امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک

جماعت کو جماعت کیوں کہتے ہیں؟

1 ووٹ دیں 05.0 / 5

"جماعت کیوں کہتے ہیں؟" تو اس کا سیدھا سیدھا جواب یہ ہے:
لغت اور شرع میں معنی
جماعت عربی زبان کا لفظ ہے، جس کا مادہ "ج م ع" ہے، جس کے معنی "اکٹھا کرنا، جمع کرنا، ملانا" کے ہیں۔
لغوی معنی: ایک گروہ، ایک اجتماع، ایک ٹولہ یا لوگوں کا مجموعہ۔
شرعی اصطلاح میں:  
  نمازِ جماعت کہتے ہیں: دو یا زیادہ افراد کا ایک امام کے پیچھے کھڑے ہو کر مل کر ایک ساتھ نماز ادا کرنا۔
تو یہ نام کیوں رکھا گیا؟
اس لیے کہ اس نماز میں نمازی "اکٹھے" (جماعت) ہوتے ہیں، ایک صف میں کھڑے ہوتے ہیں، ایک امام کی پیروی کرتے ہیں، اور ایک ہی وقت میں رکوع و سجود کرتے ہیں۔ یعنی اجتماعی شکل میں نماز پڑھی جاتی ہے، تنہا نہیں۔
چونکہ اس عبادت کا مرکزی وصف "اجتماع" یا "اکٹھا ہونا" ہے، اسی لیے اسے "نمازِ جماعت" کہا جاتا ہے۔
ایک اور پہلو (اگر آپ کا اشارہ پچھلے تناظر کی طرف تھا):
اگر آپ پچھلے سوال کی روشنی میں پوچھ رہے ہیں کہ بعض لوگ شیعوں پر یہ تہمت کیوں لگاتے ہیں کہ وہ جماعت نہیں پڑھتے، جبکہ لفظ "جماعت" کا مطلب ہی اجتماع ہے؟  
تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ تہمت غلط فہمی پر مبنی ہے۔ شیعہ بھی اجتماعی نماز کو "جماعت" ہی کہتے ہیں اور اسے بڑی اہمیت دیتے ہیں (جیسا کہ پچھلے جواب میں تفصیل آچکی ہے)۔ بس کچھ لوگ فرعی مسائل (جیسے مستحب نماز میں جماعت نہ پڑھنا) کو اہل سنت کی طرح نہ دیکھ کر یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ شیعہ جماعت کے قائل ہی نہیں — حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔
خلاصہ:  
یہ نام اجتماعی طور پر پڑھے جانے کی وجہ سے رکھا گیا ہے، چاہے کوئی بھی مسلک ہو۔

آپ کا تبصرہ شامل کریں

قارئین کے تبصرے

کوئی تبصرہ موجودنہیں ہے
*
*

امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک