فضائل شعبان
-
- شائع
-
- مؤلف:
- شیخ الصدوق بن بابویہ ابو جعفر محمد بن علی بن الحسین القمی
- ذرائع:
- امالی شیخ صدوق
مجلس نمبر۷ ( دس شعبان سنہ۳۶۷ھ) فضائل شعبان
۱ـ ابن عباس(رض) کہتے ہیں کہ رسول خدا(ص) نے اس ضمن میں کہ ان کے پاس فضائل شعبان کا مذاکرہ کیا گیا فرمایا شعبان مبارک مہینہ ہے اور یہ میرا مہینہ ہے اور حاملان عرش اس کو ماہ بزرگ شمار کرتے ہیں اور اس کے حق کو پہچانتے ہیں یہ وہ مہینہ ہے کہ اس میں مومنین کے رزق میں اضافہ ہوتا ہے جس طرح ماہ رمضان میں اضافہ ہوتا ہے اور بہشت اس ماہ میں سجائی جاتی ہے اور اس کا نام شعبان اس لیے ہے کہ مومنین کا رزق اس میں منشعب (تقسیم ہونا پھیلایا جانا) ہوتا ہے اور یہ وہ مہینہ ہے کہ اس میں کی گئی ایک نیکی ستر نیکیوں کے برابر ہے اس میں بدی ختم ہوتی اور گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں اور نیکی قبول ہوتی ہے خدائے جبار اس میں اپنے بندوں کی احتیاج کرتا ہے اور اس میں روزہ رکھنے والوں اور رات کو جاگنے والوں پر نگاہ رکھتا ہے ( ملائکہ) حاملان عرش اسی مقصد کیلیے قائم ہیں۔ پس علی(ع) بن ابی طالب(ع) اٹھے اور کہا میرے ماں باپ آپ پر قربان یا رسول اﷲ(ص) اس ماہ کے فضائل ہمارے لیے بیان کریں تاکہ شوق روزہ پیدا ہو اور اس ماہ میں ہماری عبادت میں اضافہ ہو اور رب جلیل کی رضا کے لیے اس ماہ میں کوشش کی جائے، پیغمبر(ص) نےفرمایا جو کوئی پہلی شعبان کو روزہ رکھےگا تو خدا اس کے لیے ستر نیکیاں لکھے گا جو عبادت کے برابر ہیں، جو کوئی دوسرے دن روزہ رکھے گا تو اس کے وہ گناہ جو ہلاک کردینے والے ہیں مٹادیئے جائیں گے جو کوئی تیسرے دن شعبان کا روزے رکھے گا ستر درجہ اس دروازے کے جو یاقوت کے ساتھ بہشت میں مرصع ہے اس کے لیے بلند کرے گا، جو کوئی چوتھی شعبان کا روزہ رکھے گا تو اس کے رزق میں وسعت ہوگی جو کوئی پانچواں دن کا روزہ رکھے گا تو اس کے بندوں میں محبوب ہوگا۔ جو کوئی چھٹے دن کا روزہ رکھے گا تو ستر قسم کی بلائیں اس سے دور کی جائیں گی۔ جو کوئی ساتویں دن کا روزہ رکھے گا تو وہ ابلیس اور اس لشکر سے تمام عمر محفوظ رہے گا، جو کوئی آٹھویں دن کا روزہ رکھے گا تو دنیا سے نہ جائے گا جب تک حوض قدس سے نوش نہیں کرلیتا جو کوئی نویں دن کا روزہ رکھے گا تو جس وقت قبر میں منکر نکیر سوالات کرتے ہیں نہیں کریں گے اور وہ مورد لطف ٹھہرایا جائے گا۔ جو کوئی دسویں دن شعبان کا روزہ رکھے گا تو خدا ستر ذراع اس کی قبر کو وسعت دے گا، جو کوئی گیارہویں دن کا روزہ رکھے گا اس کی قبر میں گیارہ چراغ نور کے روشن ہوں گے جو کوئی بارہویں دن کا روزہ رکھے گا اس ماہ میں تو ہر روز نوے ہزار فرشتے اس کی قبر میں اسے دیکھنے کے لیے آتے رہیں گے یہاں تک کہ صور پھونگا جائے، جو کوئی تیرہویں شعبان کا روزہ رکھے گا تو فرشتے سات آسمانوں کے فرشتے اس کے لیے مغفرت طلب کریں گے جو کوئی چودہویں دن کا رزہ رکھے گا تو جانوروں اور درندوں کو الہام ہوگا کہ اس کے لیے مغفرت طلب کریں یہاں تک جکہ دریا کو مچھلیوں کو بھی اس سے مطلع کیا جائے گا۔ جو کوئی اس ماہ کے پندرہویں دن کا روزہ رکھے گا۔ تو رب العزت اس کو ندا دے گا کہ مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم میں تجھے آتشِ جہنم میں نہیں جلاؤں گا، جو کوئی سولہویں دن کا روزہ رکھے گا تو اس کے لیے آگ کے ستر(۷۰) دریا بجھا دیئے جائیں گے جو کوئی سترہویں دن کا روزہ رکھے گا تو اس پر بہشت کے تمام دروازے کھول دیئے جائیں گے جو کوئی اٹھارہویں دن کا روزہ رکھے گا تو اس پر دوزخ کے دروازے بند کر دیئے جائیں گے جو کوئی انیسویں دن کا روزہ رکھے گا تو ستر ہزار قصرِ بہشت ، در اور یاقوت کے اس کو عطا کیے جائیں گے جو کوئی بیسویں دن کا روزہ رکھے گا تو ستر ہزار بہشت کی حوروں کے ساتھ اس کی تزویج کی جائے گی جو کوئی اکیسویں دن کا روزہ رکھے گا تو فرشتے اس کو مرحبا کہیں گے اور اپنے بالوں کو اس کے ساتھ مس کریںگے جو کوئی بائسویں دن کا روزہ رکھے گا تو سر ہزشارا حلة سندس و استبرق اس کو پہنائے جائیں گے جو کوئی تیئسویں دن کا روزہ رکھے گا تو خدا اسے ایک نوری وسیلہ حرکت عطا کرے گا تاکہ اپنی قبر سے بہشت میں پرواز کرے جو کوئی چوبیسویں دن کا روزہ رکھے گا تو خدا ستر ہزار توحید پرستوں کے لیے اس کی شفاعت قبول کرےگا جو کوئی پچیسویں دن کا روزہ رکھے گا وہ نفاق سے بری ہوگا جو کوئی اس ماہ کے چھبیسویں دن کا روزہ رکھے گا تو خدا اسے پل صراط پر سے گزرنے کا اجازت نامہ عطا کرے گا۔ جو کوئی اس کے ستائیسویں دن کا روزہ رکھے گا تو خدا برائت نامہ دوزخ اس کے لیے لکھ دے گا، جو کوئی اس ماہ کے اٹھائیسویں دن کا روزہ رکھے گا تو روز قیامت اس کا چہرہ چمکتا ہوگا، اور جو کوئی اس ماہ کے انتیسویں دن کا روزہ رکھے گا تو اسے خدا کے رضوان اکبر کے ساتھ ملا دیا جائے گا۔ اور جو کوئی تیسویں دن ماہ شعبان کا روزہ رکھے گا تو جبرائیل عرش کے سامنے سے اس کو ندا دے گا کہ اے فلاں تم نے اپنے عمل کو مضبوط کر لیا ہے اور جو گناہِ اس سے پہلے تجھ سے ہوئے اس معاف ہوگئے ہیں۔ خدا فرماتا ہے چاہے تیرے گناہ آسمان کے ستاروں، بارش کے قطروں، درختوں کے پتوں، ریگستاں اور خاک کے زروں کے برابر اور ایام دنیا کے برابر ہی کیوں نہ ہوں میں نے وہ سب معاف کردیئے ہیں اور یہ خدا کے لیے کوئی مشکل نہیں ہے اس کے بعد ماہِ رمضان ہے لہذا تم شعبان کا روزہ رکھو، ابن عباس(رض) کہا لوگو! یہ ہے شعبان کے مہینے کی فضیلت۔
۲ـ اصبغ بن نباتہ کہتے ہیں کہ امیر المومنین(ع) ایک دن منبر کوفہ پر بیٹھے اور فرمایا میں اوصیاء کا سردار ہوں میں وصی سید الانبیاء ہوں۔ میں تمام مسلمانوں کو امام ہوں، میں متقیوں کا پیشوا ہوں، میں تمام عورتوں کی سردار کا شوہر ہوں، میں وہ ہوں جو دائیں ہاتھ میں انگشتری پہنتا ہے، میں وہ ہوں جو اپنی پیشانی کو خاک پر رکھتا ہے، میں وہ ہوں جس نے دو ہجرتیں کی ہیں اور دو بیعتیں کی ہیں،میں صاحبِ بدر و حنین ہوں میں دو تلواروں سے قتال کرنے والا جہوں، میں دو گھوڑوں پر بیٹھ کر جنگ کرنے والا ہوں، میں وارثِ علم اولین ہوں، میں عالمین پر پیغمبروں کے بعد خدا کی حجت ہوں اور محمد بن عبداﷲ خاتم الانبیاء(ص) ہیں۔ میں ان کا دوست ہوں، مرحوم(رحمت کیا گیا) ہوں اور میرا دشمن ملعون ہے، میں رسول خدا(ص) کا بہت خاص دوست ہوں، رسول خدا(ص) نے فرمایا اے علی(ع)، تیری محبت تقوی و ایمان اور تیری دشمنی کفر و نفاق ہے میں (محمد(ص)) حکمت کو گھر ہوں اور تم (علی(ع)) اس کی چابی ہو وہ شخص جھوٹا ہے جو یہ گمان کرے کہ وہ مجھے دوست رکھتا ہے مگر تیرا دشمن ہے، وصلی اﷲ علی محمد و آلہ الطاہرین۔ ( جناب صدوق(رح) نے اسی دن مجلس کے بعد درج ذیل حدیث کو بیان فرمایا۔)
۳ـ عبدا لرحمن بن سمرہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اﷲ(ص) مجھے نجات کی رہبری کریں فرمایا اے ابن سمبرہ جس وقت خیالات مختلف اور رائیں متفرق ہوجائیں تو تم علی ابن ابی طالب(ع) کے ساتھ ہوجانا کیونکہ وہ امام ہے اورمیرے بعد تم پر خلیفہ ہے وہ فاروق ہے جو تشخیص کرتا ہے۔ حق و باطل کے درمیان اور جو کوئی اس سے سوال پوچھے اس کو جواب دیتا ہے جو کوئی اس سے راہنمائی چاہے وہ اس کی راہنمائی کرتا ہے جو کوئی اس سے حق طلب کرے اس کو دیتا ہے جو کوئی اس سے ہدایت طلب کرے اسے ہدایت ملتی ہے جو بھی اس سے پناہ طلب کرے اس کو پناہ دیتا ہے اور جو کوئی اس سے متمسک ہوتا ہے اس کو نجات دیتا ہے جو کوئی اس کی اقتدا کرتا ہے اس کی رہبری کرتا ہے، اے بن سمرہ وہ سلامت رہا جس نے اس کو تسلیم کیا اور اس کو دوست کرکھا اور وہ ہلاک ہوا جس نے اس کورد کیا اور اسے دشمن رکھا اے ابن سمرہ بیشک علی(ع) مجھ سے ہے اس کی روح میری روح ہے اس کی طینت میری طینت سے ہے وہ میرا بھائی ہے میں اس کا بھائی ہوں وہ میری دختر فاطمہ(س) جو تمام عالمین کی عورتوں کی سردار ہے( جو اولین و آخرین میں سے ہیں) کا شوہر ہے اس کے دو بیٹے میری امت کے امام ہیں یہ دونوں جوانان بہشت کےسردار ہیں او وہ حسن(ع) و حسین(ع) ہیں اور نو(۹) امام حسین(ع) کے فرزندوں سے ہیں کہ ان کا نواں قائم ہے جو میری امت اور زمین کو عدل و اںصاف سے پر کردے گا جیسا کہ اس سے پہلے ظلم و جور سے پر ہوچکی ہوگی۔

