امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک

معیشت، کاروبار، اور بینکنگ کا شعبہ

0 ووٹ دیں 00.0 / 5

معیشت، کاروبار، اور بینکنگ کے شعبے میں جدید غلامی ایک نہایت پیچیدہ مگر انتہائی منظم شکل میں موجود ہے، جہاں افراد، ادارے اور پوری قومیں غیر محسوس طریقے سے عالمی مالیاتی نظام کے جال میں جکڑی جاتی ہیں۔ یہ غلامی براہ راست جسمانی جبر کے بجائے ذہنی، نفسیاتی، اور مالیاتی پالیسیوں کے ذریعے نافذ کی جاتی ہے، تاکہ انسان خود کو بظاہر آزاد سمجھے، لیکن درحقیقت اس کی معاشی قسمت کا فیصلہ وہی استحصالی قوتیں کریں جو عالمی معیشت کے اصل مراکز پر قابض ہیں۔ آج کا عالمی اقتصادی نظام اس انداز میں ڈیزائن کیا گیا ہے کہ ترقی پذیر ممالک اور عام شہری ایک مسلسل قرضوں، افراطِ زر، اور مصنوعی ضروریات کے چکر میں پھنستے چلے جائیں اور یوں وہ خود کو مالیاتی غلامی سے کبھی آزاد نہ کر سکیں۔

جدید مالیاتی نظام کا سب سے بڑا ہتھیار سودی معیشت ہے، جو بظاہر ترقی اور خوشحالی کے نام پر نافذ کی جاتی ہے، لیکن حقیقت میں یہ ایک ایسی زنجیر ہے جو اقوام اور افراد کو ہمیشہ محتاج اور دستِ نگر رکھتی ہے۔ بینکنگ کا پورا ڈھانچہ اس سودی نظام پر قائم ہے، جہاں عام افراد گھروں، گاڑیوں، اور کاروبار کے لیے قرضہ لیتے ہیں، اور پھر برسوں تک سود کی شکل میں اصل رقم سے کئی گنا زیادہ ادا کرتے ہیں، لیکن اس کے باوجود ان کی ملکیت بینکوں کے پاس ہی رہتی ہے۔ اسی طرح، ترقی پذیر ممالک کو عالمی مالیاتی اداروں سے قرض دیا جاتا ہے، لیکن وہ قرض ایسے شرائط کے ساتھ آتا ہے کہ ان ممالک کو اپنی معیشت، پالیسی سازی، اور قدرتی وسائل پر اختیار کھونا پڑتا ہے۔ یہ قرضے درحقیقت استعماری طاقتوں کے لیے ایک ایسا ذریعہ ہیں جس کے ذریعے وہ ممالک کو مستقل غلامی میں رکھ سکیں اور ان پر اپنی مرضی کے فیصلے مسلط کر سکیں۔

عالمی تجارتی نظام بھی جدید غلامی کے ایک بڑے ہتھیار کے طور پر استعمال ہوتا ہے، جہاں ترقی پذیر ممالک کو خام مال اور سستی مزدوری فراہم کرنے کے مراکز کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ اصل منافع اور تجارتی برتری مغربی ممالک کے ہاتھ میں رہتی ہے۔ ملٹی نیشنل کمپنیاں ترقی پذیر ممالک میں کارخانے قائم کر کے کم اجرت پر مزدوروں سے کام لیتی ہیں، جبکہ وہی مصنوعات مہنگے داموں مغربی مارکیٹ میں فروخت کی جاتی ہیں، اور یوں ان ممالک کے مزدور اور وسائل کا استحصال کیا جاتا ہے۔ جدید کارپوریٹ نظام میں افراد کو صارفیت (consumerism) کا ایسا عادی بنا دیا جاتا ہے کہ وہ ہمیشہ نئی اشیاء خریدنے کی دوڑ میں لگے رہیں، جس سے وہ قرضوں میں جکڑ جاتے ہیں اور بڑی کمپنیوں اور بینکوں کے مستقل محتاج بن جاتے ہیں۔

بین الاقوامی مالیاتی ادارے جیسے ورلڈ بینک، آئی ایم ایف، اور عالمی تجارتی تنظیم بھی جدید غلامی کے نظام میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ جب کوئی ملک ان اداروں سے قرض لیتا ہے تو اسے اپنی پالیسیوں کو ان کی شرائط کے مطابق ڈھالنا پڑتا ہے، جس میں اکثر نجکاری، سبسڈی کا خاتمہ، اور مقامی صنعتوں کی کمزوری شامل ہوتی ہے۔ نتیجتاً، یہ ممالک اپنی معیشت کو آزادانہ طور پر منظم نہیں کر سکتے اور انہیں ہر بڑے مالیاتی فیصلے کے لیے انہی عالمی اداروں کی طرف دیکھنا پڑتا ہے۔

