عدل الهی"شرور و آلام کا فلسفہ"
-
- شائع
-
- مؤلف:
- ڈاکٹرسيدخليل طباطبائي(دام ظلہ)مترجم: یوسف حسین عاقلی
- ذرائع:
- https://alhassanain.org/arabic
تحریر:ڈاکٹرسيد خليل الطباطبائي(دام ظلہ)
مترجم: یوسف حسین عاقلی
انسان اپنی دنیوی زندگی میں بہت سی مشکلات، تکالیف، بیماریوں، معذوریوں، آفات اور مصیبتوں کا سامنا کرتا ہے۔ اب سب کو "شرور "سے تعبیر کیا جاتا ہیں جو اس کی زندگی کے سکون کو غارت کر دیتی ہیں اور اس کے بقا کے لطف کو چھین لیتی ہیں۔ یہیں سے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان "شرور" کا وجود کیوں ہے؟
پروردگارِعالم نے انسان کو دنیا میں بے فکر اور مکمل نعمت میں، بغیر ہر غم، بغیر رنج و بلاء کے، پرُآسائش زندگی کے ساتھ کیوں پیدا نہیں کیا؟
حکمتِ زندگی سے ناواقف بعض لوگ ان "آلام "کے وجود سے عدل الٰہی پر اعتراض کرتے ہیں اور اپنے رب کے بارے میں غلط گمان کرتے ہیں۔ وہ اپنی ناواقفیتِ حکمت کی وجہ سے اسرب ذولجلال پر اعتراض کرتے ہیں جس نے موت اور زندگی کو اور ان مصائب و آلام کو جن سے وہ گزرتے ہیں پیدا کیا ہے۔
بعض لوگ اس سے بھی آگے بڑھ جاتے ہیں، جیسا کہ بعض مادی فلسفیوں اور منکرینِ خدا کے فکر میں پایا جاتا ہے۔ وہ دنیا میں ان "شرور" کے وجود کو خالق میں نقص یا جہالت کی دلیل سمجھتے ہیں، پھر اسی کو بنیاد بناکروہ پروردگارِعالم کے وجود کا انکار کر دیتے ہیں۔ کیونکہ ان کےناقص خیال میں اگر خدا موجود ہوتا تو ساری دنیا خیر اور راحت ہوتی، اس میں کوئی مشقت یا بلاء نہ ہوتی۔
یہ تمام سوالات اور دیگر امور ہمیں اس مسئلے کو کچھ تفصیل کے ساتھ زیرِ بحث لانے کی دعوت دیتے ہیں تاکہ ہم جان سکیں کہ "دنیوی زندگی میں شرور، مصائب، آفات اور آلام کے وجود کا فلسفہ کیا ہے؟"
تاریخی طور پر مسئلے کا پیش کیا جانا
بعض مادی اور مغربی فلسفی یہ سمجھتے ہیں کہ سب سے پہلے انگریز فلسفی ڈیوڈ ہیوم " Philosopher David Hume" نے اس مسئلے کو مؤمنوں کے سامنے پیش کیا۔ لیکن یہ ان کا وہم اور فلسفے سے ناواقفیت کی دلیل ہے، کیونکہ یہ مسئلہ قدیم زمانے میں یونانی فلسفیوں کے ہاں بھی پیش کیا گیا تھا۔ نیز قرآن کریم اور احادیث شریفہ میں بھی اس کی تفصیل سے بحث ہوئی ہے (جیسا کہ ہم دیکھیں گے)۔
اور مسلم فلسفیوں جیسے ابن سینا، ملا صدرالدین شیرازی، حکیم سبزواری اور آخر میں علامہ سید محمد حسین طباطبائی(رح) اور ان کے شاگردوں نے بھی اسے فلسفیانہ طور پر گہرائی اور وسعت کے ساتھ بحث کیا ہے۔
بعض قرائن سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ یہ ان مسائل میں سے ہے جو انسان کو اس وقت سے پریشان کر رہی ہے جب سے اس کے قدم اس روئے زمین پر پڑے ہیں۔ انبیاءاور اولیاء الہی علیہم السلام سے بھی اس کے بارے میں سوال ہوا، اور انبیاءو اولیاءالہی علیہم السلام نے ان کے جوابات دیے، جیسا کہ قرآن کریم میں انبیاء کے واقعات بیان کرنے والی بہت سی آیات کا مطالعہ بتاتا ہے۔
بہرحال، جواب جاننے کے لئے ہم تحقیق کو مندرجہ ذیل حصوں میں تقسیم کرتے ہیں۔
موجودات کی تقسیم
خیر و شر کے اعتبار سے موجودات کی تقسیم
ارسطو کی طرف یہ بات منسوب ہے کہ" خیر و شر "کے اعتبار سے موجودات کو نظری طور پر پانچ حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
۱-وہ جو محض خیر ہیں، ان میں شر بالکل نہیں۔
۲-وہ جن میں خیر زیادہ اور شر کم ہے۔
۳-وہ جن میں خیر اور شر برابر ہیں۔
۴-وہ جن میں شر زیادہ اور خیر کم ہے۔
۵-وہ جو محض شر ہیں، ان میں خیر بالکل نہیں۔
اور ارسطو تصریح کرتا ہے کہ آخری تین اقسام کا مخلوقات کے عالم میں کوئی وجود نہیں ہے۔
بلکہ مخلوقات دو بنیادی اقسام میں منقسم ہیں:
پہلی قسم:وہ جو محض "خیر" ہیں، ان میں" شر "بالکل نہیں، جیسے فرشتے جنہیں پروردگارِعالم نے وجود میں اپنا کردار ادا کرنے کے لئے پیدا کیا اور وہ سب "خیر" ہیں، ان سے کوئی "شر" صادر نہیں ہوتا۔
دوسری قسم:وہ مخلوقات جن کے وجود میں بہت زیادہ" خیر" ہے، لیکن ان میں کچھ تھوڑا سا" شر "(بہت سی وجوہات کی بنا پر جن کا ذکر ہم بعد میں کریں گے) ہو سکتا ہے، جیسے انسان۔
تیسری قسم:رہیں بقیہ تین اقسام، تو وہ اصل میں پیدا ہی نہیں کی گئیں کیونکہ ان کے وجود میں کوئی نفع یا مصلحت نہیں ہے۔ اور حکیم خالق ایسی چیز پیدا نہیں کرتا جس میں کوئی فائدہ نہ ہو۔
اس رائے کے مطابق، ایسی چیزوں کا خلق کرنا جن میں بہت زیادہ خیر ہے، الٰہی عدل کے منافی نہیں ہے، چاہے ان کے وجود میں، ان کے مادی وجود کے تقاضے کی وجہ سے، تھوڑا سا شر (جیسا کہ اسے کہا جاتا ہے) کیوں نہ ہو۔ یہاں دو صورتوں میں سے ایک کا انتخاب ہے:
یا تو پروردگارِعالم انہیں بالکل پیدا ہی نہ کرے، تو وہ وجود اور بہت زیادہ خیر سے محروم رہ جائیں گی، اور یہ بات اللہ کے لطف و کرم کے خلاف ہے۔
یا پھر اللہ انہیں پیدا کرے اور اس میں بہت زیادہ خیر ہو جو ان کے مادی مزاج کے تقاضے سے پیدا ہونے والے تھوڑے سے شر سے کہیں زیادہ ہے۔ ایسی صورت میں صحیح عقل یہ فیصلہ کرتی ہے کہ تھوڑے سے شر کی وجہ سے بہت زیادہ خیر کو ترک کرنا درست نہیں ہے۔
اگر ہم دنیا میں عاقل انسان کے طریقہ کار پر غور کریں تو ہم دیکھتے ہیں کہ وہ اسی رائے کے مطابق عمل کرتا ہے۔
اس کی واضح مثال یہ ہے کہ انسان سارا دن محنت اور مشقت سے کام کرتا ہے جس میں نقصان اور تھکاوٹ ہوتی ہے، لیکن وہ اسے اس اجر کے لئے جائز قرار دیتا ہے جو اسے دن کے آخر میں ملے گا۔
اسی طرح طالب علم جو پورا سال پڑھائی میں اپنی محنت کرتا ہے، اور شاید اپنے آپ کو نیند اور کھیل کے لطف سے محروم رکھتا ہے، تاکہ سال کے آخر میں امتحان میں کامیابی حاصل کر سکے۔
تاجر سامان کی نقل و حمل، اس کے اٹھانے، ذخیرہ کرنے اور دکان کے کرائے پر پیسہ خرچ کرتا ہے (اور یہ سب اس کے مالی نقصانات ہیں)، لیکن وہ انہیں ضروری سمجھتا ہے کیونکہ آخر کار اس کا نفع ان تمام نقصانات کی تلافی کر دے گا اور اس سے بھی زیادہ ہوگا۔
لہٰذا، ہم دیکھتے ہیں کہ عقلمندوں کا طریقہ کار اس بات کی حوصلہ افزائی اور تاکید کرتا ہے کہ انسان کو زیادہ کامیابی اور نفع کے مقابلے میں تھکاوٹ اور تھوڑا سا نقصان برداشت کرنا چاہیے۔ بلکہ وہ شخص قابلِ ملامت ٹھہرتا ہے جو تھوڑے سے نقصان کو قبول نہ کرے جو بہت زیادہ منافع لاتا ہو۔
شرور کا فلسفیانہ تجزیہ
مسلم فلسفیوں کا "شرور "کے فلسفیانہ تجزیے کے بارے میں ایک اور رائے ہے جسے ہم مندرجہ ذیل نکات میں خلاصہ کرتے ہیں:
۱-وجود مطلق خیر ہے، اور شر ایک عدمی امر ہے، موجود نہیں ہے، اور عدم کو علت (وجہ) کی ضرورت نہیں ہے۔
۲-وجود ذاتاً خیر ہے، جبکہ شر عارضی طور پر آتا ہے، ذاتی نہیں ہے۔
۳-شر کو بالکل پیدا نہیں کیا گیا ہے، بلکہ یہ چیزوں کے ٹکراؤ اور مصالح کے تصادم سے پیدا ہوتا ہے۔
۴-شر ایک نسبتی امر ہے، حقیقی نہیں ہے۔ جو چیز کسی شخص کے لئے شر ہو سکتی ہے، وہی دوسرے کے لئے خیر ہو سکتی ہے۔
ان کی بات کا مطلب یہ ہے کہ اگر ہم موجودات پر جو پروردگارِعالم نے پیدا کی ہیں، غور سے نظر ڈالیں تو ہم دیکھیں گے کہ وہ عدم تھیں، جن کی قدر و قیمت بالکل نہیں تھی، کیونکہ عدم 'کچھ نہیں' ہے اور 'کچھ نہیں' صفر کے برابر ہے۔
پھر پروردگارِعالم نے ان پر وجود کی نعمت کا فیضان کیا اور وہ موجود ہو گئیں۔ لہٰذا، وجود محض" خیر" اور ایک بڑی نعمت ہے۔ اور اللہ نے جو کچھ (موجودات کے طور پر) پیدا کیا ہے، وہ سب محض خیر ہے۔
رہا "شر"، تو وہ ایک عدمی امر ہے، وجودی نہیں ہے، اس لئے اسے علت کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ عدم کچھ نہیں ہے اور اسے عدم پر برقرار رہنے کے لئے کسی علت کی ضرورت نہیں ہے۔
بلکہ اس وقت علت کی ضرورت ہوتی ہے جب وہ عدم کی حالت سے وجود کی حالت میں تبدیل ہو۔ اس بات کی دلیل کہ شر عدمی ہے، جو کہ یہ (وجود کا سلب ہونا) ہے۔
اگر ہم اس چیز پر جسے ہم شر سمجھتے ہیں، غور کریں تو ہم دیکھیں گے کہ وہ ایک ہی حالت کی طرف لوٹتی ہے اور وہ ہے وجود کا سلب ہونا۔
بیماری ہم اسے شر سمجھتے ہیں اور یہ کوئی وجودی امر نہیں ہے، بلکہ صحت کی نعمت کا سلب ہونا ہے۔ غربت ایک عدمی امر ہے جو مالدار ہونے کا سلب ہے۔ موت ایک عدمی امر ہے کیونکہ یہ زندگی کا سلب ہے۔
لہٰذا، پروردگارِعالم نے جو کچھ پیدا کیا ہے، وہ سب محض" خیر "ہے۔ شر کو بالکل پیدا نہیں کیا گیا کیونکہ یہ (عدم) ہے۔ بلکہ شر (عارضی طور پر) پیدا ہوتا ہے اور موجودات کے درمیان (مصالح کے تصادم) سے ظاہر ہوتا ہے، اس لئے یہ ایک (نسبتی) امر ہے اور اس کی کوئی حقیقی حیثیت نہیں ہے۔
