بیوی کا نفقہ، اضافی خرچ اور بیوی کا حق
-
- شائع
-
- مؤلف:
- محقق ارجمند سید مجتبی حسینی مترجم: سیدہ ریاض فاطمہ زیدی
- ذرائع:
- گلشن احكام
بیوی کا نفقہ
سوال نمبر ٣٦٦: کیا بیوی کا شرعی قرض جیسے کفارہ ، خمس، رد مظالم و غیره شوہر کے ذمہ ہے ؟
تمام مراجع:نہیں ، اس طرح کے قرض کی ادائیگی شوہر پر واجب نہیں ہے ۔ اگر بیوی کے پاس مال ہو تو وہ خود ادا کرے ورنہ اس پر کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ (۱)
اضافی خرچ
سوال نمبر٣٦٧: کیا بیوی کی ضروری، حاجتوں اور نفقہ کے علاوہ اسکی دیگر ضرورتوںکو(جیسے کتاب خریدنا، فقیروں میں خیرات کرنا، تحفہ دینا، مجالس و محافل کا برپا کرنا) پورا کرنا شوہر پر واجب ہے ؟
تمام مراجع:نہیں ، مذکورہ ضرورتوں کو پورا کرنا شوہر پرواجب نہیں ہے ۔ (۲)
بیوی کا حق
سوال نمبر٣٦٩: اگر بیوی کی آمدنی کافی مقدار میں ہوتو کیا شوہر کے لئے صحیح ہے کہ اپنی بیوی کو نفقہ نہ دے ؟
تمام مراجع : نہیں ، بیوی کی آمدنی چاہے جتنی ہو ، نفقہ کی ادائیگی شوہر پر واجب ہے۔ (۳)
۱- آیت الله فاضل،جامع المسائل،ج۲،س۱۳۱۳؛سیستانی،منهاج الصالحین، ج۳،م۴۲۸و تمام مراجع كے دفاتر۔
۲- امام خمینی ،استفتاءات،ج۳،احكام نفقه، س۱۵؛آیت الله فاضل، جامع المسائل، ج۱، س۱۶۹۳و ج۲،س۱۳۱۰و۱۳۱۱؛مكارم، استفتاءات ج۱،س۸۴۶؛تبریزی، منهاج الصالحین،ج۲، النفقات؛وحید، منهاج الصالحین ،ج۳، النفقات؛ صافی، هدایة العباد،ج۲،النفقات، م۸؛ بهحت ، توضیح المسائل، م۱۸۹۷؛ نوری، توضیح المسائل، م۲۴۰۸؛دفتر خامنهای؛سیستانی،منهاج الصالحین، ج۳،م۴۲۰۔
۳ ۔ امام خمینی،تحریر الوسیله،ج۲،النفقات،۱۹؛ آیت الله صافی،هدایة العباد،ج۲،م۱۹؛تبریزی،منهاج الصالحین، ج۲،م۱۴۱۸؛وحید،منها ج الصالحین،ج۳،م۱۴۱۸؛فاضل، جامع المسائل، ج۲،س۱۳۱۰؛سیستانی، منها ج الصالحین،ج۳،م۴۳۳ و دفتر آیت الله خامنهای ، نوری، مكارم و بهجت۔

