اجتماعی زندگی: باہمی تعاون اور نظام
اجتماعی زندگی: باہمی تعاون اور نظام
انفرادی و اجتماعی زندگی کا اسلامی نظم: حکومت اسلامی میں توازن
مترجم: یوسف حسین عاقلی
منبع : ejtehd.ir
دینی رہنماؤں کی معاشرے کی نظامت کا اسلوب اور دینی حکومت کا افراد کی رشد و تعالی میں کردار
حکومتیں معاشرے کے افراد کی تعلیم، تربیت اور نشوونما کے حوالے سے اپنے لیے مخصوص ذمہ داریاں متعین کرتی ہیں اور یہ طے کرتی ہیں کہ وہ معاشرے کے امور میں کس حد تک مداخلت کریں گی۔ یہ بات سوشلسٹ حکومتوں سے لے کر لبرل نظریات پر مبنی حکومتوں یا بادشاہت تک تمام قسم کی حکومتوں پر صادق آتی ہے۔
بعض حکومتی اسالیب میں تو قدرت اور حکومت کسی مقصد کا ذریعہ نہیں ہوتی بلکہ خود ہی مقصد سمجھی جاتی ہے۔ یا اگر وہ ذریعہ بھی ہو تو صرف مالی و سیاسی مفادات، زیادہ سے زیادہ تسلط یا اپنے مخصوص نظریات کو آگے بڑھانے کے لیے۔
اسلام میں چونکہ افراد کی رشد و ہدایت اور تربیت اور انہیں دنیا و آخرت میں حقیقی سعادت تک پہنچانا ہی غایت و مقصد ہے، اس لیے اسلامی تعلیمات کی بنیاد پر قائم ہونے والی حکومت کو بھی یہی مقاصد اختیار کرنے چاہئیں۔ اسلام میں حکومت مقصد نہیں بلکہ ذریعہ ہے۔ البتہ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اسلام میں حکومت کا کوئی تصور نہیں، بلکہ مراد یہ ہے کہ اسلام کا حکومت کے بارے میں نظریہ ایک ذریعے کے طور پر ہے، اور حکومت و قدرت بذات خود مقصد نہیں سوائے اس کے کہ وہ ان مقاصد کے حصول میں معاون ہو جو اسلام کا ہدف ہیں۔
لہٰذا حکومت اور حکمرانوں کا کردار افراد معاشرہ کی رشد و تربیت اور ان کے کمال و سعادت تک پہنچنے کے لیے زمینہ ہموار کرنے کی سمت میں ہونا چاہیے۔
عملی پہلو سے انسان پر ہمیشہ کچھ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ ان میں سے کچھ انفرادی نوعیت کی ہیں، یعنی وہ اس کی اپنی ذات سے تعلق رکھتی ہیں۔ چاہے انسان ایک تنہا جزیرے پر ہی کیوں نہ رہتا ہو، اسے یہ ذمہ داریاں اپنے آپ کے ساتھ نبھانی ضروری ہیں۔ کچھ ذمہ داریاں خاندان سے متعلق ہیں، یعنی یہ اس وقت معنی رکھتی ہیں جب انسان خاندان نامی اجتماع میں شامل ہو۔ پھر کچھ ذمہ داریاں ایسی ہیں جو معاشرے میں انسان کی شرکت سے متعلق ہیں اور معاشرے کے بغیر ان کا کوئی مفہوم نہیں۔ انسان خاندان یا معاشرے میں اپنے کرداروں اور ذمہ داریوں کے لحاظ سے فطری طور پر کچھ نیک و بد کاموں کا پابند ہوتا ہے۔ لیکن کوئی فرد یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ معاشرے میں اس پر کوئی ذمہ داری نہیں اور اس کا کسی سے کوئی واسطہ نہیں۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ معاشرے کے معاملات میں ان کی مداخلت محض ان کی اپنی پسند ہے اور ان کی معاشرے اور اس کے مستقبل کے حوالے سے کوئی ذمہ داری نہیں، وہ چاہیں تو مداخلت کریں یا نہ کریں۔ اور اگر وہ اپنے کام سے کام رکھیں اور سیاست و معاشرے سے کوئی سروکار نہ رکھیں تو ان سے کوئی بازپرس نہیں ہوگی۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ کا ارشاد ہے:
