امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک

غیبت حضرت صاحب الزمان علیه السلام

1 ووٹ دیں 05.0 / 5

۔۔۔ لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ ۖ لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ (غافر 16)  
آج کس کی بادشاہی ہے؟  صرف اللہ کی، جو اکیلا ہے، سب پر غالب اور قہار ہے۔

 مبحث: غیبتِ حضرت صاحب الزمان علیہ السلام
 ✅ غائب ہونے کی علت — اَعمالِ اُمّت
⛔ وَ غَیْبَتُهُ مِنّا  
اور اُن کی غیبت ہماری اپنی جانب سے ہے۔

  قولِ خواجہ نصیرالدین طوسی رحمہ اللہ
وُجودِهُ لُطْفٌ وَ تَصَرُّفُهُ لُطفٌ آخَرٌ وَ غَیْبَتُهُ مِنّا  
ان کا وجود ہی اللہ کی طرف سے ایک لطف ہے،  ان کا تصرّف دوسرا لطف ہے،  اور اُن کی غیبت ہماری طرف سے ہے۔
---
 ⛔ علّتِ دُوری از امام زمان (عج)
  فرمانِ امام زمان (عجل الله تعالی فرجه):
...وَلَوْ أَنَّ أَشْيَاعَنَا وَفَّقَهُمُ اللَّهُ لِطَاعَتِهِ عَلَى اِجْتِمَاعٍ مِنَ اَلْقُلُوبِ فِي اَلْوَفَاءِ بِالْعَهْدِ عَلَيْهِمْ لَمَا تَأَخَّرَ عَنْهُمُ اَلْيُمْنُ بِلِقَائِنَا ... فَمَا يَحْبِسُنَا عَنْهُمْ إِلاَّ مَا يَتَّصِلُ بِنَا مِمَّا نَكْرَهُهُ ...
اگر ہمارے پیروکار دلوں کے اتحاد کے ساتھ اپنے عہد پر قائم رہتے تو ہماری ملاقات کی سعادت ان پر دیر نہ کرتی،  اور وہ صحیح معرفت کے ساتھ ہماری زیارت سے فیض یاب ہوتے۔   ہمیں اُن سے دور رکھنے والی چیز فقط وہ اعمال ہیں جو ہم تک پہنچتے ہیں اور ہمیں پسند نہیں آتے۔

 الاحتجاج، ج۲، ص۳۱۵ — بحارالانوار، ج۵۳، ص۱۷۷
---
  تفکر — خدا تک پہنچنے کا راستہ
حدیث 1— قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ... إِنَّ اَلتَّفَكُّرَ يَدْعُو إِلَى اَلْبِرِّ وَ اَلْعَمَلِ بِهِ  
امام صادقؑ نے فرمایا: امیرالمؤمنینؑ فرماتے ہیں کہ  “تفکر انسان کو نیکی کی طرف اور نیکی پر عمل کی طرف بلاتا ہے۔

 الکافی، ج۲، ص۵۵
---
حدیث2— الْفِكْرُ مِرْآةٌ صَافِيَةٌ...  
اندیشہ ایک صاف آئینہ ہے،  
عبرت پکڑنا ایک نصیحت کرنے والا ڈرانے والا ہے،  
اور اپنے لیے سب سے بہتر ادب یہ ہے کہ  
جو چیز اپنے لیے ناپسند کرتے ہو، وہ دوسروں کے لیے بھی نہ چاہو۔

 نهج البلاغہ، حکمت ۳۶۵
---
حدیث 3 — فِكْرَةُ سَاعَةٍ خَيْرٌ مِنْ عِبَادَةِ سَنَةٍ  
ایک ساعت کا سوچ لینا ایک سال کی عبادت سے بہتر ہے۔

 بحار، ج۶۸، ص۳۲۵
---
حدیث 4 — لا عِلمَ كالتَّفكُّرِ  
تفکر جیسا کوئی علم نہیں۔

 بحار، ج۶۶، ص۴۰۹
---
 حدیث ۵ — امام حسن مجتبیؑ  
أُوصِیٖکُمْ بِتَقْوَى ٱللهِ وَ إِدٰامَةُ ٱلتَّفَکُّرِ...  
میں تمہیں اللہ سے ڈرنے اور مسلسل سوچ بچار کرنے کی وصیت کرتا ہوں،  کیونکہ تفکر تمام اچھائیوں کا باپ اور ماں ہے۔

 مجموعه ورّام، ج۱، ص۵۲
---
 حدیث ۶ — نامہ امیرالمؤمنینؑ (نامہ 31)
...أَحْيِ قَلْبَكَ بِالْمَوْعِظَةِ وَ أَمِتْهُ بِالزَّهَادَةِ...  
اپنے دل کو نصیحت سے زندہ کرو،  زہد سے اسے نرم کرو،  
یقین سے اسے مضبوط کرو،  
حکمت سے دل کو منور کرو،  
موت کی یاد سے اسے جھکاؤ،  
دنیا کی فنا کو اپنے سامنے رکھو،  
اور دنیا کے مصائب کو اس کے سامنے نمایاں کرو۔

 نهج‌البلاغه، نامہ ۳۱

آپ کا تبصرہ شامل کریں

قارئین کے تبصرے

کوئی تبصرہ موجودنہیں ہے
*
*

امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک