امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک

مباحث نبوت

0 ووٹ دیں 00.0 / 5
بسمه تعالى
تحریر: ڈاکٹرسيد خليل طباطبائي(دام ظلہ)
مترجم: یوسف حسین عاقلی
 
تمام انبیائےالہی علیہم السَّلام پر ایمان لانا
یہ مباحث دو اہم قسموں میں تقسیم ہوتے ہیں:
 
۱۔ نُبُوَّتِ عامَّہ
یہ بحث کئی اہم موضوعات پر مشتمل ہے جن پر ایمان لانا اور ان سے واقفیت ضروری ہے تاکہ انسان  پروردگارِعالم کی جانب سے ہدایت اور آسمانی پیغام پہنچانے کے لئے نبی کے بھیجے جانے کی ضرورت پر ایمان لائے۔
اس بحث کے تحت کئی مباحث آتے ہیں، جن میں اہم یہ ہیں:
1۔ انبیاء کی بعثت کا وجوب: اور اس پر مختلف دلائل۔
2۔ نبوّت کے دعوے کی دلیل: مثلاً معجزہ اور پہلے انبیاء کی پیشین گوئیاں۔
3۔ وحی، اس کی اقسام اور حقیقت۔
4۔ انبیاء کی صفات: مثلاً عِصْمَت، خاص علم اور اہلیت۔
 
ہم نے پچھلی قسط میں نبوّتِ عامہ کے پہلے حصے سے متعلق ایک موضوع پر بحث کی تھی، یعنی مُشَرِّع کی صفات اور اس ضرورت پر کہ انسان کے لئے دنیاوی قانون پروردگارِعالم کی طرف سے نازل شدہ ہونا چاہیے۔باقی موضوعات کی بحث ہم کسی دوسرے وقت کے لئے چھوڑتے ہیں۔
 
۲۔ نُبُوَّتِ خاصَّہ
اس سے مراد خاتم الانبیاء والمرسلین محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوّت پر ایمان لانا ہے کہ آپ سچے اور برحق، اللہ کے رسول ہیں۔
 
جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کا مطالعہ کرے وہ یقیناً جان لے گا کہ آپ صادق، شریف، باوقار اور بلند انسانیت کی مثال تھے۔ یہاں تک کہ قریش آپ کو "الصَّادِقُ الْأَمِین" کہتے تھے کیونکہ انہوں نے آپ کی پوری زندگی میں نہ کبھی جھوٹ کا قول سنا نہ کسی عمل میں خیانت دیکھی۔
جو شخص اس بلند اخلاق کا مالک ہو، اگر وہ نبوّت کا دعویٰ کرے تو قابلِ تصدیق ہے۔ اس کے باوجود  پروردگارِعالم نے آپ پر قرآن مجید نازل فرمایا تاکہ وہ ہمیشہ رہنے والا معجزہ بن جائے جو آپ کی نبوّت کی صداقت اور سچائی پر گواہی دے۔
 
"قرآن کریم کا معجزہ"
قرآن کریم کے اعجاز کے پہلوؤں کو سمجھنے کے لئے ہمارے لئے معجزے کے معنی اور اس کی شرائط جاننا مفید ہے۔
معجزہ کی تعریف یوں کی جاتی ہے:
بأنها "أمر خارق للعادة ، مقرون بالدعوى، والتحدي ، مع عدم المعارضة، ومطابقتها للدعوى"
 "ایسا خارق العادہ امر جو دعوے، تحدی اور عدمِ معارضہ کے ساتھ ہو اورنیزاپنے دعوے کےعینِ مطابق ہو"۔
 
