امامت کا تصور، سنت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روشنی میں
امامت کا تصور، سنت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روشنی میں
محرر: ڈاکٹر سید خلیل طباطبائی
مترجم: یوسف حسین عاقلی
ہم نے پچھلے دو مضامین میں عقل اور قرآن کریم کی روشنی میں امامت کے دلائل پیش کیے تھے۔ اس مضمون میں ہم حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام اور آپ کی معصوم اولاد کی امامت کے دلائل نبوی احادیث کی روشنی میں پیش کریں گے۔
نبوی سنت میں سینکڑوں احادیث وارد ہوئی ہیں جو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد حضرت علی علیہ السلام کو امام، خلیفہ، قائد اور مسلمانوں کا ولی مقرر کرتی ہیں، ان کی وضاحت اور تعیین کرتی ہیں۔ یہ احادیث مختلف مضامین اور متعدد عبارات پر مشتمل ہیں جو بعد میں پیدا ہونے والے ہر ابہام اور پیچیدگی کو دور کرتی ہیں۔ ان احادیث میں سے درج ذیل ہیں:
پہلی حدیث: حدیث ثقلین
یہ حدیث مختلف الفاظ کے ساتھ صحاح اور دیگر کتب میں وارد ہوئی ہے، ان میں سے کچھ یہ ہیں:
أ- صحیح مسلم (7/122) میں زید بن ارقم سے مروی ہے، انہوں نے کہا:
« قام رسول الله ـ صلّى الله عليه [ وآله ] وسلّم ـ يوماً فينا خطيباً بماءٍ يدعى خماً بين مكّة والمدينة ، فحمد الله وأثنى عليه ووعظ وذكّر ثم قال : أما بعد ألا يا أيّها الناس فإنما أنا بشر يوشك أنْ يأتي رسول ربي فاُجيب ، وأنا تارك فيكم ثقلين ، أوّلهما كتاب الله فيه الهُدى والنور ، فخذوا بكتاب الله واستمسكوا به . فحثّ على كتاب الله ورغّب فيه ثم قال : وأهل بيتي ، أذكّركم الله في أهل بيتي ، أذكّركم الله في أهل بيتي ، أذكّركم الله في أهل بيتي ...»
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دن ہمارے درمیان مقام خم میں جو مکہ اور مدینہ کے درمیان ہے، خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے، آپ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، وعظ و نصیحت کی اور یاد دہانی کرائی، پھر فرمایا: اما بعد، اے لوگو! میں بھی ایک بشر ہوں، قریب ہے کہ میرے رب کا قاصد (فرشتہ) آئے اور میں اس کی دعوت قبول کروں۔ میں تم میں دو گراں قدر چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، ان میں سے پہلی کتاب اللہ ہے جس میں ہدایت اور نور ہے، پس کتاب اللہ کو تھام لو اور اسے مضبوطی سے پکڑے رہو۔ چنانچہ آپ نے کتاب اللہ پر ابھارا اور اس کی طرف رغبت دلائی، پھر فرمایا: اور میرے اہل بیت، میں تمہیں اللہ کے بارے میں یاد دہانی کراتا ہوں جو میرے اہل بیت سے متعلق ہے، میں تمہیں اللہ کے بارے میں یاد دہانی کراتا ہوں جو میرے اہل بیت سے متعلق ہے، میں تمہیں اللہ کے بارے میں یاد دہانی کراتا ہوں جو میرے اہل بیت سے متعلق ہے۔"
ب- امام احمد نے اپنی مسند (5/181) میں زید بن ثابت سے روایت کی ہے، انہوں نے کہا:
« قال رسول الله ـ صلّى الله عليه [ وآله ] وسلّم ـ إني تارك فيكم خليفتين كتاب الله حبل ممدود ما بين السّماء والأرض ، أو ما بين السماء الى الأرض ، وعترتي أهل بيتي ، وإنهما لن يفترقا حتى يردا عليَّ الحوض »
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تم میں دو خلیفے چھوڑے جا رہا ہوں: کتاب اللہ، جو آسمان و زمین کے درمیان ایک لمبی رسی کی طرح ہے، اور میری عترت، میرے اہل بیت، اور یہ دونم ہرگز جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر میرے پاس آئیں۔"
ت- در منثور (2/60) میں ابن سعد، احمد اور طبرانی نے ابو سعید خدری سے روایت کیا ہے، انہوں نے کہا:
« في الدر المنثور (2|60) ما أخرجه ابن سعد وأحمد والطبراني عن أبي سعيد الخدري قال :
« قال رسول الله ـ صلّى الله عليه [ وآله ] وسلّم ـ أيها الناس : إني تارك فيكم ما إنْ أخذتم به لنْ تضلّوا بعدي ، أمر بيّن ، أحدهما أكبر من الآخر : كتاب الله حبل ممدود ما بين السماء والأرض وعترتي أهل بيتي ، وإنهما لنْ يتفرقا حتى يردا عليّ الحوض » .
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو! میں تم میں ایسی چیز چھوڑے جا رہا ہوں کہ اگر تم اسے تھامے رہو گے تو میرے بعد ہرگز گمراہ نہیں ہو گے، یہ ایک واضح امر ہے، ان میں سے ایک دوسرے سے بڑا ہے: کتاب اللہ جو آسمان و زمین کے درمیان ایک لمبی رسی ہے، اور میری عترت، میرے اہل بیت، اور یہ دونم ہرگز جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر میرے پاس آئیں۔"
ث- ابن ابی شیبہ نے اپنی کتاب المصنف میں جابر بن عبداللہ سے روایت کیا ہے، انہوں نے کہا:
ما عن ابن أبي شيبة أنه أخرجه في ( المصنّف ) بإسناده عن جابر بن عبدالله قال : « قال رسول الله ـ صلّى الله عليه [ وآله ] وسلّم ـ إني تركت فيكم ما لنْ تضلّوا بعدي إنْ اعتصمتم به : كتاب الله وعترتي أهل بيتي » .
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تم میں ایسی چیز چھوڑے جا رہا ہوں کہ اگر تم اسے مضبوطی سے تھامے رہو گے تو میرے بعد ہرگز گمراہ نہیں ہو گے: کتاب اللہ اور میری عترت، میرے اہل بیت۔"
ج- ترمذی (5/621) نے زید بن ارقم سے روایت کیا ہے، انہوں نے کہا:
« ما أخرجه الترمذي (5621) باسناده عن زيد بن أرقم قال :
« قال رسول الله ـ صلّى الله عليه [ وآله ] وسلّم ـ إني تارك فيكم ما إنْ تمسّكتم به لنْ تضلّوا بعدي ، أحدهما أعظم من الآخر : كتاب الله حبل ممدود من السماء إلى الأرض وعترتي أهل بيتي ، ولن يتفرّقا حتى يردا عليَّ الحوض ، فانظروا كيف تخلفوني فيهما ».
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تم میں ایسی چیز چھوڑے جا رہا ہوں کہ اگر تم اسے تھامے رہو گے تو میرے بعد ہرگز گمراہ نہیں ہو گے، ان میں سے ایک دوسرے سے عظیم تر ہے: کتاب اللہ جو آسمان سے زمین تک ایک لمبی رسی ہے، اور میری عترت، میرے اہل بیت، اور یہ دونم ہرگز جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر میرے پاس آئیں، پس دیکھو کہ تم ان کے بارے میں میرے بعد کیسا سلوک کرتے ہو۔"
حدیث ثقلین کا مختلف مقامات پر تکرار:
نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حدیث ثقلین کو مختلف الفاظ اور متعدد مواقع پر بیان فرمایا، تاکہ کسی معذرت خواہ کے لیے یہ عذر باقی نہ رہے کہ اس نے مفہوم یا اس سے مراد کو نہیں سمجھا۔ یہ حدیث تمام مسلمانوں کے نزدیک انتہائی قابل اعتماد اور مستند ہے۔ ابن حجر ہیتمی مکی نے اپنی کتاب "الصواعق المحرقة" میں کہا ہے:
والحديث في غاية الوثاقة والاعتبار عند جميع المسلمين ، وقد قال ابن حجر الهيتمي المكي في كتابه الذي أسماه (الصّواعق المحرقة ) :
« ثم اعلم أنّ لحديث التمسّك بذلك طرقاً كثيرةً وردت عن نيف وعشرين صحابياً ، ومرّ له طرق مبسوطةُ في حادي عشر الشّبه ، وفي بعض تلك الطّرق أنه قال ذلك بحجة الوداع بعرفة ، وفي أخرى : أنه قاله بالمدينة في مرضه وقد امتلأت الحجرة بأصحابه ، وفي اُخرى : أنه قال ذلك بغدير خم ، وفي آخر أنه قال لمّا قام خطيباً بعد انصرافه من الطائف كما مر .
"پھر جان لو کہ اس حدیث تمسک کے بہت سے طرق ہیں جو بیس سے زائد صحابہ سے مروی ہیں۔ اس کے بعض طرق میں ہے کہ آپ نے یہ حدیث حجۃ الوداع کے موقع پر عرفہ میں فرمائی، بعض میں ہے کہ آپ نے مدینہ میں اپنی بیماری کے دوران فرمائی جب حجرہ مبارک صحابہ سے بھرا ہوا تھا، بعض میں ہے کہ آپ نے غدیر خم میں یہ حدیث بیان فرمائی، اور بعض میں ہے کہ آپ نے طائف سے واپسی کے بعد خطبہ دیتے ہوئے یہ فرمایا جیسا کہ گزر چکا ہے۔
ان میں کوئی تضاد نہیں، کیونکہ اس میں کوئی مانع نہیں کہ آپ نے ان تمام مقامات اوردیگرمواقع پراس حدیث کو دہرایا ہو، کتاب عزیز اور عترت طاہرہ کی اہمیت کے پیش نظر۔
طبرانی کی ابن عمر سے ایک روایت میں ہے کہ:
وفي رواية ـ عند الطبراني ـ عن ابن عمر : إنّ آخر ما تكلّم به النبي ـ صلّى الله عليه [ وآله ] وسلّم ـ : أُخلفوني في أهل بيتي .
نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آخری بات یہ تھی: "میرے اہل بیت کے بارے میں میرے بعد اچھا سلوک کرو۔"
ایک اور روایت میں طبرانی اور ابی شیخ سے ہے:
وفي أخرى ـ عند الطبراني وأبي الشيخ ـ : إنّ لله عزّوجل ثلاث حرمات فمن حفظهنّ حفظ الله دينه ودنياه ، ومن لم يحفظهنّ لم يحفظ الله دنياه ولا آخرته . قلت : ما هنّ ؟ قال : حرمة الإسلام وحرمتي وحرمة رحمي ».
"بے شک اللہ عزوجل کی تین حرمتیں ہیں، جس نے انہیں محفوظ رکھا اللہ نے اس کے دین اور دنیا کو محفوظ رکھا، اور جس نے انہیں محفوظ نہ رکھا اللہ نے اس کی دنیا اور آخرت کو محفوظ نہ رکھا۔" میں نے پوچھا: وہ کون سی ہیں؟
فرمایا: "اسلام کی حرمت، میری حرمت اور میری رشتہ داری کی حرمت۔"
حدیث ثقلین کے دلائل:
حدیث ثقلین ہمیں درج ذیل حقائق کی نشاندہی کرتی ہے:
1- بے شک اہل بیت علیہم السلام قرآن کے ہم پلہ ہیں، جس طرح کسی کو قرآن کریم کی مخالفت کا حق نہیں ہے اسی طرح اسے اہل بیت علیہم السلام کی مخالفت کا بھی حق نہیں ہے، اور جس طرح کسی کے لیے قرآن کے خلاف فتویٰ دینا جائز نہیں ہے اسی طرح اس کے لیے اہل بیت علیہم السلام کی رائے کے خلاف فتویٰ دینا بھی جائز نہیں ہے، اور جس طرح کسی کے لیے قرآن پر سبقت لے جانا جائز نہیں ہے اسی طرح اس کے لیے اہل بیت علیہم السلام پر سبقت لے جانا بھی جائز نہیں ہے۔
2- بے شک قرآن کریم اور اہل بیت علیہم السلام ہی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حقیقی خلیفہ ہیں، اسی لیے آپ نے ان دونوں کے لیے "ثقلین" اور "خلیفتین" کا لفظ استعمال فرمایا۔ چنانچہ جس طرح مسلمانوں کے پاس قرآن کریم کے علاوہ کوئی اور کتاب اور کوئی اور حقیقی خلیفہ نہیں ہے، اور جس نے اس کے علاوہ کسی اور قرآن کا دعویٰ کیا تو وہ باطل، جھوٹا اور غلط ہے، اسی طرح مسلمانوں کے درمیان اہل بیت علیہم السلام کا مقام یہ ہے کہ وہی حقیقی خلیفہ ہیں، اور جس نے ان کے علاوہ کسی اور کی خلافت کا دعویٰ کیا تو اس نے باطل، جھوٹ اور غلط دعویٰ کیا ہے۔
3- جس طرح قرآن کی پیروی ہدایت تک پہنچاتی ہے اور اس کے علاوہ کی پیروی گمراہی کی طرف لے جاتی ہے، اسی طرح اہل بیت علیہم السلام کی پیروی ہدایت تک پہنچاتی ہے اور ان کے علاوہ کی پیروی گمراہی کی طرف لے جاتی ہے۔
4- جس طرح قرآن خطا سے معصوم ہے کیونکہ اس کے پاس نہ اس کے آگے سے باطل آسکتا ہے اور نہ اس کے پیچھے سے، اسی طرح اہل بیت علیہم السلام بھی خطا، لغزش، بھول اور بھلائی سے ہمیشہ معصوم ہیں، کیونکہ اگر وہ ایسے نہ ہوتے تو اپنی کسی حالت میں قرآن سے جدا ہو جاتے، اور یہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان کے خلاف ہے کہ
لقول النبي (ص) "أنها لن يفترقا حتى يردا عليّ الحوض"
"یہ دونم ہرگز جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر میرے پاس آئیں"۔
5- جس طرح قرآن زندہ اور قیامت تک باقی ہے، اسی طرح ضروری ہے کہ اہل بیت میں سے کوئی ایک قیامت تک ہمیشہ زندہ موجود رہے تاکہ قرآن کے ساتھ رہے۔ اور اگر کوئی زمانہ ایسا گزرے جس میں اہل بیت میں سے کوئی موجود نہ ہو تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ وہ قرآن سے جدا ہو گئے۔ اور یہ بات امام مہدی علیہ السلام کے ان دنوں میں زندہ موجود ہونے پر دلالت کرتی ہے، نہ کہ جیسا کہ بعض کہتے ہیں کہ وہ آخر زمانہ میں پیدا ہوں گے۔
6- جو چیز ہدایت اور صراط مستقیم تک پہنچاتی ہے وہ قرآن کریم کی اہل بیت علیہم السلام کے ساتھ پیروی ہے، نہ کہ ان میں سے صرف ایک کی پیروی اور دوسرے کو چھوڑ کر کسی اور کی طرف جانا، کیونکہ یہ دونم ساتھ ساتھ ہیں اور قیامت تک جدا نہیں ہوں گے۔ اور اگر کوئی شخص اہل بیت علیہم السلام کو چھوڑ کر ان کے علاوہ کسی اور کی طرف چلا جائے تو وہ قرآن کریم کو بھی چھوڑ دے گا،
"لأنهما معا لا يفترقان"
کیونکہ یہ دونم ساتھ ساتھ ہیں جدا نہیں ہوتے۔
دوسری حدیث: حدیث منزلت
متقی ہندی نے کنز العمال میں کہا:
قال المتقي الهندي في كنز العمال: " مسند زيد بن أبي أوفى : لمّا آخى النبي صلّى الله عليه]وآله[ وسلّم بين أصحابه فقال علي : لقد ذهب روحي وانقطع ظهري حين رأيتك فعلت بأصحابك ما فعلت ، غيري . فإن كان هذا من سخطّ عليّ فلك العتبى والكرامة . فقال رسول الله صلّى الله عليه وسلّم : والذي بعثني بالحق ، ما أخّرتك إلاّ لنفسي ، وأنت مني بمنزلة هارون من موسى غير أنّه لا نبّي بعدي . وأنت أخي ووارثي . قال : وما أرث منك يا رسول الله ؟
قال : ما ورثت الأنبياء من قبلي . قال : وما ورثت الأنبياء من قبلك ؟ قال : كتاب ربّهم وسنّة نبيهم . وأنت معي في قصري في الجنة مع فاطمة ابنتي ، وأنت أخي ورفيقي ."
"مسند زید بن ابی اوفی: جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اصحاب کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا تو علی نے کہا: میری روح نکل گئی اور میری کمر ٹوٹ گئی جب میں نے دیکھا کہ آپ نے اپنے اصحاب کے ساتھ وہ کیا جو کیا، سوائے میرے۔ اگر یہ مجھ پر آپ کے غصے کی وجہ سے ہے تو آپ سے معذرت اور عزت ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث کیا، میں نے تمہیں صرف اپنے لیے مؤخر کیا ہے، اور تم میرے لیے اس منزلت پر ہو جیسے ہارون موسیٰ کے لیے تھے، سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ اور تم میرے بھائی اور وارث ہو۔ انہوں نے کہا: اور میں آپ سے کیا وراثت پاؤں گا یا رسول اللہ؟ آپ نے فرمایا: جو انبیاء مجھ سے پہلے وراثت میں چھوڑ گئے تھے۔ انہوں نے کہا: اور انبیاء آپ سے پہلے کیا وراثت چھوڑ گئے تھے؟ فرمایا: ان کے رب کی کتاب اور ان کے نبی کی سنت۔ اور تم میرے ساتھ جنت میں میرے محل میں ہو گے میرے ساتھ میری بیٹی فاطمہ کے ساتھ، اور تم میرے بھائی اور رفیق ہو۔"
اور ابن عباس عمر بن خطاب سے روایت کرتے ہیں،
ويروي ابن عباس عن عمر بن الخطاب ـ فيما رواه جماعة منهم الحاكم وإبن النجّار .. كما في ( كنز العمال ) ـ « كفّوا عن ذكر علي بن أبي طالب ، فإني سمعت رسول الله يقول في علي ثلاث خصالٍ لئن تكون لي واحدة منهنّ أحبّ إليّ ممّا طلعت عليه الشمس : كنت أنا وأبوبكر وأبو عبيدة الجراح ونفر من أصحاب رسول الله ، والنبي متكئ على علي ابن أبي طالب ، حتى ضرب بيده على منكبه ثم قال : وأنت يا علي أول المؤمنين إيماناً وأوّلهم إسلاماً ثم قال : أنت منّي بمنزلة هارون من موسى . وكذب عليّ من زعم أنّه يحبّني ويبغضك » .
وورد هذا الحديث ۔۔۔ وقالوا: ما خلفه إلا استثقالا له وبقى مع النساء والأطفال، فلما لحق بالنبي يخبره بما قاله المنافقون قال له النبي: "أما ترضى أن تكون أو: أنت مني بمنزلة هارون من موسى، إلا أنه لا نبي بعدي" (صحيح البخاري ج4 ص42، وكذلك: ج5 ص3،صحيح مسلم ج4 ص187، جامع الأصول ج8).
جیسا کہ جماعت نے ان سے روایت کیا ہے جن میں حاکم اور ابن نجار شامل ہیں، جیسا کہ کنز العمال میں ہے: "علی بن ابی طالب کے ذکر سے رک جاؤ، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو علی کے بارے میں تین خصلتیں فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر مجھے ان میں سے ایک خصلت مل جائے تو وہ میرے لیے اس سے زیادہ محبوب ہو گی جس پر سورج طلوع ہوتا ہے: میں، ابوبکر، ابو عبیدہ جراح اور رسول اللہ کے اصحاب میں سے کچھ لوگ تھے، اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم علی ابن ابی طالب پر ٹیک لگائے ہوئے تھے، یہاں تک کہ آپ نے اپنا ہاتھ ان کے کندھے پر مارا اور فرمایا: اور تم اے علی سب سے پہلے ایمان لانے والے اور سب سے پہلے اسلام لانے والے ہو، پھر فرمایا: تم میرے لیے اس منزلت پر ہو جیسے ہارون موسیٰ کے لیے تھے۔ اور اس نے مجھ پر جھوٹ باندھا جس کا دعویٰ ہے کہ وہ مجھ سے محبت کرتا ہے اور تم سے بغض رکھتا ہے۔"
یہ حدیث ایک اور موقع پر بھی وارد ہوئی ہے جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوہ تبوک کی طرف روانہ ہوئے، تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم علیہ السلام کو اس غزوہ میں اپنے ساتھ نہیں لے گئے بلکہ انہیں مدینہ میں اپنا جانشین بنا کر چھوڑ دیا۔ شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جانتے تھے کہ اس غزوہ میں جنگ نہیں ہو گی، تو علی علیہ السلام کو مدینہ میں رہ کر تنگی ہوئی جب منافقوں نے شور مچایا اور کہا: انہیں نبی نے صرف اس لیے نہیں لیا کہ وہ ان پر بوجھ تھے اور وہ عورتوں اور بچوں کے ساتھ رہ گئے ہیں، تو جب علی نبی کے پاس پہنچے اور انہیں منافقوں کی باتوں سے آگاہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: "کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تم میرے لیے اس منزلت پر ہو جیسے ہارون موسیٰ کے لیے تھے، سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔"
اور بخاری میں ہے کہ:
":رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم خرج إلى تبوك واستخلف عليا، وقال: أتخلفني في الصبيان والنساء؟ قال: أما ترضى أن تكون مني بمنزلة هارون من موسى، إلا أنه لا نبي بعدي".
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تبوک کی طرف نکلے اور علی کو اپنا جانشین بنایا، تو انہوں نے کہا: کیا آپ مجھے بچوں اور عورتوں میں جانشین بنا رہے ہیں؟
آپ نے فرمایا: کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تم میرے لیے اس منزلت پر ہو جیسے ہارون موسیٰ کے لیے تھے، سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔
ہم اس حدیث سے جانتے ہیں کہ جو کچھ ہارون علیہ السلام کے لیے موسیٰ علیہ السلام کے مقابلے میں تھا، وہ سب علی علیہ السلام کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقابلے میں ہے، سوائے نبوت کے۔
اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کی زبان سے فرمایا:
قال تعالی عن لسان موسى:(قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي*وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي*وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِنْ لِسَانِي*يَفْقَهُوا قَوْلِي*وَاجْعَلْ لِي وَزِيرًا مِنْ أَهْلِي*هَارُونَ أَخِي*اشْدُدْ بِهِ أَزْرِي*وَأَشْرِكْهُ فِي أَمْرِي*كَيْ نُسَبِّحَكَ كَثِيرًا*وَنَذْكُرَكَ كَثِيرًا) طه/34:25.
"موسیٰ نے کہا: اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے، اور میرا کام آسان کر دے، اور میری زبان کی گرہ کھول دے، تاکہ لوگ میری بات سمجھ سکیں، اور میرے اہل میں سے میرے بھائی ہارون کو میرا وزیر بنا دے، اس کے ذریعے میری کمر مضبوط کر دے، اور اسے میرے کام میں شریک کر دے، تاکہ ہم تیری بہت تسبیح کریں، اور تجھے بہت یاد کریں۔"
اور دوسری جگہ فرمایا:
قال تعالى : (وَقَالَ مُوسَى لأَخِيهِ هَارُونَ اخْلُفْنِي فِي قَوْمِي وَأَصْلِحْ وَلاَ تَتَّبِعْ سَبِيلَ الْمُفْسِدِينَ(الأعراف/142.
"اور موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے کہا: میری قوم میں میرا جانشین بن اور اصلاح کر اور فسادیوں کے راستے پر نہ چل۔"
پس نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب علی علیہ السلام سے فرماتے ہیں:
فالنبي(ص) عندما يقول لعليّ(ع) " أنت مني بمنزلة هارون.." فهو يريد أن ينسب إليه كل ما لهارون من صفات باستثناء صفة واحدة وهي النبوّة ووجود هذا الاستثناء إن دلَّ على شيء فيدل على أن عليّاً يمتلك كافة تلك الصفات ويتحلّى بجميع تلك الشؤون . ومن الجدير بالذكر ظهور هذه المنزلة في عليّ عليه السلام على جميع المستويات حيث سمّى أبناءه بأسماء أبناء هارون فسمّاهم "حسنا وحسينا ومحسنا" وأبناء هارون هم "شبر وشبير ومشبر"(مستدرك الحاكم ج3 ص165و168) وأن النبي اتخذ علياً أخاً له فقال: "أنت أخي في الدنيا والآخرة"(سنن الترمذي ج5 ص636 ح3720 ومستدرك الحاكم ج3 ص14).
"تم میرے لیے اس منزلت پر ہو جیسے ہارون موسیٰ کے لیے تھے" تو آپ ان کی طرف ہر وہ صفت منسوب کرنا چاہتے ہیں جو ہارون کے لیے تھی، سوائے ایک صفت کے اور وہ نبوت ہے، اور اس استثناء کا وجود اگر کسی چیز پر دلالت کرتا ہے تو اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ علی ان تمام صفات کے مالک ہیں اور ان تمام شؤون سے متصف ہیں۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ علی علیہ السلام میں یہ منزلت ہر سطح پر ظاہر ہوئی، جہاں آپ نے اپنے بیٹوں کے نام ہارون کے بیٹوں کے نام پر رکھے، چنانچہ آپ نے ان کے نام "حسن، حسین اور محسن" رکھے اور ہارون کے بیٹوں کے نام "شبر، شبیبر اور مشبر" تھے (مستدرک حاکم ج3 ص165 و168) اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے علی کو اپنا بھائی بنایا اور فرمایا: "تم دنیا اور آخرت میں میرے بھائی ہو"
تیسری حدیث: ائمہ کی تعداد اور ان کے نام:
جابر جعفی کی حدیث میں ہے،
في حديث جابر الجعفي قال: ((سمعت جابر بن عبد الله الأنصاري يقول: لما أنزل الله تعالى على نبيه (ص): ((يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ أَطِيعُواْ اللّهَ وَأَطِيعُواْ الرَّسُولَ وَأُوْلِي الأَمْرِ مِنكُمْ))، قلت: يا رسول الله عرفنا الله ورسوله، فمن أولي الأمر الذي قرن الله طاعتهم بطاعتك؟
فقال(ص): هم خلفائي يا جابر، وأئمة المسلمين بعدي. أولهم علي بن أبي طالب، ثم الحسن، ثم الحسين، ثم علي بن الحسين، ثم محمد بن علي، المعروف في التوراة بالباقر ـ وستدركه يا جابر، فإذا لقيته فاقرأه مني السلام ـ ثم الصادق جعفر بن محمد، ثم موسى بن جعفر، ثم علي بن موسى، ثم محمد بن علي، ثم علي بن محمد، ثم الحسن بن علي، ثم سميي، وكنيي حجة الله في أرضه، وبقيته في عباده ابن الحسن بن علي. ذاك الذي يفتح الله تعالى ذكره على يديه مشارق الأرض ومغاربها، وذلك الذي يغيب عن شيعته وأوليائه غيبة لا يثبت فيها على القول بإمامته إلا من امتحن الله قلبه للإيمان...) إعلام الورى بأعلام الهدى ج:2 ص:181 ـ 182، واللفظ له. كمال الدين وتمام النعمة ص:253. بحار الأنوار ج:36 ص:249 ـ 250.
انہوں نے کہا: ((میں نے جابر بن عبد اللہ انصاری کو کہتے سنا: جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی (ص) پر یہ آیت نازل کی:
((يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ أَطِيعُواْ اللّهَ وَأَطِيعُواْ الرَّسُولَ وَأُوْلِي الأَمْرِ مِنكُمْ)) (النساء/59)
"اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے میں سے صاحبان امر کی۔" تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم نے اللہ اور اس کے رسول کو پہچان لیا، تو صاحبان امر کون ہیں جن کی اطاعت کو اللہ نے آپ کی اطاعت کے ساتھ ملا دیا ہے؟
تو آپ (ص) نے فرمایا: اے جابر! یہ میرے بعد میرے خلیفہ اور مسلمانوں کے امام ہیں۔ ان میں پہلے علی بن ابی طالب ہیں، پھر حسن، پھر حسین، پھر علی بن حسین، پھر محمد بن علی، جو تورات میں باقر کے نام سے مشہور ہیں، اور اے جابر! تم انہیں پا لو گے، تو جب ان سے ملو تو انہیں میری طرف سے سلام کہنا۔ پھر صادق جعفر بن محمد، پھر موسیٰ بن جعفر، پھر علی بن موسیٰ، پھر محمد بن علی، پھر علی بن محمد، پھر حسن بن علی، پھر میرے ہمنام اور میرے ہم کنیت، جو زمین میں اللہ کی حجت اور اس کے بندوں میں اس کی باقی ماندہ (اللہ کی پناہ گاہ) ہیں، یعنی حسن بن علی کے بیٹے (امام مہدی)۔ وہی ہیں جن کے ہاتھوں اللہ تعالیٰ زمین کے مشرق و مغرب کو کھول دے گا، اور وہی ہیں جو اپنے شیعوں اور دوستوں سے اس طرح غائب ہوں گے کہ اس غیبت میں ان کی امامت کے قول پر وہی ثابت قدم رہ سکے گا جس کے دل کو اللہ نے ایمان کے لیے جانچ لیا ہو۔))
اور مفضل بن عمر کی امام صادق (ع) سے روایت ہے،
وفي حديث المفضل بن عمر عن الإمام الصادق (عليه السلام) عن آبائه (عليهم السلام) عن أمير المؤمنين (عليه السلام): ((قال: قال رسول الله (صلى الله عليه وآله وسلم)لما أسري بي إلى السماء أوحى إليّ ربي جل جلاله...)) وذكر حديثاً طويلاً في فضل الأئمة الاثني عشر (عليهم السلام)، ولزوم ولايتهم، وفي جملته: ((فقال عزوجل: ارفع رأسك فرفعت رأسي، وإذا أنا بأنوار علي، وفاطمة، والحسن، والحسين، وعلي بن الحسين، ومحمد بن علي، وجعفر بن محمد، وموسى بن جعفر، وعلي بن موسى، ومحمد بن علي، وعلي بن محمد، والحسن بن علي، ومحمد بن الحسن القائم في وسطهم، كأنه كوكب دري. قلت: يا رب ومن هؤلاء؟ قال: هؤلاء الأئمة، وهذا القائم)). كمال الدين وتمام النعمة ص: 252 ـ 253، واللفظ له. بحار الأنوار ج:36 ص:245. كفاية الأثر ص:152ـ153.
وہ اپنے آباء (ع) سے، وہ امیر المومنین (ع) سے روایت کرتے ہیں: ((انہوں نے کہا: رسول اللہ (ص) نے فرمایا: جب مجھے معراج پر لے جایا گیا تو میرے رب جل جلالہ نے میری طرف وحی فرمائی...)) اور انہوں نے بارہ ائمہ (ع) کی فضیلت اور ان کی ولایت کے لزوم کے بارے میں ایک لمبی حدیث ذکر کی، اور اس کے مجموعہ میں ہے: ((تو عزوجل نے فرمایا: اپنا سر اٹھاؤ، تو میں نے اپنا سر اٹھایا، تو اچانک میں نے علی، فاطمہ، حسن، حسین، علی بن حسین، محمد بن علی، جعفر بن محمد، موسیٰ بن جعفر، علی بن موسیٰ، محمد بن علی، علی بن محمد، حسن بن علی، اور محمد بن حسن قائم (ع) کے انوار دیکھے، وہ ان سب کے درمیان میں تھے، گویا وہ چمکتا ہوا ستارہ ہیں۔ میں نے کہا: اے رب! یہ کون ہیں؟ فرمایا: یہ ائمہ ہیں، اور یہ قائم ہیں۔))
والحمد لله رب العالمين.
حوالہ جات:
1. صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابہ، باب فضائل علی بن ابی طالب.
2. مسند احمد بن حنبل.
3. الدر المنثور فی التفسیر بالمأثور، جلال الدین سیوطی.
4. المصنف، ابن ابی شیبہ.
5. سنن ترمذی۔
6. الصواعق المحرقہ، ابن حجر ہیتمی۔
7. کنز العمال فی سنن الاقوال والافعال، متقی ہندی۔
8. صحیح بخاری۔
9. مستدرک علی الصحیحین، حاکم نیشاپوری۔
10. جامع الاصول، ابن اثیر جزری۔
11. اعلام الوری باعدل الہدی، فضل بن حسن طبرسی۔
12. کمال الدین و تمام النعمۃ، شیخ صدوق۔
13. بحار الانوار، علامہ مجلسی۔
14. کفایۃ الاثر، خزاز قمی۔

