امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک

(زندگی کا آغاز) ایمان اور الحاد کے درمیان

0 ووٹ دیں 00.0 / 5

 (زندگی کا آغاز) ایمان اور الحاد کے درمیان
محرر: ڈاکٹر سید خلیل طباطبائی
مترجم: یوسف حسین عاقلی

 (زندگی کا آغاز) نظریہ اور حقیقت کے درمیان

بسم اللہ الرحمن الرحیم

زمین پر زندگی کے آغاز کا موضوع ان مشکل موضوعات میں سے ہے جو ماہرین حیاتیات، طبیعیات اور دیگر سائنسدانوں کو پوری تاریخ میں الجھائے رکھا۔ اگر ماہرین فلکیات اور طبیعیات یہ مفروضہ پیش کرتے ہیں کہ کائنات سادہ ذرات سے وجود میں آئی جو مختلف عوامل کے تحت ترکیب پذیر ہوتے گئے (جیسا کہ ہم نے گزشتہ قسط میں بیان کیا)، تو یہ نظریہ - اپنی ناممکنات کے باوجود - زمین پر زندگی کے وجود میں آنے کی نظریہ سے زیادہ قابل یقین معلوم ہوتا ہے۔ اس میں دشواری یہ ہے کہ زندگی میں دو اہم عناصر ہیں: اولاً، جانداروں کا عضوی (نامیاتی) ترکیب جو پروٹین سے مل کر بنتا ہے، جو کہ ایک انتہائی پیچیدہ نامیاتی مرکب ہے، اور اس کا غیر نامیاتی مادوں جیسے کاربن، ہائیڈروجن، آکسیجن یا دیگر عناصر سے بننا تصور کرنا مشکل ہے۔ ثانیاً، زندگی جو اس جاندار میں موجود روح کی دلیل ہے، جو اسے عقل، شعور اور ادراک کے ساتھ کام کرنے کے قابل بناتی ہے، اور یہ جمادات سے واضح فرق ہے جن میں کوئی حرکت نہیں۔ تو پھر جاندار کیسے وجود میں آئے؟ اور وہ ایک خلوی جاندار جیسے بیکٹیریا سے ترقی کرتے ہوئے ایسے جانداروں تک کیسے پہنچے جن میں اربوں خلیے ہوتے ہیں، جیسے انسان، حیوان اور درخت؟

نشوء الكرة الارضية
زمین کا کرہ تقریباً ساڑھے چار سے ساڑھے چار ارب سال پہلے سورج سے الگ ہوا، جیسا کہ نظریہ انفجار عظیم کے مطابق ہے۔ ابتدا میں زمین لاکھوں سال تک ایک آگ کا گولا تھی، اس سے پہلے کہ اس کی سطح آہستہ آہستہ ٹھنڈی ہو اور اس میں پانی اور سمندر ظاہر ہوں۔ اس وقت زمین پر آکسیجن نہیں تھی جو جانداروں کے سانس لینے کے لیے ضروری ہے، اس لیے نہ صرف اس کی بلند درجہ حرارت بلکہ آکسیجن کی کمی بھی کسی بھی جاندار کے وجود میں آنے کی راہ میں رکاوٹ تھی۔ زمین کی سطح کے ٹھنڈا ہونے کے بعد جانداروں کے لیے اس میں رہنا ممکن ہوا۔ لیکن زندگی، غیر زندگی سے کیسے وجود میں آئی؟

نظرية نشوء الحياة من لا حياة
اس نظریہ کو دو مستند کتابوں کے مطابق خلاصہ کیا جا سکتا ہے: (زندگی، اور حیاتیات) Life, the science of biology چار امریکی یونیورسٹیوں کے پروفیسروں Sadava، Heller، Orians اور Purves کی تصنیف، جس کا مختلف مواد 67 دیگر اساتذہ نے نظر ثانی کی، اور کتاب "حیاتیات" Biology از Campel، asteur اور Reece، جس کا نظر ثانی سینکڑوں امریکی یونیورسٹیوں کے اساتذہ حیاتیات نے کیا۔ کتاب "زندگی" کے مطابق، (پہلی زندگی کا آغاز لازمی طور پر غیر زندگی یا جماد non life سے ہوا ہوگا۔ تمام مادے خواہ وہ زندہ ہوں یا غیر زندہ، کیمیائی مادوں سے مل کر بنتے ہیں۔ کیمیا کی سب سے چھوٹی اکائی ایٹم ہیں، جو آپس میں مل کر مالیکیول بناتے ہیں۔ ہمارا خیال ہے کہ وہ عمل جو زندگی کے وجود کا سبب بنے، تقریباً چار ارب سال پہلے شروع ہوئے، چھوٹے مالیکیولز کے درمیان تعامل کے ذریعے، جنہوں نے معلومات کو ایسی زنجیروں میں ذخیرہ کیا جن کی نقل تیار کرنا آسان تھا۔ کیمیائی معلومات مزید پیچیدہ ہوتی گئیں جب ان سادہ زنجیروں میں ذخیرہ شدہ معلومات نے بڑے، پیچیدہ لیکن نسبتاً مستحکم مالیکیولز کی ترکیب (تشکیل) کا باعث بنی۔ اور چونکہ یہ مستحکم اور پیچیدہ تھے، اس لیے یہ مالیکیولز کیمیائی تعاملات کی مقداری اور نوعی (معیاری) افزائش میں حصہ ڈال سکے۔ بعض بڑے مالیکیولز کی اقسام جیسے کاربوہائیڈریٹس، چکنائیاں، پروٹینز اور نیوکلک ایسڈز صرف جاندار آلات (اجهزة) کے ذریعے بنتے ہیں، اور یہی تمام جاندار آلات کو وجود دیتے ہیں۔
تقریباً ساڑھے تین ارب سال پہلے، مالیکیولز کے باہمی تعامل کرنے والے آلات نے خود کو آزاد حصوں میں بند کر لیا، جو ایک "جھلی" Membrane سے گھرے ہوئے تھے۔ اس جھلی کے ذریعے جو ان اکائیوں یا خلیوں Cells کو بند کرتی ہے، کنٹرول کا عمل شروع ہوا جو مالیکیولز کے داخلے اور حفاظت، اور خلیے کے اندر ہونے والے کیمیائی تعاملات کے ساتھ ساتھ مالیکیولز کے اخراج پر بھی کام کرتا ہے۔
خلیے توانائی حاصل کرنے اور خود کی تجدید (تکریر) میں بہت فعال ہوتے ہیں - اور یہ دونوں زندگی کی بنیادی صفات ہیں - اس لیے جب سے ان کا ارتقاء ہوا، انہوں نے زندگی کی دیگر تمام اشکال پر واضح برتری حاصل کر لی، جو غیر خلوی ہیں۔ خلیہ وہ اکائی ہے جس پر ساری زندگی کی بنیاد رکھی گئی ہے۔)
خلیوں کی دریافت کے بارے میں کتاب میں ذکر ہے کہ (1839 میں خوردبین (مائکروسکوپ) میں ترقی ہوئی اور مختلف زندہ مادوں کا مشاہدہ ممکن ہوا، جس کی وجہ سے جرمن فعلیات دان (وظائف الاعضاء کا ماہر) تھیوڈور شوان Theodor schwann اس نتیجے پر پہنچے کہ "ہر خلیہ اپنے سے پہلے موجود کسی زندہ خلیے سے آیا ہے۔" فرانسیسی کیمیا دان اور ماہر حیاتیات لوئی پاسچر Louis asteur نے 1859 اور 1861 میں جو تجربات کیے، انہوں نے زیادہ تر سائنسدانوں کو قائل کر دیا کہ خلیے غیر خلوی مادوں سے پیدا نہیں ہوتے بلکہ ان کا آنا دوسرے خلیوں سے ضروری ہے۔ جدید دور میں، زندگی کا جماد سے پیدا ہونا عقلی طور پر قابل قبول نہیں ہے۔)
کتاب "حیاتیات" میں مصنفین اپنا نظریہ کچھ اور طریقے سے پیش کرتے ہیں، جو کہ حسب ذیل ہے:
(ایک مفروضہ منظر نامے کے مطابق، پہلے جاندار Organisms چار مراحل میں کیمیائی ارتقاء کا نتیجہ تھے۔
پہلا مرحلہ: غیر حیاتیاتی (غیر نامیاتی) ترکیب اور چھوٹے نامیاتی مالیکیولز اور وحدانی (مونومر) مالیکیولز Monomer جیسے امینو ایسڈز اور نیوکلیوٹائیڈ نامیاتی مرکبات کا جمع ہونا۔
دوسرا مرحلہ: ان وحدانی مالیکیولز کا آپس میں مل کر متعدد (پولیمر) مالیکیولز بنانا، جن میں پروٹینز اور خلوی تیزاب (نیوکلک ایسڈز) شامل ہیں۔
تیسرا مرحلہ: جماد سے بننے والے مالیکیولز کا قطرات (چھوٹی بوندوں) droplets کی شکل میں جمع ہونا جنہیں پروٹوبیونٹس protobionts کہا جاتا ہے، اور جن میں کیمیائی خصوصیات ہوتی ہیں جو ان کے گردونواح سے مختلف ہوتی ہیں۔
چوتھا مرحلہ: وراثت کے وجود کا مرحلہ (جس کا وجود میں آنا بہت زیادہ امکان ہے کہ قطرات کے مرحلے سے پہلے ہی ہوا ہو)۔ ان کیمیائی ارتقاء کے مراحل کا معقول اور قابل قبول تجرباتی لیبارٹری ٹیسٹوں میں جائزہ لینا ممکن ہے۔)
کتاب ماہرین حیاتیات کی مختلف سائنسی لیبارٹریوں میں تجربات کرنے کی کوششوں کی وضاحت کرتی ہے تاکہ غیر نامیاتی مادوں سے نامیاتی مادوں کے بننے کے امکان کو ثابت کیا جا سکے، انہیں مختلف عوامل اور ماحول جیسے حرارت، آکسیجن کی کمی (آکسائڈیشن کو روکنے کے لیے)، بالائے بنفشی شعاعوں کے اثرات وغیرہ کا نشانہ بنا کر، جو ان حالات سے مشابہت رکھتے ہیں جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ تقریباً چار ارب سال پہلے زمین کی پیدائش کے دوران غالب تھے۔

"المناقشات الكثيرة حول نشوء الحياة"
یہ عنوان مذکورہ کتاب "حیاتیات" سے ہے، اس میں مصنفین درج ذیل لکھتے ہیں:
"لیبارٹری کے مصنوعی تجربے اس بات کو ثابت نہیں کر سکتے کہ اس قسم کا کیمیائی ارتقاء - جس کی ہم نے اوپر وضاحت کی ہے - نے حقیقی طور پر اس زمین پر زندگی کو پیدا کیا، بلکہ یہ صرف یہ ثابت کرتا ہے کہ کچھ اہم مراحل کا وقوع پذیر ہونا "ممکن" ہے۔ زندگی کا ماخذ اب بھی علمی قیاس آرائی (تخمین) کا مسئلہ ہے، اور اس بارے میں متبادل آراء موجود ہیں کہ کچھ بنیادی عمل کیسے رونما ہوئے۔
بعض سائنسدان یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا زندگی کے ظہور کے پہلے قدم میں زمین پر نامیاتی وحدانی مالیکیولز کی غیر حیاتیاتی تشکیل (ترکیب) ضروری تھی؟ کم از کم یہ ممکن ہے کہ کچھ نامیاتی مرکبات ابتدائی طور پر خلا سے زمین پر آئے ہوں۔ اس خیال کو پیدائش حیات خارجی (تولد أحيائي) Panspermia کہا جاتا ہے، اور یہ اپنے اس نظریے پر قائم ہے کہ سینکڑوں ہزاروں شہاب ثاقب، اور دم دار سیارے جنہوں نے ابتدائی زمین پر ضرب لگائی، اپنے ساتھ نامیاتی مالیکیولز لے کر آئے تھے جو بیرونی خلا میں غیر حیاتیاتی تعاملات کے ذریعے بنے تھے۔ ماورائے ارضی نامیاتی مرکبات، بشمول امینو ایسڈز، نئے شہاب ثاقب اور آسمانی پتھروں میں پائے گئے ہیں، اور یہ ممکن معلوم ہوتا ہے کہ یہ اجسام ہی ابتدائی طور پر بیج (بزور) اور نامیاتی مرکبات زمین تک لائے ہوں)۔
(ماہرین حیاتیات میں سے کچھ جو زندگی کے ماخذ میں دلچسپی رکھتے ہیں، "عالم رائبو نیوکلک ایسڈ (آر این اے) RNA" کے تصور کے ممکنہ ہونے کو چیلنج کرتے ہیں۔ ان کا چیلنج اس بنیاد پر ہے کہ رائبو نیوکلک ایسڈ کی مختصر زنجیر بھی شاید اس قدر پیچیدہ تھی کہ وہ پہلا مالیکیول نہیں ہو سکتا جو خود کی نقل تیار کرتا ہو۔)

 (ماہرین حیاتیات کے آراء کی وضاحت اور تشخیص)
شروع میں ہمیں دو بنیادی سوالوں کے درمیان فرق کرنا ہوگا جو ایک دوسرے سے پوری طرح مختلف ہیں: اولاً، اس زمین پر زندگی کو کس نے پیدا کیا؟ اور ثانیاً، اس زمین پر زندگی کیسے وجود میں آئی؟ ہم اوپر بیان کردہ سے یہ دیکھتے ہیں کہ ماہرین حیاتیات شاذ و نادر ہی پہلے بنیادی سوال پر بحث کرتے ہیں کہ اس کائنات میں پہلی زندگی کس نے پیدا کی؟ کیا محض اتفاق (صدفہ) نے؟ یا بے جان، گونگی، اندھی فطرت نے؟ اور یہ سب کچھ سائنسی اور عقلی نقطہ نظر سے ناممکن معلوم ہوتا ہے۔ اس لیے ان میں سے اکثر اس بات کا اظہار کرتے ہیں جس پر ہر انسان کی سالم فطرت ایمان رکھتی ہے کہ پہلا خالق اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہے، اور اس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ اور چونکہ خالق ماہرین حیاتیات کے نزدیک اس قدر معروف اور واضح ہے کہ اس کا وجود بدیہی اور مسلم ہے، اس لیے ان کے لیے اس کے بارے میں بات کرنے کی ضرورت نہیں، بلکہ ان کی سائنسی توجہ اس دوسرے سوال کے جواب دینے پر مرکوز ہے جو ہم نے پیش کیا، یعنی اللہ نے اس زمین پر زندگی کیسے پیدا کی؟ یعنی سوال اس کی نشانیوں کے بارے میں ہے جو آفاق اور انفس میں ہیں، جیسا کہ وہ تعالیٰ فرماتا ہے: "عنقریب ہم انہیں اپنی نشانیاں آفاق (کائنات) میں اور خود ان کے اندر دکھا دیں گے، یہاں تک کہ ان پر واضح ہو جائے کہ وہ (قرآن) حق ہے۔ کیا یہ کافی نہیں کہ آپ کا رب ہر چیز پر گواہ ہے؟" (سورہ فصلت: 53)۔
زندگی کے ماخذ کے نظریہ کے بارے میں، ہم دیکھتے ہیں کہ ماہرین حیاتیات کی کوئی متفقہ رائے نہیں ہے، تاہم وہ سائنسی مفروضے پیش کرتے ہیں خواہ وہ سچے ہوں یا خیالی، اور ان کی سوچ زندگی کے پہلے مسئلے یعنی ایک خلوی جاندار کی تخلیق کو حل کرنے سے شروع ہوتی ہے، کیونکہ وہ تصور کرتے ہیں کہ ڈارون کے نظریہ کے مطابق ارتقاء باقی تمام جانداروں یعنی انسان اور حیوان کی تخلیق کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے کافی ہے۔
اور چونکہ ایک خلوی جاندار جیسے بیکٹیریا کا خلیہ - جو جاندار خلیوں کی سب سے سادہ قسم ہے - اب بھی بہت زیادہ پیچیدہ ہے، اور اس میں ایسے ڈھانچے (تراکیب) موجود ہیں جن کی توصیف سے بیان عاجز ہے، اس لیے ہم دیکھتے ہیں کہ ماہرین حیاتیات میں سے منصف لوگ اسے سمجھنے سے اپنی عجز کا اعلان کرتے ہیں، لیکن وہ ایک منطقی سائنسی تسلسل فرض کر لیتے ہیں کہ زندگی کیسے وجود میں آئی، خواہ اس کا ماخذ کچھ بھی ہو۔ اور وہ اس کے لیے مقدمات فراہم کرنے لگتے ہیں، حسب ذیل:

اولاً: چونکہ جاندار خلیہ پروٹین سے بنا ہے جو مرکزہ (نواہ) کی ساخت میں شامل ہے، جو خلیے کا مرکز ہے، نیز خلوی سیال (سائٹوپلازم) کی ساخت میں بھی شامل ہے، اس لیے ضروری ہے کہ وہ تصور کریں کہ یہ پروٹین زمین پر کیسے بنا۔
ثانیاً: مادی عناصر کے مختلف ایٹمز نامیاتی مرکبات بنانے کی طاقت نہیں رکھتے، اس لیے وہ فرض کرتے ہیں کہ یہ عناصر ضرور "کسی طاقت" سے جمع ہوئے ہوں گے تاکہ نامیاتی مالیکیولز تشکیل دے سکیں، یا پھر وہ بیرونی خلا سے زمین پر آئے ہوں، یعنی آسمان سے زمین پر اترے ہوں، خواہ وہ شہابیوں اور آسمانی پتھروں کے ذریعے ہو یا کسی اور طریقے سے (جیسے آدم (ع) کا نزول)۔
ثالثاً: نامیاتی مالیکیولز "کسی طرح" جمع ہو کر امینو ایسڈز بنے، جو وہ پہلی سادہ زنجیر ہے جس سے پروٹین بنتا ہے۔
رابعاً: امینو ایسڈز "کسی طرح" جمع ہو کر پروٹین کی مختلف اقسام بنے، جیسے سائٹوپلازم جو مرکزے کے ارد گرد موجود سیال ہے، یا پروٹین جو زیادہ پیچیدہ ہے اور مرکزہ اسی سے بنا ہے۔
خامساً: پروٹینز "کسی طرح" جمع ہو کر اپنے آپ کو ایک جھلی میں گھیر لیتے ہیں، اس طرح ایک آزاد خلیہ وجود میں آتا ہے جس کے چاروں طرف خلیے کی جھلی (غلاف) ہوتی ہے۔ اور اسی طرح پروٹوپلازم "کسی طرح" جمع ہو کر خلیے کا مرکزہ بن جاتا ہے۔ اس طرح ایک جاندار خلیہ وجود میں آتا ہے جس میں مرکزہ، خلوی سیال، اور اس کے گرد جھلی ہوتی ہے۔
پہلے عام خیال یہ تھا کہ خلیے کا مرکزہ ایک سادہ اکائی ہے، کیونکہ عام خوردبین (مائکروسکوپ) کی وسعت کرنے کی صلاحیت تین ہزار گنا سے زیادہ نہیں تھی۔ لیکن الیکٹران خوردبین کی دریافت کے بعد، جو اشیاء کو پانچ لاکھ گنا تک بڑا کر سکتی ہے، ماہرین حیاتیات نے خلیے کی ساخت میں نہایت باریک عجائبات دیکھے جس کی وجہ سے انہیں اپنے تمام نظریات ساخت کے بارے میں ازسرنو جائزہ لینا پڑا۔
سادساً: الیکٹران خوردبین کی دریافت کے بعد یہ معلوم ہوا کہ خلیے کے مرکزے میں اس سے بھی چھوٹا ایک مرکزہ ہوتا ہے جسے "نویہ" (nucleolus) کہتے ہیں، پھر انہوں نے نویہ میں ایک نیوکلک ایسڈ پایا جسے ڈی این اے DNA کہا جاتا ہے، جو خلیے کا سوچنے والا دماغ، یا خلیے کا منتظم بادشاہ سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اسی سے تمام احکام خلیے کے مختلف حصوں کو جاری ہوتے ہیں اور انہیں منتقل کرنے کا کام ایک اور کیمیائی ساخت کرتی ہے جو نیوکلک ایسڈز ہی میں سے ہے جسے آر این اے RNA کہتے ہیں، اور یہ وہ قاصد ہے جو احکامات کو خلیے کے مختلف حصوں تک پہنچاتا ہے تاکہ وہ غذا لینے، فضلے نکالنے، آکسیجن لینے اور دیگر حیاتیاتی سرگرمیوں کو انجام دے سکیں۔
اسی طرح انہوں نے دیکھا کہ ڈی این اے ہی خلیے کی موروثی صفات کی منتقلی کا ذمہ دار ہے۔ اس لیے انہوں نے فرض کیا کہ پروٹین کے بننے کے بعد، نیوکلک ایسڈز بنے اور ان کے لیے خلیے کی حیاتیاتی سرگرمیوں کو چلانا ممکن ہوا تاکہ وہ زندہ رہے اور ساتھ ہی اس کی پیدائش اور افزائش نسل اور آنے والی نسلوں تک موروثی صفات کی منتقلی ممکن ہو سکے۔
سابعاً: نظریہ انفجار عظیم کے مطابق، زمین کا کرہ ایک آگ کا گولا تھا جس میں کوئی جاندار زندہ نہیں رہ سکتا تھا، کیونکہ نہ پانی تھا نہ آکسیجن، جو زندگی کے لیے ضروری ہیں، اور بالائے بنفشی شعاعیں اتنی شدید تھیں کہ کسی بھی جاندار خلیے کو ہلاک کر دیتیں۔ اس اشکال کو حل کرنے کے لیے سائنسدانوں کا خیال ہے کہ سینکڑوں لاکھوں سال گزرنے کے بعد، زمین کی سطح اتنی ٹھنڈی ہو گئی کہ پانی کے بخارات گاڑھے ہو کر بارش کی صورت میں برسے اور دریاؤں اور سمندروں کو بھر دیا۔ اس کے بعد بحر (سمندر) میں وحدانی نباتاتی خلیے اور چٹائی (اشنات) اگنا ممکن ہوا کیونکہ پانی انہیں بالائے بنفشی شعاعوں کے مہلک اثر سے بچاتا تھا۔ پھر ان ابتدائی پودوں نے روشنی سنتھیسس (تمثیل ضوئی) کا عمل شروع کیا تاکہ اپنی خوراک حاصل کر سکیں، جہاں انہوں نے کاربن ڈائی آکسائیڈ لیا اور سورج کی موجودگی میں اپنی خوراک تیار کی اور اس عمل کے ضمنی نتیجے کے طور پر فضا میں آکسیجن خارج کی۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ تقریباً دو ارب سال اس حالت پر گزرنے کے بعد، جاندار خلیے کا ارتقاء کثیر الخلوی پودوں اور جانوروں اور پھر ڈارون کے نظریہ کے مطابق انسان تک شروع ہوا (جس پر ہم پچھلی قسط میں بحث کر چکے ہیں)۔ ان تصورات اور نظریات پر ہمارے پاس درج ذیل نکات (ملاحظات) ہیں:

الملاحظة الاولى :
(پہلا نکتہ)
تمام سائنسدانوں نے واضح طور پر ذکر نہیں کیا کہ اللہ جل وعلا ہی وہ ذات ہے جس نے کائنات کو اس کی تمام چیزوں سمیت پیدا کیا اور اسی طرح جانداروں کو بھی پیدا کیا، اگرچہ ان میں سے بعض نے کائنات کے عدم سے وجود میں آنے کے ناممکن ہونے کا اعلان کیا ہے - جس پر ہم نے پچھلی قسط میں بحث کی تھی - اور ہم نے ماہرین حیاتیات کے اس اعلان کو بھی نقل کیا ہے کہ زندگی کا غیر زندگی (جماد) سے وجود میں آنا ناممکن ہے۔ اور سالم عقل سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اس حقیقت کو تسلیم کرے، جسے سائنسی طور پر قبول کرنے سے گریز ممکن نہیں، کہ زندگی اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی طرف سے ایک نئی تخلیق ہے، اور شاید اس کی تدریجی تخلیق کا طریقہ وہی ہو جو مذکورہ تصورات میں بیان کیا گیا ہے۔ جہاں تک جماد کا تعلق ہے، جو ارتقاء کی کوئی خاصیت نہیں رکھتا، وہ اسی حالت پر ہمیشہ رہے گا۔ اور اگر ہم فرض کر لیں کہ اس میں ارتقاء اور کسی خاص کمال کی طرف بڑھنے کی صلاحیت ہے، تو ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ کوئی خالق ہے جس نے اسے پیدا کیا اور اس میں یہ استعداد ارتقاء و تکامل پیدا کی۔

الملاحظة الثانية :
(دوسرا نکتہ)
پروٹین کے مالیکیول کی پیچیدگی اس بات کو قبول کرنا ناممکن بنا دیتی ہے کہ یہ اتفاقاً (صدفہ) سادہ نامیاتی مادوں اور مالیکیولز سے وجود میں آیا ہو، کیونکہ انسانی پروٹین کی ساخت کے لیے تین سو سے زیادہ امینو ایسڈز Amino acids کے ایک خاص ترتیب سے ملنے اور تعامل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، اور یہ تخلیق میں اتفاق (صدفہ) کے امکان کو صفر تک پہنچا دیتا ہے۔ کیونکہ امکان کی شرح ایک تقسیم بر ایک ارب ارب، تقریباً چالیس بار دہرانے کے برابر ہوگی، جو ایک انتہائی چھوٹی مقدار ہے جو صفر کے قریب ہے۔ اور یہ امکان صرف ایک پروٹین کے مالیکیول کے بننے کا ہے، تو لاکھوں مالیکیولز کے بننے اور ان کے آپس میں جڑ کر پیچیدہ نیوکلک ایسڈز یا مرکزہ یا اس کے ارد گرد موجود سائٹوپلازم بنانے کا امکان کس قدر ہوگا؟ اس لیے ہم دیکھتے ہیں کہ ماہرین حیاتیات، خلیے کی ساخت کے بارے میں باریک رازوں سے آگاہی کے بعد، تسلیم کرتے ہیں کہ یہ ارتقاء اتفاقاً نہیں ہو سکتا، اور خلیے کا کوئی خالق ضرور ہے جس نے اسے اس طرح منظم اور تشکیل دیا۔

الملاحظة الثالثة :
(تیسرا نکتہ)
اوپر بیان کردہ زندگی کے ارتقاء کے تصور کا مطلب یہ ہے کہ ایک عظیم انجینئر (معمار) نے ابتدا ہی سے کائنات کو پیدا کیا، اور وہ جانتا تھا کہ اس کائنات کا انجام کس طرف جانے والا ہے، کیونکہ انفجار عظیم کے بعد - اگر یہ نظریہ درست ہے - سیارے اس خاص طریقے سے بنے کہ وہ ایک دوسرے سے جدا ہو سکے جیسے زمین سورج سے جدا ہوئی، اور ضروری ہے کہ ابتدائی کائنات صرف مٹی (خاک) پر مشتمل نہ ہو بلکہ اس میں پانی کی کافی مقدار بھی ہو، اس لیے جب زمین کی سطح ٹھنڈی ہوئی تو بارش برسی اور سمندر بنے جو زمین کی سطح کا 70 فیصد حصہ ڈھانپتے ہیں، اور آکسیجن تقریباً 20 فیصد کی شرح سے بنی جو زندگی کے لیے کافی ہے نہ زیادہ نہ کم، اوزون کی تہہ تین آکسیجن (O3) سے بنی تاکہ جانداروں کو بالائے بنفشی شعاعوں کے مضر اثرات سے بچا سکے، اور فضا (غلاف جوی) بنی تاکہ زمین کو شہابیوں اور آسمانی پتھروں سے محفوظ رکھے جو لاکھوں کی تعداد میں سالانہ زمین تک پہنچتے ہیں اور سب فضا میں جل کر راکھ بن جاتے ہیں اور نقصان کے بغیر زمین تک پہنچتے ہیں، ورنہ یہ شہابیے زمین پر زندگی کو تباہ کر دیتے۔ یہ تمام قوانین لازماً شروع سے ہی حساب میں رکھے گئے ہوں گے اور جس نے انہیں پیدا کیا وہ پہلے سے جانتا تھا کہ معاملات کس انجام کو پہنچیں گے، اس لیے اس نے کائنات کو اس انداز سے پیدا کیا جو اسے ارتقاء اور اس میں زندگی کے ظہور کی اجازت دیتا ہے۔ اس بنیاد پر، ہم یہ قبول نہیں کر سکتے کہ اندھی، گونگی، بے جان فطرت کائنات کی تخلیق اور اس کے ارتقاء کا سبب تھی، اور اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ ہم تسلیم کریں کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہی وہ ذات ہے جس نے کائنات کو اپنی قدرت، ازلی و مطلق علم اور اپنی مشیت سے پیدا کیا، جو اس کائنات اور اس کے شاندار، خوبصورت اور مکمل نظام کے ظہور کا سبب بنی۔

الملاحظة الرابعة :
(چوتھا نکتہ)
وہ تمام نظریات جن کا ذکر کیا گیا اور جن کے بارے میں بعض سائنسدان ممکنہ ہونے کا گمان کرتے ہیں، درحقیقت جدید سائنس کی اس وقت اس کے سوا کوئی اور نظریہ تصور کرنے سے عجز کا اظہار ہیں، اور شاید سائنس اور دریافتوں میں ترقی ہو اور مستقبل میں دوسرے نظریات سامنے آئیں جو نئی چیزوں کی وضاحت کریں جو آج معلوم نہیں ہیں۔ جتنی سائنس ترقی کرے گی، نئے نظریات سامنے آئیں گے جو پچھلے نظریات کو منسوخ کریں گے یا ان کے میدانوں اور تفصیلات کا تعین کریں گے۔

الملاحظة الخامسة :
(پانچواں نکتہ)
سائنسدانوں نے جو کچھ بیان کیا ہے وہ صرف خلیے کے مادی حصے کا بننا ہے، جس کے لیے نامیاتی کیمیائی مادوں اور پروٹین، چکنائی، کاربوہائیڈریٹس اور دیگر کے مالیکیولز کی ضرورت ہے جو خلیے کی ساخت کے لیے ضروری ہیں۔ لیکن جس چیز کا سائنسدانوں نے ذکر نہیں کیا وہ جاندار خلیے کا غیر مادی حصہ ہے، اور وہ ہے "روح" جو جانداروں کو دوسروں سے ممتاز کرتی ہے اور خلیے کی حرکت، سرگرمیوں اور افزائش کو ممکن بناتی ہے۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر ہم نامیاتی مالیکیولز کی مطلوبہ مقدار جمع کر بھی لیں تو یہ ایک جاندار خلیے کی تشکیل کا باعث نہیں بنے گا۔ جیسا کہ جب خلیہ مر جاتا ہے تو اس کے تمام مادی اجزاء موجود ہوتے ہیں لیکن وہ کام کرنے سے معذور (مفلوج) ہوتا ہے، تو کس چیز نے اسے معذور کر دیا اور اسے ایک بے حرکت جماد بنا دیا؟ روح کا موضوع دلچسپ اور پرکشش ہے، اور ہم اس کی بحث کو کسی اور قسط پر اٹھا رکھتے ہیں، ان شاء اللہ۔

خلق الحياة في القرآن الكريم
قرآن مجید نے اپنی معجزانہ آیات میں زمین پر زندگی کے ظہور کے طریقے کو واضح طور پر بیان کیا ہے، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں: "کیا ان لوگوں نے نہیں دیکھا جنہوں نے کفر کیا کہ آسمان اور زمین بند (رتقا) تھے، تو ہم نے انہیں کھول دیا (فتقنا) اور ہم نے پانی سے ہر زندہ چیز بنائی" (سورہ الانبیاء: 30)۔ مختلف تفاسیر اور احادیث اس آیت کی تفسیر میں وضاحت کرتی ہیں کہ آسمان اور زمین بند (رتقا) تھے یعنی آسمان بارش نہیں برساتا تھا اور زمین نباتات (کھیتی) نہیں اگاتی تھی، تو اللہ جل وعلا نے انہیں کھول دیا (فتق) تو آسمان سے بارش برسی اور زمین کھیتی کے لیے درست ہو گئی۔ اور اللہ تعالیٰ کا فرمان "اور ہم نے پانی سے ہر زندہ چیز بنائی" سائنسی طور پر ثابت ہے، کیونکہ جاندار خواہ وہ پودا ہو، حیوان ہو یا انسان، اور خواہ وہ یک خلوی ہو یا کثیر الخلوی، سب کی ساخت میں پانی کا ایک بڑا حصہ شامل ہے اور پانی کے بغیر خلیہ زندہ نہیں رہ سکتا۔
ہم دیکھتے ہیں کہ یہ مبارک آیت اس بات کا خلاصہ پیش کرتی ہے جو سائنسدان آج کل زمین کے اس طرح تیار ہونے کے بارے میں سوچتے ہیں کہ اس پر زندگی ممکن ہو سکے، جیسا کہ ہم نے پہلے بیان کیا۔
اور ہم ایک اور آیت میں انسان کی تخلیق کے بارے میں دیکھتے ہیں، اللہ تعالیٰ کا فرمان:
"اور یقیناً ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصے (سلالة) سے پیدا کیا" (سورہ المؤمنون: 12)۔
ہم دیکھتے ہیں کہ آیت اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ انسان مٹی کے خلاصے (سلالة) یعنی اس کے صاف ستھرے حصے سے پیدا کیا گیا، جو گندگی سے نکالا گیا (استلت) ہے، یعنی وہ نچوڑ ہے جو مٹی کے اجزاء سے لیا گیا۔ اور آیت میں انسان سے مراد انسان کی جنس ہے - جیسا کہ بعض مفسرین کا خیال ہے - نہ کہ خاص طور پر نبی آدم (ع)، کیونکہ تمام انسان نطفے سے پیدا ہوئے جن کا مادہ مٹی سے اخذ کیا گیا ہے۔
باقی آیت کی تشریح اور اس میں روح کے وجود کی طرف اشارہ کو ہم آنے والی قسطوں پر چھوڑتے ہیں، ان شاء اللہ۔
والحمد لله رب العالمين.

حوالہ جات:
1.  سورہ فصلت، آیت 53۔
2.  سورہ الانبیاء، آیت 30۔
3.  سورہ المؤمنون، آیت 12۔

آپ کا تبصرہ شامل کریں

قارئین کے تبصرے

کوئی تبصرہ موجودنہیں ہے
*
*

امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک