امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک

دفاع کا شعبہ

0 ووٹ دیں 00.0 / 5

دفاع کا شعبہ

غلامی کے جدید طریقے

دفاع کے شعبے میں جدید غلامی ایک ایسی پیچیدہ مگر مؤثر حکمت عملی کے تحت مسلط کی جا رہی ہے جس کے ذریعے اقوام، بالخصوص ترقی پذیر اور مسلم ممالک کو عسکری، اسٹریٹجک، اور سیکیورٹی پالیسیوں میں خودمختاری سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ یہ غلامی براہ راست فوجی طاقت کے ذریعے نہیں بلکہ جدید حربوں، معاہدوں، تکنیکی انحصار، عالمی دباؤ، اور نفسیاتی اثر و رسوخ کے ذریعے نافذ کی جاتی ہے، جس کے نتیجے میں ایک ملک کے دفاعی ادارے اپنی آزادانہ پالیسی سازی سے قاصر ہو کر عالمی طاقتوں کے تابع ہو جاتے ہیں۔ اس غلامی کے اثرات نہ صرف روایتی جنگی حکمت عملی پر مرتب ہوتے ہیں بلکہ قومی سلامتی، اسلحے کی پیداوار، خفیہ ایجنسیوں کے دائرہ کار، اور حتیٰ کہ عسکری نظریات تک میں سرایت کر چکے ہیں۔

جدید غلامی کا ایک بڑا پہلو یہ ہے کہ زیادہ تر ممالک کو اپنے دفاعی نظام کو برقرار رکھنے کے لیے ترقی یافتہ ممالک کی اسلحہ سازی، دفاعی ٹیکنالوجی، اور انٹیلیجنس سسٹمز پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ اسلحہ سازی اور جدید جنگی سازوسامان کی تیاری میں چند بڑی طاقتیں اجارہ داری قائم کر چکی ہیں، جس کی وجہ سے چھوٹے اور کمزور ممالک کو دفاعی صلاحیت میں برتری حاصل کرنے کے لیے انہی طاقتوں سے اسلحہ خریدنا پڑتا ہے۔ لیکن اس خریداری کے ساتھ ایسے معاہدے بھی مسلط کیے جاتے ہیں جو ان ممالک کی آزادی کو محدود کر دیتے ہیں، جیسا کہ اسلحے کے استعمال پر شرائط، ٹیکنالوجی کی مکمل منتقلی نہ ہونے کی پابندیاں، اور حساس جنگی آلات پر مکمل کنٹرول برقرار رکھنے کی پالیسیاں۔ نتیجتاً ایک ملک بظاہر طاقتور فوج رکھنے کے باوجود عملی طور پر ان قوتوں کے تابع رہتا ہے جو اس کے دفاعی وسائل کو کنٹرول کرتی ہیں۔

دفاعی معاہدے اور اتحادی سمجھوتے بھی جدید غلامی کے ایک مؤثر ذریعہ کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں۔ ترقی پذیر ممالک کو بین الاقوامی سیکیورٹی معاہدوں میں شامل کر کے اس طرح پابند کر دیا جاتا ہے کہ وہ اپنی عسکری حکمت عملی کو مکمل طور پر آزادانہ انداز میں ترتیب نہ دے سکیں۔ مختلف بین الاقوامی معاہدے، جیسے نیٹو، اسٹریٹجک عسکری تعاون، اور دفاعی شراکت داری کے معاہدے، درحقیقت ان ممالک کی آزادی کو محدود کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں جو اپنے دفاع میں خودکفیل ہونا چاہتے ہیں۔ ان معاہدوں کی شرائط اس طرح طے کی جاتی ہیں کہ متعلقہ ممالک کسی بھی جنگی یا دفاعی مسئلے پر خودمختار فیصلے نہ کر سکیں بلکہ ان پر عالمی قوتوں کی رائے مسلط ہو جائے۔

خفیہ ایجنسیوں اور انٹیلیجنس نظام پر جدید غلامی کا تسلط بھی ایک پیچیدہ مگر مؤثر حربہ ہے۔ کئی ترقی پذیر اور مسلم ممالک اپنی انٹیلیجنس معلومات کے لیے عالمی سطح پر قائم ایجنسیوں، سیٹلائٹ سسٹمز، اور ڈیجیٹل نگرانی کے نیٹ ورکس پر انحصار کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ان کے دفاعی راز، قومی سیکیورٹی کی پالیسیاں، اور اسٹریٹجک منصوبے ہمیشہ ان طاقتوں کی نظروں میں ہوتے ہیں جو اپنی مرضی سے ان معلومات کو استعمال کر کے ان ممالک کو بلیک میل کر سکتی ہیں، ان کی عسکری پالیسیوں کو متاثر کر سکتی ہیں، اور بعض اوقات انہیں اپنی منشا کے مطابق جنگوں میں دھکیل بھی سکتی ہیں۔ مزید برآں، جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے مختلف ممالک کی دفاعی حکمت عملی پر مسلسل نظر رکھی جاتی ہے، جس کے باعث کوئی بھی ملک مکمل رازداری کے ساتھ اپنی دفاعی پالیسی پر عمل درآمد نہیں کر سکتا۔

دفاعی بجٹ، جنگی اخراجات، اور مالی امداد کے ذریعے بھی جدید غلامی کو تقویت دی جاتی ہے۔ کئی ممالک اپنی فوج کو برقرار رکھنے اور جدید جنگی سازوسامان خریدنے کے لیے عالمی مالیاتی اداروں اور بڑی طاقتوں سے قرض حاصل کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں ان کے عسکری فیصلے معاشی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ جن ممالک کی فوجی معیشت عالمی امداد پر منحصر ہوتی ہے، وہ کبھی بھی حقیقی معنوں میں آزاد دفاعی پالیسیاں تشکیل نہیں دے سکتے۔ انہیں ایسی جنگوں میں دھکیلا جاتا ہے جو درحقیقت ان کے قومی مفادات کے خلاف ہوتی ہیں، لیکن چونکہ وہ مالیاتی دباؤ میں ہوتے ہیں، اس لیے وہ ان جنگوں سے نکلنے کی بھی ہمت نہیں کر سکتے۔

نظریاتی اور ذہنی غلامی بھی دفاع کے شعبے میں گہرے اثرات مرتب کر رہی ہے۔ جدید عسکری تربیت کے دوران ایسے نظریات کو فروغ دیا جاتا ہے جو مخصوص عالمی طاقتوں کے تسلط کو جائز ثابت کریں اور ان کے مفادات کی حفاظت کریں۔ عسکری نصاب میں ایسے تصورات کو شامل کیا جاتا ہے جو مغربی فوجی حکمت عملی کو حتمی ماڈل کے طور پر پیش کرتے ہیں، جبکہ مقامی جنگی حکمت عملیوں، اسلامی دفاعی نظریات، اور روایتی عسکری حکمت عملیوں کو غیر مؤثر یا پرانی سوچ قرار دے کر رد کر دیا جاتا ہے۔ اس عمل کے نتیجے میں بہت سے ممالک کی افواج اپنی مقامی جنگی حکمت عملی سے دور ہو کر انہی طاقتوں کے طریقے اپنانے پر مجبور ہو جاتی ہیں جو ان کی دفاعی خودمختاری کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔

جنگی اتحادوں اور پراکسی جنگوں کے ذریعے بھی جدید غلامی کو نافذ کیا جاتا ہے۔ کئی ترقی پذیر ممالک کو مختلف عالمی طاقتوں کی پراکسی جنگوں میں جھونک دیا جاتا ہے، جہاں وہ اپنی افواج اور دفاعی وسائل کو دوسرے ممالک کے مفادات کی حفاظت کے لیے استعمال کرتے ہیں، بجائے اس کے کہ وہ اپنے ملک کی سرحدوں کی حفاظت کریں۔ ان ممالک کو دانستہ طور پر ایسے تنازعات میں الجھا دیا جاتا ہے جہاں وہ اپنے اصل دشمنوں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے ان طاقتوں کے مخالفین کے خلاف لڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں جو ان پر اپنی عسکری پالیسیاں مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ان ممالک کی افواج داخلی مسائل اور بیرونی خطرات کا سامنا کرنے کے قابل نہیں رہتیں، کیونکہ وہ پہلے ہی کسی اور کے ایجنڈے کی تکمیل میں مصروف ہوتی ہیں۔

میڈیا اور پروپیگنڈہ بھی دفاعی شعبے میں جدید غلامی کو فروغ دینے کے اہم اوزار بن چکے ہیں۔ عالمی ذرائع ابلاغ ایسے بیانیے تشکیل دیتے ہیں جو مخصوص ممالک کو سیکورٹی خطرہ بنا کر پیش کرتے ہیں اور دیگر ممالک کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ اپنی دفاعی حکمت عملی کو انہی عالمی طاقتوں کے مطابق ڈھالیں جو اس بیانیے کو فروغ دے رہی ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ، امن کے قیام کی کوششیں، اور عالمی خطرات جیسے بیانیے درحقیقت ایک ایسی حکمت عملی کا حصہ ہیں جس کے ذریعے ترقی پذیر ممالک کی عسکری خودمختاری کو ختم کیا جاتا ہے اور انہیں عالمی پالیسیوں کے تابع کر دیا جاتا ہے۔

ان تمام ذرائع کے ذریعے دفاع کے شعبے میں جدید غلامی کو ایک مؤثر حکمت عملی کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے۔ اس غلامی کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ یہ براہ راست فوجی قبضے یا جنگ کے ذریعے نہیں بلکہ ایسے پیچیدہ اور جدید طریقوں کے ذریعے نافذ کی جاتی ہے جو نظر نہ آنے کے باوجود انتہائی تباہ کن ہوتے ہیں۔ نتیجتاً، کئی ممالک بظاہر آزاد نظر آتے ہیں لیکن عملی طور پر وہ اپنی دفاعی پالیسیوں، عسکری فیصلوں، جنگی حکمت عملیوں، اور خفیہ معلومات کے تحفظ میں مکمل خودمختاری سے محروم ہو چکے ہوتے ہیں، اور ان کے فیصلے وہ طاقتیں کرتی ہیں جو جدید غلامی کے ان دیکھے زنجیروں کو قابو میں رکھتی ہیں۔

جدید غلامی کے ان پہلوؤں کو مختلف ممالک کی مثالوں سے واضح کیا جا سکتا ہے جہاں دفاعی خودمختاری کو محدود کرنے کے لیے مختلف حربے استعمال کیے گئے ہیں۔ ایک نمایاں مثال سعودی عرب کی ہے، جو بظاہر ایک طاقتور عسکری قوت رکھتا ہے، لیکن اس کے دفاعی نظام کا مکمل انحصار امریکہ اور مغربی ممالک پر ہے۔ سعودی عرب جدید ترین اسلحہ خریدنے کے باوجود اپنے دفاعی فیصلوں میں مکمل طور پر خودمختار نہیں ہے۔ یمن جنگ میں سعودی فوج کی حکمت عملی امریکی اور مغربی پالیسیوں کے مطابق ترتیب دی گئی، اور اسے کئی ایسے معاہدوں اور شرائط کا سامنا کرنا پڑا جو اس کی دفاعی آزادی کو محدود کرتے ہیں۔ امریکہ نے کئی بار سعودی عرب کو اسلحے کی فروخت روکنے کی دھمکی دی، جس سے واضح ہوتا ہے کہ جدید غلامی محض عسکری تعلقات تک محدود نہیں بلکہ پالیسی سازی پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔

پاکستان کی مثال بھی اسی تناظر میں لی جا سکتی ہے۔ پاکستان اپنی دفاعی حکمت عملی میں امریکہ اور چین جیسے ممالک پر انحصار کرتا ہے۔ 1980 کی دہائی میں سوویت-افغان جنگ کے دوران پاکستان کو امریکہ کے دفاعی نظام کا حصہ بنایا گیا، لیکن جیسے ہی عالمی مفادات بدلے، پاکستان کو سخت شرائط اور اقتصادی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ حالیہ برسوں میں ایف-16 طیاروں کی اپ گریڈیشن پر امریکہ کی طرف سے عائد کردہ پابندیاں اسی جدید غلامی کی ایک شکل ہیں، جس میں ایک ملک کو دفاعی طور پر مغربی پالیسیوں کے تابع رکھا جاتا ہے۔ مزید برآں، پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں کی معلومات بھی مغربی انٹیلیجنس نیٹ ورکس کے زیر اثر رہتی ہیں، اور اکثر ان کے فیصلے براہ راست بین الاقوامی دباؤ کے تحت کیے جاتے ہیں۔

افغانستان ایک اور مثال ہے جہاں جدید غلامی کے مختلف حربے استعمال کیے گئے۔ امریکی افواج کی 20 سالہ موجودگی کے دوران افغان فوج کو جدید تربیت اور سازوسامان فراہم کیا گیا، لیکن جیسے ہی امریکہ نے انخلا کا اعلان کیا، افغان دفاعی ادارے مکمل طور پر بے بس ہو گئے۔ طالبان کے خلاف جنگ میں اربوں ڈالر خرچ کرنے کے باوجود، افغان افواج اپنی حکمت عملی میں خودمختاری نہ رکھ سکیں کیونکہ ان کی انٹیلیجنس معلومات، فوجی تربیت، اور سازوسامان سب کچھ بیرونی قوتوں کے کنٹرول میں تھا۔ جب امریکہ نے اپنی حمایت واپس لے لی، تو افغان فوج بغیر کسی مزاحمت کے منتشر ہو گئی، جو ظاہر کرتا ہے کہ دفاعی پالیسیوں کی خودمختاری کے بغیر عسکری طاقت بے معنی ہو جاتی ہے۔

ترکی کی دفاعی حکمت عملی میں بھی جدید غلامی کے اثرات دیکھے جا سکتے ہیں۔ ترکی نیٹو کا ایک اہم رکن ہونے کے باوجود جب اس نے روسی ایس-400 دفاعی نظام خریدنے کی کوشش کی، تو امریکہ اور یورپی ممالک نے سخت ردعمل ظاہر کیا۔ ترکی پر اقتصادی پابندیاں عائد کی گئیں اور اسے امریکی ایف-35 پروگرام سے باہر کر دیا گیا، جو ظاہر کرتا ہے کہ نیٹو جیسی تنظیموں کے تحت شامل ممالک بھی مکمل دفاعی خودمختاری نہیں رکھتے۔ اسی طرح، ترکی نے جب مشرقی بحیرہ روم میں اپنے دفاعی مفادات کے مطابق اقدامات کیے، تو اسے مغربی طاقتوں کی سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ عالمی معاہدے بعض اوقات خودمختاری محدود کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔

ایران کی مثال جدید غلامی کے خلاف مزاحمت کی علامت بن چکی ہے۔ 1979 کے انقلاب کے بعد ایران نے مغربی دفاعی معاہدوں سے آزاد ہونے کی کوشش کی، لیکن اسے مسلسل پابندیوں اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ ایران کو اسلحے کی خرید و فروخت میں شدید رکاوٹوں کا سامنا ہے، اور اسے اپنی دفاعی صلاحیت کو مقامی سطح پر ترقی دینی پڑ رہی ہے۔ اس کے باوجود، مغربی طاقتیں ایران کے میزائل پروگرام اور دفاعی حکمت عملی پر مسلسل دباؤ ڈالتی رہتی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر کوئی ملک جدید غلامی کے جال سے نکلنے کی کوشش کرے، تو اسے عالمی سطح پر تنہائی اور پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ان مثالوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جدید غلامی عسکری معاہدوں، انٹیلیجنس نیٹ ورکس، دفاعی انحصار، اور نظریاتی تسلط کے ذریعے نافذ کی جاتی ہے۔ بظاہر آزاد ممالک بھی اپنی عسکری اور سیکیورٹی پالیسیوں میں مکمل طور پر خودمختار نہیں ہوتے، بلکہ ان پر عالمی طاقتوں کی مرضی مسلط کی جاتی ہے، جو دفاعی فیصلوں کو مخصوص ایجنڈے کے تحت ڈھالنے کی کوشش کرتی ہیں۔

آپ کا تبصرہ شامل کریں

قارئین کے تبصرے

کوئی تبصرہ موجودنہیں ہے
*
*

امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک