توحید اور ائمہ سے توسل
-
- شائع
-
- مؤلف:
- مرتضی مطهری- مترجم: یوسف حسین عاقلی
- ذرائع:
- مجموعه آثار جلد اول , مرتضی مطهری , 263 ,
توحید اور ائمہ سے توسل
توحید اور توسل
ہماری گفتگو سے توحید عبادتی میں ایک بلند اور اہم نکتہ سامنے آتا ہے۔ وہ نکتہ یہ ہے کہ اللہ کے اولیاء سے توسل اور شفاعت طلبی کرتے وقت سب سے پہلے یہ تحقیق ضروری ہے کہ جس سے توسل کیا جائے وہ ایسا شخص ہو جسے اللہ تعالیٰ نے وسیلہ قرار دیا ہو۔ قرآن کریم فرماتا ہے:
یَـٰۤأَیُّهَا ٱلَّذِینَ ءَامَنُوا۟ ٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَ ٱبۡتَغُوۤا۟ إِلَیۡهِ ٱلۡوَسِیلَةَ(1)
بطورِ کلی، وسائل سے توسل اور اسباب سے تعلق قائم کرنا، اس حقیقت کے پیشِ نظر کہ اللہ ہی نے سبب کو پیدا کیا ہے، اللہ ہی نے سبب کو مقرر کیا ہے اور اللہ ہی نے ہم سے چاہا ہے کہ ان وسائل و اسباب سے فائدہ اٹھائیں، ہرگز شرک نہیں ہے بلکہ عین توحید ہے۔ اس معاملے میں مادی اسباب و روحانی اسباب، ظاہری اسباب و معنوی اسباب، دنیوی اسباب و اخروی اسباب کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔ البتہ مادی اسباب کو علمی تجربہ و آزمائش کے ذریعے پہچانا اور سمجھا جاسکتا ہے کہ کون سی چیز سبب ہے؟ جبکہ معنوی اسباب کو دین کے راستے یعنی وحی، کتاب اور سنت کے ذریعے دریافت کرنا چاہیے۔
دوسری بات یہ کہ جب انسان توسل کرتا ہے یا شفاعت طلب کرتا ہے تو اس کی توجہ اللہ کی طرف ہونی چاہیے اور پھر اللہ سے وسیلے اور شفیع کی طرف۔ کیونکہ جیسا کہ ہم نے کہا، حقیقی شفاعت وہ ہے جس میں جس کے پاس شفاعت کی جارہی ہے (یعنی اللہ) نے خود شفیع کو شفاعت کے لیے اُٹھایا ہو۔ یعنی چونکہ اللہ نے چاہا اور رضا دی ہے اس لیے شفیع شفاعت کرتا ہے۔ اس کے برعکس باطل شفاعت میں اصل توجہ شفیع پر ہوتی ہے تاکہ اس شخص پر اثر انداز ہوجائے جس کے پاس شفاعت کی جارہی ہے۔ چنانچہ مجرم اس وقت پوری توجہ شفیع پر مرکوز کردیتا ہے کہ وہ جاکر اپنی طاقت اور نفوذ کے بل پر مشفوع عنده (اللہ) کو راضی کردے۔ پس اگر اصل توجہ شفیع پر ہو اور اس میں توجہ اللہ کی طرف سے نہ پائی جائے تو یہ عبادت میں شرک ہوگا۔
اللہ کا فعل نظام رکھتا ہے۔ اگر کوئی چاہے کہ وہ نظامِ تخلیق کی پروا نہ کرے تو وہ گمراہ ہے۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے گنہگاروں کو یہ راہنمائی فرمائی کہ وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ کے گھر جائیں اور اس کے علاوہ کہ خود مغفرت طلب کریں، اس بزرگ ہستی سے بھی درخواست کریں کہ وہ ان کے لیے مغفرت طلب کریں۔
قرآن کریم فرماتا ہے:
وَ لَوۡ أَنَّهُمۡ إِذ ظَّلَمُوۤا۟ أَنفُسَهُمۡ جَاۤءُوکَ فَٱسۡتَغۡفَرُوا۟ ٱللَّهَ وَ ٱسۡتَغۡفَرَ لَهُمُ ٱلرَّسُولُ لَوَجَدُوا۟ ٱللَّهَ تَوَّابٗا رَّحِیمࣰا (2)
’’اور اگر یہ لوگ جب انہوں نے (گناہ کرکے) اپنی جانوں پر ظلم کیا ہوتا، تیرے پاس آتے اور اللہ سے معافی مانگتے اور رسول بھی ان کے لیے معافی طلب کرتا تو یہ لوگ اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پاتے۔‘‘
ہاں، صرف عملِ صالح اور تقویٰ پر ہی بھروسہ نہیں کیا جاسکتا، جیسا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ نے اپنی پاک زندگی کے آخری دنوں میں فرمایا: ’’نجات دینے والا کوئی دوسرا نہیں ہے سوائے عمل کے اور (دوسری) اللہ کی رحمت کے۔‘‘
حوالہ جات:
1۔ سورۃ المائدہ، آیت: 35
2۔ سورۃ النساء، آیت: 64

