۲ شعبان
-
- شائع
-
- مؤلف:
- شیخ الصدوق بن بابویہ ابو جعفر محمد بن علی بن الحسین القمی
- ذرائع:
- کتاب: امالی شیخ صدوق
مجلس نمبر-۵
۲ شعبان سنہ۳۶۷ھ
۱ـ امام جعفر صادق(ع) بن محمد(ع) نے فرمایا شعبان کا روزہ قیامت کےلیے ذخیرہ ہے جو بندہ شعبان میں روزہ رکھتا ہو خدا اس کی زندگی کے کاموں کی اصلاح کرے گا اور دشمن کےشرکو اس سے دور کرے گا سب سے کمتر ثواب جو کوئی ایک دن شعبان کا روزہ رکھے گا اس کے لیے یہ ہے کہ بہشت اس پر واجب ہو جاتی ہے۔
۲ـ علی بن فضال اپنے باپ سے روایت کرتا ہے کہ انہوں نے کہا میں نے سنا علی بن موسیٰ رضا(ع) نے فرمایا جو کوئی مغفرت طلب کرتا ہے خدا سے شعبان میں تو خدا ستر بار اس کے گناہوں کو معاف کرتا ہے اگرچہ وہ ستاروں کی گنتی کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔
۳ـ رسول خدا(ص) نے فرمایا جو کوئی چاہے کہ روز قیامت خدا سے ملاقات کرے تو اسے چاہیے کہ وہ نامہ، عمل، یگانہ پرستی، اور میری نبوت پر ایمان رکھے پھر آٹھ دروازے بہشت کے اس کے سامنے کھل جائیں گے اور اس سے کہا جائے گا اے ولی خدا جس دروازے سے چاہو داخل ہو جاؤ جب صبح ہوگی تو وہ بندہ کہے گا حمد ہے اس خدا کی کہ جو تاریکی شب کو لے گیا اور اپنی رحمت سے دن کو لے آیا پھر اس سے کہا جائے گا اے نئی خلق خوش آمدید۔ خداوند نے تیرے دونوں کاتب تیرے محافظ زندہ رکھے ہیں۔ پھر پہلے دائیں طرف متوجہ ہوگا اور پھر اپنے بائیں طرف اور کہے گا ” بسم اﷲ الرحمن الرحيم“ سہارا اﷲ کے نام کا جو سب کو فیض پہنچانے والا خاص فیض رساں ہے“ بے شک میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں کوئی معبود حق بجز خدائے یگانہ کہ اس کا کوئی شریک نہیں محمد(ص) اس کے بندے اور اس کے بھیجے ہوئے رسول ہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ وقت آنے والا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں ہے اور خدا زندہ کرنے والا ہے ہر اس چیز کو جو قبروں میں ہے میں اس عقیدہ پر زندہ ہوں اور اسی پر مروں گا اور اسی پر اٹھایا جاؤں گا انشاء اﷲ، خدایا میرا سلام محمد(ص) اور ان کی آل تک پہنچا دے۔
قیامت میں فاطمہ(س) کی سواری
۴ـ ابو جعفر محمدبن علی باقر(ع) فرماتے ہیں کہ جابر بن عبداﷲ انصاری(رح) بیان کرتے ہیں کہ جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا جب قیامت کا دن ہوگا تو میری بیٹی فاطمہ(س) جنت کے ایک ناقہ پر سوار ہوکر میدانِ محشر میں آئے گی اس ناقہ کے دونوں پہلوؤں پر ریشم و دیباج کے جھول لٹک رہے ہوں گے اس کی مہار تازہ موتیوںکی اس کے چاروں پائے زمرد سبز کے اسکی دم مشکِ اذفر کی اور اس کی آنکھیں سرخ یاقوت کی ہوں گی، اس کی پشت پر ایک قبہ ( ہودج) نور کا ہوگا جس کا ظاہر اس کے باطن سے نمایاں ہوگا اور باطن ظاہر سے نظر آئے گا اس کا باطن عفو الہی سے مملو ہوگا اور ظاہر رحمت الہی سے گھرا ہوا ہوگا ان(فاطمہ(س)) کے سر پر نور کا ایک تاج ہوگا اس تاج کے ستر رکن (گوشے) ہوں گے ہر رکن موتیوں اور یاقوت سے مرصع ہوگا اور یہ جوہرات میدان محشر میں یوں چمکتے ہوں گے جیسے آسمان پر ستارے چمکتے ہیں پھر ان کے دائیں طرف ستر ہزار فرشتے اور بائیںطرف ستر ہزار فرشتے ہونگے جبرائیل امین اس ناقہ کی مہار کو پکڑے ہوئے ہوں گے اور بلند آواز سے ندا دیں گے کہ اے اہل محشر اپنی آنکھیں بند کر لو تاکہ فاطمہ(س) بنت محمد(ص) کی سواری میدان محشر سے گزر جائے۔
اس دن کوئی رسول، نبی، کوئی صدیق، اور کوئی شہید ایسا نہ ہوگا جو اس اعلان کو سن کر اپنی آنکھیں بند نہ کرے یہاں تک کہ فاطمہ(س) گزر جائیں گی اور خود کو عرشِ پروردگار تک پہنچا دیں گی پھر خود کو ناقہ سے گرا دیں گی اور فریاد کریں گی اے میرے اﷲ ، اے میرے مالک تو میرے اورمجھ پر ظلم کرنے والوں کے درمیان فیصلہ کردے خدایا میرے اور میرے بیٹوں کے قاتلوں کے درمیان فیصلہ کردے اس وقت خدا کی طرف سے جواب آئے گا اے میری حبیبہ اور اے میرے حبیب(ص) کی بیٹی تم جو چاہو مانگو میں تمہیں عطا کروں گا اور جس کی چاہو شفاعت کرو میں قبول کروں گا مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم ہے کہ آج کوئی ظالم مجھ سے نہیں بچ سکے گا، فاطمہ(س) عرض کریں گی اے میرے اﷲ اے میرے مالک آج میں اپنی ذریت اپنے محبوں اپنے شیعوں اور اپنی ذریت کے شیعوں کی شفاعت کرتی ہوں پس اﷲ کی طرف سے آواز آئے گی کہاں ہے فاطمہ(س) کی اولاد، ان کے (فاطمہ(س) کے) شیعہ، ان کے محب، ان کی اولاد کے شیعہ، پس وہ لوگ اس شان سے آئیں گے کہ چاروں طرف سے رحمت کے فرشتے حلقہ کیئے ہوں گے اور فاطمہ(س) ان کی رہبر ہوںگی یہاں تک کہ ان کو داخل بہشت کریں گی۔
۵ـ رسول خدا(ص) نے فرمایا جو کوئی چاہے کہ وہ نجات کی کشتی پر سوار ہو، محکم حلقہ کے ساتھ ہو اور اﷲ کی رسی کو تھامے ہوئے ہو تو اسے چاہیے کہ میرے بعد علی(ع) کا حبدار ہو اس کے دشمن کا دشمن ہو اور چاہیے کہ ان اماموں کی اقتدا کرے جو اس کے فرزندوں سے ہیں کیوںکہ یہ میرے خلفا و اولیا ہیں، حجت خدا ہیں اس کی مخلوق پر میرے بعد اور سردار ہیں میری امت کے اور پیشوا ہیں جنت کی طرف ان کی حزب(جماعت) میری حزب ہے اور میری حزب خدا کی حزب ہے اور اس کے دشمنوں کی حزب شیطان کی حزب ہے۔

