(کائنات کا آغاز)عقیدہ اور الحاد کے درمیان
بسم اللہ الرحمن الرحیم
(کائنات کا آغاز)عقیدہ اور الحاد کے درمیان
محرر: ڈاکٹر سید خلیل طباطبائی- مترجم: یوسف حسین عاقلی
ان اہم مسائل میں سے جو فلسفیوں (قدیم و جدید)، طبیعیات، فلکیات، حیاتیات اور دیگر علوم کے ماہرین کو ہمیشہ سے مشغول کیے ہوئے ہے اور آج بھی مشغول کیے ہوئے ہے، "کائنات کا آغاز" ہے۔ کہا جا سکتا ہے کہ یہ تصور انسان کو اس وقت سے پریشان کیے ہوئے ہے جب سے اس نے اس زمین پر قدم رکھا ہے۔ مومنین کے نزدیک، کائنات کی تخلیق کا ماخذ واضح اور معروف ہے، وہ اللہ جل جلالہ اور عظمت آلاؤہ ہے۔ لیکن خالق پر ایمان لانے کے بعد بھی ان کے ذہنوں میں یہ بات مشغول رہتی ہے کہ کائنات کی تخلیق کا طریقہ کار کیا تھا اور اللہ جل جلالہ کی قدرت سے اس کا وجود خارج میں کیسے عمل میں آیا، اس کے حکم "کُن فَیَکُون" کے ذریعے۔
قدیم اور جدید فلسفیوں اور طبیعیات دانوں وغیرہ کے آراء کا جائزہ لینے والا دیکھتا ہے کہ سب بالآخر براہ راست یا بالواسطہ طور پر اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ اس کائنات کا کوئی "خالق اور اللہ" ہے۔ لیکن بعض اس کا اعلان کرتے ہیں اور دوسرے دور سے اشارہ کرتے ہیں، کیونکہ ان کا الحادی پس منظر انہیں اس کے وجود کو تسلیم کرنے سے روکتا ہے۔ اس لیے وہ خالق کی صفات بیان کرتے ہیں مگر اس کا نام نہیں لیتے، اور اگر وہ اپنی تشریح میں اس سے دور ہوتے ہیں تو وہ ایک قانع کن جواب تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو جلد ہی ایک بن بند گلی (مردہ راستے) پر پہنچ جاتا ہے، جب تک کہ وہ کھلم کھلا اس کی ذات (سبحانہ وتعالیٰ) کو تسلیم نہ کر لیں کہ وہی خالق اور کائنات کا منتظم ہے۔ اور اگرچہ یہاں موقع فلسفیوں کی تمام آراء اور نظریات پیش کرنے کی اجازت نہیں دیتا، تو ہم امید کرتے ہیں کہ ہم کائنات کے آغاز کے بارے میں مادیوں (دہریوں) اور طبیعیات دانوں کے اہم ترین نظریات کا جائزہ لینے اور پھر عقل اور صحیح منطق کی روشنی میں ان پر بحث کرنے میں کامیاب ہوں گے۔
نشأة الكون (کائنات کا آغاز)
اگر ہم ان مثالیت پسندوں (Idealists) اور شک کرنے والوں کی رائے کو نظر انداز کر دیں جو ہمارے ذہن سے باہر خارجی دنیا کے وجود سے انکار کرتے ہیں، تو سب اس مادی دنیا کے وجود پر متفق ہیں جو اپنے تمام جہتوں اور تفصیلات کے ساتھ محسوس ہوتی ہے۔ لیکن مشکل سوال جو ذہن پر اصرار کرتا ہے وہ یہ ہے کہ یہ دنیا کیسے اور کہاں سے وجود میں آئی؟ اور اس کے وجود اور اس عجیب و غریب نظام کا بنیادی ماخذ کیا ہے جس پر یہ اپنے تمام افلاک، کہکشاؤں اور مخلوقات (انسان، حیوان، نباتات اور جمادات) کے ساتھ چل رہی ہے؟
طبیعیات دان کہتے ہیں کہ "توانائی (Energy) نہ فنا ہوتی ہے اور نہ ازسرنو پیدا ہوتی ہے" اور ان کا مطلب یہ ہے کہ توانائی ایک شکل سے دوسری شکل میں تبدیل ہو سکتی ہے یا مادے میں تبدیل ہو سکتی ہے اور اس کے برعکس، لیکن وہ فنا نہیں ہو سکتی۔ نیز، ان کے نزدیک یہ عدم سے پیدا نہیں ہوئی بلکہ ازلی ہے، اور اسے ازسرنو پیدا نہیں کیا جا سکتا، یعنی عدم سے وجود میں نہیں آ سکتی۔ اور وہ کائنات کے وجود کی وضاحت یوں کرتے ہیں کہ یہ بہت سے ایٹموں پر مشتمل ہے جو زمانہ قدیم سے وسیع خلا میں بکھرے ہوئے تھے اور ان پر اربوں سال کا زمانہ گزرا یہاں تک کہ وہ اکٹھے ہوئے، تشکیل پائے اور "اتفاقی طور پر" بغیر کسی منصوبہ بندی کے اور "قدرتی عوامل" کے تحت آپس میں ضم ہو گئے یہاں تک کہ مادے کا پہلا عنصر وجود میں آیا۔ پھر اتفاق اور قدرتی عوامل کے تحت عناصر کی تخلیق اور تشکیل کا سلسلہ درجہ بدرجہ چلتا رہا یہاں تک کہ دوسرے عناصر (جو تعداد میں سو سے تجاوز کر گئے) وجود میں آئے۔ پھر عناصر کے آپس میں ملنے سے وہ اجسام وجود میں آئے جو ایک سے زیادہ عناصر سے مل کر بنے ہیں، جیسے پانی جو آکسیجن اور ہائیڈروجن دو عناصر سے ملا کر بنا ہے۔
المادة والطاقة (مادہ اور توانائی)
ہم اس تشریح میں تجزیے کی ابتدائیت (کماحقی) نوٹ کرتے ہیں، کیونکہ مادہ اور توانائی کے بارے میں گہری سمجھ موجود نہیں تھی۔ طبیعیات، جوہری طبیعیات، فلکیات، ارضیات اور دیگر علوم کی ترقی کے بعد، طبیعیات دان پہلے کی نسبت زیادہ درستگی کے ساتھ کائنات کے آغاز کا تصور کرنے لگے۔ اور اگر ہم ڈاکٹر "سٹین اودن والڈ" (Stan Odenwald) کے ان جوابات کا مطالعہ کریں جو ناسا (امریکی خلائی ایجنسی) کے آرکائیو میں موجود ہیں اور جس میں وہ کائنات اور اس کے آغاز سے متعلق 85 سوالات کے جوابات دیتے ہیں، تو ہم کائنات کے آغاز کے بارے میں ان کے نظریات کو اس طرح خلاصہ کر سکتے ہیں:
"بڑے سوال کا جواب دینا قطعاً آسان نہیں ہے... اور ہم جانتے ہیں کہ خلا (Space) اور گیس (Gas) دو مختلف چیزیں ہیں۔ اور چونکہ آئن سٹائن کا نظریہ عمومی اضافیت بہت کارآمد ہے، اس لیے ہمیں فی الحال خلا اور وقت کے بارے میں ان کی تشریح کو قبول کرنا چاہیے کہ وہ اس کائنات کی ہر چیز (جیسے گیس، توانائی، مادہ اور روشنی) کے لیے کشش ثقل کے میدان (Gravitational field) کا واحد مظہر ہیں۔ بگ بینگ (عظیم دھماکے) کے وقوع پذیر ہونے کے قریب، کشش ثقل نے اپنی توانائی پر انحصار کرتے ہوئے ایک پیچیدہ اور مختصر حالت میں خود کو دوگنا کر دیا، اور یہ سلسلہ کشش ثقل کی توانائی کے ساتھ اس نتیجے پر پہنچا کہ ذرات اور ضد ذرات (Antiparticles) کی پہلی نسل پیدا ہوئی۔ یہ (ذرات) بالآخر نہ صرف معروف الیکٹرون اور کوارکس (الیکٹران سے بھی چھوٹے ذرات) میں تحلیل ہوئے بلکہ فوٹون (روشنی کے ذرات) اور اس جوہر (Essence) میں بھی تحلیل ہوئے جو موجودہ دور میں وجود کی دیگر بڑی قوتوں میں پایا جاتا ہے۔ اس بنا پر، گیس کسی زمانے میں خلا کا حصہ تھی، اور خلا کشش ثقل سے غیر ممتاز رہتا ہے، اور اسی طرح ہمارے ارد گرد جو کچھ بھی ہم دیکھتے ہیں، وہ کسی زمانے میں اس غیر مرئی میدان (Field) کا حصہ تھا جسے ہم کشش ثقل کہتے ہیں... جو لاکھوں سال پہلے وجود میں آئی۔ بالکل ایک کار کی طرح جو پہاڑی سے نیچے لڑھک رہی ہو۔ اس واقعہ کی محرک قوت (momentum) اب بھی ہمارے ساتھ ہے اور یہی کائنات کے توسیعی عمل کو آگے بڑھا رہی ہے۔
کہکشائیں، ستارے اور سیارے (المجرات والنجوم والکواكب)
اور مادے کا جمع ہو کر کہکشائیں، ستارے اور سیارے اور خود ہماری ذات (انسان) بننا!
ہم اس متن میں بیسویں صدی میں جوہری طبیعیات کی ترقی کی وجہ سے پہلے ذکر کیے گئے مادی نظریے کی ایک وسیع تر تشریح دیکھتے ہیں۔ اور ہم اس نظریے میں دیکھتے ہیں کہ یہ مفروضہ پیش کرتا ہے کہ کائنات کے وجود میں آنے کی اصل علتیں (وجوہ) زمان، مکان اور کشش ثقل ہیں، اور ان ہی سے توانائی نے گاڑھا ہو کر ابتدائی مادے کی صورت اختیار کی جو الیکٹرونی ذرات یا اس سے بھی چھوٹے ذرات (جیسے کوارکس) کی شکل میں تھا۔ اور یہی اشیاء کے جوہر (Essence) کو پیدا کرنے کی علت تھیں، یعنی وہ حقیقی ذات جس سے تمام مخلوقات (خواہ کہکشائیں ہوں یا خود انسان بھی!) وجود میں آئیں۔
کیسے "لاشیء" (Nothing) ،"کچھ" (Something) پیدا کر سکتا ہے؟ (كيف يخلق "اللاشيء"،"شيئا ما")
اور اس سوال کے جواب کے سلسلے میں کہ کیسے "لاشیء" (Nothing)، "کچھ" (Anything) پیدا کر سکتا ہے، بلکہ پوری کائنات ہی پیدا کر سکتا ہے، وہ کہتے ہیں:
"جب طبیعیات دان 'کچھ نہیں' (nothing) کہتے ہیں، تو وہ انگریزی زبان سے کھیل رہے ہوتے ہیں، کیونکہ ہم اس وقت خلا (Vacuum) کو 'خالی' (Empty) یا 'کچھ نہیں' (nothing) سمجھتے ہیں، لیکن طبیعیات دان بخوبی جانتے ہیں کہ خلا (Vacuum) 'خالی پن' (emptiness) کے معنی سے بہت دور ہے۔ بگ بینگ (عظیم دھماکے) کے وقت ابتدائی حالت اس قسم کی 'عدم' (Nothingness) سے بہت دور تھی جو ذہن میں آتی ہے۔ ہمارے پاس ابھی بھی اس 'حالت' کی وضاحت کے لیے کوئی مکمل ریاضیاتی نظریہ نہیں ہے، لیکن شاید اس کی 'کئی جہتیں' (dimensions) تھیں، شاید یہ مختلف 'فیلڈز' (Fields) کے مطابق تھی، اور یہ فیلڈز – یا وہ جو کچھ بھی تھیں – 'کوانٹم اتار چڑھاؤ' (Quantum Fluctuations) کے تابع تھیں۔ اور اس وقت زمان و مکان وہی چیز نہیں تھے جو آج ہم ان کے بارے میں جانتے ہیں، کیونکہ ہماری موجودہ کائنات اس کی ابتدا کے وقت کی نسبت زیادہ ٹھنڈی ہے۔ عدم (nothingness) عدم وجود (non-existence) نہیں تھا، بلکہ وہ 'کچھ نہیں' تھا جیسی 'کچھ چیزیں' ہیں جو ہم آج جانتے ہیں۔ اور ہمارے پاس اسے بیان کرنے کے لیے الفاظ نہیں ہیں، اور جو الفاظ ہم مستعار لیتے ہیں اور جو آکسفورڈ انگلش ڈکشنری میں درج ہیں، وہ ایک غلط طبیعیاتی بصیرت پر مبنی ہیں۔
اور ہم نوٹ کرتے ہیں کہ وہ کسی نہ کسی طرح عدم سے وجود کے حصول کا مفروضہ پیش کرتا ہے، جسے ثابت کرنے سے بلکہ تصور کرنے سے بھی وہ عاجز ہے، اور زبان کو اس چیز کی وضاحت کرنے میں ناکام اور غلط قرار دیتا ہے جسے وہ بیان کرنا چاہتا ہے، شاید اس لیے کہ یہ معقول نہیں ہے اور اس لیے اسے ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے باوجود، ڈاکٹر سٹین اودن والڈ اپنے جواب میں ایک اور سوال کے جواب کے دوران صحت کے قریب پہنچتے ہیں، یعنی "کس چیز نے کائنات کو مسلسل متحرک رکھا ہوا ہے؟" وہ کہتے ہیں:
"اس سوال کا ایک ہی جواب دینا مشکل ہے۔ اگر آپ ایک مذہبی پابند انسان ہیں، تو اس صورت میں جواب سادہ ہے: 'اللہ'۔ اور اگر آپ ایک مذہبی سائنسدان ہیں، تو جواب ہوگا: اللہ کے علاوہ جمود (Inertia)۔ موجودہ وقت میں، ہماری کائنات ساحل کی طرف بڑھ رہی ہے، اور اس عظیم توانائی کی رفتار (momentum) سے فائدہ اٹھا رہی ہے جو بگ بینگ سے شروع ہوئی تھی۔ اور جیسے جیسے یہ ٹھنڈی ہوتی جا رہی ہے، اس کے چھوٹے چھوٹے حصے الگ ہو کر پیچیدہ ساختوں (جیسے کہکشائیں اور ڈی این اے) کی تشکیل کر رہے ہیں۔ ہماری غلطی یہ ہے کہ ہم نیوٹن سے منسوب نیوٹنین میکینکس جیسی چیز پر بھی یقین کرنے سے انکار کرتے ہیں، جو کہتی ہے کہ کوئی جسم بغیر کسی خارجی قوت کے بھی اپنے آپ کو حرکت میں رکھے گا۔ چیزیں اپنے جمود (Inertia) کی وجہ سے حرکت کرتی ہیں، اس لیے نہیں کہ انہیں مسلسل دھکا دیا جا رہا ہے۔ آج کائنات اپنے جمود (Inertia) کی وجہ سے 'حرکت' میں ہے، اس لیے نہیں کہ کوئی قوت کام کر رہی ہے اور ہر چیز کو دھکیل رہی ہے۔" اور ڈاکٹر اودن والڈ اپنے نظریے کی وضاحت کرتے ہوئے مزید کہتے ہیں:
"حقیقت جو سائنسدانوں نے حال ہی میں دریافت کی ہے کہ 'کائناتی استقلال' (Cosmological constant) خلا (Vacuum) پر اثر انداز ہو کر توسیع کو تیز کر رہا ہے، اس کا اس مسئلے سے کوئی تعلق نہیں، کیونکہ اس نئے خلا کی 'طاقت' طبعی طور پر چند ارب آخری سالوں تک غیر اہم تھی۔"
اپنی بات کی وضاحت کے لیے، ہم دیکھتے ہیں کہ انہیں کائنات کے خالق کے سوال کا کوئی جواب نہیں ملتا سوائے اس اعتراف کے کہ اللہ ہی خالق ہے، لیکن بحیثیت فلکی طبیعیات کے سائنسدان، وہ کچھ اور شامل کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس سے وہ پہلی بار تخلیق ہونے کے بعد کائنات کی مسلسل حرکت کے راز کی وضاحت کر سکیں، جب کہ یہ ان ایٹموں سے بنی تھی جن میں مسلسل حرکت کرنے کی صلاحیت موجود تھی۔ اور انہوں نے ذکر کیا کہ طبیعیات کا قانون جسے "جمود" (Inertia) کہا جاتا ہے، اس کا جواب ہے۔ طبیعیات میں جمود (Inertia) کا مطلب یہ ہے کہ مادہ ہمیشہ اپنی اس حالت پر برقرار رہنا اور جمے رہنا چاہتا ہے جس پر وہ ہے، بغیر کسی تبدیلی کے۔ اگر مادہ استحکام (سکون) کی حالت میں ہے تو وہ استحکام پر برقرار رہے گا جب تک کوئی دوسرا عامل اس پر اثر انداز ہو کر اسے حرکت نہ دے۔ اور اگر یہ متحرک ہے تو یہ خود کی قوت دفعہ (self-propulsion) کی وجہ سے حرکت کرتا رہے گا جب تک کوئی خارجی عامل (جیسے رگڑ وغیرہ) اس کی رفتار میں رکاوٹ نہ بنے۔ اس لیے وہ کائنات میں حرکت کے جاری رہنے کے ماخذ کی یوں وضاحت کرتے ہیں کہ یہ وہ قوت ہے جو اس نے بگ بینگ کے بعد حاصل کی تھی اور جمود (Inertia) کی وجہ سے یہ مسلسل حرکت کر رہی ہے اور رکتی نہیں۔
نظریے پر بحث (مناقشة النظرية)
اب جبکہ ہم نے کائنات کی تخلیق کے بارے میں مادی نظریے کو جان لیا ہے، اور یہ بھی کہ ناسا (امریکی خلائی ایجنسی) کے زیر استعمال فلکی طبیعیات کے ڈاکٹر اور محقق کے اقوال و آراء کے مکمل نصوص کے ترجمے سے، اب ہم ان کے نظریے اور کائنات کی تخلیق کے مادی نظریے (جس کا اشارہ تحقیق کے شروع میں دیا گیا تھا) پر بحث کرتے ہیں، مندرجہ ذیل مشاہدات (نوٹس) کی روشنی میں:
مشاہدہ اول:
مادی نظریہ ہمیں اس خالق کے بارے میں کچھ نہیں بتاتا جس نے پہلے ایٹموں کو وجود بخشا جو عناصر اور مرکبات کے بننے کا سبب بنے۔ اور اس نے یہ مفروضہ پیش کیا کہ وہ ازل سے موجود تھے۔ یہ معنی درست نہیں ہے کیونکہ "وجود" مادے کی ذات کا حصہ نہیں کہ وہ ہمیشہ سے موجود ہو، بلکہ وجود اس پر عارضی ہے، وہ عدم کے مرحلے میں تھا پھر اس پر وجود کا لباس ڈالا گیا۔ مادی نظریہ پہلے ایٹموں کی وجہ (سبب) بیان کرنے سے قاصر رہتا ہے۔ اور ہم ڈاکٹر "اودن والڈ" کے جواب میں دیکھتے ہیں کہ وہ بلا شبہ اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ ان ایٹموں کا پہلا خالق جو کائنات پر مشتمل ہیں، وہ "اللہ جل جلالہ" ہی ہونا چاہیے۔ اور اس کے بغیر، طبیعیات دانوں کے پاس کوئی قابل قبول سائنسی یا منطقی تشریح نہیں ہے، یقیناً اگر وہ فلسفیانہ مغالطوں سے بچنا چاہیں، جن کے کہنے والے خود جانتے ہیں کہ وہ درست نہیں ہیں لیکن اندھا تعصب انہیں اس پر مجبور کرتا ہے۔
مشاہدہ دوم:
یہ مفروضہ کہ توانائی ازسرنو پیدا نہیں ہوتی (لاتستحدث)، اس کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ کیونکہ توانائی پہلے موجود نہیں تھی پھر وجود میں آئی۔ ہم ڈاکٹر "اودن والڈ" کی عاجزی نوٹ کرتے ہیں اور ان کا یہ مفروضہ کہ عدم (nothingness) کا منی عدم وجود (non-existence) نہیں ہے، یا لاشیء (nothing) ہے لیکن وہ ان چیزوں کی مانند نہیں جو ہم آج جانتے ہیں۔ منطقی نقطہ نظر سے، وجود اور عدم وجود دو متضاد (نقیضین) ہیں اور دو متضاد چیزیں نہ تو اکٹھی ہو سکتی ہیں اور نہ ہی دونوں ختم ہو سکتی ہیں (یعنی کوئی تیسری صورت ممکن نہیں)۔ پس اگر عدم، عدم وجود نہیں ہے، تو پھر وہ کیا ہے؟ کیا یہ ایک خاص وجود ہے جو اس وجود سے مختلف ہے جسے ہم جانتے ہیں؟ اور کیا دو مختلف وجود ہیں، یا وجود ایک ہی ہے جس میں کوئی اختلاف نہیں؟ منطقی جواب یہ ہے کہ وجود ایک ہی چیز ہے جو عدم کے مقابل ہے، یا جیسا کہ ہم کہتے ہیں: شیء (کچھ) مقابل لاشیء (کچھ نہیں)۔
یہاں تک کہ اگر ہم یہ مفروضہ کر لیں کہ کائنات کے آغاز میں لاشیء (nothing) کا مطلب وہ نہیں جو آج ہم سمجھتے ہیں کہ وہ عدم ہے، اور یہ کہ وہ ایک ایسی چیز ہے جو ہمارے اردگرد کی چیزوں سے مختلف ہے، اور زبان کی تنگی ہمیں اسے صحیح نام دینے سے روکتی ہے، تو اگر وہ لاشیء (nothing) کائنات کے آغاز میں مخصوص (خاص) تھا، تو لازماً ہمیں یہ پوچھنا ہوگا کہ اسے کس نے وجود بخشا؟ کیونکہ ہر موجود (وجود رکھنے والی چیز) کو ایک موجد (پیدا کرنے والا) درکار ہوتا ہے تاکہ اسے دائمی عدم کے دائرے سے خارجی وجود کے حیطے میں نکالے۔
اور اگر ڈاکٹر اودن والڈ اور ان کے ساتھیوں کا مقصد یہ ہے کہ وہ پہلی موجود چیز (الموجود الاول) جس سے باقی مخلوقات وجود میں آئیں، جس نے انہیں زندگی، توانائی اور تکامل و ارتقاء کی صلاحیت عطا کی، یہ موجود (موجودہ) ایک ایسی چیز ہے جو اشیاء کی مانند نہیں ہے کیونکہ یہ اپنی ذات کے اعتبار سے مادے کی ذات سے مختلف ہے اور اپنی صفات کے اعتبار سے مادے کی صفات سے مختلف ہے، تو یہ وہی ہے جو مومنین کہتے ہیں کہ وہ اللہ جل جلالہ وعلا ہے۔ اور قرآن کریم اس کی صفات بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے:
"لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ وَهُوَ السَّمِيعُ البَصِيرُ" (الشورى 11)
"اس کی مانند کوئی چیز نہیں اور وہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔"
یعنی وجود میں کوئی چیز ایسی نہیں جو رب کے مشابہ ہو سکے، تو وہ خود رب کے مشابہ کیسے ہو سکتی ہے!
اور فرمایا:
"لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ" (الانعام 103)
"نگاہیں اس کا ادراک نہیں کر سکتیں اور وہ نگاہوں کا ادراک کر لیتا ہے اور وہ باریک بین اور باخبر ہے۔"
یہاں یہ سوال اٹھایا جا سکتا ہے کہ جب وجود کی ہر چیز کو خالق کی ضرورت ہے، تو اللہ کو کس نے پیدا کیا؟ جواب یہ ہے کہ ہر موجود ممکن الوجود (جس کا وجود ممکن ہو) فانی ہوتا ہے اور اسے موجد (پیدا کرنے والے) کی ضرورت ہوتی ہے۔ جہاں تک اللہ کا تعلق ہے، وہ واجب الوجود ہے، یعنی وجود اس کی ذات کا عین (جزو) ہے، نہ کہ اس پر عارض (طارئ) ہونے والی چیز۔ اس معنی کو مختصراً واضح کرنے کے لیے ہم کہتے ہیں کہ موجودات (وجود رکھنے والی چیزیں) وجود کے لحاظ سے دو قسموں میں تقسیم ہوتی ہیں:
پہلی: ممکن الوجود (Possible Being): یعنی ان کا وجود ممکن ہے، اگر ان کے لیے کوئی علت (سبب) موجود ہو جو انہیں پیدا کرے اور انہیں عدم کی حالت سے وجود کی حالت میں نکالے۔ کائنات کی تمام موجودات ممکن الوجود ہیں اور انہیں ایک خالق اور موجد (پیدا کرنے والے) کی ضرورت ہے۔
دوسری: واجب الوجود (Necessary Being): یہ وہ ہے جس کا وجود اس کی ذات سے پيدا ہوا ہو، نہ کہ باہر سے۔ وجود اس کی بنیادی صفات میں سے ہے اور اس وقت کا تصور نہیں کیا جا سکتا جب وہ موجود نہ تھا۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ وہ واحد موجود ہے جو واجب الوجود کی صفت سے متصف ہے۔ باقی تمام مخلوقات نے اس سے وجود حاصل کیا ہے۔
تاریخ بتاتی ہے کہ کسی نے امام علی (ع) سے پوچھا: اللہ کب سے موجود ہے؟ تو امام (ع) نے فرمایا: "مجھے بتاؤ کہ وہ کب نہیں تھا، تاکہ میں تمہیں بتاؤں کہ وہ کب سے ہے۔" تفصیلات اس مختصر مقالے میں پیش کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔
مشاہدہ سوم:
مادی نظریہ یہ مفروضہ پیش کرتا ہے کہ پہلا مادہ (خواہ ایٹم ہوں، الیکٹران، زمان، مکان، کشش ثقل وغیرہ) گاڑھا ہونے (تكثف) کا سبب بنا، پھر بگ بینگ (عظیم دھماکہ) ہوا اور اس میں کہکشاؤں اور سیاروں کا یہ عجیب و غریب اور نازک نظام وجود میں آیا، جاندار مخلوقات پیدا ہوئیں، اور جسے ڈاکٹر اودن والڈ نے "ہماری ذات" (انفسنا) یا "ڈی این اے" (DNA) کی تخلیق سے تعبیر کیا جو بعد میں ایک مکمل زندہ خلیے میں ترقی کر گیا۔
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ایٹم، کشش ثقل، زمان اور مکان، ان کے پاس دنیا کا یہ عجیب و غریب نظام پیدا کرنے کی ارادہ اور صلاحیت نہیں ہے۔ مادے کے پاس عقل نہیں، شعور نہیں، تو وہ ہر لحاظ سے ایک مکمل نظام کیسے پیدا کر سکتا ہے؟ مادے کے پاس نہ عقل ہے، نہ احساس، نہ سننے کی صلاحیت، نہ دیکھنے کی، تو وہ ایسے حیوان اور انسان کو پیدا کرنے کا سبب کیسے بن سکتا ہے جو سنتا، دیکھتا، کھاتا اور چلتا ہے؟ اور جیسا کہ ہم جانتے ہیں، عالم طبیعت میں عمومی قانون یہ ہے: "فاقد الشیء لا یعطیہ" (جس چیز کے پاس خود وہ چیز نہیں، وہ اسے دوسرے کو نہیں دے سکتا) ۔ قدرت (طبیعت) میں خود عقل، زندگی اور نظام نہیں ہے، تو وہ خود بخود اس مکمل کائنات کی تخلیق کا سبب نہیں بن سکتی۔ لہٰذا اگر ہم کائنات کی تخلیق کے نظریے کو قبول کرنا چاہتے ہیں، تو لازماً یہ مفروضہ پیش کرنا ہوگا کہ قدرت (طبیعت) اور مادے کے خالق، اور زمان و مکان، کشش ثقل، الیکٹران اور اس سے چھوٹی یا بڑی چیزوں کے خالق نے لازماً ان میں یہ تمام صلاحیتیں اور قابلیتیں ودیعت کی ہوں گی کہ وہ تشکیل پائیں، گاڑھا ہوں، پھر پھٹیں اور اپنے پھٹنے سے اجزاء کو منظم طریقے سے تقسیم کر کے کہکشائیں، سیارے، ستارے اور دیگر چیزیں وجود میں لائیں۔
اس وقت، علم ہمیں اس ایمان تک لے جاتا ہے کہ قدرت (طبیعت) کا خالق اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہی ہے، اور اسی نے ان میں یہ تمام قوتیں اور متحرک توانائیاں ودیعت کیں جو ان کی پہلی حرکت کا سبب بنیں، اور وہ نظام جو ان پر قائم ہے۔
مشاہدہ چہارم:
یہ فلسفیانہ اور عقلی طور پر معلوم ہے کہ معلول (Effect) کو اپنے وجود اور تخلیق کے لیے جس طرح علت (Cause) کی ضرورت ہوتی ہے، اسی طرح اسے اپنے بقاء، دوام اور وجود کے تسلسل کے لیے بھی علت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور اگر علت ایک لمحے کے لیے بھی منقطع ہو جائے، تو معلول مکمل طور پر معدوم ہو جائے گا۔ اس کی واضح مثال بجلی کا کرنٹ ہے جو بلب کو روشن کرتا ہے۔ جیسے ہی بجلی کا کرنٹ منقطع ہوتا ہے، بلب بجھ جاتا ہے اور کسی بھی طرح ممکن نہیں کہ بلب روشن رہے، جبکہ اس کی علت (بجلی) منقطع ہو چکی ہے۔
اس بنا پر، ایٹموں، کشش ثقل اور کائنات کی حرکت کے تسلسل کا سبب اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے سوا اور کوئی نہیں ہو سکتا۔ جہاں تک اشیاء کے جمود (Inertia) کے قانون کا تعلق ہے، وہ اشیاء کے باقی رہنے کا سبب نہیں بن سکتا جب تک کہ ان کی تخلیق کرنے والی علت انہیں مسلسل زندگی اور بقاء عطا نہ کرتی رہے۔ اسی لیے مومنین کہتے ہیں کہ اللہ ہی اشیاء کو وجود میں لانے والی علت ہے اور وہی انہیں باقی رکھنے والی علت بھی ہے، اور اگر وہ مخلوقات کو زندگی اور بقاء عطا کرنا بند کر دے تو ان کا باقی رہنا ممکن نہیں۔ قرآن کریم ہمیں اپنے اس فرمان میں بتاتا ہے:
"إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَنْ يَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ" (یسین 82)
"اس کا معاملہ یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اس سے کہتا ہے 'ہو جا' اور وہ ہو جاتی ہے۔"
اور فرمایا:
"إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَىٰ عَلَى الْعَرْشِ يُغْشِي اللَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهُ حَثِيثًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَاتٍ بِأَمْرِهِ ۗ أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ ۗ تَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ" (الأعراف 54)
"بے شک تمہارا رب اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا، پھر عرش پر قائم ہوا، وہ رات کو دن پر ڈھانپ دیتا ہے کہ وہ اس کے پیچھے دوڑتا ہوا آتا ہے، اور سورج اور چاند اور ستارے اس کے حکم کے تابع ہیں۔ خبردار! اسی کے لیے پیدا کرنا اور حکم دینا ہے۔ بڑی برکت والا ہے اللہ، سارے جہانوں کا رب۔"
پس اللہ جل جلالہ ہی آسمانوں اور زمین کا خالق ہے اور وہی ان کے معاملے کا انتظام کرنے والا ہے، اس بہترین نظام کے ساتھ جو ان میں جاری ہے اور ان سب کو آپس میں مربوط کرتا ہے، وہی رب العالمین ہے۔
اور فرمایا:
"قَالَ رَبُّنَا الَّذِي أَعْطَى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدَى" (طه 50)
"(موسیٰ نے) کہا: ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی خاص صورت عطا کی، پھر راہ دکھائی۔"
پس خالق اللہ ہی ہے اور وہی اس دنیا کے ایٹموں، اس کی کہکشاؤں، اس کی جاندار اور بے جان مخلوقات کو ہر نظام کی طرف ہدایت کرنے والا ہے، اور اس کی ہدایت کے بغیر نہ کوئی نظام ہو سکتا ہے اور نہ ہی بقاء۔ یہی خالق ہے جسے ڈاکٹر "اودن" موجودہ وجود کی دیگر بڑی قوتوں میں موجود جوہر (Essence) سے تعبیر کرتے ہیں، اگرچہ وہ اس کا اعلان نہیں کرتے۔
جہاں تک "بگ بینگ" (عظیم دھماکے) کے نظریے کا تعلق ہے، تو عقلی طور پر اس میں کوئی قباحت نہیں ہے اگر ہم کہیں کہ اللہ نے اشیاء میں یہ صلاحیت ودیعت کی اور کائنات کے نظام کو اسی راستے پر چلنے کا حکم دیا، کیونکہ اس نے اپنی حکمت سے یہی پسند کیا ہے کہ چیزیں اپنے اسباب کے ساتھ جاری ہوں۔ قرآن کریم اپنی آیات میں کائنات کی تخلیق کے طریقہ کار کی طرف اشارہ کرتا ہے، فرمایا:
"أَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاهُمَا وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ أَفَلَا يُؤْمِنُونَ" (الأنبیاء 30)
"کیا کافروں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین بند تھے، پھر ہم نے انہیں کھول دیا؟ اور ہم نے پانی سے ہر زندہ چیز پیدا کی، کیا پھر بھی وہ ایمان نہیں لاتے؟"
زبان میں "رتق" کے معنی جوڑنا اور ملانا ہے، خواہ وہ خلقی طور پر ہو یا صنعتی طور پر۔ اور "فتق" کے معنی دو متصل چیزوں کے درمیان جدا کرنا ہے، جو رتق کی ضد ہے۔ اس آیت کی ایک تفسیر یہ بتاتی ہے کہ آسمان اور زمین ایک دوسرے سے متصل تھے (رتق) پھر اللہ نے ان کے درمیان فتق فرمایا یعنی انہیں ایک دوسرے سے جدا کر دیا۔ ممکن ہے کہ یہی نظام بگ بینگ ہو، یا کوئی اور۔ واللہ العالم۔
مشاہدہ پنجم:
ایٹموں میں پائی جانے والی مسلسل حرکت، جسے بیسویں صدی کے طبیعیات دانوں نے دریافت کیا، اس کی طرف چار صدیوں پہلے انتقال کر جانے والے عظیم اسلامی فلسفی ملا صدر الدین شیرازی نے اشارہ کیا تھا، جو فلسفے میں مدرسہ "الحکمة المتعالية" کے بانی ہیں۔ ملا صدر بیان کرتے ہیں کہ مخلوقات ایک مسلسل حرکت میں ہیں جسے انہوں نے "الحركة الجوهرية" (حرکت جوهريه) کا نام دیا، جس سے کوئی بھی جسم خالی نہیں ہے۔ اس طرح انہوں نے اپنے علم اور فلسفے کے ذریعے اسے تین صدیوں پہلے دریافت کر لیا تھا، اس سے پہلے کہ طبیعیات دان اسے اپنی سائنسی تجربہ گاہوں میں دریافت کرتے۔
مشاہدہ ششم:
اس قول کے بارے میں کہ مادہ قدیم ہے، یہ رائے کئی وجوہات کی بنا پر درست نہیں ہے۔ ان میں سے ایک یہ کہ مادہ مرکب ہے، اور مرکب قدیم نہیں ہو سکتا کیونکہ اس کے اجزاء زمان و مکان کے محتاج ہیں، اور زمان و مکان خود قدیم نہیں ہیں۔ نیز، مادہ ایک شکل سے دوسری شکل میں تبدیل ہوتا ہے، اور ہر متغیر لازماً حادث (پیدا ہونے والا) ہوتا ہے، وہ ازلی قدیم نہیں ہو سکتا، کیونکہ اگر وہ ازلی قدیم ہوتا تو اس میں ہونے والی تبدیلیاں ازل (لا متناہی زمانے) میں رونما ہوتیں اور اس وقت وہ متغیر نہ ہوتا۔ جہاں تک مادہ اور توانائی کا تعلق ہے، وہ حادث ہیں، اور طبیعیات اور فلکیات کے ماہرین ان کی عمر کا اندازہ اربوں سال لگاتے ہیں، جو کہ قدیم (ازلی) کی لا متناہی (غیر محدود) عمر نہیں ہے۔
اور بھی تفصیلات ہیں جن کا اس مضمون میں احاطہ ممکن نہیں، شاید ہم آنے والے مضامین میں انہیں پیش کرنے میں کامیاب ہو جائیں، إن شاء اللہ۔
"وَآخِرُ دَعْوَاهُمْ أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى مُحَمَّدٍ وَآلِهِ الطَّيِّبِينَ الطَّاهِرِينَ۔"