مثال کے طور پر بارش محض خیر ہے، لیکن جب یہ مٹی کے گھروں کے مفاد سے ٹکراتی ہے اور ان کے وجود کو سلب کر لیتی ہے، تو ہم اسے شر سمجھتے ہیں کیونکہ اس نے انہیں گرانے کا سبب بنایا۔ لیکن یہ خاصیت جسے ہم شر سمجھتے ہیں، مخلوق نہیں ہے، بلکہ بارش کے زراعت کو سیراب کرنے، ندیوں کو بھرنے اور پینے اور دھونے میں استفادہ کے مفاد اور مٹی کے گھروں کی اسے برداشت کرنے کی صلاحیت کے درمیان مفادات کے تصادم سے پیدا ہوئی ہے۔
یعنی شر اولاً: معدوم تھا، اور چونکہ یہ گھر کے وجود کا سلب ہے، تو یہ الگ سے مخلوق نہیں ہے۔
ثانیاً: شر ایک عارضی امر تھا، کیونکہ اس کا کوئی ذاتی وجود نہیں تھا۔
ثالثاً: یہ بارش کے نزول اور مٹی کی برداشت کی صلاحیت کے درمیان مفاد کے تصادم سے پیدا ہوا۔
رابعاً: یہ نسبتی شر ہے، کیونکہ بارش زراعت اور پینے کے لئے خیر ہے۔ اسی طرح زہریلے بچھو، سانپ، درندے اور دیگر کا پیدا کرنا سب محض خیر ہے، کیونکہ بچھو اور سانپ کا کمال یہ ہے کہ اس کے پاس زہر ہو، اور اگر ہم اسے پروردگارِعالم کی مخلوقات میں سے ایک مکمل مخلوق کے طور پر دیکھیں تو اس میں کوئی شر بالکل نہیں ہے۔
جسے ہم شر کہتے ہیں، وہ (عارضی طور پر) اس وقت پیدا ہوتا ہے جب بچھو مجھے ڈنک مارتا ہے یا سانپ مجھے کاٹتا ہے۔ اور یہ شر بچھو کے زہر اور میرے نازک بدن کے درمیان (تصادم) کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ بچھو کا زہر (میرے لحاظ سے) شر ہے، لیکن بچھو اور سانپ کے لحاظ سے زہر کمال ہے، شر نہیں، کیونکہ یہ ان کے لئے دفاع اور بقا کا ذریعہ ہے۔
لہٰذا، تمام مخلوقات خیر ہیں، اور جو کچھ ہم شر دیکھتے ہیں، وہ اصل میں پیدا ہی نہیں کیا گیا، بلکہ موجودات کے درمیان مفادات کے تصادم سے پیدا ہوتا ہے، اس لئے یہ ایک عارضی اور نسبتی امر ہے۔
قَالَ تَعَالَى: ﴿الَّذِي أَعْطَىٰ كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدَىٰ﴾ سُورَةُ طه، آيَة ٥٠
اقسام عدم
یہاں یہ واضح کرنا مفید ہوگا کہ عدم کی تین اقسام ہیں:
عدم وجود:
اس کا مطلب ہے کسی چیز کا نہ پیدا کیا جانا اور اس کا غیرموجود اور غیرمخلوق رہنا، جیسے عنقاء (افسانوی پرندے) کا عدم وجود، یا لوگوں میں سے" زید" کا پیدا نہ کیا جانا۔ عدم کی یہ قسم شر نہیں سمجھی جاتی۔
ایک ماہیت کا دوسری ماہیت کا نہ ہونا:
اس کا مطلب ہے ایک ماہیت کا دوسری ماہیت کی موجودگی سے محروم ہونا، جیسے نباتات کا حیوان کی ماہیت سے محروم ہونا۔ یہ بھی شر نہیں سمجھا جاتا۔
وجود کے لئے کمالِ وجود کا نہ ہونا:
اس کا مطلب ہے کہ موجود کے پاس تکمیل اور نشوونما کی قابلیت ہے، لیکن مختلف علل کے اثرات کی وجہ سے وہ ترقی نہیں کر پاتا، جیسے سردی کی وجہ سے نہ اگنے والی کھیتی، شدید گرمی جو پھلوں کو خراب کر دیتی ہے، موت جو جانداروں کی زندگی کو روک دیتی ہے، وغیرہ۔ یہ شر –
جیسا کہ ہم نے ذکر کیا - ایک نسبتی، عارضی اور وقتی امر ہے، حقیقی نہیں ہے، کیونکہ سردی خود ایک کمال ہے، لیکن پھلوں کے لحاظ سے یہ شر ہو سکتی ہے۔
شرور کا تربیتی تجزیہ
انسان کی زندگی میں مصائب، آلام، تکالیف اور چیلنجز کے وجود کا اس کی ترقی، علمی، طبی اور اخلاقی پیشرفت میں بہت بڑا کردار ہے۔ اس لئے عارضی طور پر آنے والے شرور بھی مفید ہیں، نقصان دہ نہیں ہیں، جیسے سرجری کا عمل جس میں مریض کی موت سے شفا ہوتی ہے، وہ شر نہیں سمجھی جاتی۔ انسان سرجن سے آپریشن کرانے کی درخواست کرتا ہے اور اسے اس پر پیسے دیتا ہے تاکہ اس کی جان بچائی جا سکے، اور اسے اس درد اور مالی نقصان کو شر نہیں سمجھا جاتا کیونکہ اس میں بڑی مصلحت ہے۔
ذیل میں ہم انسان کی زندگی میں شرور کے وجود کے کچھ فوائد کا ذکر کرتے ہیں۔
1. مصائب انسان کی علمی صلاحیتوں کو متحرک کرنے کا ذریعہ ہیں:
کیونکہ تہذیبوں کی ترقی، تعمیرات و عمارات، سڑکوں، پلوں، کمپیوٹر، طب اور علوم میں شہری ترقی سب ضرورت کی وجہ سے ہوئی ہے۔ اگر انسان کو ان کی ضرورت نہ ہوتی تو وہ انہیں ایجاد کرنے اور ان سے متعلق رکاوٹوں کو دور کرنے کے بارے میں سوچتا بھی نہیں۔ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ "ضرورت ایجاد کی ماں ہے"۔
2. مصائب طبی اور اخلاقی خطرے کی گھنٹی ہیں:
کیونکہ انسان کے ہاں درد کا وجود اس بات کی علامت ہے کہ وہ کسی مرض میں مبتلا ہے اور اسے علاج کرانا چاہیے قبل اس کے کہ یہ بڑھ جائے اور اسے ہلاک کر دے۔ اور اکثر خطرہ کچھ قسم کے کینسر میں ہوتا ہے جو انسانی جسم میں بڑھتا اور پھیلتا ہے اور انسان درد محسوس نہیں کرتا یہاں تک کہ مرض اس کے جسم میں پھیل جاتا ہے اور علاج کارگر نہیں رہتا۔ اسی طرح محرومی انسان کے لئے اخلاقی خطرے کی گھنٹی ہے، کیونکہ دولت تکبر، سرکشی، غرور، بڑائی اور دیگر مذموم صفات پیدا کرتی ہے۔ انسان کا اپنے بھائی انسان یا دوسری چیزوں کی محتاجی اسے اخلاقی طور پر متواضع بناتی ہے اور وہ زیادہ انسانی صفات کا حامل ہو جاتا ہے، اور اس طرح وہ کمال کی سیڑھی پر چڑھتا ہے بجائے اس کے کہ غرور و تکبر کی پستی میں گرے۔
قَالَ تَعَالَى: ﴿إِنَّ الْإِنسَانَ لَيَطْغَىٰ . أَن رَّآهُ اسْتَغْنَىٰ﴾ سُورَةُ العَلَق، آيَتَان ٦-٧
3. بلائیں حق کی طرف واپسی اور پروردگارِعالم کی طرف رجوع کا سبب ہیں:
نافرمان اپنے رب سے غافل ہو سکتا ہے اور اپنی نافرمانی اور گمراہی میں بڑھتا رہتا ہے اگر سب چیزیں اس کے لئے آسان ہوں، لیکن اگر وہ کسی بلاء سے ٹکراتا ہے تو یہ اسے اس کے گناہ اور پروردگارِعالم کے محتاج ہونے کا احساس دلاتا ہے، پھر وہ گمراہی کے راستے سے ہدایت کے راستے کی طرف واپس آ جاتا ہے، اور روحانی و اخلاقی طور پر تکمیل پاتا ہے۔
قَالَ تَعَالَى: ﴿ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيقَهُم بَعْضَ الَّذِي عَمِلُوا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ﴾ سُورَةُ الرُّوم، آيَة ٤١
وَقَالَ تَعَالَى: ﴿وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْقُرَىٰ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِم بَرَكَاتٍ مِّنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَلَٰكِن كَذَّبُوا فَأَخَذْنَاهُم بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ﴾ سُورَةُ الأعراف، آيَة ٩٦
4. بلائیں نعمتوں کو پہچاننے اور ان کی قدر کرنے کا سبب ہیں:
انسان کھانے کے لطف کو تب ہی محسوس کرتا ہے جب وہ بھوک اور کھانے کی ضرورت کو محسوس کرے۔ وہ آرام کی نعمت کو تب ہی جانتا ہے جب اسے تھکن ہو۔ وہ صحت کی قدر کو تب ہی جانتا ہے جب وہ بیمار ہو۔ مال کی قدر اس وقت جانتا ہے جب وہ اسے کھو دے۔ اور نعمت کی قدر اس وقت جانتا ہے جب وہ اس سے محروم ہو۔ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ "چیزیں اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہیں"۔
5. بلائیں کمال تک پہنچنے کا سبب ہیں:
جیسے موت جو جنت میں داخلے کا سبب بنتی ہے۔ اور روح کا کمال اس کا اس مادی دنیا سے بلند تر دوسرے عالم میں منتقل ہونا ہے۔ اور اگر موت نہ ہوتی تو انسان آخرت میں ہمیشہ رہنے والی نعمتوں سے سرفراز نہ ہو سکتا۔
6. بلائیں کافروں اور ظالموں کے لئے عذاب اور مومنوں کے لئے ثواب و بلند درجات کا سبب ہیں:
بہت سی قسم کی بلائیں ظالموں کے ظلم اور انسان کے اپنے نفس کے جہل کی وجہ سے ہیں۔ اگر لوگ پروردگارِعالم کے احکام کی پیروی کرتے تو وہ دنیا و آخرت میں خوشحال ہوتے۔
قَالَ تَعَالَى: ﴿وَمَا كُنَّا مُهْلِكِي الْقُرَىٰ إِلَّا وَأَهْلُهَا ظَالِمُونَ﴾ سُورَةُ القَصَص، آيَة ٥٩
وَقَالَ تَعَالَى: ﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ﴾ سُورَةُ الرَّعد، آيَة ١١
وَقَالَ تَعَالَى: ﴿وَمَا أَصَابَكُم مِّن مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَن كَثِيرٍ﴾ سُورَةُ الشُّورَى، آيَة ٣٠
رہا مومنین کا معاملہ، تو دنیا میں ان پر جو بلائیں اور مشقتیں آتی ہیں، تو یہ ان کے درجات کی بلندی اور تکمیل کے اسباب میں سے ہیں، جو انہیں جنت میں ہمیشہ رہنے والے اعلیٰ درجات کے اہل بناتی ہیں۔ اور بہت سی قسم کی بلائیں ان کے گناہوں کا کفارہ ہوتی ہیں، جو ان کے لئے جلدی آنے والا عذاب ہے جو انہیں برزخ یا آخرت کے زیادہ سخت عذاب سے بچا لیتا ہے۔ اور جن کے گناہ نہیں ہیں، ان کی آزمائش ان کے درجات کی بلندی کا سبب ہے، ان کے نفس کے ساتھ جہاد، صبر، رضا اور یقین جیسی بلند اخلاقی صفات کی وجہ سے جو انہیں دنیا میں انسانی کمال کے درجات پر چڑھاتی ہیں اور اس کے نتیجے میں وہ جنت میں نعمتوں کے اعلیٰ ترین درجات کے مستحق ٹھہرتے ہیں۔
امام باقر علیہ السلام نے فرمایا:
قَالَ الْإِمَامُ الْبَاقِرُ (ع): "مَا مِنْ نَكْبَةٍ تُصِيبُ الْعَبْدَ إِلَّا بِذَنْبٍ وَمَا يَعْفُو اللهُ عَنْهُ أَكْثَرَ".
"بندے کو جو بھی مصیبت پہنچتی ہے وہ گناہ کی وجہ سے ہوتی ہے، اور خدا اس سے بہت زیادہ درگزر فرماتا ہے۔"
اور امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:
وَقَالَ الْإِمَامُ الصَّادِقُ (ع): "أَمَا إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ عِرْقٍ يُضْرَبُ وَلَا نَكْبَةٍ وَلَا صُدَاعٍ وَلَا مَرَضٍ إِلَّا بِذَنْبٍ، وَذَلِكَ قَوْلُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي كِتَابِهِ:
"آگاہ رہو! کوئی رگ زخمی نہیں ہوتی، نہ کوئی مصیبت آتی ہے، نہ سر درد ہوتا ہے اور نہ کوئی بیماری لاحق ہوتی ہے مگر گناہ کی وجہ سے۔ اور اللہ عزوجل کا اپنی کتاب میں یہی فرمان ہے:
﴿وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ﴾،
پھر آپ نے فرمایا: اور اللہ تعالیٰ جس قدر مواخذہ کرتا ہے، اس سے کہیں زیادہ درگزر فرماتا ہے۔"
ثُمَّ قَالَ: وَمَا يَعْفُو اللهُ أَكْثَرُ مِمَّا يُؤَاخِذُ بِهِ".
پھر آپؐ نے فرمایا: "اور اللہ تعالیٰ جتنا معاف فرماتا ہے، اس سے کہیں زیادہ ہے اس پر جس کی وہ بازپرس کرتا ہے۔"
اور عبدالرحمن بن حجاج سے مروی ہے، انہوں نے کہا:
وَفِي الْمَرْوِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَجَّاجِ، قَالَ: ذُكِرَ عِنْدَ أَبِي عَبْدِ اللهِ (الصَّادِقِ) عَلَيْهِ السَّلَامُ الْبَلَاءُ وَمَا يَخُصُّ اللهُ بِهِ الْمُؤْمِنَ، فَقَالَ ع) سُئِلَ رَسُولُ اللهِ (ص) مَنْ أَشَدُّ النَّاسِ بَلَاءً فِي الدُّنْيَا؟ فَقَالَ: الْأَنْبِيَاءُ ثُمَّ الْأَمْثَلُ فَالْأَمْثَلُ، وَيُبْتَلَى الْمُؤْمِنُ بَعْدُ عَلَى قَدْرِ إِيمَانِهِ وَحُسْنِ أَعْمَالِهِ، فَمَنْ صَحَّ إِيمَانُهُ وَحَسُنَ عَمَلُهُ اشْتَدَّ بَلَاؤُهُ، وَمَنْ سَخِفَ إِيمَانُهُ وَضَعُفَ عَمَلُهُ قَلَّ بَلَاؤُهُ".
ابو عبداللہ (امام صادق) علیہ السلام کے پاس بلا اور مصیبت کا ذکر ہوا جو اللہ مومن کو دیتا ہے، تو آپ علیہ السلام نے فرمایا:
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ سے پوچھا گیا:
دنیا میں سب سے زیادہ مصیبت کس کو پہنچتی ہے؟
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا:
انبیاء، پھر ان کے بعد جو افضل ہو، پھر اس سے افضل۔ اور مومن کو اس کے ایمان اور نیک اعمال کے مطابق آزمایا جاتا ہے۔ پس جس کا ایمان پختہ اور عمل اچھا ہو، اس کی آزمائش سخت ہوگی، اور جس کا ایمان کمزور اور عمل ناقص ہو، اس کی آزمائش ہلکی ہوگی۔"
والحمد لله رب العالمين
حوالہ اور منبع:

