پانچواں اصلِ دین
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
پانچواں اصلِ دین
یومِ قیامت میں واپس اٹھائے جانا (معاد)
محرر: ڈاکٹرسید خلیل طباطبائی
مترجم: یوسف حسین عاقلی
پانچواں اصلِ دین اسلام، بلکہ تمام آسمانی مذاہب کے اعتقادات کا اصل، یہ ایمان رکھنا ہے کہ انسان اپنی موت کے بعد یومِ قیامت میں اٹھایا جائے گا اور اس کا حساب اس کے اعمال سے لیا جائے گا جو اس نے دنیا میں کئے ہیں اور اس کے مطابق اسے جزا دی جائے گی: یا تو جنت میں داخل ہو کر ہمیشہ ہمیشہ وہاں رہے گا، یا پھر جہنم میں داخل ہو کر – اور اللہ کی پناہ – وہاں رہے گا، اور اگر وہ کافروں میں سے ہوگا تو ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا، اور اگر موحد مومنوں میں سے ہوگا تو سزا کی مدت گزرنے کے بعد نکال لیا جائے گا اور اللہ جل وعلا کی بخشش اسے شامل حال ہوگی اور جنت میں داخل ہوگا۔
بہت سے غیر مومنوں، مادیت پسندوں اور شکی لوگوں کے ذہنوں میں معاد کے واجب ہونے کی دلیل اور اس کے مقصد کے بارے میں سوال گھومتا ہے، اور یہی ہے جس پر ہم اس مضمون میں روشنی ڈالنے کی کوشش کریں گے۔
وجودِ معاد کی دلائل اور اس کے مقاصد
قرآن کریم ہمیں متعدد آیات میں معاد اور دوسری زندگی کے مقصد اور اس کے وقوع پذیر ہونے اور تحقق پر تاکید کی رہنمائی کراتا ہے، ان میں سے مندرجہ ذیل ہیں:
1- تخلیق کو بے مقصد ہونے سے بچانا:
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
"أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَاكُمْ عَبَثًا وَأَنَّكُمْ إِلَيْنَا لَا تُرْجَعُونَ" (سورہ مومنون: 115)
کیا تم نے یہ خیال کیا تھا کہ ہم نے تمہیں عبث خلق کیا ہے اور تم ہماری طرف پلٹائے نہیں جاؤ گے؟
اور ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
"مَا خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا لَاعِبِينَ. مَا خَلَقْنَاهُمَا إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ. إِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ مِيقَاتُهُمْ أَجْمَعِينَ" (سورہ دخان: 38-40)
اور ہم نے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے کو کھیل نہیں بنایا۔ ہم نے ان دونوں کو بس برحق پیدا کیا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ یقینا فیصلے کا دن ان سب کے لیے طے شدہ ہے۔
امیر المومنین (ع) نے فرمایا:
"وان الخلق لا مقصر لهم عن القيامة، مرفلين في مضمارها إلى الغاية القصوى" (نہج البلاغہ: خطبہ 156)
اور بے شک مخلوق کو قیامت سے بھاگ کر نکل جانے کی کوئی جگہ نہیں، وہ اس کے میدان میں انتہائی حد تک دوڑائے جا رہے ہیں۔
اور آپ (ع) نے یہ بھی فرمایا:
"قد شخصوا من مستقر الأجداث، وصاروا إلى مصائر الغايات" (نہج البلاغہ: خطبہ 190)
وہ قبروں کے ٹھکانوں سے نکل کھڑے ہوئے ہیں اور (اپنی) آخری منزلوں کی طرف جا رہے ہیں۔
اور آپ (ع) نے اپنے بیٹے امام حسن (ع) کو لکھے گئے خط میں فرمایا:
"واعلم يا بني أنك خلقت للآخرة لا للدنيا..."
اے بیٹے! جان لے کہ تو آخرت کے لیے پیدا کیا گیا ہے دنیا کے لیے نہیں...
ہم ان دو عظیم آیات اور دیگر عظیم آیات، اور امیر المومنین علی (ع) کے اقوال اور دیگر شریف احادیث سے دیکھتے ہیں کہ معاد کا نہ ہونا بے مقصدی اور لغویت ہوگی، کیونکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے انسان کو بقا اور ہمیشگی کے لیے پیدا کیا ہے، خوشی اور مسرت کے گھر میں، اور جنت الخلد میں جہاں وہ سب کچھ ہے جو خوشگوار اور پاکیزہ ہے اور جو متقیوں کے لیے تیار کی گئی ہے، اور انسان کا دنیا سے گزرنا اس کی تمہید ہے، کیونکہ وہ اپنے نیک عمل کی وجہ سے جنتوں میں ہمیشگی کا مستحق ہوتا ہے۔ اور اگر دوسری زندگی نہ ہوتی، تو انسان کی دنیا میں پیدائش، سورج، چاند، ستاروں، زمین، آسمان، درختوں، سمندروں اور لاکھوں قوانین اور نعمتوں کو اس کے لیے مسخر کرنا، سب بے مقصد اور کھیل ہوتا۔
انسان اس دنیا میں پیدا ہوتا ہے اور اس میں بہت سی مشکلات اور تکالیف برداشت کرتا ہے اور اس میں ایک مختصر سی مدت رہتا ہے جو تاریخ کی حرکت اور زمین و آسمان کی تخلیق کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ پھر سب کچھ ختم ہو جاتا ہے؟ کیا یہ بے مقصدی اور لغویت نہیں ہے؟
پھر، جیسا کہ ہم جانتے ہیں، اللہ سبحانہ وتعالیٰ حکیم ہے، اور حکمت چیزوں کو ان کے مناسب مقامات پر رکھنا ہے۔ حکیم سے بے مقصد کام صادر نہیں ہوتا کیونکہ یہ حکمت کے خلاف ہے۔
اس لیے عظیم آیت اس معنی کو واضح کرتی ہے، اور اسے سوالیہ انداز میں پیش کرتی ہے
"أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَاكُمْ عَبَثًا وَأَنَّكُمْ إِلَيْنَا لَا تُرْجَعُونَ" (سورہ مومنون: 115)
کیا تم نے یہ خیال کیا تھا کہ ہم نے تمہیں عبث خلق کیا ہے اور تم ہماری طرف پلٹائے نہیں جاؤ گے؟
اور جواب یقیناً "نہیں" ہے، ہم نے تمہیں بے مقصد پیدا نہیں کیا، ضرور کوئی اعلیٰ مقصد ہے ہماری پیدائش کا جو ہم اللہ جل وعلا کی طرف دوسری زندگی میں واپسی کے بعد حاصل کریں گے، جہاں مستحقین اس ابدی زندگی میں رہیں گے جس میں نہ تھکاوٹ ہے نہ مشقت، اور انسان اس میں وہ کچھ پائے گا جو جیسے چاہے اور آنکھوں کو لذت دے۔
دنیا اس معنی میں جیسا کہ بعض شریف احادیث میں بیان ہوا ہے "دار ممر وليست دار مقر" (گزرنے کی جگہ ہے، ٹھہرنے کی جگہ نہیں)، یہ ایک عارضی مرحلہ ہے جس میں انسان کا امتحان ہوتا ہے اور اس کی کامیابی جنتوں میں ہمیشگی ہے۔ یہ اس کسان کی طرح ہے جو زمین کو جوتنے اور بونے میں مشقت کرتا ہے تاکہ مشقت کی مدت کے بعد اپنے اور اپنے اہل و عیال کی خوراک کے لیے فصل حاصل کر سکے۔ اور یہ طلباء کے لیے چند سالوں کی تعلیم اور امتحان کی طرح ہے جس کے بعد طالب علم ڈگری لے کر فارغ التحصیل ہوتا ہے جو اسے ایک معزز کام کے قابل بناتی ہے جس کے ذریعے وہ اپنی زندگی کے آخری سالوں تک دنیا میں اپنے خواب اور ضروریات پورا کر سکے۔
ان چیزوں میں سے جو اس معنی کو قریب کرتی ہیں، انسان میں خواہشات اور جبلتوں کا پایا جانا ہے جن کا دنیا میں پورا ہونا ممکن نہیں۔ انسان ہزاروں مکانات اور محلات کا مالک بننا چاہتا ہے، سینکڑوں عورتوں سے شادی کی تمنا کرتا ہے، اربوں روپے مالیت کی دولت کا مالک بننا چاہتا ہے، ہر قسم کا لذیذ کھانا جب چاہے اور جتنا چاہے کھانا پسند کرتا ہے، ایک خوشگوار اور مسرت بھری زندگی کا خواب دیکھتا ہے جس میں نہ بیماری ہو نہ تھکاوٹ، اور ایک معتدل موسم کی خواہش رکھتا ہے جس میں نہ گرمی ہو نہ سردی، اور اس کے علاوہ بھی بہت کچھ جو انسان اپنے خیالات، جذبات اور خواہشات میں خواب دیکھتا ہے۔ اور دنیا کا گھر کسی ایک انسان کے لیے بھی ان خواہشات کو پورا نہیں کر سکتا، تمام لوگوں کے لیے تو بالکل بھی نہیں۔ تو اگر کوئی دوسری زندگی نہ ہوتی جو لوگوں کی تمام ضروریات اور خواہشات کو سمیٹ سکے، تو کیا دنیا میں ایسی جبلتوں کا پیدا کرنا بے مقصد اور لغو ہوتا؟ یا ان میں سے بعض خواہشات اور جبلتیں اس فانی دنیا میں پوری ہوتی ہیں، اور باقی سب اس دوسری ابدی زندگی میں پوری ہوں گی جہاں انسان وہ کچھ دیکھے گا جو "لا عين رأت ولا اذن سمعت ولا خطر على قلب بشر" (کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں خیال گزرا) اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں میں سے، اگر وہ ان مومنین میں سے ہو جو اس کے مستحق ہیں۔
2- معاد، عدل الٰہی اور جزا کا تقاضا:
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
"أَمْ نَجْعَلُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ كَالْمُفْسِدِينَ فِي الْأَرْضِ أَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِينَ كَالْفُجَّارِ" (سورہ ص: 28)
کیا ہم ایمان لانے اور اعمال صالح بجا لانے والوں کو زمین میں فساد پھیلانے والوں کی طرح قرار دیں یا اہل تقویٰ کو بدکاروں کی طرح قرار دیں؟
اور ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
"أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ اجْتَرَحُوا السَّيِّئَاتِ أَنْ نَجْعَلَهُمْ كَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَوَاءً مَحْيَاهُمْ وَمَمَاتُهُمْ سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ" (سورہ جاثیہ: 21)
برائی کا ارتکاب کرنے والے کیا یہ گمان کرتے ہیں کہ ہم انہیں اور ایمان لانے والوں اور نیک اعمال بجا لانے والوں کو ایک جیسا بنائیں گے کہ ان کا جینا اور مرنا یکساں ہو جائے؟ برا فیصلہ ہے جو یہ لوگ کر رہے ہیں۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
"يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَاوَاتُ وَبَرَزُوا لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ. وَتَرَى الْمُجْرِمِينَ يَوْمَئِذٍ مُقَرَّنِينَ فِي الْأَصْفَادِ. سَرَابِيلُهُمْ مِنْ قَطِرَانٍ وَتَغْشَى وُجُوهَهُمْ النَّارُ. لِيَجْزِيَ اللَّهُ كُلَّ نَفْسٍ مَا كَسَبَتْ إِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ." (سورہ ابراہیم: 48-51)
یہ (انتقام) اس دن ہو گا جب یہ زمین کسی اور زمین سے بدل دی جائے گی اور آسمان بھی اور سب خدائے واحد و قہار کے سامنے پیش ہوں گے۔ اس دن آپ مجرموں کو ایک ساتھ زنجیروں میں جکڑا ہوا دیکھیں گے۔ان کے لباس گندھک کے ہوں گے اور آگ ان کے چہروں پر چھائی ہوئی ہو گی۔ تاکہ اللہ ہر نفس کو اس کے عمل کی جزا دے، اللہ یقینا بہت جلد حساب کرنے والا ہے۔
امیر المومنین (ع) نے فرمایا:
"يوم يجمع الله فيه الأولين والآخرين لنقاش الحساب، وجزاء الأعمال" (نہج البلاغہ: خطبہ 102)
جس دن اللہ پہلے اور بعد والوں کو حساب کی جرح اور اعمال کی جزا کے لیے جمع کرے گا۔
اور آپ (ع) نے فرمایا:
"فجددهم بعد أخلاقهم، وجمعهم بعد تفرقهم، ثم ميزهم لما يريده من مسألتهم عن خفايا الأعمال وخبايا الأفعال" (نہج البلاغہ: خطبہ 109)
پھر ان کی اخلاقی حالتوں کے بعد انہیں نئی صورت دے گا، اور ان کے منتشر ہونے کے بعد جمع کرے گا، پھر انہیں اس کے لیے الگ الگ کرے گا جو وہ چاہتا ہے یعنی اعمال کی پوشیدہ باتوں اور افعال کے مخفی رازوں کے بارے میں پوچھ گچھ۔
ہم ان عظیم آیات میں صالحین کے عمل اور مفسدین کے عمل کے درمیان، اور متقیوں اور کافروں کے درمیان، اور ان لوگوں کے درمیان جنہوں نے برائیاں کمائیں اور ان لوگوں کے درمیان جو ایمان لائے اور نیک اعمال کیے، اور مسلمانوں اور مجرموں کے درمیان فیصلہ کرنے کی ضرورت دیکھتے ہیں۔ اور یہ فیصلہ اور ان کے اعمال کا بدلہ دنیا میں نہیں ملتا جہاں ہم دیکھتے ہیں کہ صالح مومن پر ظلم ہوتا ہے، اسے تکلیف دی جاتی ہے، قید کیا جاتا ہے یہاں تک کہ مر جاتا ہے اپنا حق پائے بغیر، جبکہ ہم کبھی دیکھتے ہیں کہ مجرم ظالم حکومت کرتا ہے، عیش کرتا ہے اور طرح طرح کے ظلم و جور، سرکشی اور دوسروں کے حقوق پر تجاوز کرتا ہے اور دنیا میں اس سے بدلہ لیے بغیر مر جاتا ہے۔ اگر کوئی دوسری زندگی نہ ہوتی جس میں انسان کو انصاف دیا جائے، مظلوم کا ظالم سے بدلہ لیا جائے اور ہر شخص کو اس کا حق دیا جائے تو عدالت قائم نہیں ہوگی۔ اور نیک مومن اور مجرم کافر کے عمل کے درمیان نتیجے میں برابری کرنا نہ تو عدل ہے اور نہ انصاف، یہ اس استاد کی طرح ہے جو تمام طالب علموں کو نمبروں میں برابر کر دے، خواہ وہ محنتی ہو یا سست، کامیاب ہو یا ناکام، تو اس کا یہ عمل عدل و انصاف نہیں ہے۔
3- معاد، وعدہ اور وعید الٰہی کے پورا ہونے کی جگہ:
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
"فَذَرْهُمْ يَخُوضُوا وَيَلْعَبُوا حَتَّى يُلَاقُوا يَوْمَهُمُ الَّذِي يُوعَدُونَ" (سورہ زخرف: 83)
پس انہیں بیہودہ باتوں میں مگن اور کھیل میں مشغول رہنے دیجئے یہاں تک کہ وہ اپنے اس دن کو پائیں جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے۔
اور ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
"وَأُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِينَ غَيْرَ بَعِيدٍ. هَذَا مَا تُوعَدُونَ لِكُلِّ أَوَّابٍ حَفِيظٍ." (سورہ ق: 31-32)
اور جنت پرہیزگاروں کے لیے قریب کر دی جائے گی، وہ دور نہ ہو گی۔یہ وہی ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا ہر اس شخص کے لیے جو توبہ کرنے والا، (حدود الٰہی کی) محافظت کرنے والا ہو،
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
"وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوْعِدُهُمْ أَجْمَعِينَ" (سورہ حجر: 43)
ان سب کی وعدہ گاہ جہنم ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
"أَفَمَنْ كَانَ عَلَى بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّهِ وَيَتْلُوهُ شَاهِدٌ مِنْهُ وَمِنْ قَبْلِهِ كِتَابُ مُوسَى إِمَامًا وَرَحْمَةً أُولَئِكَ يُؤْمِنُونَ بِهِ وَمَنْ يَكْفُرْ بِهِ مِنَ الْأَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهُ فَلَا تَكُ فِي مِرْيَةٍ مِنْهُ إِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَبِّكَ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يُؤْمِنُونَ" (سورہ ہود: 17)
بھلا وہ شخص (افترا کر سکتا ہے) جو اپنے رب کی طرف سے واضح دلیل رکھتا ہو اور اس کے پیچھے اس کے رب کی طرف سے ایک شاہد بھی آیا ہو اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب (بھی دلیل ہو جو) راہنما اور رحمت بن کر آئی ہو؟
یہی لوگ اس پر ایمان لائیں گے اور دوسرے فرقوں میں سے جو کوئی اس کا انکار کریں تو اس کی وعدہ گاہ آتش جہنم ہے، آپ اس (قرآن) کے بارے میں کسی شک میں نہ رہیں، یقینا یہ آپ کے رب کی طرف سے حق ہے لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
"رَبَّنَا إِنَّكَ جَامِعُ النَّاسِ لِيَوْمٍ لَا رَيْبَ فِيهِ إِنَّ اللَّهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيعَادَ" (سورہ آل عمران: 9)
ہمارے رب! بلاشبہ تو اس روز سب لوگوں کو جمع کرنے والا ہے جس کے آنے میں کوئی شبہ نہیں، بے شک اللہ وعدہ خلافی نہیں کرتا۔
ہم ان عظیم آیات اور دیگر سے جانتے ہیں کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے مومنین اور صالحین سے جنت کا وعدہ کیا ہے جسے اس نے تیار کیا ہے اور بتایا ہے کہ اس کی "عرضها السماوات والأرض"
(چوڑائی آسمانوں اور زمین کے برابر ہے)،
اور عقل جو حکم لگاتی ہے وہ وعدہ کو اچھی طرح پورا کرنا اور اس کا وفا کرنا ہے، خاص طور پر جب کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے مومنین کو اپنے وعدے اور عہد کو پورا کرنے کی ترغیب دی ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے
"وَالَّذِينَ هُمْ لِأَمَانَاتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رَاعُونَ" (سورہ مومنون: 8)
اور وہ جو اپنی امانتوں اور معاہدوں کا پاس رکھنے والے ہیں،
اور ارشادِ باری تعالیٰ ہے
"وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولًا" (سورہ بنی اسرائیل: 34)
اور عہد کو پورا کرو، یقینا عہد کے بارے میں پوچھا جائے گا۔
تو کیا یہ تصور کیا جا سکتا ہے کہ اللہ جل وعلا اپنے بندوں کو دنیا میں عہد وفا کرنے کی ترغیب دے، اور وہ خود آخرت میں بھرپور جزا کے اپنے وعدے کے خلاف کرے؟
ہرگز نہیں، ایسا نہیں ہو سکتا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ عہد الٰہی کا وفا کرنا اس وجہ سے نہیں کہ انسان عبادت اور نیک اعمال اور گناہوں کو ترک کرنے پر ثواب اور اجر کا مستحق ہو، کیونکہ وہ اپنی اطاعت اور عبادت کے مقابلے میں کسی چیز کا مستحق نہیں ہے، یہ سب اس لیے کہ وہ اپنے رب جل وعلا کی مملوک ہے، اور بندہ اپنے معاملے میں کسی چیز کا مالک نہیں، وہ اور جو کچھ اس کے پاس ہے سب اس کے مولا کا ہے۔ پھر بندہ نے اللہ کی عبادت اس کی توفیق سے کی اور اس کی بے شمار نعمتوں جیسے عافیت، صحت، عقل، توفیق اور دیگر کی بدولت، اور اگر یہ نعمتیں نہ ہوتیں تو انسان عبادت اور اطاعت نہ کر سکتا۔ تو وہ اور اس کے اعمال سب اس کے مولا جل وعلا کے ہیں۔ بلکہ اللہ جل وعلا کی طرف سے ثواب درحقیقت اس کا اپنے بندوں پر فضل و کرم اور احسان ہے عزوجل، اور یہ آخرت کی دنیا میں ایک اور لطف ہے، جیسا کہ اس کا دنیا میں انسان کو پیدا کرنے اور عدم سے وجود میں لانے کا لطف ہے، کیونکہ وجود کی نعمت سے بڑی کوئی نعمت نہیں۔ اور اللہ کی حکمت اور کرم نے یہ چاہا کہ وہ اپنے بندوں پر اپنی نعمتیں پوری کرے، اس طرح کہ اس نے ان سے آخرت میں بھرپور جزا کا وعدہ کیا اگر وہ دنیا میں اس کی عبادت کریں اور اس کے انبیاء اور اولیاء کی اطاعت کریں۔ اور نبی (ص) سے روایت ہے:
"لن يدخل الجنة أحد إلا برحمة الله قالوا: ولا أنت؟ قال: ولا أنا إلا أن يتغمدني برحمته" (کنز العمال: حدیث 10407)
کوئی بھی جنت میں داخل نہیں ہوگا مگر اللہ کی رحمت سے۔ صحابہ نے عرض کیا: اور آپ بھی نہیں؟ فرمایا: اور میں بھی نہیں، مگر یہ کہ اللہ مجھے اپنی رحمت سے ڈھانپ لے۔
اور رہے کافر، تو ان کے لیے اللہ کی وعید ہے عذاب اور جہنم میں ہمیشگی کی، جیسا کہ متعدد عظیم آیات میں ذکر ہے، لیکن اس کے باوجود آخرت میں اللہ جل وعلا کے لیے یہ بھی ممکن ہے کہ وہ اپنی وعید کو نافذ نہ کرے۔ لیکن مشرکین کے لیے آیات کا صریح مفہوم جہنم میں ہمیشگی ہے۔ اور جیسا کہ کہا گیا ہے، اللہ تعالیٰ کو اپنا وعدہ اپنے کرم سے پورا کرنا ضرور ہے، لیکن وہ چاہے تو اپنی وعید کو پورا نہ کرے، اختیار سب اسے جل وعلا ہے۔
4- معاد، رحمت الٰہی کے مظاہر میں سے ایک مظہر:
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
"قُلْ لِمَنْ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ قُلْ لِلَّهِ كَتَبَ عَلَى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ لَيَجْمَعَنَّكُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَا رَيْبَ فِيهِ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ" (سورہ انعام: 12)
ان سے پوچھ لیجیے: آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ کس کا ہے؟ کہدیجئے: (سب کچھ) اللہ ہی کا ہے، اس نے رحمت کو اپنے پر لازم کر دیا ہے، وہ تم سب کو قیامت کے دن جس کے آنے میں کوئی شک نہیں ضرور بہ ضرور جمع کرے گا جنہوں نے اپنے آپ کو خسارے میں ڈال رکھا ہے وہ ایمان نہیں لائیں گے۔
اور ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
"فَانْظُرْ إِلَى آثَارِ رَحْمَتِ اللَّهِ كَيْفَ يُحْيِي الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا إِنَّ ذَلِكَ لَمُحْيِي الْمَوْتَى وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ" (سورہ روم: 50)
اللہ کی رحمت کے اثرات کا نظارہ کرو کہ وہ زمین کو کس طرح زندہ کر دیتا ہے اس کے مردہ ہونے کے بعد، یقینا وہی مردوں کو بھی زندہ کرنے والا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
ہم ان دو عظیم آیات میں معاد کی ضرورت کو اس طرح بیان ہوتے دیکھتے ہیں کہ یہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی رحمت کے آثار میں سے ہے، کیونکہ اس نے اپنے اوپر رحمت لازم کر لی ہے، اور اس کی رحمت میں سے یہ ہے کہ وہ لوگوں کو قیامت کے دن جمع کرے گا، تاکہ ہر انسان اپنے ایمان اور عمل کے مطابق جو کچھ اس کا حق ہے پائے۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ اپنی صفت رحمان اور رحیم سے بیان کرتا ہے، اور اس کی رحمتِ رحمانیہ کا مطلب شمولیت اور عموم ہے، جو دنیا میں مومن اور کافر دونوں کو شامل ہے، اور آخرت میں بھی ان دونوں کو شامل ہوگی۔ جبکہ اس کی رحمتِ رحیمیہ خاص مومنین کے لیے ہے، جو انہیں دنیا اور آخرت میں رحمت سے ڈھانپ لیتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قیامت کا دن اللہ جل وعلا کی رحمت کے مظاہر میں سے ہے، اور یہ عام رحمت ہے ہر انسان کے لیے کیونکہ وہ اسے اس کے عمل کے لیے سہولت فراہم کرتا ہے، اگر بھلائی ہے تو بھلائی، اور اگر برائی ہے تو برائی۔ اور جب مومن نے اپنی آخرت کے لیے تیاری کی اور نیک اعمال کر کے اپنے آپ کو دنیا میں اس کے لیے آمادہ کیا، تو اللہ کی رحمت اسے جنت میں داخل کرے گی جہاں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہے گا۔ اور رہا نافرمان کافر جس نے انبیاء اور اولیاء کی نصیحت پر توجہ نہیں دی، اور جس نے کوئی ایسا عمل نہیں کیا جو اسے رحمت الٰہی کے مکمل حصول کے لیے تیار کرتا، تو اس کے لیے آخرت میں رحمت موجود ہے لیکن اس کا مظہر مومن پر ہونے والی رحمت سے مختلف ہے، اور یہ اسے جہنم میں داخل کرنے کے منافی نہیں ہے جسے اس نے خود دنیا میں اپنے لیے تیار کیا تھا۔ اللہ کافر پر مختلف مظاہر کے ساتھ رحم فرماتا ہے، جیسے اس کا حق اس سے لے کر جو اس پر ظلم کرے یا اس کی کچھ نیکیوں کو اس کے عذاب کو ہلکا کرنے کے لیے شمار کر لے اور اسی طرح کے دوسرے امور جو اس پر فیضان کے قابل ہوں۔ یہاں سے ہم استاد کی مثال کی طرف لوٹتے ہیں جو اپنے طلباء کو نصیحت کرتا ہے، انہیں سمجھاتا ہے اور محنت، کوشش اور تعلیم پر آمادہ کرتا ہے، اور سال کے آخر میں اسے کامیابی کا درجہ دیتا ہے جس نے پڑھا اور محنت کی، اور ناکامی کا درجہ اسے دیتا ہے جس نے اپنے سبق پر توجہ نہیں دی اور اعلی درجے میں جانے کے لیے خود کو تیار نہیں کیا۔ اور یہ استاد کی طرف سے اس سے انتقام نہیں سمجھا جاتا، بلکہ اسے وہ دینا ہے جس کا وہ مستحق ہے، کیونکہ وہ اعلی درجے میں نہیں جا سکتا جبکہ اس نے نچلے درجے کو نہیں سمجھا، اور اگر اس کی کامیابی کی امید ختم ہو جائے تو اسے اسکول سے نکال دیا جاتا ہے کیونکہ اس کا وہاں رہ کر اپنا وقت، اسکول کی کوششوں اور دوسرے طلباء کا وقت ضائع کرنے کا کوئی مطلب نہیں۔
اور اگر دنیا میں طالب علم کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ تعلیمی سال دہرائے اور اس میں اپنی کوتاہی کا ازالہ کرے، تو آخرت کی دنیا میں دنیا کی طرف لوٹنا ممکن نہیں، وہاں انسان پچھتاتا ہے جہاں پچھتاوا کام نہیں آتا، اور دنیا کی طرف لوٹنے کا مطالبہ کرتا ہے، لیکن ہرگز نہیں، پچھتانے کا وقت ختم ہو چکا ہے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے
"حَتَّى إِذَا جَاءَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُونِ. لَعَلِّي أَعْمَلُ صَالِحًا فِيمَا تَرَكْتُ كَلَّا إِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَائِلُهَا وَمِنْ وَرَائِهِمْ بَرْزَخٌ إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ." (سورہ مومنون: 99-100)
(یہ غفلت میں پڑے ہیں) یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کو موت آ لے گی تو وہ کہے گا: میرے رب! مجھے واپس دنیا میں بھیج دے،جس دنیا کو چھوڑ کر آیا ہوں شاید اس میں عمل صالح بجا لاؤں، ہرگز نہیں، یہ تو وہ جملہ ہے جسے وہ کہدے گا اور ان کے پیچھے اٹھائے جانے کے دن تک ایک برزخ حائل ہے۔
لیکن اگر وہ دنیا میں واپس بھیج دیے جائیں تو وہ اپنے برے اعمال کی طرف لوٹ جائیں گے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا
"وَلَوْ رُدُّوا لَعَادُوا لِمَا نُهُوا عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ" (سورہ انعام: 28)
بلکہ ان پر وہ سب کچھ واضح ہو گیا جسے یہ پہلے چھپا رکھتے تھے اور اگر انہیں واپس بھیج بھی دیا جائے تو یہ پھر وہی کریں گے جس سے انہیں منع کیا گیا ہے اور یقینا یہ جھوٹے ہیں۔
اور ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
"كُلًّا نُمِدُّ هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاءِ مِنْ عَطَاءِ رَبِّكَ وَمَا كَانَ عَطَاءُ رَبِّكَ مَحْظُورًا" (سورہ بنی اسرائیل: 20)
ہم (دنیا میں) ان کی بھی اور ان کی بھی آپ کے رب کے عطیے سے مدد کرتے ہیں اور آپ کے رب کا عطیہ ـ(کسی کے لیے بھی) ممنوع نہیں ہے۔
اور نبی (ص) سے روایت ہے:
"إن الله تعالى خلق مائة رحمة، فرحمة بين خلقه يتراحمون بها، وادّخر لأوليائه تسعة وتسعين" (کنز العمال: حدیث 5668)
اللہ تعالیٰ نے سو رحمتیں پیدا کیں، ایک رحمت اپنی مخلوقات کے درمیان رکھی جس سے وہ ایک دوسرے پر رحم کرتے ہیں، اور نوے نو رحمتیں اپنے اولیاء کے لیے بچا رکھی ہیں۔ تو جو رحمت ہم دیکھتے ہیں، ماں کا اپنے بچوں پر، باپ کا اپنی اولاد پر، بھائی کا اپنے بھائی پر اور اس کے علاوہ، یہ سب اللہ جل وعلا کی ایک رحمت کے مظاہر ہیں جو دنیا میں ہے، اور اس نے سبحانہ وتعالیٰ قیامت کے دن اپنے بندوں کے لیے ننانوے اور رحمتیں بچا رکھی ہیں۔ اور یہ واضح کرتا ہے کہ معاد کی ضروریات میں سے ایک آخرت میں اللہ کی وسیع رحمت سے سابقہ پیش آنا ہے۔
5- معاد، انسان کے کمال کی انتہا:
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
"وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ سُلَالَةٍ مِنْ طِينٍ. ثُمَّ جَعَلْنَاهُ نُطْفَةً فِي قَرَارٍ مَكِينٍ. ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظَامًا فَكَسَوْنَا الْعِظَامَ لَحْمًا ثُمَّ أَنْشَأْنَاهُ خَلْقًا آخَرَ فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ. ثُمَّ إِنَّكُمْ بَعْدَ ذَلِكَ لَمَيِّتُونَ. ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تُبْعَثُونَ." (سورہ مومنون: 12-16)
اور بتحقیق ہم نے انسان کو مٹی کے جوہر سے بنایا۔پھر ہم نے اسے ایک محفوظ جگہ پر نطفہ بنا دیا۔پھر ہم نے نطفے کو لوتھڑا بنایا پھر لوتھڑے کو بوٹی کی شکل دی پھر بوٹی سے ہڈیاں بنا دیں پھر ہڈیوں پر گوشت چڑھایا پھر ہم نے اسے ایک دوسری مخلوق بنا دیا، پس بابرکت ہے وہ اللہ جو سب سے بہترین خالق ہےپھر اس کے بعد تم بلاشبہ مر جاتے ہو۔ پھر تمہیں قیامت کے دن یقینا اٹھایا جائے گا۔
اور ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
"وَأَنَّهُ خَلَقَ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنْثَى. مِنْ نُطْفَةٍ إِذَا تُمْنَى. وَأَنَّ عَلَيْهِ النَّشْأَةَ الْأُخْرَى" (سورہ نجم: 45-47)
اور یہ کہ وہی نر اور مادہ کا جوڑا پیدا کرتا ہے،ایک نطفے سے جب وہ ٹپکایا جاتا ہے۔ اور یہ کہ دوسری زندگی کا پیدا کرنا اس کے ذمے ہے۔
انسان کے لیے کمال کا ایک ایسا مرحلہ ہے جسے وہ آخرت کے گھر کے علاوہ نہیں پہنچ سکتا، کیونکہ یہ عالم وجود میں اس کے سفر کی آخری منزل ہے۔ انسان اپنے پہلے وجود سے عالم ذر سے صلب (پشت) کی دنیا میں منتقل ہوا، اور رحم کی دنیا میں، پھر دنیا کی دنیا میں، اور اس سے عالم برزخ میں اور اس کے بعد عالم آخرت میں۔ اور ہم رحم کی دنیا میں انسان کی تخلیق کے بارے میں جانتے ہیں کہ وہ ایک نطفہ سے شروع ہوتا ہے - جو کہ ایک بارور بیضہ ہے - اور پھر بڑھتا ہے یہاں تک کہ مکمل جنین بن جاتا ہے، اس کے بعد دنیا میں منتقل ہوتا ہے، کیونکہ رحم کا ماحول اس سے زیادہ کمال حاصل نہیں کر سکتا، اور اگر جنین مزید کمال حاصل کرنا چاہے، بڑا ہو کر جوان بننا چاہے تو اسے دنیا کی دنیا میں منتقل ہونا پڑے گا جو رحم کی دنیا سے زیادہ وسیع ہے۔ انسان دنیا میں بھی مادی اور معنوی طور پر کمال حاصل کرتا ہے۔ اس کا مادی کمال اس کے اعضاء اور عقل کے بڑھنے سے ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ جوانی کی عمر کو پہنچ جاتا ہے اور بالغ، عاقل و رشید بن جاتا ہے، پھر اپنی زندگی میں تجربہ اور مہارت حاصل کرتا ہے جس سے اس کے علم اور عقل میں اضافہ ہوتا ہے، اور تولید اور دیگر امور میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ جہاں تک اس کی معنوی نشوونما کا تعلق ہے، تو وہ صحیح عقیدے اور کامل ایمان سے ہوتی ہے جس میں شرک یا کفر کی آمیزش نہ ہو، اور نیک عمل سے، جو انسان کے درجے کو بلند کرتا ہے، یہاں تک کہ وہ فرشتوں سے بھی بلند درجے پر پہنچ جاتا ہے جیسا کہ انبیاء علیہم السلام کا درجہ ہے۔ اور یہ مادی اور معنوی کمال دنیا میں محدود حد تک ہے، اور انسان کو ایک زیادہ وسیع، کشادہ اور بڑی دنیا میں منتقل ہونے کی ضرورت ہے جہاں وہ اپنی ہر آرزو کو پورا کر سکے، اور اپنی اس کھیتی کا نتیجہ حاصل کر سکے جو اس نے دنیا میں بویا تھا یعنی صحیح عقیدہ اور نیک عمل۔ یہ کمال صرف آخرت کی دنیا میں حاصل ہوتا ہے۔ اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ عظیم آیت میں انسان کی پیدائش نطفہ، علقہ اور مضغہ سے ذکر کی گئی، پھر روح دی گئی ارشادِ باری تعالیٰ کے الفاظ میں:
"ثُمَّ أَنْشَأْنَاهُ خَلْقًا آخَرَ"(سورہ مومنون: ۱۴)
پھر ہم نے اسے ایک دوسری مخلوق بنا دیا،
اس کے بعد آیت میں کمال کے باقی مراحل کا ذکر کیا گیا ارشادِ باری تعالیٰ کے الفاظ میں:
"ثُمَّ إِنَّكُمْ بَعْدَ ذَلِكَ لَمَيِّتُونَ. ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تُبْعَثُونَ"(سورہ مومنون: 15-16)
پھر اس کے بعد تم بلاشبہ مر جاتے ہو۔ پھر تمہیں قیامت کے دن یقینا اٹھایا جائے گا۔
ارشادِ باری تعالیٰ کے اس فرمان سے:
"إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهُ" (سورہ فاطر: 10)
پاکیزہ کلمات اسی کی طرف اوپر چلے جاتے ہیں اور نیک عمل اسے بلند کر دیتا ہے
یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اہم کمال جو چڑھتا ہے وہ صحیح اور خالص عقیدہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے
"الْكَلِمُ الطَّيِّبُ"
(پاکیزہ کلمہ) سے تعبیر کیا ہے، اور نیک عمل کا کردار اس عقیدے کو کمال کی بلند ترین سطحوں تک پہنچانا ہے۔ اور شریف حدیث میں ایمان کی تعریف یوں آئی ہے کہ وہ
"ما وقر في القلب وصدقه العمل"
(جو دل میں جم جائے اور عمل اس کی تصدیق کرے)،
یعنی یہ دل میں واضح اور ثابت عقیدہ ہے، اور اس عقیدے کے مطابق نیک عمل ہے۔
6- معاد، ربوبیت کا تقاضا:
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
"يَا أَيُّهَا الْإِنْسَانُ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَى رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلَاقِيهِ" (سورہ انشقاق: 6)
اے انسان! تو مشقت اٹھا کر اپنے رب کی طرف جانے والا ہے، پھر اس سے ملنے والا ہے۔
اور ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
"وَإِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ أَئِذَا كُنَّا تُرَابًا أَئِنَّا لَفِي خَلْقٍ جَدِيدٍ أُولَئِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا بِرَبِّهِمْ وَأُولَئِكَ الْأَغْلَالُ فِي أَعْنَاقِهِمْ وَأُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ" (سورہ رعد: 5)
اور اگر آپ کو تعجب ہوتا ہے تو ان (کفار) کی یہ بات تعجب خیز ہے کہ جب ہم خاک ہو جائیں گے تو کیا ہم نئی پیدائش میں ہوں گے؟ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے رب کے منکر ہو گئے ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جن کی گردنوں میں طوق پڑے ہوئے ہیں اور یہی جہنم والے ہیں جس میں یہ ہمیشہ رہیں گے۔
رب کے لغوی معنی صاحب اور مالک کے ہیں، چنانچہ رب الدار (گھر کا مالک) اور ربۃ البیت (گھر کی مالکہ) کہا جاتا ہے، یعنی اس کا مالک اور صاحب خواہ وہ مرد ہو یا عورت۔ اور ربوبیت کا مطلب ہے رب جل وعلا کی اپنے بندے پر مالکیت، جسے مربوب کہا جاتا ہے۔ رب اور مربوب کے درمیان تعلق یہ ہے کہ بندہ اپنے رب کے سامنے جوابدہ ہو، اسے اس کے اعمال کا حساب دے، اور اس کے استحقاق کے مطابق جزا پائے، اور چونکہ یہ ذمہ داری دنیا میں پوری نہیں ہوتی، کیونکہ ممکن ہے بندہ اپنے رب کے احکام سے سرکشی کرے، اپنے فرائض پر عمل نہ کرے اور حرام سے باز نہ رہے، اس لیے ضرور ایک اور گھر ہونا چاہیے جس میں ربوبیت الٰہی پوری طرح ظاہر ہو۔
دونوں عظیم آیات بتاتی ہیں کہ
"الْإِنْسَانُ كَادِحٌ إِلَى رَبِّهِ كَدْحًا فَمُلَاقِيهِ"
اے انسان! تو مشقت اٹھا کر اپنے رب کی طرف جانے والا ہے، پھر اس سے ملنے والا ہے۔
اور اللہ سے ملنا ہر بندۂ مربوب کا انجام ہے۔ اور جو لوگ اپنے رب کا انکار کرتے ہیں، وہی نئی تخلیق اور دوبارہ اٹھائے جانے کا انکار کرتے ہیں، اور سمجھتے ہیں کہ ان کا انجام مٹی میں ملنا ہے، لیکن یہ ربوبیت، حساب اور ذمہ داری کے تقاضے کے خلاف ہے۔ اگر یہ کافر ربوبیت کی حقیقت کو جان لیتے تو اس کے سامنے سر تسلیم خم کر دیتے اور جانتے کہ وہ آخرت کے گھر میں جوابدہ ہیں، لیکن وہ اپنی گمراہی پر قائم رہے، اور اللہ انہیں آخرت کے گھر میں حساب کے لیے جمع کرے گا۔
یہ کچھ قرآنی دلائل ہیں جو معاد کی اہمیت، ضرورت اور فلسفے کو واضح کرتے ہیں، اور اللہ ہی سے ہم توفیق و مدد مانگتے ہیں۔ الحمدللہ رب العالمین اور صلاۃ و سلام ہوں محمد اور ان کی پاکیزہ اور پاک اولاد پر۔