اس کا مطلب یہ ہے کہ معجزے کی پانچ شرائط ہیں جو اسے دوسرے خارق العادہ امور سے ممتاز کرتی ہیں:
1. خارق العادہ امر: 
معجزہ علم یا جادو وغیرہ کے خلاف ہوتا ہے کیونکہ وہ لوگوں کے معلومہ معمول کے خلاف ہوتا ہے۔
2. نبوّت کا دعویٰ:
 معجزہ دکھانے والا یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ  پروردگارِعالم کی طرف سے انسانوں کی ہدایت کے لئے بھیجا گیا نبی ہے۔ اس طرح معجزہ آیت یا کرامت سے الگ ہو جاتا ہے جو خارق العادہ امر ہو سکتی ہے لیکن اس کا مالک یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ وہ نبی ہے، بلکہ وہ  پروردگارِعالم کی طرف سے اس کے متقی اولیاء کے لئے کرامت ہے۔
3. مثل لانے کی تحدی:
 نبی اپنی قوم کے لوگوں کو للکارتا ہے کہ اگر وہ اس کے معجزے کو نہیں مانتے تو وہ بھی اس جیسا کچھ لے آئیں۔
4. مقابلہ کرنے میں عاجزی:
 یعنی لوگ معجزے کے مقابلے میں کچھ لانے سے عاجز رہتے ہیں تاکہ نبی کے ہاتھ پر ہونے والے معجزے کے دعوے کو باطل کر سکیں۔
5. معجزے کا دعوے کے مطابق ہونا: 
یعنی معجزہ نبی کے اس دعوے کی تائید اور مطابقت رکھتا ہو کہ وہ برحق اللہ کا بھیجا ہوا نبی ہے۔
 
یہ شرائط نبی اکرم محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس دعوے کے عین مطابق ہیں کہ آپ  پروردگارِعالم کی طرف سے انسانیت کی ہدایت کے لئے بھیجے گئے نبی ہیں اور آپ کا معجزہ" قرآن کریم "تھا۔
 
"قرآن کریم کے معجزے کی خصائص "
۱-معجزے کا دور کے اعلیٰ علوم سے مشابہت:
معجزہ لوگوں پر واضح اور مؤثر ہو، اس لئے عام طور پر وہ اس دور کے موجودہ اعلیٰ علوم سے مشابہت رکھتا ہے، تاکہ اہل علم لوگ اس پر ایمان لائیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ ان کے معلومہ علم سے مختلف ہے اور خارق العادہ ہے۔
اسی وجہ سے نبی موسیٰ علیہ السلام کا معجزہ عصا کا سانپ بن جانا اور یدِ بیضا تھا، کیونکہ اس زمانے میں جادو اعلیٰ فنون میں سے تھا۔ پھر بھی جادوگروں نے محسوس کر لیا کہ ،ہمارے نبی موسیٰ علیہ السلام جو کر رہے ہیں وہ ان کے جادو کے فن سے مشابہ نہیں ہے۔
 
اسی طرح ہمارے نبی عیسیٰ علیہ السلام کا معجزہ مُردوں کو زندہ کرنا اور بیماروں کو شفا دینا اس زمانے کے ترقی یافتہ علمِ طب سے مشابہت رکھتا تھا۔ لیکن اطباء جانتے تھے کہ نبی عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ پر بیماروں کا شفا یاب ہونا ڈاکٹر کے اپنے مریضوں کے علاج کے طریقے سے مشابہ نہیں تھا جس میں مریض کو مناسب دوا دینا اور دوا کا مناسب وقت تک استعمال ضروری ہوتا ہے، بلکہ شفا فوری اور بغیر کسی دوا کے صرف نبی کی خواہش اور  پروردگارِعالم کے اذن سے ہوتی تھی۔
 
اور نبی اکرم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں قریش کا غالب فن عربی ادب، شاعری اور زبان تھی، اس لئے" قرآن کریم" معجزہ بن کر آیا اور عرب کے شعراء و بلغاء کو مثل لانے کی للکار دی، اور وہ اس سے عاجز آ گئے۔
حدیث:  
الْكُلَيْنِيُّ فِي الْكَافِي عَنْ أَبِي يَعْقُوبَ الْبَغْدَادِيِّ قَالَ: قَالَ ابْنُ السِّكِّيتِ لِأَبِي الْحَسَنِ الرِّضَا عَلَيْهِ السَّلَامُ: "لِمَاذَا بَعَثَ اللَّهُ مُوسَى بْنَ عِمْرَانَ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِالْعَصَا وَيَدِهِ الْبَیْضَاءِ وَآلَةِ السِّحْرِ؟ وَبَعَثَ عِیسَى بِآلَةِ الطِّبِّ؟ وَبَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّی اللَّهُ عَلَیْهِ وَآلِهِ وَجَمِیعِ الْأَنْبِیَاءِ بِالْكَلَامِ وَالْخُطَبِ؟".  
فَقَالَ أَبُو الْحَسَنِ عَلَیْهِ السَّلَامُ: "إِنَّ اللَّهَ لَمَّا بَعَثَ مُوسَی عَلَیْهِ السَّلَامُ كَانَ الْغَالِبُ عَلَی أَهْلِ عَصْرِهِ السِّحْرَ، فَأَتَاهُمْ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ بِمَا لَمْ یَكُنْ فِی وُسْعِهِمْ مِثْلُهُ، وَمَا أَبْطَلَ بِهِ سِحْرَهُمْ، وَأَثْبَتَ بِهِ الْحُجَّةَ عَلَیْهِمْ.  
وَإِنَّ اللَّهَ بَعَثَ عِیسَی عَلَیْهِ السَّلَامُ فِی وَقْتٍ قَدْ ظَهَرَتْ فِیهِ الزَّمَانَاتُ، وَاحْتَاجَ النَّاسُ إِلَی الطِّبِّ، فَأَتَاهُمْ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ بِمَا لَمْ یَكُنْ عِنْدَهُمْ مِثْلُهُ، وَبِمَا أَحْیَا لَهُمُ الْمَوْتَی، وَأَبْرَأَ الْأَكْمَهَ وَالْأَبْرَصَ بِإِذْنِ اللَّهِ وَأَثْبَتَ بِهِ الْحُجَّةَ عَلَیْهِمْ.  
وَإِنَّ اللَّهَ بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّی اللَّهُ عَلَیْهِ وَآلِهِ فِی وَقْتٍ كَانَ الْغَالِبُ عَلَی أَهْلِ عَصْرِهِ الْخُطَبَ وَالْكَلَامَ – وَأَظُنُّهُ قَالَ: الشِّعْرَ – فَأَتَاهُمْ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ مِنْ مَوَاعِظِهِ وَحِكَمِهِ مَا أَبْطَلَ بِهِ قَوْلَهُمْ، وَأَثْبَتَ بِهِ الْحُجَّةَ عَلَیْهِمْ".  
قَالَ: فَقَالَ ابْنُ السِّكِّیتِ: "تَاللَّهِ مَا رَأَیْتُ مِثْلَكَ قَطُّ".  
الکافی میں جناب کلینی نے ابو یعقوب بغدادی سے روایت کی ہے کہ ابن السکیت نے امام رضا علیہ السلام سے پوچھا: "خداوندِ عالم نے موسیٰ بن عمران علیہ السلام کو عصا اور سفید ہاتھ اور جادو کے اوزار کے ساتھ کیوں بھیجا؟ اور عیسیٰ علیہ السلام کو طب کے اوزار کے ساتھ کیوں بھیجا؟ اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و جمیع الانبیاء کو کلام و خطابت کے ساتھ کیوں بھیجا؟" 
تو امام ابو الحسن علیہ السلام نے فرمایا: "جب خدا نے موسیٰ علیہ السلام کو مبعوث فرمایا تو اُن کے زمانے کے لوگوں پر جادو غلبہ رکھتا تھا، پس اُن کے پاس اللہ کی طرف سے وہ چیزیں لے کر آئے جن جیسی چیزیں بنانا اُن کے بس میں نہ تھا، اور جن کے ذریعے اُن کے جادو کو باطل کر دیا اور اُن پر حجت قائم کر دی۔  
اور بے شک اللہ نے عیسیٰ علیہ السلام کو ایسے وقت میں مبعوث فرمایا جس میں وبائی امراض پھیل چکے تھے، اور لوگوں کو طب (علاج) کی ضرورت تھی، پس وہ اللہ کی طرف سے وہ چیز لے کر آئے جس جیسی چیز اُن کے پاس نہ تھی، اور جن کے ذریعے مردوں کو زندہ کیا، اور اللہ کے اذن سے اندھے اور کوڑھی کو شفا دی اور اُن پر حجت قائم کر دی۔  
اور بے شک اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ کو ایسے وقت میں مبعوث فرمایا جس میں اُن کے زمانے کے لوگوں پر خطابت و کلام (اور میرا خیال ہے آپ نے فرمایا: شاعری) کا غلبہ تھا، پس وہ اللہ کی طرف سے اپنے مواعظ و حکمتوں میں سے وہ کچھ لے کر آئے جس نے اُن کی بات کو باطل کر دیا اور اُن پر حجت قائم کر دی۔"  
راوی کہتے ہیں کہ ابن السکیت بولے: "خدا کی قسم! میں نے آپ جیسا ہرگز نہیں دیکھا۔"
۲- قرآن کے معجزے کا دوام:
آج کا انسان نبی موسیٰ علیہ السلام کے معجزے یا نبی عیسیٰ علیہ السلام کے معجزے کو نہیں دیکھ سکتا، کیونکہ وہ وقتی معجزے تھے جو ہر نبی نے اپنی قوم کے لئے اپنے زمانے میں ظاہر کیے۔ انہیں فی الوقت نہیں دیکھا جا سکتا لیکن ہم قرآن کریم پر ایمان کے ذریعے ان پر ایمان رکھتے ہیں۔ رہی بات قرآن کریم کے معجزے کی تو وہ دیگر انبیاء علیہم السلام کے معجزات سے اس لحاظ سے مختلف ہے کہ وہ ہمیشہ رہنے والا، تمام زمانوں اور ادوار میں جاری رہنے والا معجزہ ہے۔
یہ معجزہ ہر زمان و مکان کا کوئی بھی انسان دیکھ سکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نبی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاتم الانبیاء والمرسلین ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہے، اور آپ کی رسالت قیامت تک جاری رہے گی۔
اس لئے اللہ نے قرآن کے معجزے کو قیامت تک جاری اور ہمیشہ رہنے والا بنا دیا، تاکہ وہ لوگوں پر حجت ہو کہ وہ اسلام پر ایمان لائیں اور اس کی پیروی کریں اور یہ عذر نہ کر سکیں کہ وہ حق و باطل میں تمیز نہیں کر سکے۔  
قرآن کریم:  
{لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللَّهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ} [سورۃ النساء: الآيۃ ۱۶۵]  
قرآن کریم:  
{لِلَّهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ} [سورۃ الأنعام: الآيۃ ۱۴۹]
 
قرآن کریم میں اعجاز کے پہلو
قرآن کریم میں اعجاز کے کئی پہلو ہیں جو ہر زمان و مکان کے لوگوں کے ثقافتی اور علمی سطح کے مطابق ہیں۔
 ان میں اہم معجزات یہ ہیں:
1- اعجازِ بیانی۔
2-اعجازِ تشریعی:
 کیونکہ قرآن کریم میں موجود تشریعات جاہلی عقل کے سطح اور مکہ کے معاشرے کی سوچ سے بالاتر ہیں۔
3- عدمِ تناقض:
 باوجود اس کے کہ قرآن کریم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کے ۲۳ سال کے دوران نازل ہوا، اور باوجود اس کے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مکہ و مدینہ میں مختلف حالات کا سامنا رہا، پھر بھی ہمیں قرآن میں افکار و عقائد میں کوئی تناقض نہیں ملتا۔
4- نزول کی طویل مدت کے باوجود اسلوب و مضامین میں اختلاف کا نہ ہونا۔
5- اعجازِ علمی:
 قرآن کریم میں بہت سی آیات ایسی ہیں جو علمی، فلکیاتی اور طبی حقائق بیان کرتی ہیں جو اس زمانے میں معلوم نہیں تھے اور سینکڑوں سال بعد دریافت ہوئے۔
اگر قرآن انسان کا بنایا ہوا ہوتا تو وہ کائنات اور زندگی کے ان حقائق کو نہ جان سکتا۔
6- قرآن کا آسمانی کتابوں پر حاوی ہونا:
 قرآن کریم میں مذکور انبیاء کے قصے تفصیلات میں تورات و انجیل میں مذکور قصوں سے مختلف ہیں، اور وہ انبیاء اور ان کی عصمت کے تصور کے لحاظ سے عقل و منطق کے زیادہ قریب ہیں۔
 
چونکہ ہر قرآنی معجزے کی تفصیلات بیان کرنے کا موقع نہیں، اس لئے ہم اعجازِ بیانی کو کچھ تفصیل سے سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔
 
قرآن کریم کا اعجازِ بیانی:
قرآن کریم عربی زبان میں نازل ہوا ہے جسے تمام عرب سمجھتے تھے، لیکن اس کا اسلوب اس قدر خاص ہے کہ کوئی انسان خواہ کتنی ہی قوتِ بیاں، فصاحت و بلاغت کا مالک کیوں نہ ہو، اس جیسا کلام لانے سے عاجز ہے۔ یہاں تک کہ نبی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اپنی زبان، یعنی احادیث اور خطباتِ نبویہ، کا اسلوب بھی قرآن کریم کے اسلوب سے مکمل طور پر مختلف ہے۔ حالانکہ احادیثِ نبویہ قرآن کریم کے بعد بلاغت کے اعتبار سے انتہا پر ہیں۔
اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ امام علی علیہ السلام کی کتاب "نہج البلاغہ" عربی ادب کی انتہا کی نمائندگی کرتی ہے جس کی بلاغت پر کوئی کتاب فوقیت نہیں رکھتی، لیکن وہ قرآن کریم سے کم تر ہے اور اس کا اسلوب قرآن کریم کے اسلوب سے مکمل طور پر مختلف ہے۔
 
قرآن کریم کا اعجازِ بیانی
قرآن کریم کا اعجازِ بیانی کئی امور میں ظاہر ہوتا ہے:
1. فصاحت: یعنی الفاظ کی خوبصورتی اور ظاہری دلکشی۔
2. بلاغت: یعنی بیان کی خوبصورتی، معانی کی بلندی، کلام کا موقع کے تقاضوں کے مطابق ہونا، اور فنی تصویرکاری کی باریکی۔
3. نظم، بیان کی مضبوطی اور ترتیب کی استحکام۔
4. اسلوب میں منفرد طریقہ اور ترکیب کی ندرت: قرآن کریم تمام کلامی اسالیب پر مشتمل ہے، نہ وہ خطابت ہے، نہ شاعری، نہ سجع، نہ رسالہ، بلکہ وہ ان تمام اسالیب کو احسن بیان میں سموئے ہوئے ہے۔
اگر ان میں سے ہر نقطے کی شرح کے لئے الگ مضمون درکار ہے، تو پھر یہ مفید ہو گا کہ ہم اہلِ مکہ اور ان کے بلغاء کا کچھ ردِ عمل بیان کریں جب انہوں نے قرآن کریم سنا، حالانکہ وہ شعر و شاعری میں ماہر تھے، یہاں تک کہ سات معلقات کو کعبتہ اللہ پر آویزاں کیا تھا ان کی تعظیم اور اس زمانے کے عربی ادب کی انتہا پر فخر کرنے کے لیے۔
 
ولید بن مغیرہ (ریحانۃ العرب) کا اعتراف:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مشرکین کے معبودوں کی مذمت سے باز نہیں آتے تھے۔ 
ولید بن مغیرہ بڑے بزرگ اور عرب کے حاکموں میں سے تھے، لوگ اپنے معاملات میں ان سے فیصلہ کراتے تھے اور انہیں اپنے اشعار سناتے تھے۔ جو شعر وہ منتخب کرتے وہ معتبر و منتخب سمجھا جاتا۔
وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مذاق اڑانے والوں میں سے تھے۔تاریخ روایت کرتی ہے کہ ولید - جسے عرب اپنی ریحانہ اور حکیم کہتے تھے –
 نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے درج ذیل آیات سنیں:  
{حم تَنزِيلُ الْكِتَابِ مِنَ اللَّهِ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ غَافِرِ الذَّنبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ شَدِيدِ الْعِقَابِ ذِي الطَّوْلِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ إِلَيْهِ الْمَصِيرُ مَا يُجَادِلُ فِي آيَاتِ اللَّهِ إِلَّا الَّذِينَ كَفَرُوا فَلَا يَغْرُرْكَ تَقَلُّبُهُمْ فِي الْبِلَادِ كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍ وَالْأَحْزَابُ مِنْ بَعْدِهِمْ وَهَمَّتْ كُلُّ أُمَّةٍ بِرَسُولِهِمْ لِيَأْخُذُوهُ وَجَادَلُوا بِالْبَاطِلِ لِيَدْحَضُوا بِهِ الْحَقَّ فَأَخَذْتُهُمْ فَكَيْفَ كَانَ عِقَابِ وَكَذَلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ عَلَى الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّهُمْ أَصْحَابُ النَّارِ} [سورۃ غافر: الآيات ۱-۶]  
 
جب انہوں نے یہ سنا تو اٹھ کر بنو مخزوم کے اپنے قومی مجلس میں آئے اور کہا:
"اللہ کی قسم! میں نے ابھی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایسا کلام سنا ہے جو نہ انسان کا کلام ہے نہ جن کا۔ اس میں حلاوت ہے، اس پر طلاوت ہے۔ اس کا اوپر والا حصہ پھل دار ہے اور اس کا نیچے والا حصہ گہرا ہے۔ یہ بلندی پر ہے اور اس پر کوئی چیز بلند نہیں ہے۔"  
پھر وہ اپنے گھر چلے گئے۔ یہ قرآن کے بیانی معجزے کا ان کا صریح اعتراف تھا، اگرچہ ان کی اپنی قوم پرستی نے انہیں ہدایت اور حق کی پیروی سے روکے رکھا۔
عتبہ بن ربیعہ کا اعتراف:
ایسا ہی اعتراف عتبہ بن ربیعہ نے کیا جب انہوں نے قرآن کی کچھ آیات سن کر کہا:  
"میں نے ایسا کلام سنا ہے، اللہ کی قسم! میں نے اس جیسا کبھی نہیں سنا۔
 اللہ کی قسم! نہ یہ شعر ہے، نہ جادو ہے، نہ کہانت ہے۔ اے گروہِ قریش! میری بات مانو اور معاملہ میرے حوالے کرو، اور اس شخص کو چھوڑ دو جو وہ کر رہا ہے۔ 
اللہ کی قسم! اس کے اس قول کی بڑی شہرت ہوگی۔ اگر عرب اسے مار ڈالیں تو تم اسے دوسروں کے ذریعے سے کافی ہو جاؤ گے۔ اور اگر وہ عرب پر غالب آ جائے تو اس کی بادشاہت تمہاری بادشاہت ہوگی، اس کی عزت تمہاری عزت ہوگی، اور تم اس کے سبب سب سے زیادہ خوش قسمت لوگ بن جاؤ گے۔"  
انہوں نے کہا: "ابو الولید! اس نے اپنی زبان سے تمہیں جادو کر دیا ہے۔"  
انہوں نے کہا: "یہ اس بارے میں میری رائے ہے، اب تم جو مناسب سمجھو کر لو۔"
والحمد لله رب العالمين . 
                                  
