ضروری سامان كا خمس
ضروری سامان كا خمس
سوال نمبر216:ضرورت كے پیش نظر میں نے كچھ سامان خریدا ہے لیكن ان كے خریدنے كے بعد ایك سال سے زایده مدت گزر چكی ہے اور اب تك میں نے انہیں استعمال نہیں كیا،كیا ان پر خمس ہے؟
تمام مراجع(آیت الله سیستانی اور وحید كے علاوه):اگر ضرورت كے پیش نظر لیاگیا تھا تو ان پر خمس نہیں ہے۔(۱)
آیت الله سیستانی:ان پر خمس نكالنا ضروری ہے مگر یه كه ان كا گھر میں ہونا ضروری ہو اور بوقت ضرورت فوراً فراہم كرنا ممكن نه ہواور عام طورسے ایسی چیزكا گھر میں رہنا ضروری ہو تو خمس نہیں ہے۔(۲ )
آیت الله وحید:خمس ہے۔(۳)
نوٹ:اگرچه جرائد اور توضیح المسائل كی عبارتوں میں لفظ كتاب آیاہے لیكن كتاب كی كوئی حضوصیت نہیں ہے اور یه حكم ہر اس سامان كو شامل ہے جس كا انسان ضرورت مند ہو۔
حوالہ جات:
۱- خمینی،استفتاءات،ج1 سوال41؛صافی،جامع الاحكام،ج1،سوال 740؛خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،سوال922اور904؛نوری،استفتاءات،ج1، س۔267، جامع المسائل، ج۱سوال702بهجت،توضیح،1376؛تبریزی،استفتاءات،سوال 888، 826مكارم، مسئله1507
۲ ۔آیت الله سیستانی،صاحب كادفتر،
۳ ۔آیت الله وحید خراسانی، صاحب كا دفتر۔