کُلُّكُمْ رَاعٍ وَ كُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ۔
لہٰذا انسان کے کمال و رشد یا اس کے سقوط و ہبوط کا تعلق صرف اخلاقی رویوں یا عبادات تک محدود نہیں۔ بلکہ انسان کا رویہ، خاندان کے اندر بھی ہو یا معاشرے کے مستقبل کے حوالے سے بھی، انسان کے عروج یا زوال میں بنیادی کردار ادا کرسکتا ہے۔ تاریخ میں ایسے لوگ کم نہیں رہے جنہوں نے عبادات اور انفرادی اخلاق کے پہلوؤں میں بڑی احتیاط برتی لیکن سیاسی معاملات اور معاشرے کے امور میں خوفناک لغزشوں کا شکار ہوئے اور اپنے یا معاشرے کے مستقبل کو تباہی کی جانب دھکیل دیا۔ بلعم باعورا کا واقعہ محض ایک انفرادی یا اخلاقی لغزش نہیں۔ بلکہ وہ جو اپنی عبادات کے باعث مقام "مستجاب الدعوۃ" تک پہنچا تھا، خناسوں کے وسوسوں کے نتیجے میں اس بات پر یقین کر بیٹھا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو معاشرے کے رہنما کے طور پر لعنت بھیجے۔ پس اس کی لغزش ایک سیاسی لغزش تھی اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو لعنت بھیجنے کے لیے مخصوص مقام پر جانے کا اس کا اقدام ایک سیاسی اقدام اور موقف سمجھا جائے گا جس کے نتیجے میں وہ عبرتناک انجام سے دوچار ہوا۔
انفرادی امور میں لغزش قابل تلافی ہے اور توبہ کی جاسکتی ہے، لیکن افراد کی طرف سے، خاص طور پر وہ افراد جو کسی بھی وجہ سے معاشرے کے "خواص" میں شمار ہوتے ہیں، سیاسی و سماجی لغزشیں توبہ سے قابل تلافی نہیں ہوتیں، کیونکہ وہ اپنے انحراف کے علاوہ بڑی تعداد کے انحراف کا سبب بھی بنتی ہیں۔ بعض لوگ اسی بات کو بہانہ بنا کر کہتے ہیں کہ اسی خطیر مسئلے کی وجہ سے ہم سیاسی امور میں کوئی مداخلت نہیں کرتے۔ حالانکہ یہ بھی ہبوط و سقوط کا دوسرا رخ ہے۔ جیسا کہ کہا گیا، ان امور میں مداخلت ذاتی پسند کا معاملہ نہیں، بلکہ ہر فرد اپنی حیثیت اور معاشرے میں اپنے مقام کے مطابق اپنے معاشرے کے امور کا ذمہ دار ہے۔ جو شخص لغزش سے بچنے کے بہانے معاشرے کے اہم مسائل میں مداخلت نہ کرے، تو یہ عدم مداخلت بھی خود ایک لغزش ہے۔ اور یہی عدم مداخلت نااہلوں کے لیے راستہ کھول دیتی ہے۔ فرق نہیں پڑتا کہ کسی نے غلط موقف اختیار کر کے نااہلوں کے لیے راستہ کھولا یا میدان خالی کر کے ان کا راستہ ہموار کیا۔
پس جس طرح انسان اپنی ذات اور اپنے خاندان کے حوالے سے ذمہ داریاں رکھتا ہے اور ان ذمہ داریوں کی ادائیگی اس کے دنیا و آخرت میں کمال و سعادت میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے، اسی طرح اس کی سیاسی و سماجی ذمہ داریاں بھی بالکل یہی کردار ادا کرتی ہیں۔ اور انسان کا اپنے سیاسی امور اور معاشرے کے مستقبل میں مداخلت، خواہ اثباتی شکل میں ہو یا عدم مداخلت کی صورت میں، اس کے دنیوی و اخروی عروج یا زوال میں اثر رکھتی ہے۔
اگر سیاسی و سموجی لغزشوں کی وجہ سے معاشرہ آفتوں میں گھر جائے یا قدرت نااہلوں کے ہاتھ آجائے، تو یہی خواص اس ظلم اور جرائم میں شریک ہوں گے اور ان کا بوجھ انہیں اٹھانا پڑے گا۔
لہٰذا سیاست اور حکومت کو انسانوں کی رشد و تربیت اور کمال سے الگ نہیں سمجھا جاسکتا۔ اور دینی حکومتیں اسی وقت تک اپنی مشروعیت رکھتی ہیں جب تک وہ دین کے مقاصد، جو انسانوں کی سعادت و کمال و ہدایت ہیں، کی راہ میں قدم بڑھاتی رہیں۔
لیکن یہاں ایک بات پر توجہ ضروری ہے، اور وہ ہے دین خاص طور پر اسلام کی تربیتی روش۔ دینی تربیت میں پہلا عامل انسان کا اختیار ہے۔ یعنی دین انسان کو مختار وجود مانتا ہے اور اسی لیے اس کے لیے ثواب و عقاب معنی رکھتے ہیں، کیونکہ اگر انسان مختار نہ ہوتا تو ثواب و عقاب بے معنی ہوتے۔ نیز انسان کا وہی عمل قابل قدر ہے جو وہ اپنے اختیار سے انجام دے، اور جس عمل میں اس کا اختیار یا رضامندی شامل نہ ہو، وہ نہ پاداش کا مستحق ہے نہ سزا کا۔
لہٰذا دینی حکومتیں اور حکمران بھی جو افراد کی تربیت کی راہ پر چلتے ہیں، اس نکتے کو پیش نظر رکھتے ہیں اور انہیں یہ بات سمجھنی چاہیے کہ افراد کے سیاسی مواقف اور رجحانات پر کسی موقف کو مسلط نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ ایسا موقف ان کی تربیت میں کوئی کردار نہیں ادا کرتا۔ ان کے مواقف اسی وقت قابل قدر ہوں گے جب وہ اپنی سمجھ بوجھ، بصیرت اور اختیار سے ایسا موقف اختیار کریں۔ اس معاملے میں حکمرانوں کی ذمہ داری صرف رہنمائی، ارشاد اور روشن خیالی ہے، تاکہ فتنوں کے گرد و غبار میں افراد معیاروں کو پہچان سکیں اور صحیح فیصلہ کرسکیں۔
پس ہم ہمیشہ دینی حکمرانوں خاص طور پر پیغمبر اور ائمہ طاہرین علیہم السلام کے اسلوب و سلوک میں دیکھتے ہیں کہ ان کی ہمیشہ یہ سعی رہی کہ معاشرے کو صحیح فیصلے تک پہنچائیں اور معاشرے کے افراد اس ضروری پختگی تک پہنچیں کہ وہ خود صحیح راستہ کا انتخاب کریں۔ جس طرح انفرادی امور میں افراد کو عبادات اور دینی کاموں پر مجبور کرنا ان کے لیے کوئی فضیلت نہیں لاتا، اسی طرح سماجی و سیاسی امور میں بھی یہی بات ہے۔ جب تک لوگ اپنی آگاہی اور اپنے اختیار سے کوئی راستہ نہ چنیں، انہیں کسی انتخاب یا اقدام پر مجبور کرنا ان کے لیے کوئی فضیلت یا تربیتی اثر نہیں رکھتا۔ پس اگر ہم پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ یا اہل بیت علیہم السلام کے اسلوب میں دیکھتے ہیں کہ باوجود اس کے کہ وہ خود معاشرے کی بھلائی اور صلاح کو اچھی طرح جانتے ہیں، لیکن اسے عملی جامہ پہنانے میں کوئی جبری یا مسلط کرنے والا عامل استعمال نہیں کرتے، بلکہ صرف ارشاد، تنبیہ اور رہنمائی پر اکتفا کرتے ہیں اور انتظار کرتے ہیں کہ معاشرہ خود انتخاب کرے یا آہستہ آہستہ اس فکری بلوغ تک پہنچ جائے کہ ایسا انتخاب کرے، خواہ یہ انتظار اور لوگوں کو موقع دینا بڑی قیمت پر ہی کیوں نہ ہو، قیمت جیسے گھر میں مقید رہنا، یا شہادت، یا قید وغیرہ۔
یہاں ایک بات قابل ذکر ہے، اور وہ یہ کہ اگرچہ جبر و اکراه سے پرہیز، خواہ انفرادی ہو یا سماجی، اسلام میں تربیت کے بنیادی اصولوں میں شامل ہے، لیکن جہاں معاشرے کی اکثریت صحیح راستے پر متفق ہوجائے، تو باقی لوگوں کو بھی اس کی پیروی کرنی چاہیے۔ مثال کے طور پر کسی اجتماعی انتخاب یا فیصلے میں جو معاشرے کے کلیدی معاملات سے متعلق ہو، جب اکثریت کسی بات کی طرف مائل ہوجائے، تو باقیوں کو مخالفت یا تقابل کا حق نہیں۔ اگرچہ بعض اوقات وہ خاموشی اختیار کرسکتے ہیں، لیکن بعض اوقات انہیں ساتھ دینا لازم ہوتا ہے۔ لیکن اگر وہ مخالفت کرنا چاہیں اور معاشرے میں پھوٹ اور تقسیم ڈال دیں، تو یقیناً معاشرے کو تباہی کی طرف دھکیل دیں گے۔ اس لیے یہاں تربیت اور اختیاری انتخاب کے اصل اصول سے بڑھ کر ایک اعلیٰ مصلحت سامنے آتی ہے، اور وہ ہے معاشرے کی بنیاد کی حفاظت، جو معاشرے کے کچھ افراد کی تربیت سے زیادہ اہم ہے۔ کیونکہ اگر معاشرہ تباہ ہوجائے تو اکثریت کی تربیت اور ان کی رشد مشکل میں پڑجاتی ہے۔ پس اکثریت کے مصالح کے پیش نظر، اگر اقلیت کی مخالفت بیان اور دلیل سے ختم نہ ہو، تو طاقت کے ذریعے اس کا جواب دینا چاہیے۔ شاید آیہ وَ إِنْ طائِفَتانِ مِنَ الْمُؤْمِنينَ اقْتَتَلُوا اسی طرف اشارہ کرتی ہے، یا حضرت علی علیہ السلام کا خوارج نہروان کے ساتھ برتاؤ اسی اسلوب کو دکھاتا ہے۔
پس دینی حکمرانوں کے دور میں، اگر ہم دیکھتے ہیں کہ حکمران باوجود اس کے کہ وہ خود صحیح راستہ جانتے ہیں اور اپنی باتوں اور تقریروں میں بار بار اس کی طرف اشارہ کرتے ہیں، لیکن عمل میں لوگوں کے رجحان کا انتظار کرتے ہیں، اور جب تک لوگ خود اس فیصلے پر نہیں پہنچتے، دینی حکمران اقدام نہیں کرتے، تو بعض لوگوں کا دینی رہنماؤں پر یہ اعتراض کرنا کہ "آپ کے پاس قدرت اور حکومت ہونے کے باوجود آپ کیوں کوئی اقدام نہیں کرتے؟" صحیح اعتراض نہیں ہے۔ ایسے افراد اگر اصلاح کے خواہاں ہیں اور چاہتے ہیں کہ معاشرہ صحیح راستے پر آجائے اور معاشرے کے امور جیسے ثقافت، معیشت یا سیاست درست ہوجائیں، تو انہیں اعتراض کرنے کے بجائے معاشرے کی اکثریت کو آگاہ کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اگر انہوں نے ایسا کیا اور معاشرے کی اکثریت کو اپنے ساتھ ملالیا، تو اس وقت دینی رہنماؤں کے ہاتھ امور کی اصلاح کے لیے کھل جائیں گے اور ان پر حجت تمام ہوجائے گی، اور وہ اقدام کرسکیں گے۔ لیکن جب تک اکثریت اس تشخیص اور فیصلے پر نہیں پہنچتی، رہبری کا کوئی بھی اقدام ایک طرح کی اکیلا بازی سمجھی جائے گی اور ہوسکتا ہے کہ عوام کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑے اور معاشرہ تقسیم کا شکار ہوجائے۔ جبکہ وحدت کی حفاظت اور معاشرے میں تفرقے سے بچنا ہر دوسری مصلحت پر مقدم ہے۔

