پڑھائی جاری رکھنے کی شرط
-
- شائع
-
- مؤلف:
- محقق ارجمند سید مجتبی حسینی مترجم: سیدہ ریاض فاطمہ زیدی
- ذرائع:
- گلشن احكام
پڑھائی جاری رکھنے کی شرط
سوال نمبر٣٧٥: ایک شخص کسی Student لڑکی سے شادی کرتا ہے کیا شادی کے بعد شوہر اپنی بیوی کو پڑھائی جاری رکھنے سے روک سکتا ہے ؟
تمام مراجع(سوائے آیة اللہ نوری کے) : اگر عقد میں شرط نہ ہوئی ہو کہ لڑکی اپنی پڑھائی کو جاری رکھے گی یا عقد اس شرط پر واقع نہ ہواہوتو ایسی صورت میں بیوی شوہر کی جازت کے بغیر گھر سے نہیں نکل سکتی ہے ۔اسکے ورنہ وہ اپنی پڑھائی جاری رکھ سکتی ہے۔ (۱)
آیة اللہ نوری: اگر لڑکی کا پڑھنا شوہر کے حق کو ضائع کرنے کا سبب نہ بنے تو وہ اسکی اجازت کے بغیر بھی اپنی پڑھائی کو جاری رکھ سکتی ہے۔ (۲)
سوال نمبر٣٧٦: اگر شوہر کسی بھی سبب بیوی کو پڑھائی جاری رکھنے کی اجازت نہ دے تو کیا بیوی کو یہ حق حاصل ہے کہ اسکی خواہشوں کو پورا نہ کرے ؟
تمام مراجع :مذکورہ بالا صورت میں بیوی کو یہ حق حاصل نہیں ہے اور اسے چاہیئے کہ شوہر کی خواہشوں کو پورا کرے ۔ (۳)
۱ ۔ امام خمینی، استفتاءات، ج۳، حقوق زوجیت، س۱۴و۱۹؛ آیت الله صافی ، جامع الاحكام ، ج۲، س۱۲۵۳ و ۱۳۳۴، مكارم ، استفتاءات،ج۲، س۹۶۶و ۹۰۱و ۹۰۲؛ بهجت ، توضیح المسائل متفرقه، م۱۸؛ فاضل ،جامع المسائل، ج۱، س۱۶۲۷و ۱۶۲۵؛ تبریزی، سراج النجاة ، ج۵، س۶۵۰و ۶۵۳،دفتر: آیت الله وحید و سیستانی ۔
۲۔ آیت الله نوری، استفتاءات، ج۲، س۶۷۵۔
۳۔ آیت الله فاضل، جامع المسائل، ج۱،س۱۶۶۴؛ تمام مراجع كے دفاتر۔