از مترجم:
خارق العادہ ایک عربی الاصل مرکب لفظ ہے جو دو الفاظ پر مشتمل ہے:  
1.خارق (یعنی توڑنے والا، پھاڑنے والا، تجاوز کرنے والا) 
2.العادہ (یعنی عادت، معمول، فطری یا عام طریقہ)  
خارق العادہ کا مختصر مطلب ہے: "عام قاعدے یا فطری قانون کو توڑنے والا"۔
یہ ایسے غیر معمولی، حیرت انگیز اور مافوق الفطرت واقعات یا کاموں کے لیے بولا جاتا ہے جو روزمرہ کے تجربے یا سائنس وغیرہ کے عام قوانین سے بالکل مختلف ہوں
اس طرح لفظی معنی ہیں:"عادت یا معمول کو توڑنے والا"۔
اصطلاحی مفہوم:  
  یہ اصطلاح ایسے واقعات، افعال یا مظاہر کے لئے استعمال ہوتی ہے جوقوانین فطرت یا روزمرہ کے عام تجربے سے بالاتر ہوں۔ عام طور پر یہ "معجزہ" یا "کرامت" کے قریب ہے، مگر اس میں وہ تمام غیر معمولی اور حیرت انگیز امور بھی شامل ہیں جو مافوق الفطرت (supernatural) یا طبیعی قوانین سے انحراف رکھتے ہیں۔
مذہب میں: معجزات اور کرامات کے لئے استعمال ہوتا ہے۔
روزمرہ زبان میں: ناقابل یقین کامیابی یا حیران کن کارنامے کے معنوں میں بولا جاتا ہے (جیسے: "خارق العادہ ذہانت")
استعمال کے میدان:
  1.مذہب و عقائد: انبیا کی معجزات اور اولیاء کی کرامات کے لئے بکثرت مستعمل۔  
  2.ادب و شاعری: محیر العقول، حیرت انگیز اور عجیب واقعات یا صفات بیان کرنے کے لئے۔  
  3.روزمرہ زبان: حیرت انگیز کارناموں یا ناقابل یقین کامیابیوں کے بیان میں (مثال: "اس نے خارق العادہ کامیابی حاصل کی")۔  
قرآن و حدیث میں:  
  قرآن میں لفظ "خارق" آیا ہے، لیکن مرکب اصطلاح "خارق العادہ" زیادہ تر اسلامی علمی و کلامی کتابوں میں استعمال ہوا ہے، جہاںمعجزہ کو "خارق العادہ" کہا جاتا ہے، جو نبی کی صداقت پر دلیل ہوتا ہے۔ اسی طرحکرامت اولیاء کے لئے ایسا خارق العادہ عمل ہے جو ان کے صدق و تقویٰ کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
فلسفی و علمی نقطہ نظر:  
  علم کلام و فلسفہ میں اس پر بحث ہوئی ہے کہ خارق العادہ واقعات ممکن ہیں یا نہیں۔ اکثر مسلمان متکلمین کے نزدیک یہ واقعات ممکن ہیں اور خدا کی قدرت کاملہ کے تحت وقوع پذیر ہوتے ہیں، جبکہ قدرتی قوانین (العادۃ) خدا کے بنائے ہوئے ہیں اور وہی ان میں استثنا پیدا کر سکتا ہے۔
مثال:
"حضرت موسیٰ کا لاٹھی کا سانپ بن جانا ایک خارق العادہ معجزہ تھا۔"  
"حضرت صالحؑ کی اونٹنی کا پتھر سے نکلنا ایک خارق العادہ معجزہ تھا۔"
"وہ اپنی خارق العادہ ذہانت کی وجہ سے مشہور ہے۔"
اس طرح خارق العادہ ایک جامع اصطلاح ہے جوفطری نظام سے ہٹ کر ظاہر ہونے والے غیر معمولی امر کو بیان کرتی ہے
 
حوالہ اورمنبع:

آپ کا تبصرہ شامل کریں

قارئین کے تبصرے

کوئی تبصرہ موجودنہیں ہے
*
*

امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک