعل ہے اس کے معنی شق کرنے اور وسعت دینے کے ہیں،
المنجد ص 41
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کو اس لقب سے اس لیے ملقب کیا گیا تھا کہ آپ نے علوم و معارف کو نمایاں فرمایا اور حقائق احکام و حکمت و لطائف کے وہ سر بستہ خزانے ظاہر فرما دئیے جو لوگوں پر ظاہر و ہویدا نہ تھے۔
صواعق محرقہ،ص 120
مطالب السؤل ص 669
شواہد النبوت ص 181
جوہری نے اپنی صحاح میں لکھا ہے کہ "توسع فی العلم" کو بقرہ کہتے ہیں، اسی لیے امام محمد بن علی کو باقر سے ملقب کیا جاتا ہے ،
علامہ سبط ابن جوزی کا کہنا ہے کہ کثرت سجود کی وجہ سے چونکہ آپ کی پیشانی وسیع تھی اس لیے آپ کو باقر کہا جاتا ہے اور ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جامعیت علمیہ کی وجہ سے آپ کو یہ لقب دیا گیا ہے ،
شہید ثالث علامہ نور اللہ شوشتری کا کہنا ہے کہ آنحضرت نے ارشاد فرمایا ہے کہ امام محمد باقر علوم و معارف کو اس طرح شگافتہ کر دیں گے جس طرح زراعت کے لیے زمین شگافتہ کی جاتی ہے۔
مجالس المؤمنین ص 117
حاکمان وقت:
آپ 57 ھ میں معاویہ بن ابی سفیان کے دور میں پیدا ہوئے 60 ھ میں یزید بن معاویہ بادشاہ وقت رہا، 64 ھ میں معاویہ بن یزید اور مروان بن حکم بادشاہ رہے، 65 ھ تک عبد الملک بن مروان خلیفہ وقت رہا پھر 86 ھ سے 96 ھ تک ولید بن عبد الملک نے حکمرانی کی، اسی نے 95 ھ میں آپ کے والد ماجد کو درجہ شہادت پر فائزکر دیا، اسی 95 ھ سے آپ کی امامت کا آغاز ہوا، اور 114 ھ تک آپ فرائض امامت ادا فرماتے رہے، اسی دروان میں ولید بن عبد الملک کے بعد سلیمان بن عبد الملک ،عمر بن عبد العزیز، یزید بن عبد الملک اور ہشام بن عبد الملک بادشاہ وقت رہے۔
اعلام الوری ص 156
واقعہ کربلا میں امام محمد باقر علیہ السلام کا حصہ:
آپ کی عمر ابھی ڈھائی سال کی تھی، کہ آپ کو حضرت امام حسین علیہ السلام کے ہمراہ وطن عزیز مدینہ منورہ چھوڑنا پڑا،پھر مدینہ سے مکہ اور وہاں سے کربلا تک کی صعوبتیں سفر برداشت کرنا پڑی اس کے بعد واقعہ کربلا کے مصائب دیکھے، کوفہ و شام کے بازاروں اور درباروں کا حال دیکھا ایک سال شام میں قید رہے، پھر وہاں سے چھوٹ کر 8 ربیع الاول 62 ھ کو مدینہ منورہ واپس ہوئے۔
جب آپ کی عمر چار سال کی ہوئی ،تو آپ ایک دن کنویں میں گر گئے ، لیکن خداوند نے آپ کو ڈوبنے سے بچا لیا۔(اور جب آپ پانی سے برآمد ہوئے تو آپ کے کپڑے اور آپ کا بدن تک بھیگا ہوا نہ ہوا تھا۔
مناقب ج4 ص 109
ازواج و اولاد:
آپ کی چار بیویاں تھیں اور انہیں سے اولاد ہوئیں۔ ام فروہ، ام حکیم، لیلی، اور ایک اور بیوی ام فروہ بنت قاسم بن محمد بن ابی بکر، جن سے حضرات امام جعفر صادق علیہ السلام اور عبد اللہ افطح پیدا ہوئے اور ام حکیم بنت اسد بن مغیرہ ثقفی سے ابراہیم و عبد اللہ اور لیلی سے علی اور زینب پیدا ہوئے اور چوتھی بیوی سے ام سلمی متولد ہوئے۔
ارشادمفید ص294
مناقب ج5 ص19
نور الابصار ص132
علامہ محمد باقر بہبھانی ، علامہ محمد رضا آل کاشف الغطاء اور علامہ حسین واعظ کاشفی لکھتے ہیں کہ:
حضرت امام باقر علیہ السلام کی نسل صرف امام جعفر صادق علیہ السلام سے بڑھی ہے ان کے علاوہ کسی کی اولاد زندہ اور باقی نہیں رہی۔
دمعہ ساکبہ ج2 ص479
انوار الحسینیہ ج2 ص48
روضة الشہداء ص434

