امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک

مستحبی روزہ اور شوہر کی اجازت

0 ووٹ دیں 00.0 / 5

مستحبی روزہ کی اجازت
سوال نمبر٣٨٤: کیا مستحبی روزہ رکھنے کے لئے شوہر کی اجازت لازم ہے ؟

تمام مراجع (آیة اللہ بہجت ،آیة اللہ صافی اورآیة اللہ مکارم کے علاوہ):اگر ازدواجی حقوق سے منافافت رکھتا ہو تو احتیاط واجب کی بناء پر اسے چاہیے کہ اجازت لے ۔ لیکن اگر شوہر نے اسے روزہ رکھنے سے منع کیا ہو تو اسے چاہیے کہ اطاعت کرے چاہے ازدواجی حقوق سے کوئی منافات بھی نہ رکھتا ہو۔ (1)
آیة اللہ بہجت اورآیة اللہ مکارم : احتیاط واجب کی بناء پر اسے چاہیے کہ شوہر کی اجازت لے چاہے ازدواجی حقوق سے کوئی منافات بھی نہ رکھتاہو۔(2)
آیة اللہ صافی : اگر شوہر کے حق سے منافات رکھتا ہو تو شوہر کی جازت ضروری ہے اور اگر منافات نہ رکھتا ہو تو احتیاط واجب کی بناء پر اجازت ضروری ہے ۔ اور اگر شوہر نے روزہ رکھنے سے منع کیا ہو تو اطاعت لازمی ہے چاہے ازدواجی حقوق سے منافات نہ رکھتا ہو۔ (3)
   

1۔ امام خمینی، سیستانی و نوری،تعلیقات علی العروة، اقسام الصوم، السابع؛ تبریزی،منهاج الصالحین، ج۱،م۱۰۶۷؛وحید،منهاج الصالحین،م۱۰۶۷ و دفتر:خامنه‌ای۔
2- آیت الله مكارم، تعلیقات علی العروة، اقسام الصوم،السابع و بهجت، و سیلة النجاه، ج۱،م۱۱۸۶۔
3۔ صافی،هدایة العباد،ج۱،م۱۳۹۹۔

آپ کا تبصرہ شامل کریں

قارئین کے تبصرے

کوئی تبصرہ موجودنہیں ہے
*
*

امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک