مذہب کا شعبہ
مذہبی شعبے میں جدید غلامی سب سے زیادہ نازک اور پیچیدہ انداز میں کام کرتی ہے، کیونکہ یہ براہ راست عقائد، عبادات، اور دینی افکار کو متاثر کرتی ہے۔ یہ غلامی افراد کو ظاہری طور پر دین کے قریب رکھتی ہے، لیکن ان کے فہم اور دینی شعور کو اس نہج پر لے جاتی ہے کہ وہ اصل روح سے محروم ہو کر ایک مخصوص بیانیے کے اسیر بن جائیں۔ استعماری طاقتیں براہ راست مذہب پر حملہ کرنے کے بجائے ایسے نظریات، شخصیات، اور ادارے پروان چڑھاتی ہیں جو دین کی نئی تشریحات پیش کریں، دین کو ایک رسمی عمل میں محدود کر دیں، یا اسے سیاسی اور معاشرتی زندگی سے بالکل جدا کر دیں۔ اس غلامی کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ دینی طبقے کو مختلف گروہوں میں تقسیم کر کے فرقہ واریت کو ہوا دی جائے، تاکہ مسلمان آپس میں ہی الجھتے رہیں اور اپنے حقیقی دشمنوں کو پہچاننے سے قاصر رہیں۔
دین کی تعبیر و تشریح کے معاملے میں جدید غلامی اس طرح ظاہر ہوتی ہے کہ یا تو اسلام کو بالکل ہی قدامت پرستی اور پسماندگی سے جوڑ دیا جاتا ہے، یا پھر اسے اس قدر نرم اور لبرل بنا دیا جاتا ہے کہ وہ استعماری طاقتوں کے سماجی اور سیاسی ایجنڈے سے متصادم نہ رہ
ے۔ استشراق اور مغربی دانش گاہیں ایسے علما، اسکالرز، اور مفکرین کو فروغ دیتی ہیں جو دین کی ایسی تشریحات پیش کریں جو مغربی افکار اور اقدار کے لیے خطرہ نہ بنیں، بلکہ الٹا انہیں تقویت دیں۔ ایسے خیالات متعارف کرائے جاتے ہیں جن کے تحت جہاد، امر بالمعروف، نہی عن المنکر، اور اسلامی معاشرتی اصولوں کو شدت پسندی اور رجعت پسندی سے تعبیر کیا جائے، جبکہ ہر وہ تصور جو اسلام کی اجتماعی قوت کو مضبوط کرتا ہو، اسے متنازع بنا دیا جائے۔ اس کے برعکس ایسے تصورات کو عام کیا جاتا ہے جو دین کو محض ایک انفرادی اور نجی عمل تک محدود کر دیں، تاکہ وہ ایک اجتماعی، انقلابی، اور عملی نظام کے طور پر سامنے نہ آئے۔
دینی تعلیمی اداروں کو بھی اس غلامی کے تحت مختلف مراحل سے گزارا جاتا ہے۔ بعض جگہوں پر انہیں ریاست کے مکمل کنٹرول میں دے دیا جاتا ہے، تاکہ ان کے نصاب اور طریقہ تدریس کو حکومتی پالیسیوں کے مطابق ڈھالا جا سکے، اور بعض جگہ انہیں اس قدر تنہا کر دیا جاتا ہے کہ وہ جدید دنیا سے کٹ کر غیر مؤثر ہو جائیں۔ دینی نصاب میں بھی ایسا مواد شامل کیا جاتا ہے جو طلبہ کو صرف رسمی علوم تک محدود رکھے، لیکن انہیں جدید فکری چیلنجز اور عالمی سازشوں سے بے خبر رکھے۔
اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک طرف ایسے علما پیدا ہوتے ہیں جو جدید دور کے مسائل کا اسلامی حل پیش کرنے سے قاصر ہوتے ہیں، اور دوسری طرف ایک ایسی نسل پروان چڑھتی ہے جو دین کو صرف کتابی یا ماضی کا ایک قصہ سمجھ کر جدیدیت اور مغربی افکار کی طرف مائل ہو جاتی ہے۔
عبادات کے دائرے میں جدید غلامی کا ایک پہلو یہ ہے کہ دین کے ظاہری پہلوؤں پر تو بہت زیادہ زور دیا جاتا ہے، لیکن اس کی روح اور فلسفے کو پس پشت ڈال دیا جاتا ہے۔ عبادات کو محض ایک رسمی عمل بنا کر پیش کیا جاتا ہے، جس کا مقصد صرف ذاتی نجات یا اخروی فلاح ہو، لیکن ان عبادات کے وہ پہلو جن سے معاشرتی انقلاب، اجتماعی بیداری، اور ظلم کے خلاف مزاحمت کا درس ملتا ہے، انہیں مکمل طور پر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ اس طرح دین کو ایک غیر متحرک اور غیر انقلابی مذہب کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، تاکہ وہ موجودہ عالمی استحصالی نظام کے لیے کوئی خطرہ نہ بن سکے۔
مذہبی قیادت کے دائرے میں بھی جدید غلامی کا جال بڑی ہوشیاری سے بچھایا جاتا ہے۔
بعض علما اور مذہبی شخصیات کو جان بوجھ کر میڈیا کے ذریعے مشہور کیا جاتا ہے، تاکہ وہ دین کی ایسی تشریح کریں جو عالمی طاقتوں کے لیے خطرہ نہ ہو۔ بعض دینی رہنماؤں کو مالی اور سیاسی مفادات میں الجھا دیا جاتا ہے، تاکہ وہ استعماری طاقتوں کے خلاف کوئی مضبوط موقف نہ لے سکی
ں۔ اس کے برعکس جو علما اور اسکالرز حقیقی دینی بیداری کی کوشش کرتے ہیں، انہیں شدت پسند، انتہا پسند، یا متنازع قرار دے کر الگ تھلگ کر دیا جاتا ہے، تاکہ عوام ان کے افکار سے متاثر نہ ہو سکیں۔
مساجد اور دینی اجتماعات کو بھی اس غلامی کے تحت مخصوص دائرے میں محدود کر دیا جاتا ہے۔
جہاں ممکن ہو، وہاں ریاستی کنٹرول کے ذریعے خطبات اور دینی بیانیے کو مخصوص پالیسیوں کے مطابق ڈھال دیا جاتا ہے۔ جہاں یہ ممکن نہ ہو، وہاں ایسے نظریاتی اور فکری رجحانات کو فروغ دیا جاتا ہے جو عوام کو صرف انفرادی اصلاح اور روحانی مشقوں میں الجھائے رکھیں، لیکن انہیں اجتماعی فکری و عملی بیداری کی طرف نہ لے جائیں۔
اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دین ایک زندہ اور متحرک قوت بننے کے بجائے محض ایک ذاتی عقیدہ اور روحانی مشق کا درجہ اختیار کر لیتا ہے، جو سماجی و سیاسی تبدیلی پر کوئی اثر نہیں ڈال سکتا۔
مذہبی تہواروں، اعمال، اور رسوم کو بھی جدید غلامی کے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ یا تو انہیں سطحی اور تجارتی انداز میں پیش کیا جاتا ہے، تاکہ لوگ ان کے حقیقی پیغام سے غافل ہو جائیں، یا پھر ان میں ایسے غیر ضروری اور اختلافی پہلو داخل کیے جاتے ہیں جو فرقہ واریت کو بڑھا کر مسلمانوں کو تقسیم کر دیں۔
اس کے ساتھ ساتھ، بعض روایات اور اعمال کو انتہا پسندی یا دقیانوسیت سے جوڑ کر ان پر قدغن لگانے کی کوشش کی جاتی ہے، جبکہ دوسری طرف ایسی رسومات کو فروغ دیا جاتا ہے جو دین کے نام پر ہو کر بھی درحقیقت لوگوں کو اس کی اصل روح سے دور کر دیں۔
یہ سب مل کر ایک ایسا ماحول بناتے ہیں جہاں مذہب بظاہر موجود رہتا ہے، لیکن اس کی روح، مقصد، اور اجتماعی اثر ختم کر دیا جاتا ہے۔ دین کو ایک مکمل ضابطہ حیات کے طور پر اپنانے کے بجائے اسے یا تو صرف انفرادی عبادات تک محدود کر دیا جاتا ہے، یا پھر اسے مکمل طور پر جدید مغربی اقدار کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
جدید غلامی کے اثرات مذہبی شعبے میں کئی سطحوں پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، جب دین کی ایسی تشریحات پیش کی جاتی ہیں جو محض رسمی عبادات تک محدود ہوں، تو اس کے نتائج تاریخ میں واضح نظر آتے ہیں۔
اندلس میں مسلمانوں کے زوال کے دور میں مذہبی قیادت کا ایک طبقہ ایسا پیدا ہوا جو صرف ظاہری عبادات کو اصل دین سمجھتا تھا، لیکن ان عبادات کے انقلابی اور اجتماعی پہلو کو نظر انداز کر چکا تھا۔
اسی کا نتیجہ تھا کہ جب اسپین میں عیسائی استبداد نے مسلمانوں پر ظلم کی انتہا کر دی، تو امت کی اجتماعی طاقت منتشر ہو چکی تھی، کیونکہ دین کو ایک زندہ قوت کے طور پر اپنانے کے بجائے اسے محض ایک رسمی روایت بنا دیا گیا تھا۔
اسی طرح، جدید دور میں بعض اسلامی ممالک میں دینی نصاب کو اس انداز میں ترتیب دیا گیا کہ وہ طلبہ کو موجودہ عالمی مسائل کے اسلامی حل پیش کرنے کی بجائے، محض قدیم فقہی اختلافات میں الجھا دے۔
اس کا ایک نمایاں مثال مصر میں دیکھی جا سکتی ہے، جہاں استعماری طاقتوں نے بعض مخصوص فقہی مکاتب فکر کی سرپرستی کی اور انہیں ایسے علمی دائرے میں محدود کر دیا جہاں وہ صرف روایتی مسائل پر بات کریں، لیکن سماجی ناانصافی، معاشی استحصال اور استعماری پالیسیوں کے خلاف کوئی مزاحمتی کردار ادا نہ کر سکیں۔
اسلامی تعلیمات کو مغربی ایجنڈے کے مطابق ڈھالنے کی کوششوں کا ایک بڑا نمونہ وہ تحریکیں ہیں جو اسلامی اصولوں کو اس انداز میں پیش کرتی ہیں کہ وہ مغربی اقدار سے متصادم نہ ہوں۔ مثال کے طور پر، استشراقی دانش گاہوں میں اسلام کے ایسے بیانیے کو فروغ دیا جاتا ہے جس میں جہاد کو ایک خالصتاً دفاعی عمل کے طور پر پیش کیا جائے، یا امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو فرد کی ذاتی اصلاح تک محدود کر دیا جائے۔ یہ رویہ اس کے برعکس ہے جو امام حسینؑ کے قیامِ کربلا میں نظر آتا ہے، جہاں دین کو ایک اجتماعی قوت کے طور پر منوایا گیا اور ظلم کے خلاف قیام کو اس کا لازمی حصہ بتایا گیا۔
مساجد اور دینی اجتماعات کو جدید غلامی کے تحت مخصوص دائرے میں محدود کرنے کا ایک اور مظہر سعودی عرب میں دیکھا جا سکتا ہے، جہاں خطبات اور دینی بیانیے کو مکمل طور پر ریاستی پالیسیوں کے تابع کر دیا گیا۔ وہاں کے سرکاری علما کسی بھی ایسے موقف سے اجتناب کرتے ہیں جو عالمی استعماری طاقتوں یا حکومتی پالیسیوں کے خلاف ہو۔ اس کے برعکس، جو علما اسلامی مزاحمت یا خود مختاری کی بات کرتے ہیں، انہیں شدت پسند قرار دے کر یا تو خاموش کر دیا جاتا ہے یا پھر جلاوطن کر دیا جاتا ہے۔
عبادات کو رسمی بنا کر اس کے انقلابی اثرات کو زائل کرنے کی ایک بڑی مثال ایران کے اسلامی انقلاب سے قبل کے دور میں دیکھی جا سکتی ہے۔ اس وقت کی شاہی حکومت نے کوشش کی کہ دین کو صرف مساجد، خانقاہوں اور نجی عبادات تک محدود رکھا جائے، تاکہ وہ سماجی اور سیاسی تبدیلی کا ذریعہ نہ بن سکے۔ لیکن امام خمینیؒ نے اس روایت کو چیلنج کرتے ہوئے دین کے اس پہلو کو اجاگر کیا جو ظالم حکمرانوں کے خلاف قیام اور اجتماعی عدل کا درس دیتا ہے۔ یہی وہ دینی بصیرت تھی جس نے ایک اسلامی انقلابی تحریک کو جنم دیا اور استعماری منصوبوں کو ناکام بنایا۔
مذہبی تہواروں اور رسوم کو سطحی بنانے کی ایک اور مثال یہ ہے کہ آج بعض مسلم ممالک میں عاشورہ کے پیغام کو صرف ماتمی جلوسوں اور روایتی عزاداری تک محدود کرنے کی کوشش کی جاتی ہے،
جبکہ اس کا اصل مقصد ظلم کے خلاف مزاحمت اور اسلامی اصولوں کی سربلندی کے لیے قیام تھا۔
اہل بیت علیہم السلام کی سیرت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ دین کا اصل پیغام عدل و انصاف کے قیام اور باطل کے خلاف جدوجہد میں ہے، نہ کہ اسے صرف شخصی اعمال یا محدود دائرے میں محصور کر دینا۔
یہ تمام مثالیں اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ دین کو اگر اس کی اصل روح کے ساتھ نہ سمجھا جائے، اور اگر اس کے اصولوں کو جدید غلامی کے نظریاتی اثرات سے محفوظ نہ رکھا جائے، تو مسلمان رفتہ رفتہ اپنے حقیقی پیغام سے دور ہو جاتے ہیں۔
اس غلامی سے نکلنے کے لیے ضروری ہے کہ دین کو ایک متحرک، زندہ اور جامع نظامِ حیات کے طور پر اپنایا جائے، جس میں عبادات، تعلیم، سماجی معاملات اور سیاست سب کچھ اسلامی اصولوں کے مطابق ہو۔اس غلامی سے نکلنے کا واحد راستہ دینی بصیرت، فکری آزادی، اور اسلامی تعلیمات کو ان کی اصل روح کے ساتھ سمجھنے اور اپنانے میں ہے، تاکہ دین کو ایک حقیقی، متحرک، اور انقلابی قوت کے طور پر بحال کیا جا سکے۔