 اس کے ساتھ ساتھ، وہ ممالک جو اپنی معیشت کو خود مختار بنانے کی کوشش کرتے ہیں، انہیں مختلف اقتصادی پابندیوں اور تجارتی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تاکہ وہ کبھی بھی عالمی مالیاتی اشرافیہ کے اثر و رسوخ سے باہر نہ جا سکیں۔

کرنسی کا استحصالی نظام بھی جدید غلامی کی ایک اہم شکل ہے، جہاں دنیا بھر کی معیشتوں کو امریکی ڈالر یا یورپی کرنسیوں پر منحصر کر دیا گیا ہے۔ تیل، سونا، اور دیگر اہم اشیاء کی تجارت مخصوص عالمی کرنسیوں میں کی جاتی ہے، جس کی وجہ سے ترقی پذیر ممالک کو ہمیشہ غیر ملکی زرمبادلہ کی کمی کا سامنا رہتا ہے۔ جب کبھی کوئی ملک اس مالیاتی نظام سے باہر نکلنے کی کوشش کرتا ہے، تو اسے اقتصادی پابندیوں، داخلی خلفشار، یا حتیٰ کہ فوجی مداخلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تاکہ وہ دوبارہ اسی نظام میں واپس آ جائے۔

کاروباری دنیا میں جدید غلامی کا ایک اور بڑا عنصر اجرتی غلامی (wage slavery) ہے، جہاں عام افراد اپنی زندگی کا بیشتر حصہ ملازمتوں میں گزار دیتے ہیں، لیکن انہیں کبھی بھی وہ مالی استحکام حاصل نہیں ہوتا جو ان کے حقیقی محنت کا صلہ ہونا چاہیے۔ کمپنیاں مزدوروں کو اس حد تک مصروف اور معاشی طور پر مجبور رکھتی ہیں کہ وہ اپنی معاشی بہتری کے لیے کوئی متبادل راستہ تلاش ہی نہ کر سکیں۔ بڑے کاروباری ادارے اور ملٹی نیشنل کمپنیاں اجرتوں کو کم سے کم رکھنے کے لیے مختلف طریقے اپناتی ہیں، جس کی وجہ سے عام آدمی کے لیے مالی آزادی کا حصول تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔

ڈیجیٹل معیشت کے میدان میں بھی جدید غلامی کے نئے طریقے متعارف کرائے جا رہے ہیں۔ آج بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں صارفین کی ذاتی معلومات اور ڈیٹا کو استعمال کر کے ان کے رویوں کو کنٹرول کرتی ہیں، اور انہیں مخصوص اشتہارات، مصنوعات، اور مالیاتی خدمات کی جانب راغب کیا جاتا ہے۔ ڈیجیٹل لین دین کو فروغ دے کر افراد کو کیش لیس معیشت کی طرف دھکیلا جا رہا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ہر شخص کی خریداری، مالی فیصلے، اور اخراجات کا مکمل ڈیٹا ان طاقتور کمپنیوں اور حکومتوں کے پاس ہوگا، اور جب چاہیں کسی کو مالیاتی طور پر مفلوج کیا جا سکتا ہے۔

جدید غلامی کا ایک اور بڑا پہلو یہ ہے کہ افراد کو "امیر بننے" کا خواب دکھا کر انہیں ایک نہ ختم ہونے والی دوڑ میں لگا دیا جاتا ہے، جہاں وہ سمجھتے ہیں کہ اگر وہ زیادہ محنت کریں گے، زیادہ سرمایہ کاری کریں گے، اور زیادہ قرض لیں گے تو وہ مالی طور پر مستحکم ہو جائیں گے۔

 لیکن حقیقت میں، یہ نظام اس انداز میں ترتیب دیا گیا ہے کہ وہ کبھی بھی مکمل مالی آزادی حاصل نہیں کر سکتے۔ اس کے بجائے، وہ مزید قرضوں، مزید اخراجات، اور مزید محنت میں الجھتے چلے جاتے ہیں، اور یوں وہ اپنی ساری زندگی اسی استحصالی معاشی ڈھانچے کی خدمت میں لگا دیتے ہیں۔

معیشت، کاروبار، اور بینکنگ کے شعبے میں جدید غلامی کی مختلف مثالیں تاریخی اور معاصر حوالوں سے واضح کی جا سکتی ہیں۔ تاریخ میں ہمیں دیکھنے کو ملتا ہے کہ کیسے استعماری طاقتوں نے قرضوں اور تجارتی استحصال کے ذریعے اقوام کو غلام بنایا۔

 مثال کے طور پر، برطانوی سامراج نے ہندوستان کی معیشت کو اس حد تک جکڑ لیا کہ مقامی صنعتیں ختم ہو گئیں اور برطانیہ سے درآمد شدہ اشیاء کی مانگ بڑھا دی گئی۔ گاندھی جی کی مشہور "سوتی تحریک" اسی معاشی غلامی کے خلاف مزاحمت کی علامت تھی، جس میں مقامی صنعت کو فروغ دینے کی کوشش کی گئی تاکہ درآمدات پر انحصار کم ہو۔

جدید دور میں یہی استحصالی طریقے مالیاتی اداروں کے ذریعے جاری رکھے گئے ہیں۔ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) اور ورلڈ بینک جیسے عالمی ادارے ترقی پذیر ممالک کو قرض فراہم کرتے ہیں، لیکن ان قرضوں کے ساتھ ایسی شرائط عائد کی جاتی ہیں جن کے تحت ان ممالک کو اپنی اقتصادی پالیسیوں میں بنیادی تبدیلیاں کرنی پڑتی ہیں۔

 ان میں سبسڈی کا خاتمہ، نجکاری، اور قومی وسائل کو بین الاقوامی کمپنیوں کے لیے کھولنا شامل ہے۔ ایک مثال 1980 کی دہائی میں لاطینی امریکی ممالک کی ہے، جہاں آئی ایم ایف کے "اسٹرکچرل ایڈجسٹمنٹ پروگرام" کے نتیجے میں غربت میں بے پناہ اضافہ ہوا اور عوامی سہولیات کو نجی اداروں کے سپرد کر دیا گیا۔

سودی نظام جدید مالیاتی غلامی کا سب سے بڑا ستون ہے۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ۔۔۔

 "اور اگر تم (سود) نہ چھوڑو تو اللہ اور اس کے رسول (ص) سے جنگ کے لیے تیار ہو جاؤ" (البقرہ 2:279)۔

 یہ واضح کرتا ہے کہ سودی معیشت ایک ظالمانہ نظام ہے جو افراد اور اقوام کو مالیاتی غلام بناتا ہے۔

 مثال کے طور پر، امریکہ میں 2008 کا مالی بحران بنیادی طور پر بینکوں کے دیے گئے سودی قرضوں کی وجہ سے آیا، جس میں لاکھوں افراد اپنے گھروں اور روزگار سے محروم ہو گئے، جبکہ بڑے بینکوں کو حکومتی امداد سے بچایا گیا۔ یہ سرمایہ دارانہ معیشت کے اس دوہرے معیار کو ظاہر کرتا ہے جہاں عام آدمی خسارے میں رہتا ہے اور بڑے مالیاتی ادارے مستفید ہوتے ہیں۔

تجارتی استحصال کی ایک اور بڑی مثال افریقی ممالک میں دیکھی جا سکتی ہے۔ فرانس نے اپنی سابقہ نوآبادیاتی ریاستوں پر ایک ایسا مالیاتی نظام نافذ کر رکھا ہے جس کے تحت وہ ان ممالک کی کرنسی کو کنٹرول کرتا ہے اور انہیں زبردستی فرانسیسی خزانے میں اپنی دولت جمع کرانی پڑتی ہے۔ نتیجتاً، یہ ممالک حقیقی معنوں میں آزاد ہونے کے باوجود مالیاتی طور پر خود مختار نہیں ہو سکتے۔ اسی طرح، نائجیریا جیسے ممالک کو تیل کی برآمد سے خاطر خواہ آمدنی ہوتی ہے، لیکن اس کا بیشتر حصہ مغربی کمپنیوں کے منافع میں چلا جاتا ہے، جبکہ مقامی آبادی بنیادی سہولیات سے بھی محروم رہتی ہے۔

صارفیت کے کلچر کو فروغ دینا بھی جدید غلامی کا ایک بڑا حربہ ہے۔ آج کل لوگوں کو مختلف اشتہارات اور مارکیٹنگ مہمات کے ذریعے اس قدر قائل کر دیا جاتا ہے کہ وہ غیر ضروری اشیاء خریدنے کے لیے قرض لینے پر مجبور ہو جائیں۔ امریکہ میں کریڈٹ کارڈ انڈسٹری اسی بنیاد پر قائم ہے کہ لوگ ہر ماہ اپنی آمدنی کا بڑا حصہ سود کی ادائیگی میں صرف کرتے رہیں۔

 حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں: "

"قالَ عَلِىُّ عليه السلام: اِيّاكُمْ وَالدَّيْنَ؛ فَاِنَّهُ هَمٌّ بِاللَّيْلِ وَذُلٌّ بِالنَّهارِ" (نهج البلاغه)۔

"قرض لینے سے پرہیز کرو چونکہ قرض رات کو غم اور دن میں ذلت کا باعث ہے"

 یہ حقیقت ہے کہ جب انسان مالی بوجھ تلے دب جائے تو وہ اپنی آزادی اور خود مختاری کھو دیتا ہے۔

ڈیجیٹل معیشت میں بھی یہی استحصال جاری ہے۔ چین میں "سوشل کریڈٹ سسٹم" متعارف کرایا گیا، جہاں شہریوں کے مالی معاملات، سوشل میڈیا سرگرمی، اور رویے کو ایک اسکورنگ سسٹم میں شامل کر کے ان کی مالیاتی سہولیات کو محدود یا وسیع کیا جاتا ہے۔ اگر کسی شخص کا اسکور کم ہو جائے تو اسے سفر، رہائش، یا ملازمت میں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ ایک ایسی ڈیجیٹل غلامی کی شکل ہے جس میں حکومتیں اور بڑی کمپنیاں افراد کی مالیاتی خود مختاری پر مکمل کنٹرول رکھتی ہیں۔

اگر کوئی ملک عالمی مالیاتی اشرافیہ کے تسلط سے نکلنے کی کوشش کرے تو اس پر اقتصادی پابندیاں عائد کر دی جاتی ہیں۔ وینزویلا کی مثال لی جائے تو وہاں کی حکومت نے اپنی معیشت کو امریکی ڈالر سے آزاد کرنے کی کوشش کی، لیکن اس کے جواب میں امریکہ نے سخت پابندیاں لگا دیں، جس کی وجہ سے وہاں کے عوام کو غذائی اور طبی قلت کا سامنا کرنا پڑا۔ ایران پر بھی معاشی پابندیاں اسی لیے عائد کی گئیں کہ وہ سودی مالیاتی نظام اور امریکی ڈالر کی اجارہ داری سے نکلنے کی کوشش کر رہا تھا۔

اس استحصالی نظام سے بچنے کا واحد راستہ اسلامی معیشت کے اصولوں کو اپنانا ہے۔

 حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: "

لَنْ تَفْلَحَ أُمَّةٌ يَكْتَنِزُ أَمْوَالَهَا فِيهَا أُولُو قِلَّةٍ. (او)

لَنْ تُرْقَى أُمَّةٌ يَتَحَكَّمُ فِي ثَرْوَاتِهَا قَلِيلُونَ

وہ قوم کبھی فلاح نہیں پا سکتی جس میں دولت چند ہاتھوں میں محدود ہو" (مسند احمد)۔

اسلامی اقتصادی نظام سود سے پاک ہے، زکوٰۃ اور خمس کے ذریعے دولت کی منصفانہ تقسیم کرتا ہے، اور ذخیرہ اندوزی و اجرتی غلامی کو مسترد کرتا ہے۔ ایران میں بعض اسلامی مالیاتی ماڈلز متعارف کروائے گئے ہیں جن میں بینک بغیر سود کے قرضے فراہم کرتے ہیں، اور اسلامی کوآپریٹو بینکنگ کا نظام اپنایا گیا ہے تاکہ مالیاتی خود مختاری حاصل کی جا سکے۔

جب تک اقوام اپنی معیشت کو خود کفیل بنانے کے اقدامات نہیں کرتیں اور عالمی مالیاتی اداروں کے تسلط سے نکلنے کے لیے مقامی صنعتی اور زرعی پیداوار کو فروغ نہیں دیتیں، اس وقت تک یہ جدید غلامی برقرار رہے گی۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق، مالیاتی آزادی اور معاشی انصاف کے بغیر حقیقی آزادی کا حصول ممکن نہیں۔

اس سے نجات کے لیے ضروری ہے کہ ایک متبادل معاشی نظام تشکیل دیا جائے جو سودی معیشت، استحصالی بینکنگ، اور صارفیت کے بجائے مقامی وسائل، اسلامی اقتصادی اصولوں، اور حقیقی معاشی خود مختاری پر مبنی ہو۔ خود کفالت کی پالیسیوں کو فروغ دینا، مقامی صنعتوں کو مضبوط کرنا، اور اسلامی مالیاتی نظام کو نافذ کرنا ہی وہ راستے ہیں جو اس جدید غلامی کے شکنجے سے نکلنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ جب تک اقوام اپنی معیشت کو خود مختار نہیں کریں گی اور عالمی مالیاتی اداروں پر انحصار کم نہیں کریں گی، اس وقت تک وہ حقیقی آزادی حاصل نہیں کر سکتیں۔ جدید غلامی صرف اس وقت ختم ہوگی جب مالیاتی، کاروباری، اور بینکاری کے شعبے میں استحصال کے بجائے انصاف، خود مختاری، اور مقامی ترقی کو بنیادی حیثیت دی جائے گی۔

آپ کا تبصرہ شامل کریں

قارئین کے تبصرے

کوئی تبصرہ موجودنہیں ہے
*
*

امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک