امامت آیہ مباہلہ کی روشنی میں
-
- شائع
-
- مؤلف:
- مجمع جہانی اہل البیت
- ذرائع:
- اقتباس ازکتاب: امامت اورائمہ معصومین کی عصمت
نجران کے عیسائی اور ان کا باطل دعویٰ (آل عمران/۶۱)
”(پیغمبر!) علم کے آجانے کے بعد جو لوگ تم سے (حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں) کٹ حجتی کریں، ان سے کہہ دیجئے کہ چلو ہم لوگ اپنے اپنے فرزند، اپنی عورتوں اور اپنے اپنے نفسوں کو دعوت دیں اور پھر خدا کی بارگاہ میں دعا کریں اور جھوٹوں پر خدا کی لعنت کریں۔“
آیت شریفہ میں گفتگو نجران کے عیسائیوں کے بارے میں ہے کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا جانتے تھے اور ان کے بغیر باپ کے پیدا ہونے کی وجہ سے ان کے خدا ہونے کی دلیل تصور کرتے تھے۔ اس سے پہلی والی آیت میں ہے:
(آل عمران/۵۹)
”بیشک عیسیٰ کی مثال اللہ کے نزدیک آدم جیسی ہے کہ انہیں مٹی سے پیدا کیا اور پھر کہا کہ ہو جاؤ تو وہ خلق ہو گئے۔“
مذکورہ آیت ان کے دعوے کو باطل کرتی ہے۔ یعنی اگر تم لوگ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کے بارے میں بغیر باپ کے پیدا ہونے کے سبب ان کے خدا ہونے کے قائل ہو تو حضرت آدم علیہ السلام ماں اور باپ دونوں کے بغیر پیدا ہوئے ہیں، اس لیے وہ زیادہ حقدار اور سزاوار ہیں کہ تم لوگ ان کی خدائی کے معتقد ہو جاؤ۔
اس قطعی برہان کے باوجود انہوں نے حق کو قبول کرنے سے انکار کیا اور اپنے اعتقاد پر ڈٹے رہے۔
بعد والی آیت میں خدائے متعال نے پیغمبر اکرم (ص) سے مخاطب ہو کر حکم دیا کہ انہیں مباہلہ کرنے کی دعوت دیں۔
اگرچہ اس آیت (آیہ مباہلہ) کے بارے میں بہت سی بحثیں ہیں، لیکن جو بات یہاں پر قابل توجہ ہے، وہ اہل بیت علیہم السلام، خاص کر حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں چند نکات ہیں، جو آنحضرت (ص) کے ساتھ مباہلہ کے لیے آئے تھے۔
مذکورہ آیت شریفہ اور اس سے مربوط احادیث کی روشنی میں ہونے والی بحثیں مندرجہ ذیل پانچ محور پر استوار ہیں:
۱۔ پیغمبر اکرم (ص) مأمور تھے کہ مباہلہ کے لیے کن لوگوں کو اپنے ساتھ لائیں؟
۲۔ ان کے میدان مباہلہ میں حاضر ہونے کا مقصد کیا تھا؟
۳۔ آیت شریفہ کے مطابق عمل کرتے ہوئے آنحضرت (ص) کن افراد کو اپنے ساتھ لائے؟
۴۔ آیت مباہلہ میں حضرت علی علیہ السلام کا مقام اور یہ کہ آیت شریفہ میں حضرت علی علیہ السلام کو نفس پیغمبر (ص) کہا گیا ہے نیز اس سے مربوط حدیثیں۔
۵۔ ان سوالات کا جواب کہ مذکورہ آیت کے ضمن میں پیش کیے جاتے ہیں۔
پہلا محور
آیت مباہلہ میں پیغمبر (ص) کے ہمراہ پہلی بحث یہ کہ پیغمبر اسلام (ص) کو مباہلہ کے سلسلہ میں اپنے ساتھ لے جانے کے لیے کن افراد کو دعوت دینی چاہیے، اس سلسلہ میں آیت شریفہ میں غور و خوض کے پیش نظر درج ذیل چند مسائل ضروری دکھائی دیتے ہیں:
الف: ”ابناءنا“ اور ”نسائنا“ سے مراد کون لوگ ہیں؟
ب: ”انفسنا“ کا مقصود کون ہے؟
ابناء، ابن کا جمع ہے یعنی بیٹے، اور چونکہ ”ابناء“ کی ضمیر متکلم مع الغیر یعنی ”نا“ کی طرف نسبت دی گئی ہے۱ اور اس سے مراد خود آنحضرت (ص) ہیں، اس لیے آنحضرت (ص) کو کم از کم تین افراد، جو ان کے بیٹے شمار ہوں، کو مباہلہ کے لیے اپنے ہمراہ لانا چاہیے۔
”نساء“ اسم جمع ہے عورتوں کے معنی میں اور ضمیر متکلم مع الغیر یعنی ”نا“ کی طرف اضافت دی گئی ہے۔ اس کا تقاضا یہ ہے کہ آنحضرت (ص) اپنے گھرانے میں موجود تمام عورتوں (چنانچہ جمع مضاف کی دلالت عموم پر ہوتی ہے) یا کم از کم تین عورتوں (جو کم سے کم جمع کی مقدار اور خاصیت ہے) کو مباہلہ کے لیے اپنے ساتھ لانا چاہیے۔
اس بحث میں قابل ذکر ہے، وہ ”ابناءنا و نسائنا و انفسنا“ کی دلالت کا اقتضا ہے اور بعد والے جوابات محور میں جو مباہلہ کے ہدف اور مقصد پر بحث ہوگی وہ بھی اس بحث کا تکملہ ہے۔
لیکن ”ابناء“ اور ”نساء“ کے مصادیق کے عنوان سے کتنے اور کون لوگ مباہلہ میں حاضر ہوئے، ایک علیحدہ گفتگو ہے جس پر تیسرے محور میں بحث ہوگی۔
انفس، نفس کی جمع ہے اور چونکہ یہ لفظ ضمیر متکلم مع الغیر ”نا“ (جس سے مقصود خود آنحضرت (ص) کی ذات ہے) کی طرف مضاف ہے، اس لیے اس پر دلالت کرتا ہے کہ پیغمبر اسلام (ص) کو (جمع کے اقتضا کے مطابق) کم از کم تین ایسے افراد کو مباہلہ کے لیے اپنے ساتھ لانا چاہیے جو آپ کے نفس کے زمرے میں آتے ہوں۔ کیا ”انفسنا“ خود پیغمبر اکرم (ص) پر قابل انطباق ہے؟
اگرچہ ”انفسنا“ میں لفظ نفس کا اطلاق اپنے حقیقی معنی میں صرف رسول اللہ (ص) کے نفس مبارک پر ہے، لیکن آیت شریفہ میں موجود قرائن کے پیش نظر ”انفسنا“ میں لفظ نفس کو خود آنحضرت (ص) پر اطلاق نہیں کیا جا سکتا ہے اور وہ قرائن حسب ذیل ہیں:
۱۔ ”انفسنا“ جمع ہے اور ہر فرد کے لیے نفس ایک سے زیادہ نہیں ہوتا ہے۔
۲۔ جملہ آنحضرت (ص) کو اس کے حقیقی معنی میں دعوت دینے کا ذمہ دار قرار دیتا ہے اور حقیقی دعوت کبھی خود انسان سے متعلق نہیں ہوتی ہے، یعنی انسان خود کو دعوت دے، یہ معقول نہیں ہے۔
اس بنا پر، بعض لوگوں نے تصور کیا ہے کہ ”فطوّعت لہ نفسہ“ یا ”دعوت نفسی“ جیسے استعمال میں ”دعوت“ (دعوت دینا) جیسے افعال نفس سے تعلق پیدا کرتے ہیں۔ یہ اس نکتہ کے بارے میں غفلت کا نتیجہ ہے کہ یہاں پر یا تو ”نفس“ خود انسان اور اس کی ذات کے معنی میں استعمال نہیں ہوا ہے، یا ”دعوت“ سے مراد (دعوت دینا) حقیقی نہیں ہے۔ بلکہ ”فطوّعت لہ نفسہ قتل اخیہ“ کی مثال میں نفس کا مقصود انسان کی نفسانی خواہشات ہے اور اس جملہ کا معنی یوں ہے ”اس کی نفسانی خواہشات نے اس کے لیے اپنے بھائی کو قتل کرنا آسان کر دیا“ اور ”دعوت نفسی“ کی مثال میں مقصود اپنے آپ کو کام انجام دینے کے لیے مجبور اور آمادہ کرنا ہے اور یہاں پر دعوت دینا اپنے حقیقی معنی میں نہیں ہے کہ جو نفس سے متعلق ہو۔
۳۔ ”ندع“ اس جہت سے کہ خود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر مشتمل ہے، اس لیے نفس پر دلالت کرتا ہے اور یہ ضروری نہیں ہے کہ دوسروں کو دعوت دینے والا خود مباہلہ کا محور ہو، اور وہ خود کو بھی دعوت دے دے۔
دوسرا محور
مباہلہ میں اہل بیت رسول (ص) کے حاضر ہونے کا مقصد: پیغمبر اسلام (ص) کو کیوں حکم ہوا کہ مباہلہ کرنے کے واسطے اپنے خاندان کو بھی اپنے ساتھ لائیں، جبکہ یہ معلوم تھا کہ مباہلہ دو فریقوں کے درمیان دعویٰ ہے اور اس داستان میں ایک طرف خود پیغمبر (ص) اور دوسری طرف نجران کے عیسائیوں کے نمائندے تھے؟
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ آنحضرت (ص) کے نزدیک ترین رشتہ داروں کے میدان مباہلہ میں حاضر ہونے کا مقصد صرف آنحضرت (ص) کی بات سچی ہونے اور ان کی دعوت صحیح ہونے کے سلسلہ میں لوگوں کو اطمینان و یقین دکھلانا تھا، کیونکہ انسان کے لیے اپنے عزیز ترین اشخاص کو اپنے ساتھ لانا صرف اسی صورت میں معقول ہے کہ انسان اپنی بات اور دعویٰ کے صحیح ہونے پر مکمل یقین رکھتا ہو۔ اور اس طرح کا اطمینان نہ رکھنے کی صورت میں گویا اپنے ہاتھوں سے اپنے عزیزوں کو خطرے میں ڈالنا ہے اور کوئی بھی عقلمند انسان ایسا اقدام نہیں کر سکتا۔
پیغمبر اکرم (ص) کے تمام رشتہ داروں میں سے صرف چند اشخاص کے میدان مباہلہ میں حاضر ہونے کے حوالے سے یہ توجیہ صحیح نہیں ہو سکتی ہے، کیونکہ اس صورت میں اس خاندان کا میدان مباہلہ میں حاضر ہونا اور اس میں شرکت کرنا ان کے لیے کسی قسم کی فضیلت اور قدر و منزلت کا باعث نہیں ہو سکتا ہے، جبکہ آیت شریفہ اور اس کے ضمن میں بیان ہونے والی احادیث میں غور و خوض کرنے سے معلوم یہ ہوتا ہے کہ اس ماجرا میں پیغمبر اسلام (ص) کے ہمراہ جانے والوں کے لیے ایک بڑی فضیلت ہے۔
اہل سنت کے ایک بڑے عالم علامہ زمخشری کہتے ہیں:
”وفيه دليل لاشيء أقوى منه على فضل أصحاب الکساء“۱
”آیت کریمہ میں اصحاب کساء (علیہم السلام) کی فضیلت پر قوی ترین دلیل موجود ہے“
آلوسی نے روح المعانی میں کہا ہے:
”و دلالتها على فضل آل اللّه و رسوله (ص) مما لا يمترى فيها مؤمن والنصب جازم الإيمان“۲
”آیت کریمہ میں آل اللہ (جو آل پیغمبر (ص) ہیں) کی فضیلت ہے اور رسول اللہ (ص) کی فضیلت، ایسے امور میں سے ہے کہ جن پر کوئی مؤمن شک و شبہ نہیں کر سکتا ہے اور خاندان پیغمبر (ص) سے دشمنی اور عداوت ایمان کو نابود کر دیتی ہے“
اگرچہ آلوسی نے اس طرح کی بات کہی ہے لیکن اس کے بعد میں آنے والی سطور میں اس نے ایک عظیم فضیلت کو خاندان پیغمبر (ص) سے موڑنے کی کوشش کی ہے۔۳
اب ہم دیکھتے ہیں کہ خداوند متعال نے کیوں حکم دیا کہ اہل بیت علیہم السلام پیغمبر اکرم (ص) کے ساتھ مباہلہ کرنے کے لیے حاضر ہوں؟ اس سوال کے جواب کے لیے ہم پھر سے آیت شریفہ کی طرف پلٹتے ہیں۔
آیت شریفہ میں پہلے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے ”ابناء“، ”نساء“ اور ”انفس“ کو دعوت دینا اور پھر دعا کرنا اور جھوٹوں پر خدا کی لعنت قرار دینا بیان ہوا ہے۔
آیت مباہلہ میں اہل بیت رسول (ص) کی فضیلت و عظمت کی بلندی: مفسرین نے کلمہ ”ابتھال“ کو دعا میں تضرع یا نفرین اور لعنت بھیجنے کے معنی میں لیا ہے اور یہ دونوں معنی ایک دوسرے سے منافات نہیں رکھتے ہیں اور ”ابتھال“ کے یہ دونوں معنی ہو سکتے ہیں۔
آیت شریفہ میں دو چیزیں بیان کی گئی ہیں، ایک ابتھال جو ”نبتھل“ کے لفظ سے استفادہ ہوتا ہے اور دوسرے ”ان لوگوں پر خدا کی لعنت قرار دینا جو اس سلسلہ میں جھوٹے ہیں“ کا جملہ اس پر دلالت کرتا ہے اور ان دونوں کلموں میں سے ہر ایک کے لیے خارج میں ایک خاص مفہوم اور مصداق ہے۔ دوسرا فقرہ جو جھوٹوں پر خدا کی لعنت قرار دینا ہے، پہلے فقرہ ابتہال پر ”فاء“ کے ذریعہ کہ جو تفریع اور سببیت کے معنی میں ہے، عطف ہے۔
لہذا، اس بیان کے پیش نظر پیغمبر اکرم (ص) اور آپ کے اہل بیت علیہم السلام کا تضرع (رجوع الی اللہ) ہے اور جھوٹوں پر خدا کی لعنت اور عقوبت کا مرتب ہونا اس کا معلول ہے، اور یہ ایک بلند مقام ہے کہ خدا کی طرف سے کافروں کو ہلاک کرنا اور انہیں سزا دینا پیغمبر اسلام (ص) اور آپ کے اہل بیت علیہم السلام کے ذریعہ انجام پائے۔ یہ مطلب آنحضرت (ص) کے اہل بیت (علیہم السلام) کی ولایت تکوینی کی طرف اشارہ ہے، جو خداوند متعال کی ولایت کے برابر ہے۔
اگر کہا جائے کہ: ”فاء“ اگرچہ ترتیب کے لیے ہے لیکن ایسے مواقع پر ”فاء“ کے بعد والا جملہ اس کے پہلے والے جملہ کے لیے مفسر قرار پاتا ہے اور وہ ترتیب کہ جس پر کلمہ ”فاء“ دلالت کرتا ہے وہ ترتیب ذکری ہے جیسے:
(ہود/۴۵)
”اور نوح نے اپنے پروردگار کو آواز دی کہ پروردگار! میرا فرزند میرے اہل سے ہے۔“
یہاں پر جملہ ”فقال...“ جملہ ”فنادی“ کو بیان (تفسیر) کرنے والا ہے۔
جواب یہ ہے:
اولاً: جس پر کلمہ ”فاء“ دلالت کرتا ہے وہ ترتیب و تفریع ہے اور ان دونوں کی حقیقت یہ ہے کہ ”جن دو جملوں کے درمیان ”فاء“ نے رابطہ پیدا کیا ہے، ان دونوں جملوں کا مضمون ہے کہ دوسرے جملہ کا مضمون پہلے جملہ پر مترتب ہے“ اور یہ ”فاء“ کا حقیقی معنی اور تفریع کا لازمہ ہے۔ یعنی ترتیب ذکری پر ”فاء“ کی دلالت اس کے خارج میں دو مضمون کی ترتیب کے معنی میں نہیں ہے، بلکہ لفظ اور کلام میں ترتیب ہے لہذا اگر اس پر کوئی قرینہ موجود نہ ہو تو کلام کو اس پر حمل نہیں کر سکتے۔ اس صورت میں آیت شریفہ آنحضرت (ص) کے خاندان کے لیے ایک عظیم مرتبہ پر دلالت رہی ہے کیونکہ ان کی دعا پیغمبر اسلام (ص) کی دعا کے برابر ہے اور مجموعی طور پر یہ دعا اس واقعہ میں جھوٹ بولنے والوں پر ہلاکت اور عذاب الہی نازل ہونے کا باعث ہے۔
دوسرے یہ کہ: جملہ ”فنجعل لعنة اللّہ“ میں ما بعد ”فاء“ جملہ سابق یعنی ”نبتھل“ کے لیے بیّن اور مفسر ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتا ہے، کیونکہ دعا کرنے والے کا مقصد خدا سے طلب کرنا ہے نہ جھوٹوں پر لعنت کرنا۔ اس صفت کے پیش نظر اسے لعنت قرار دینا (جو ایک تکوینی امر ہے) پہلے پیغمبر اسلام (ص) اور آپکے اہل بیت علیہم السلام سے مستند ہے اور دوسرے ”فاء“ تفریع کے ذریعہ ان کی دعا پر متوقف ہے۔ گویا اس حقیقت کا ادراک خود نجران کے عیسائیوں نے بھی کیا ہے۔ اس سلسلہ میں ہم فخر رازی کی تفسیر میں ذکر کیے گئے حدیث کے ایک جملہ پر توجہ کرتے ہیں:
”... فقال أسقف نجران: يا معشر النصاری! إنّی أرى وجوهاً لو سألوا الله أن يزيل جبلاً من مکانه لأزاله بها فلا تباهلوا فتهلکوا ولا يبقى على وجه الأرض نصرانیّ إلى يوم القيامة.“۴
”نجران کے (عیسائی) پادری نے نورانی چہروں کو دیکھ کر انتہائی متاثر ہوئے اور بولے اے نصاریٰ! میں ایسے چہروں کو دیکھ رہا ہوں کہ اگر وہ خدا سے پہاڑ کے اپنی جگہ سے ٹلنے کا مطالبہ کریں تو وہ ضرور اپنی جگہ سے کھسک جائیں گے۔ اس لیے تم ان سے مباہلہ نہ کرنا، ورنہ ہلاک ہو جاؤ گے اور زمین پر قیامت تک کوئی عیسائی باقی نہیں بچے گا۔“
غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آیت شریفہ کے مضمون میں درج ذیل امور واضح طور پر بیان ہوئے ہیں:
۱۔ پیغمبر اکرم (ص) اپنے اہل بیت علیہم السلام کو اپنے ساتھ لے آئے تاکہ وہ آپ کے ساتھ اس فیصلہ کن دعا میں شریک ہوں اور مباہلہ آنحضرت (ص) اور آپ کے اہل بیت علیہم السلام کی طرف سے مشترک طور پر انجام پائے تاکہ جھوٹوں پر لعنت اور عذاب نازل ہونے میں مؤثر واقع ہو۔
۲۔ آنحضرت (ص) اور آپکے اہل بیت (ع) کا ایمان و یقین نیز آپ کی رسالت اور دعوت کا مقصد تمام لوگوں کے لیے واضح ہو گیا۔
۳۔ اس واقعہ سے آنحضرت (ص) کے اہل بیت علیہم السلام کا بلند مرتبہ نیز اہل بیت کی آنحضرت (ص) سے قربت دنیا والوں پر واضح ہو گئی۔
اب ہم دیکھیں گے کہ پیغمبر اسلام (ص) ”ابناءنا“ (اپنے بیٹوں)، ”نسائنا“ (اپنی عورتوں) اور ”انفسنا“ (اپنے نفسوں) میں سے کن کو اپنے ساتھ لاتے ہیں؟
تیسرا محور
مباہلہ میں پیغمبر (ص) اپنے ساتھ کس کو لے گئے؟ شیعہ اور اہل سنت کا اس پر اتفاق ہے کہ پیغمبر اسلام (ص) مباہلہ کے لیے علی، فاطمہ، حسن اور حسین علیہم السلام کے علاوہ کسی اور کو اپنے ساتھ نہیں لائے۔ اس سلسلہ میں چند مسائل قابل غور ہیں:
الف: وہ احادیث جن میں پیغمبر (ص) کے اہل بیت علیہم السلام کے میدان مباہلہ میں حاضر ہونے کا بیان کیا گیا ہے۔
ب: ان احادیث کا معتبر اور صحیح ہونا۔
ج: اہل سنت کی بعض کتابوں میں ذکر ہوئی قابل توجہ روایتیں۔
مباہلہ میں اہل بیت رسول (ص) کے حاضر ہونے کے بارے میں حدیثیں
۱۔ اہل سنت کی حدیثیں:
چونکہ اس کتاب میں زیادہ تر روی سخن اہل سنت کی طرف ہے لہذا اکثر انہیں کے مصادر سے احادیث نقل کی جائیں گی۔ نمونہ کے طور پر اس حوالے سے چند احادیث نقل کی جا رہی ہیں:
پہلی حدیث:
صحیح مسلم(۱)، سنن ترمذی(۲) اور مسند احمد(۳) میں یہ حدیث نقل ہوئی ہے جس کے متفق اور مسلم کے الفاظ یہ ہیں:
”حدثنا قتيبة بن سعيد و محمد بن عباد... قالا: حدثنا حاتم (و هو ابن اسماعيل) عن بکير بن مسمار، عن عامر بن سعد بن أبي وقاص، عن أبيه، قال: أمر معاوية بن أبي سفيان سعداً فقال: ما منعک أن تسب أبا التراب؟ فقال: أما ما ذكرتُ ثلاثاً قالهنّ له رسول اللّه (ص) فلن أسبّه۔ لأن تكون لي واحدة منهنّ أحبّ إليّ من حمر النعم۔ سمعت رسول للّه (ص) يقول له لما خلّفه في بعض مغازيه فقال له عليّ: يا رسول اللّه، خلّفتني مع النساء والصبيان؟ فقال له رسول اللّه (ص): أما ترضی أن تکون منّي بمنزلة هارون من موسی إلا أنه لا نبوة بعدي؟ و سمعته يقول يوم خيبر: لأعطينّ الراية رجلاً يحبّ اللّه و رسوله و یحبّه اللّه و رسوله۔ قال: فتطاولنا لها۔ فقال: ادعوا لي علياً فأتی به أرمد، فبصق في عينه ودفع الراية إليه، ففتح اللّه عليه۔ ولما نزلت هذه الآية دعا رسول اللّه - صلی اللّه عليه وسلم - علياً وفاطمة وحسناً وحسيناً، فقال: اللّهمّ هؤلاء أهلي“۔
”قتیبہ بن سعید اور محمد بن عباد نے ہمارے لیے حدیث نقل کی، -- عامر بن سعد بن ابی وقاص نے اپنے باپ (سعد بن ابی وقاص) سے کہ معاویہ نے سعد کو حکم دیا اور کہا: تمہیں ابوتراب (علی بن ابی طالب علیہ السلام) کو دشنام دینے اور برا بھلا کہنے سے کون سی چیز مانع ہوئی؟ (سعد نے) کہا: مجھے تین چیزیں (تین فضیلتیں) یاد ہیں کہ جنہیں رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا ہے، لہذا میں انہیں کبھی بھی برا بھلا نہیں کہوں گا۔ اگر مجھ میں ان تین فضیلتوں میں سے صرف ایک پائی جاتی تو وہ میرے لیے سرخ اونٹوں سے محبوب تر ہوتی:
۱۔ میں نے پیغمبر خدا (ص) سے سنا ہے ایک جنگ کے دوران انہیں (حضرت علی علیہ السلام) مدینہ میں اپنی جگہ پر رکھا تھا اور علی (علیہ السلام) نے کہا: یا رسول اللہ! کیا آپ مجھے عورتوں اور بچوں کے ساتھ مدینہ میں چھوڑ رہے ہیں؟ (آنحضرت (ص) نے) فرمایا: کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ میرے ساتھ تمہاری نسبت وہی ہو جو ہارون کی (حضرت) موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ تھی، صرف یہ کہ میرے بعد کوئی پیغمبر نہیں ہو گا؟ ۲۔ میں نے (رسول خدا (ص)) سے سنا ہے کہ آپ نے روز خیبر علی کے بارے میں فرمایا: بیشک میں پرچم اس شخص کے ہاتھ میں دوں گا جو خدا و رسول (ص) کو دوست رکھتا ہے اور خدا و رسول (ص) اس کو دوست رکھتے ہیں۔ (سعد نے کہا): ہم (اس بلند مرتبہ کے لیے) سر اٹھا کر دیکھ رہے تھے (کہ آنحضرت (ص) اس امر کے لیے ہمیں مقرر فرماتے ہیں یا نہیں؟) (اس وقت آنحضرت (ص) نے فرمایا: علی (علیہ السلام) کو میرے پاس بلاؤ۔ علی (علیہ السلام) کو ایسی حالت میں آپکے پاس لایا گیا، جبکہ ان کی آنکھوں میں درد تھا، آنحضرت (ص) نے اپنا آبِ دہن ان کی آنکھوں میں لگایا اور پرچم ان کے ہاتھ میں تھما دیا اور خدائے متعال نے ان کے ذریعہ سے مسلمانوں کو فتح عطا کی۔
۳۔ جب یہ آیت شریفہ نازل ہوئی: < قل تعالوا ندع أبناءنا وأبناءكم ونساءنا ونساءكم وأنفسنا وأنفسكم... > تو پیغمبر اکرم (ص) نے علی، فاطمہ، حسن اور حسین (علیہم السلام) کو بلا کر فرمایا: خدایا! یہ میرے اہل بیت ہیں۔“
اس حدیث سے قابل استفادہ نکات:
۱۔ حدیث میں جو آخری جملہ آیا ہے: ”اللّهمّ هؤلاء أهلي“ خدایا! یہ میرے اہل ہیں، اس بات پر دلالت کرتا ہے ”ابناء“ ”نساء“ اور ”انفس“ جو آیت شریفہ میں آئے ہیں، وہ اس لحاظ سے ہے کہ وہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل ہیں۔
۲۔ ”ابناء“ ”نساء“ و ”انفس“ میں سے ہر ایک جمع مضاف ہیں (جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا) اس کا اقتضا یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے خاندان کے تمام بیٹوں، عورتوں اور وہ ذات جو آپ کا نفس کہلاتی تھی، سب کو میدان مباہلہ میں لائیں، جبکہ آپ نے ”ابناء“ میں سے صرف حسن و حسین علیہما السلام کو، ”نساء“ سے صرف حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کو اور ”انفس“ سے صرف حضرت علی علیہ السلام کو اپنے ساتھ لایا۔ اس مطلب کے پیش نظر جو آپ نے یہ فرمایا: ”خدایا، یہ میرے اہل ہیں“ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت (ص) کے اہل صرف یہی حضرات ہیں اور آنحضرت (ص) کی بیویاں اس معنی میں آپکے اہل کے دائرے سے خارج ہیں۔
۳۔ ”اہل“ اور ”اہل بیت“ کے ایک خاص اصطلاحی معنی ہیں جو پنج تن پاک کہ جن کو آل عبا اور اصحاب کساء کہا جاتا ہے، ان کے علاوہ دوسروں پر اس معنی کا اطلاق نہیں ہوتا ہے۔ یہ مطلب، پیغمبر اسلام (ص) کی بہت سی احادیث سے کہ جو آیت تطہیر کے ذیل میں ذکر ہوئی ہیں اور اس کے علاوہ دوسری مناسبتوں سے بیان کی گئی ہیں، بخوبی استفادہ کیا جا سکتا ہے۔
دوسری حدیث:
فخر رازی نے تفسیر کبیر میں آیت مباہلہ کے ذیل میں لکھا ہے:
”روی أنه - عليه السلام - لما أورد الدلائل علی نصاری نجران، ثمّ أنهم أصرّوا علی جهلهم، فقال - عليه السلام - إنّ اللّه أمرنی أن لم تقبلوا الحجّة أن أبا هلکم۔ فقالوا: يا أبا القاسم، بل نرجع فننظر فی أمرنا ثمّ نأتيک۔
فلمّا رجعوا قالوا للعاقب - و کان ذا رأيهم - :يا عبدالمسیح، ما تری؟ فقال: و اللّه لقد عرفتم يا معشر النصاری أنّ محمداً نبیّ مرسل و لقد جاءکم بالکلام الحق فی أمر صاحبکم و اللّه ما باهل قوم نبياً قط فعاش کبيرهم و لا نبت صغيرهم! و لئن فعلتم لکان الاستئصال، فإن أبيتم إلاّ الإصرار علی دينکم و الإقامة علی ما أنتم عليه فوادعوا الرجل و انصرفوا الی بلادکم۔ و کان رسول اللّه (ص) خرج وعليه مرط من شعر أسود، وکان قد احتضن الحسين وأخذ بيد الحسن، و فاطمه تمشی خلفه وعلی - عليه السلام - خلفها، و هو يقول: إذا دعوت فأمّنوا۔ فقال أسقف نجران: يا معشر النصاری! إنّی أری وجوهاً لو سألوا اللّه أن يزيل جبلاً من مکانه لأزاله بها! فلا تباهلوا فتهلکوا، و لا يبقى على وجه الأرض نصرانیّ إلى يوم القيامة۔ ثمّ قالوا: يا أبا القاسم! رأينا أن لا نباهلک و أن نقرّک علی دينک۔ فقال: - صلوات اللّه عليه - فإذا أبيتم المباهلة فأسلموا يکن لکم ما للمسلمين، و عليکم ما علی المسلمين، فأبوا، فقال: فإنّی أناجزکم القتال، فقالوا: مالنا بحرب العرب طاقة، ولکن نصائلك علی أن لا تغزونا و لا تردّنا عن ديننا علی أن نؤدّي إليک فی کل عام ألفي حلّة: ألفاً فی صفر و ألفاً فی رجب، و ثلاثين درعاً عادية من حديد، فصالحهم علی ذلک۔ وقال: والذي نفسی بيده إنّ الهلاک قد تدلّی علی أهل نجران، و لولا لمسخوا قردة و خنازير و لاضطرم عليهم الوادی ناراً و لاستأصل اللّه نجران وأهله حتی الطير علی رؤس الشجر و لما حال حولاً علی النصاری کلّهم حتی يهلکوا۔ و روی أنه - عليه السلام - لمّا خرج فی المرط الأسود فجاء الحسن -عليه السلام - فأدخله، ثمّ جاء الحسين -عليه السلام - فأدخله ،ثمّ فاطمة - عليها السلام - ثمّ علی - عليه السلام - ثمّ قال: واعلم أنّ هذه الرواية کالمتّفق علی صحّتها بين أهل التّفسير والحديث.“۵
”جب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نجران کے عیسائیوں پر دلائل واضح کر دیے اور انہوں نے اپنی نادانی اور جہل پر اصرار کیا، تو آنحضرت (ص) نے فرمایا: خدائے متعال نے مجھے حکم دیا ہے اگر تم لوگوں نے دلائل کو قبول نہیں کیا تو تمہارے ساتھ مباہلہ کروں گا۔“(انہوں نے) کہا: اے ابا القاسم! ہم واپس جاتے ہیں تاکہ اپنے کام کے بارے میں غور و فکر کر لیں، پھر آپکے پاس آئیں گے۔
جب وہ (اپنی قوم کے پاس) واپس چلے گئے، انھوں نے اپنی قوم کے ایک صاحب نظر کہ جس کا نام ”عاقب“ تھا اس سے کہا: اے عبدالمسیح! اس سلسلہ میں آپ کا نظریہ کیا ہے؟ اس نے کہا: اے گروہ نصاریٰ! تم لوگ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پہچانتے ہو اور جانتے ہو وہ اللہ کے رسول ہیں۔ اور آپ کے صاحب (یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کے بارے میں حق بات کہتے ہیں۔ خدا کی قسم کسی بھی قوم نے اپنے پیغمبر سے مباہلہ نہیں کیا، مگر یہ کہ اس قوم کے چھوٹے بڑے سب ہلاک ہو گئے۔ چنانچہ اگر تم نے ان سے مباہلہ کیا تو سب کے سب ہلاک ہو جاؤ گے۔ اس لیے اگر اپنے دین پر باقی رہنے کے لیے تمہیں اصرار ہے تو انہیں چھوڑ کر اپنے شہر واپس چلے جاؤ۔ پیغمبر اسلام (ص) (مباہلہ کے لیے) اس حالت میں باہر تشریف لائے کہ حسین (علیہ السلام) آپکی آغوش میں تھے، حسن (علیہ السلام) کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے، فاطمہ (سلام اللہ علیہا) آپکے پیچھے اور علی (علیہ السلام) فاطمہ کے پیچھے چل رہے تھے۔ آنحضرت (ص) فرماتے تھے: ”جب میں دعا مانگوں تو تم لوگ آمین کہنا“ نجران کے پادری نے کہا: اے گروہ نصاریٰ! میں ایسے چہروں کو دیکھ رہا ہوں کہ اگر خدا سے دعا کریں کہ پہاڑ اپنی جگہ سے ہٹ جائے تو وہ اپنی جگہ چھوڑ دے گا۔ لہذا ان کے ساتھ مباہلہ نہ کرنا، ورنہ تم لوگ ہلاک ہو جاؤ گے اور روی زمین پر قیامت تک کوئی عیسائی باقی نہیں بچے گا۔ اس کے بعد انہوں نے کہا: اے ابا القاسم! ہمارا ارادہ یہ ہے کہ آپ سے مباہلہ نہیں کریں گے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب جبکہ مباہلہ نہیں کر رہے ہو تو مسلمان ہو جاؤ تاکہ مسلمانوں کے نفع و نقصان میں شریک رہو۔ انہوں نے اس تجویز کو بھی قبول نہیں کیا۔ آنحضرت (ص) نے فرمایا: اس صورت میں تمہارے ساتھ ہماری جنگ قطعی ہے۔ انہوں نے کہا: عربوں کے ساتھ جنگ کرنے کی ہم میں طاقت نہیں ہے۔ لیکن ہم آپ کے ساتھ صلح کریں گے تاکہ آپ ہمارے ساتھ جنگ نہ کریں اور ہمیں اپنا دین چھوڑنے پر مجبور نہ کریں گے، اس کے بدلہ میں ہم ہر سال آپ کو دو ہزار لباس دیں گے، ایک ہزار لباس صفر کے مہینہ میں اور ایک ہزار لباس رجب کے مہینہ میں اور تیس زرہیں آہنی ادا کریں گے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی اس تجویز کو قبول کر لیا، اس طرح ان کے ساتھ صلح کر لی۔ اس کے بعد فرمایا: قسم اس خدا کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے، اہل نجران نابودی کے دہانے پر پہنچ چکے تھے، اگر مباہلہ کرتے تو بندروں اور سوروں کی شکل میں مسخ ہو جاتے اور جس صحرا میں سکونت اختیار کرتے اس میں آگ لگ جاتی اور خداوند متعال نجران اور اس کے باشندوں کو نیست و نابود کر دیتا، یہاں تک کہ درختوں پر موجود پرندے بھی ہلاک ہو جاتے اور ایک سال کے اندر اندر تمام عیسائی صفحہ ہستی سے مٹ جاتے۔ روایت میں ہے کہ جب پیغمبر اکرم (ص) اپنی پشمی کالی رنگ کی عبا پہن کر باہر تشریف لائے (اپنے بیٹے) حسن (علیہ السلام) کو بھی اس میں داخل کر لیا، اس کے بعد حسین (علیہ السلام) آ گئے انہیں بھی عبا کے نیچے داخل کیا، اس کے بعد علی و فاطمہ (علیہما السلام) تشریف لائے، اس کے بعد فرمایا: ”پس اللہ کا ارادہ ہے اے اہل بیت کہ تم سے ہر طرح کی کثافت و پلیدی کو دور رکھے اور اس طرح پاک و پاکیزہ رکھے جو پاک و پاکیزہ رکھنے کا حق ہے۔“ علامہ فخر رازی نے اس حدیث کی صحت و صداقت کے بارے میں کہا ہے کہ تمام علماء تفسیر و احادیث کے نزدیک یہ حدیث متفق علیہ ہے۔“
نکات
حدیث میں قابل استفادہ نکات:
اس حدیث میں درج ذیل نکات قابل توجہ ہیں:
۱۔ اس حدیث میں رسول (ص) کے اہل بیت کا حضور اس صورت میں بیان ہوا ہے کہ خود آنحضرت (ص) آگے آگے (حسین علیہ السلام کو گود میں لیے ہوئے)، حسن (علیہ السلام) کا ہاتھ پکڑے ہوئے جو حسین (علیہ السلام) سے قدرے بڑے ہیں اور آپ کی بیٹی فاطمہ سلام اللہ علیہا آپکے پیچھے اور ان کے پیچھے (علیہ السلام) ہیں۔ یہ کیفیت انتہائی دلچسپ اور نمایاں تھی۔ کیونکہ یہ شکل و ترتیب آیت مباہلہ میں ذکر ہوئی ترتیب و صورت سے ہم آہنگ ہے۔ اس ہم آہنگی کا درج ذیل ابعاد میں تجزیہ کیا جا سکتا ہے:
الف: ان کے آنے کی ترتیب وہی ہے جو آیت شریفہ میں بیان ہوئی ہے۔ یعنی پہلے ”ابناءنا“ اس کے بعد ”نسائنا“ اور پھر آخر پر ”انفسنا“ ہے۔
ب: یہ کہ رسول خدا (ص) اپنے چھوٹے فرزند حسین بن علی علیہما السلام کو آغوش میں لیے ہوئے اور اپنے دوسرے فرزند خورد سال حسن بن علی علیہما السلام کا ہاتھ پکڑے ہوئے ہیں، یہ آیت شریفہ میں بیان ہوئے ”بناءنا“ کی عینی تعبیر ہے۔
ج: بیچ میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا قرار پانا اس گروہ میں ”نساءنا“ کے منحصر بہ فرد مصداق کے لیے آگے اور پیچھے سے محافظ قرار دیا جانا، آیت شریفہ میں ”نساءنا“ کی مجسم تصویر کشی ہے۔
۲۔ اس حدیث میں پیغمبر اکرم (ص) نے اپنے اہل بیت علیہم السلام سے فرمایا: ”إذا دعوت فأمّنوا“ یعنی: جب میں دعا کروں تو تم لوگ آمین کہنا۔ اور یہ وہی چیز ہے جو آیت مباہلہ میں آئی ہے:
یہاں پر ”ابتھال“ (دعا) کو صرف پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نسبت دی گئی ہے، بلکہ ”ابتھال“ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے دعا کی صورت میں اور آپ کے ہمراہ آئے ہوئے اعزہ و اقربا کی طرف سے آمین کہنے کی صورت میں محقق ہونا چاہیے تاکہ (اس واقعہ میں) جھوٹوں پر ہلاکت اور عقوبت الہی واقع ہونے کا سبب قرار پائے، جیسا کہ گزر چکا ہے۔
۳۔ گروہ نصاریٰ کی طرف سے اہل بیت علیہم السلام کی عظمت و فضیلت کا اعتراف یہاں تک کہ ان کے نورانی و مقدس چہروں کو دیکھنے کے بعد مباہلہ کرنے سے انکار کر دیا۔
تیسری حدیث:
ایک اور حدیث جس میں ”ابناءنا“، ”نسائنا“ اور ”انفسنا“ کے الفاظ صرف علی، فاطمہ، حسن اور حسین علیہم السلام پر صادق آتی ہیں، وہ حدیث ”مناشدہ یوم الشوریٰ“ ہے۔ اس حدیث میں امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام، اصحاب شوریٰ (عثمان بن عفان، عبدالرحمن بن عوف، طلحہ، زبیر اور سعد بن ابی وقاص) سے کہ جس دن یہ شوریٰ تشکیل ہوئی اور عثمان کی خلافت پر منتج و تمام ہوئی، اپنے فضائل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ اس طرح سے کہ ان تمام فضیلتوں کو یاد دلاتے ہوئے انہیں خدا کی قسم دیتے ہیں اور ان تمام فضیلتوں کو اپنی ذات سے مختص ہونے کا ان سے اعتراف لیتے ہیں۔ حدیث یوں ہے:
”أخبرنا أبو عبد اللّه محمد بن إبراهيم، أنا أبو الفضل أحمد بن عبد المنعم بن أحمد ابن بندار، أنا أبو الحسن العتيقي، أنا أبو الحسن الدارقطني، أنا أحمد بن محمد بن سعيد، أنا يحيى بن زكريا بن شيبان، أنا يعقوب بن سعيد، حدثني مثنى أبو عبداللّه، عن سفيان الثوري، عن ابن إسحاق السبيعي، عن عاصم بن ضمرة وهبيرة و عن العلاء بن صالح، عن المنهال بن عمرو، عن عباد بن عبد اللّه الأسدي و عن عمرو بن واثلة قالوا: قال علیّ بن أبی طالب يوم الشوری: واللّه لأحتجنّ عليهم بما لا يستطيع قرشيّهم و لا عربيّهم و لا عجميّهم ردّه و لا يقول خلافه۔ ثمّ قال لعثمان بن عفان و لعبدالرحمن بن عوف و الزبير و لطلحة و سعد - و هم أصحاب الشوری و كلّهم من قريش، و قد کان قدم طلحة - أنشدکم باللّه الذي لا إله إلا هو، أفيکم أحد وحّد اللّه قبلی؟ قالوا: اللّهمّ لا۔ قال: أنشدکم باللّه، أفيکم أحد أخو رسول اللّه - صلی اللّه عليه وسلم - غيري، إذ آخى بين المؤمنين فآخى بيني و بين نفسه و جعلني منه بمنزلة هارون من موسی إلا أني لست بنبي؟ قالوا: لا۔ قال: أنشدکم باللّه، أفيکم مطهّر غيري، إذ سدّ رسول اللّه (ص) أبوابکم و فتح بابي و کنت معه فی مساكنه ومسجده؟ فقام إليه عمّه فقال: يا رسول اللّه، غلّقت أبوابنا و فتحت باب علیّ؟ قال: نعم، اللّه أمر بفتح بابه و سدّ أبوابکم!!! قالوا: اللّهمّ لا۔ قال: نشدتکم باللّه، أفيکم أحد أحبّ الی للّه و الی رسوله منّي إذ دفع الراية إليّ يوم خيبر فقال : لأعطينّ الراية إلى من يحبّ اللّه و رسوله و يحبّه اللّه و رسوله، و يوم الطائر إذ يقول: ”اللّهمّ ائتنی بأحب خلقک إليك يأکل معی“، فجئت فقال: ”اللّهمّ والی رسولک ، اللّهمّ والی رسولک“ غيري؟۶ قالوا: اللّهمّ لا قال: نشدتکم باللّه، أفيکم أحد قدم بين يدی نجواه صدقة غيري حتی رفع اللّه ذلک الحکم؟ قالوا: اللّهمّ لا۔ قال: نشدتکم باللّه، أفيکم من قتل مشرکی قريش و العرب فی اللّه و فی رسوله غيري؟ قالوا: اللّهمّ لا۔ قال: نشدتکم باللّه، أفيکم أحد دعا رسول اللّه (ص) فيالعلم و أن يکون أذنه الواعية مثل ما دعا لي؟ قالوا: اللّهمّ لا قال: نشدتکم باللّه، هل فيکم أحد أقرب الی رسول اللّه (ص) فی الرحم و من جعله و رسول اللّه (ص) نفسه و ابناء أنبائه و... غيري؟ قالوا: اللّهم لا...“۷
اس حدیث کو معاصم بن ضمرہ و ہبیرہ اور عمرو بن وائلہ نے حضرت (علی علیہ السلام) سے روایت کیا ہے کہ حضرت علی علیہ السلام نے شوریٰ کے دن یوں فرمایا:
”خدا کی قسم بیشک میں تمہارے سامنے ایسے استدلال پیش کروں گا کہ اہل عرب و عجم نیز قریش میں سے کوئی شخص بھی اس کو مسترد نہیں کر سکتا اور نہ ہی اس کے خلاف کچھ کہہ سکتا ہے۔ میں تمہیں اس خدا کی قسم دلاتا ہوں جس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے، کیا تم لوگوں میں کوئی ایسا ہے جس نے مجھ سے پہلے خدائے واحد کی پرستش کی ہو؟ انہوں نے کہا: خدا شاہد ہے! نہیں۔ آپ (ع) نے فرمایا: تمہیں خدا کی قسم ہے، کیا تم لوگوں میں میرے علاوہ کوئی ہے، جو رسول (ص) کا بھائی ہو، جب (آنحضرت (ص) نے) مؤمنین کے درمیان اخوت و برادری برقرار کی، اور مجھے اپنا بھائی بنایا اور میرے بارے میں یہ ارشاد فرمایا کہ: ”تمہاری نسبت مجھ سے ویسی ہی جیسے ہارون کی موسیٰ سے تھی سوائے اس کے کہ میں نبی نہیں ہوں“۔ انہوں نے کہا: نہیں۔ فرمایا: تمہیں خدا کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ کیا میرے علاوہ تم لوگوں میں کوئی ایسا ہے جسے پاک و پاکیزہ قرار دیا گیا ہو، جب کہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمہارے گھروں کے دروازے مسجد کی طرف بند کر دیے تھے اور میرے گھر کا دروازہ کھلا رکھا تھا اور میں مسکن و مسجد کے سلسلہ میں آنحضرت (ص) کے ساتھ (اور آپ کے حکم میں) تھا؟ چچا (حضرت) عباس اپنی جگہ اٹھے اور کہا: اے اللہ کے رسول! ہمارے گھروں کے دروازے بند کر دیے اور علی (علیہ السلام) کے گھر کا دروازہ کھلا رکھا؟ پیغمبر (ص) نے فرمایا: یہ خدائے متعال کی طرف سے ہے کہ جس نے ان کے دروازہ کو کھلا رکھنے اور آپ لوگوں کے دروازوں کو بند کرنے کا حکم دیا؟ انہوں نے کہا: خدا شاہد ہے، نہیں۔ فرمایا: تمہیں خدا کی قسم دلاتا ہوں، کیا تمہارے درمیان کوئی ہے جسے خدا اور رسول مجھ سے زیادہ دوست رکھتے ہوں، جبکہ پیغمبر (ص) نے خیبر کے دن علم اٹھا کر فرمایا ”بیشک میں علم اس کے ہاتھ میں دوں گا جو خدا و رسول (ص) کو دوست رکھتا ہے اور خدا و رسول اس کو دوست رکھتے ہیں“ اور جس دن بھنے ہوئے پرندہ کے بارے میں فرمایا: ”خدایا! میرے پاس اس شخص کو بھیج جسے تو سب سے زیادہ چاہتا ہے تاکہ وہ میرے ساتھ کھانا کھائے۔“ اور اس دعا کے نتیجہ میں، میں آیا۔ میرے علاوہ کون ہے جس کے لیے یہ اتفاق پیش آیا ہو؟ انہوں نے کہا: خدا شاہد ہے، نہیں۔ فرمایا: تمہیں خدا کی قسم دلاتا ہوں، کیا تم لوگوں میں میرے علاوہ کوئی ہے، جس نے پیغمبر سے سرگوشی سے پہلے صدقہ دیا ہو، یہاں تک کہ خدائے وند متعال نے اس حکم کو منسوخ کر دیا؟ انہوں نے کہا: خدا شاہد ہے نہیں۔ فرمایا: تمہیں خدا کی قسم ہے، کیا تم لوگوں میں میرے علاوہ کوئی ہے، جس نے قریش اور عرب کے مشرکین کو خدا اور اس کے رسول (ص) کی راہ میں قتل کیا ہو؟ انہوں نے کہا: خدا گواہ ہے، نہیں۔ فرمایا: تمہیں خدا کی قسم ہے، کیا تم لوگوں میں میرے علاوہ کوئی ہے، جس کے حق میں پیغمبر اکرم (ص) (افزائش) علم کے سلسلہ میں دعا کی ہو اور اذن واعیہ (گوش شنوا) کا خدا سے مطالبہ کیا ہو، جس طرح میرے حق میں دعا کی؟ انہوں نے کہا: خدا گواہ ہے، نہیں۔ فرمایا: تمہیں خدا کی قسم ہے، کیا تم لوگوں میں کوئی ہے جو پیغمبر اکرم (ص) سے رشتہ داری میں مجھ سے زیادہ نزدیک ہو اور جس کو پیغمبر خدا (ص) نے اپنا نفس، اس کے بیٹوں کو اپنے بیٹے کہا ہو؟ انہوں نے کہا: خدا گواہ ہے، نہیں۔“
اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ اس حدیث میں مباہلہ میں شریک ہونے والے افراد، کہ جنہیں پیغمبر اکرم (ص) اپنے ساتھ لائے تھے، وہ علی، فاطمہ، حسن، و حسین (علیہم السلام) کی ذات تک محدود ہیں۔
اعتبار حدیث
حدیث کا معتبر اور صحیح ہونا:
اہل سنت کی احادیث کے بارے میں ہم صرف مذکورہ احادیث ہی پر اکتفا کرتے ہیں، اور ان احادیث کے مضمون کی صحت کے بارے میں یعنی مباہلہ میں صرف پنج تن آل عبا (پیغمبر کے علاوہ علی، فاطمہ، حسن و حسین علیہم السلام) ہی شامل تھے، اس حوالے سے صرف حاکم نیشابوری کے درج ذیل مطالب کی طرف اشارہ کرتے ہیں:
وہ اپنی کتاب ”معرفۃ علوم الحدیث“۱ میں پہلے آیت مباہلہ کے نزول کو ابن عباس سے نقل کرتا ہے اور وہ ”انفسنا“ سے حضرت علی علیہ السلام، ”نسائنا“ سے حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا اور ”ابناءنا“ سے حسن و حسین علیہما السلام مراد لیتا ہے۔ اس کے بعد ابن عباس اور دوسروں سے اس سلسلہ میں نقل کی گئی روایتوں کو متواتر جانتے ہوئے اہل بیت (ع) کے بارے میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس فرمائش: ”ہؤلاء أبناؤنا و أنفسنا و نساؤنا“ کے سلسلہ میں یاددہانی کراتا ہے۔۸
چنانچہ اس باب میں اصحاب کے ایک گروہ جیسے جابر بن عبداللہ، ابن عباس اور امیرالمؤمنین کے حوالے سے مختلف طرق سے احادیث نقل ہوئی ہیں، اس مختصر کتاب میں بیان کرنے کی گنجائش نہیں ہے، اس لیے ہم حاشیہ میں بعض ان منابع کی طرف اشارہ کرنے ہی پر اکتفا کرتے ہیں۔۹
۲۔ شیعہ امامیہ کی احادیث: شیعہ روایتوں میں بھی اس واقعہ کے بارے میں بہت سی فراوان احادیث موجود ہیں، یہاں پر ہم ان میں سے چند احادیث کو نمونہ کے طور پر ذکر کرتے ہیں:
پہلی حدیث
امام صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ، جب نجران کے عیسائی پیغمبر اسلام (ص) کے پاس آئے، ان کی نماز کا وقت ہوا تو وہیں پر گھنٹی بجائی اور (اپنے طریقہ سے) نماز پڑھنا شروع کی۔ اصحاب نے کہا: اللہ کے رسول یہ لوگ آپ کی مسجد میں یوں عمل کر رہے ہیں! آپ نے فرمایا: انہیں عمل کرنے دو۔
جب نماز سے فارغ ہوئے، پیغمبر اکرم (ص) کے قریب آئے اور کہا: ہمیں آپ کس چیز کی دعوت دیتے ہو؟
آپ نے فرمایا: اس کی دعوت دیتا ہوں کہ، خدائے واحد کی پرستش کرو، میں خدا کا رسول ہوں اور عیسیٰ خدا کے بندے اور اس کی مخلوق ہیں، وہ کھاتے اور پیتے ہیں نیز قضائے حاجت کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا: اگر وہ خدا کے بندے ہیں تو اس کا باپ کون ہے؟
پیغمبر خدا (ص) پر وحی نازل ہوئی کہ اے رسول ان سے کہہ دیجیے کہ وہ حضرت آدم علیہ السلام کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ وہ خدا کے بندے اور اس کی مخلوق ہیں اور کھاتے اور پیتے ہیں... اور نکاح کرتے ہیں۔
آپ نے فرمایا: اگر خدا کے ہر بندے اور مخلوق کے لیے کوئی باپ ہونا چاہیے تو آدم علیہ السلام کا باپ کون ہے؟ وہ جواب دینے سے قاصر رہے۔ خدائے متعال نے درج ذیل دو آیات نازل فرمائیں:
(آل عمران /۶۱) ”عیسیٰ کی مثال اللہ کے نزدیک آدم جیسی ہے کہ انھیں مٹی سے پیدا کیا اور پھر کہا ہو جا تو وہ پیدا ہو گئے… اے پیغمبر! علم کے آ جانے کے بعد جو لوگ تم سے کٹ حجتی کریں ان سے کہہ دیجیے کہ ٹھیک ہے تم اپنے فرزند، اپنی عورتوں اور اپنے نفسوں کو بلاؤ اور ہم بھی اپنے فرزند، اپنی اپنی عورتوں اور اپنے نفسوں کو بلاتے ہیں پھر خدا کی بارگاہ میں دونوں مل کر دعا کریں اور جھوٹوں پر خدا کی لعنت کریں“
پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا: ”میرے ساتھ مباہلہ کرو، اگر میں نے سچ کہا ہو گا تو تم لوگوں پر عذاب نازل ہو گا اور اگر میں نے جھوٹ کہا ہو گا تو مجھ پر عذاب نازل ہو گا“
انہوں نے کہا: آپ نے منصفانہ نظریہ پیش کیا ہے اور مباہلہ کو قبول کیا۔ جب وہ لوگ اپنے گھروں کو لوٹے، ان کے سرداروں نے ان سے کہا: اگر محمد (ص) اپنی قوم کے ہمراہ مباہلہ کے لیے تشریف لائیں، تو وہ پیغمبر نہیں ہیں، اس صورت میں ہم ان کے ساتھ مباہلہ کریں گے، لیکن اگر وہ اپنے اہل بیت (علیہم السلام) اور اعزہ کے ہمراہ تشریف لائیں تو ہم ان کے ساتھ مباہلہ نہیں کریں گے۔
صبح کے وقت جب وہ میدان مباہلہ میں آ گئے تو دیکھا کہ پیغمبر (ص) کے ساتھ علی، فاطمہ، حسن اور حسین علیہم السلام ہیں۔ اس وقت انہوں نے پوچھا: یہ کون لوگ ہیں؟ ان سے کہا گیا: وہ مرد ان کا چچا زاد بھائی اور داماد علی بن ابی طالب ہیں اور وہ عورت ان کی بیٹی فاطمہ ہے اور وہ دو بچے حسن اور حسین (علیہما السلام) ہیں۔
انہوں نے مباہلہ کرنے سے انکار کیا اور آنحضرت (ص) سے کہا: ”ہم آپ کی رضایت کے طالب ہیں۔ ہمیں مباہلہ سے معاف فرمائیں۔“ آنحضرت (ص) نے ان کے ساتھ صلح کی اور طے پایا کہ وہ جزیہ ادا کریں۔۱۰
دوسری حدیث
سید بحرانی، تفسیر ”البرہان“ میں ابن بابویہ سے اور حضرت امام رضا علیہ السلام سے روایت نقل کرتے ہیں:
”حضرت (امام رضا علیہ السلام) نے مأمون اور علماء کے ساتھ (عترت و امت میں فرق اور عترت کی امت پر فضیلت کے بارے میں) اپنی گفتگو میں فرمایا: جہاں پر خدائے متعال ان افراد کے بارے میں بیان فرماتا ہے جو خدا کی طرف سے خاص طہارت و پاکیزگی کے مالک ہیں، اور خدا اپنے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیتا ہے کہ مباہلہ کے لیے اپنے اہل بیت کو اپنے ساتھ لائیں اور فرماتا ہے: علماء نے حضرت سے کہا: آیت میں ’انفسنا‘ سے مراد خود پیغمبر (ص) ہیں! امام رضا علیہ السلام نے فرمایا: آپ لوگوں نے غلط سمجھا ہے۔ بلکہ ”انفسنا“ سے مراد علی بن ابی طالب (علیہ السلام) ہیں۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) نے بنی ولیعہ سے فرمایا: ”أو لأبعثنّ إليهم رجلاً كنفسي“ یعنی: ”بنی ولیعہ کو اپنے امور سے دست بردار ہو جانا چاہیے، ورنہ میں اپنے مانند ایک مرد کو ان کی طرف روانہ کروں گا۔“
”أبناءنا“ کے مصداق حسن و حسین (علیہما السلام) ہیں اور ”نساءنا“ سے مراد فاطمہ (سلام اللہ علیہا) ہیں اور یہ ایسی فضیلت ہے، جس تک کوئی نہیں پہنچ سکا اور یہ ایسی بلندی ہے جس تک انسان کا پہنچنا اس کے بس کی بات نہیں ہے اور یہ ایسی شرافت ہے جسے کوئی حاصل نہیں کر سکتا ہے۔ یعنی علی (علیہ السلام) کے نفس کو اپنے نفس کے برابر قرار دیا۔۱۱
تیسری حدیث
اس حدیث میں، ہارون رشید، موسیٰ بن جعفر علیہ السلام سے کہتا ہے: آپ کس طرح اپنے آپ کو پیغمبر (ص) کی اولاد جانتے ہیں جبکہ انسانی نسل بیٹے سے پھیلتی ہے اور آپ پیغمبر (ص) کی بیٹی کے بیٹے ہیں؟
امام (علیہ السلام) نے اس سوال کا جواب دینے سے معذرت چاہی۔ ہارون نے کہا: اس مسئلہ میں آپ کو اپنی دلیل ضرور بیان کرنا ہو گی، آپ فرزندانِ علی علیہ السلام کا یہ دعویٰ ہے، آپ لوگ قرآن مجید کا مکمل علم رکھتے ہیں نیز آپ کا کہنا ہے کہ قرآن مجید کا ایک حرف بھی آپ کے علم سے خارج نہیں ہے اور اس سلسلہ میں خداوند متعال کے قول:۱۲ سے استدلال کرتے ہیں اور اس طرح علماء کی رائے اور ان کے قیاس سے اپنے آپ کو بے نیاز جانتے ہو!
حضرت (امام موسیٰ کاظم علیہ السلام) نے ہارون کے جواب میں اس آیت شریفہ کی تلاوت فرمائی جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ذریت پایا گیا ہے:
< و من ذرّيته داود و سليمان و أيوب و يوسف و موسی و هارون و کذلک نجزي المحسنين زکريا و يحيی و عيسی و الياس... >۱۳
”اور پھر ابراہیم کی اولاد میں داؤد، سلیمان، ایوب، یوسف، موسیٰ اور ہارون قرار دیا اور ہم اسی طرح نیک عمل کرنے والوں کو جزا دیتے ہیں۔ اور زکریا، یحییٰ، عیسیٰ اور الیاس کو بھی رکھا جو سب کے سب نیک عمل انجام دینے والے ہیں۔“
اس کے بعد امام (علیہ السلام) نے ہارون سے سوال کیا: حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا باپ کون تھا؟ اس نے جواب میں کہا: عیسیٰ (علیہ السلام) بغیر باپ کے پیدا ہوئے ہیں۔ امام (ع) نے فرمایا: جس طرح خدائے متعال نے جناب عیسیٰ کو حضرت مریم (سلام اللہ علیہا) کے ذریعہ ذریت انبیاء (علیہم السلام) سے ملحق کیا ہے، اسی طرح ہمیں بھی اپنی والدہ حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کے ذریعہ پیغمبر اکرم (ص) سے ملحق فرمایا ہے۔
اس کے بعد حضرت (ع) نے ہارون کے لیے ایک اور دلیل پیش کی اور اس کے لیے آیت مباہلہ کی تلاوت کی اور فرمایا: کسی نے یہ دعویٰ نہیں کیا ہے کہ مباہلہ کے دوران، پیغمبر اکرم (ص) نے علی، فاطمہ، حسن اور حسین علیہم السلام کے علاوہ کسی اور کو زیرِ کساء داخل کیا ہو۔ اس بنا پر آیت شریفہ میں ”ابناءنا“ سے مراد حسن و حسین (علیہما السلام)، ”نسائنا“ سے مراد فاطمہ (سلام اللہ علیہا) اور ”انفسنا“ سے مراد علی علیہ السلام ہیں۔۱۴
چوتھی حدیث
اس حدیث میں کہ جسے شیخ مفید نے ”الاختصاص“ میں ذکر کیا ہے، موسیٰ بن جعفر علیہ السلام نے فرمایا: پوری امت نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ جب پیغمبر اکرم (ص) نے اہل نجران کو مباہلہ کے لیے بلایا تو زیرِ کساء (وہ چادر جس کے نیچے اہل بیت رسول تشریف فرما تھے) علی، فاطمہ، حسن اور حسین علیہم السلام کے علاوہ کوئی اور نہیں تھا۔ اس بنا پر خدائے متعال کے قول: < فقل تعالوا ندع أبناءنا و أبناء کم و نساءنا و نساءکم و أنفسنا و أنفسکم > میں ”أبناءنا“ سے حسن و حسین (علیہما السلام)، ”نساءنا“ سے فاطمہ سلام اللہ علیہا اور ”أنفسنا“ سے علی بن ابی طالب علیہ السلام مراد ہیں۔۱۵
شیخ محمد عبدہ اور رشید رضا کی گفتگو
صاحب تفسیر ”المنار“ پہلے تو فرماتے ہیں کہ ”روایت ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) نے مباہلہ کے لیے علی (ع) و فاطمہ (س) اور ان کے دو نوں بیٹوں کہ خدا کا ان پر درود و سلام ہو کا انتخاب کیا اور انہیں میدان میں لائے اور ان سے فرمایا: ”اگر میں دعا کروں تو تم لوگ آمین کہنا“ روایت کو جاری رکھتے ہوئے اختصار کے ساتھ مسلم اور ترمذی کو بھی نقل کرتے ہیں۔ اس کے بعد کہتے ہیں:
استاد امام (شیخ محمد عبدہ) نے کہا ہے: اس سلسلہ میں روایتیں متفق علیہ ہیں کہ پیغمبر (ص) نے مباہلہ کے لیے علی (ع)، فاطمہ (س) اور ان کے بیٹوں کو منتخب کیا ہے اور آیت شریفہ میں لفظ ”نسائنا“ فاطمہ کے لیے اور لفظ ”انفسنا“ کا استعمال علی کے لیے ہوا ہے۔ لیکن ان روایتوں کا سرچشمہ شیعہ منابع ہیں (اور انہوں نے یہ احادیث گھڑ لی ہیں) اور اس سے ان کا مقصد بھی معلوم ہے۔ وہ حتی الامکان ان احادیث کو شائع و مشہور کرنا چاہتے ہیں اور ان کی یہ روش بہت سے سنیوں میں بھی عام ہو گئی ہے! لیکن جنہوں نے ان روایتوں کو گھڑا ہے، وہ ٹھیک طریقہ سے ان روایتوں کو آیتوں پر منطبق نہیں کر سکے ہیں، کیونکہ لفظ ”نساء“ کا استعمال کسی بھی عربی لغت میں کسی کی بیٹی کے لیے نہیں ہوا ہے، بالخصوص اس وقت جب کہ خود اس کی بیویاں موجود ہوں، اور یہ عربی لغت کے خلاف ہے اور اس سے بھی زیادہ بعید یہ ہے کہ ”انفسنا“ سے مراد علی (ع) کو لیا جائے۔“۱۶
استاد محمد عبدہ کی یہ بات کہ جن کا شمار بزرگ علماء اور مصلحین میں ہوتا ہے، انتہائی حیرت انگیز ہے۔ باوجود اس کے کہ انھوں نے ان روایتوں کی کثرت اور ان کے متفق علیہ ہونے کو تسلیم کیا ہے، پھر بھی انہیں جعلی اور من گھڑت کہا ہے۔
کیا ایک عام مسلمان، چہ جائیکہ ایک بہت بڑا عالم اس بات کی جرأت کر سکتا ہے کہ ایک ایسی حقیقت کو آسانی کے ساتھ جھٹلا دے کہ جو رسول اللہ (ص) کی صحیح و معتبر سنت میں مستحکم اور پائیدار بنیاد رکھتی ہو؟! اگر معتبر صحاح اور مسانید میں صحیح سند کے ساتھ روایت نقل ہوئی ہے، وہ بھی صحیح مسلم جیسی کتاب میں کہ جو اہل سنت کے نزدیک قرآن مجید کے بعد دوسری معتبر ترین کتابوں میں سے ایک شمار ہوتی ہے، اس طرح بے اعتبار کی جائے، تو مذاہب اسلامی میں ایک مطلب کو ثابت کرنے یا مسترد کرنے کے سلسلہ میں کس منبع و ماخذ پر اعتماد کیا جا سکتا ہے؟ اگر ائمہ مذاہب کی زبانی متواتر احادیث معتبر نہیں ہوں گی تو پھر کون سی حدیث معتبر ہو گی؟!
کیا حدیث کو قبول اور مسترد کرنے کے لیے کوئی قاعدہ و ضابطہ ہے یا ہر کوئی اپنے ذوق و سلیقہ نیز مرضی کے مطابق ہر حدیث کو قبول یا مسترد کر سکتا ہے؟ کیا یہ عمل سنت رسول (ص) کے ساتھ زیادتی اور اس کا مذاق اڑانے کے مترادف نہیں ہے؟
شیخ محمد عبدہ نے آیت شریفہ کے معنی پر دقت سے توجہ نہیں کی ہے اور خیال کیا ہے کہ لفظ ”نسائنا“ حضرت فاطمہ زہراء (سلام اللہ علیہا) کے بارے میں استعمال ہوا ہے۔ جبکہ ”نسائنا“ خود اپنے ہی معنی میں استعمال ہوا ہے، رہا سوال رسول خدا (ص) کی بیویوں کا کہ جن کی تعداد اس وقت نو تھی، ان میں سے کسی ایک میں بھی وہ بلند مرتبہ صلاحیت موجود نہیں تھی اور خاندان پیغمبر (ص) میں تنہا عورت، جو آپ کے اہل بیت میں شمار ہوتی تھی اور مذکورہ صلاحیت کی مالک تھی، حضرت فاطمہ زہراء (سلام اللہ علیہا) تھیں، جنھیں آنحضرت (ص) اپنے ساتھ مباہلہ کے لیے لے گئے۔۱۷
”انفسنا“ کے بارے میں اس کتاب کی ابتداء میں بحث ہو چکی ہے۔ إن شاء اللہ بعد والے محور میں بھی اس پر تفصیل سے روشنی ڈالی جائے گی۔
جعلی حدیث اور اہل سنت
ایک جعلی حدیث اور اہل سنت کا اس سے انکار
مذکورہ روایتوں سے ایک دوسرا مسئلہ جو واضح ہو گیا وہ یہ تھا کہ خامس آل عبا (پنجتن پاک علیہم السلام) کے علاوہ کوئی شخص میدان مباہلہ میں نہیں لایا گیا تھا۔
مذکورہ باتوں کے پیش نظر بعض کتابوں میں ابن عساکر کے حوالے سے نقل کی گئی روایت کسی صورت میں قابل اعتبار نہیں ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) ابوبکر اور ان کے فرزندوں، عمر اور ان کے فرزندوں، عثمان اور ان کے فرزندوں اور علی علیہ السلام اور ان کے فرزندوں کو اپنے ساتھ لائے تھے۔
ایک تو یہ کہ علماء و محققین، جیسے آلوسی نے روح المعانی میں یادہانی کے مطابق، یہ حدیث جمہور علماء کی روایت کے خلاف ہے، اس لیے قابل اعتماد نہیں ہے۔
دوسرے یہ کہ اس کی سند میں چند ایسے افراد ہیں جن پر جھوٹے ہونے کا الزام ہے، جیسے: سعید بن عنبسہ رازی، کہ ذہبی نے اپنی کتاب میزان الاعتدال۱۸ میں یحییٰ بن معین کے حوالے سے کہا ہے کہ: ”وہ انتہائی جھوٹ بولنے والا ہے“ اور ابوحاتم نے کہا ہے کہ: ”وہ سچ نہیں بولتا ہے۔“ اس کے علاوہ اس کی سند میں ہیثم بن عدی ہے کہ جس کے بارے میں ذہبی کا سیر اعلام النبلاء۱۹ میں کہنا ہے: ابن معین اور ابن داؤد نے کہا ہے: ”وہ انتہائی جھوٹ بولنے والا ہے“ اس کے علاوہ نسائی اور دوسروں نے اسے متروک الحدیث جانا ہے۔
افسوس ہے کہ مذکورہ جعلی حدیث کا جھوٹا مضمون حضرت امام صادق اور حضرت امام باقر (علیہما السلام) سے منسوب کر کے نقل کیا گیا ہے!
چوتھا محور
علی (ع) نفس پیغمبر (ص) ہیں
گزشتہ بحثوں میں یہ واضح ہو چکا ہے کہ ”انفسنا“ سے مراد خود پیغمبر اکرم (ص) نہیں ہو سکتے ہیں اور چونکہ مذکورہ احادیث کی بنا پر مباہلہ میں شامل ہونے والے افراد میں صرف علی، فاطمہ، حسن اور حسین علیہم السلام تھے، لہذا آیت شریفہ میں ”انفسنا“ کا مصداق علی علیہ السلام کے علاوہ کوئی اور نہیں ہو سکتا ہے۔ یہ امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی واضح بلکہ برترین فضیلتوں میں سے ہے۔
قرآن مجید کی اس تعبیر میں، علی علیہ السلام ”نفس پیغمبر (ص)“ کے عنوان سے پہچنوا ئے گئے ہیں۔ چونکہ ہر شخص کا صرف ایک نفس ہوتا ہے، اس لیے حضرت علی علیہ السلام کا حقیقت میں نفس پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہونا بے معنی ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ اطلاق، اطلاق حقیقی نہیں ہے بلکہ اس سے مراد مانند اور مماثلت ہے۔ چونکہ یہاں پر یہ مماثلت مطلق ہے، اس لیے اس اطلاق کا تقاضا ہے کہ جو بھی خصوصیت اور منصبی کمال پیغمبر اکرم (ص) کی ذات میں موجود ہے وہ حضرت علی علیہ السلام میں بھی پائے جانا چاہیے، مگر یہ کہ دلیل کی بنا پر کوئی فضیلت ہو، جیسے آپ پیغمبر نہیں ہیں۔ رسالت و پیغمبری کے علاوہ دوسری خصوصیات اور کمالات میں آپ رسول کے ساتھ شریک ہیں، من جملہ پیغمبر (ص) کی امت کے لیے قیادت و زعامت اور آنحضرت (ص) کی سارے جہاں، یہاں تک گزشتہ انبیاء پر افضلیت۔ اس بنا پر آیت شریفہ حضرت علی علیہ السلام کی امامت پر دلالت کرنے کے علاوہ بعد از پیغمبر ان کی امت کے علاوہ تمام دوسرے انبیاء سے بھی افضل ہونے پر دلالت کرتی ہے۔
آیت کے استدلال میں فخر رازی کا بیان
فخر رازی نے تفسیر کبیر میں لکھا ہے:
”شہر ری میں ایک شیعہ اثنا عشری شخص۱ معلم تھا اس کا خیال تھا کہ حضرت علی (علیہ السلام) حضرت محمد مصطفیٰ (ص) کے علاوہ تمام انبیاء (علیہم السلام) سے افضل و برتر ہیں، اور یوں کہتا تھا: جو چیز اس مطلب پر دلالت کرتی ہے، وہ آیت مباہلہ میں خداوند متعال کا یہ قول ہے کیونکہ ”انفسنا“ سے مراد پیغمبر اکرم (ص) نہیں ہیں، کیونکہ انسان خود کو نہیں پکارتا ہے۔ اس بنا پر نفس سے مراد آنحضرت (ص) کے علاوہ ہے اور اس بات پر اجماع ہے کہ نفس سے مراد علی بن ابی طالب (علیہ السلام) ہیں، لہذا آیت شریفہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ نفس علی (علیہ السلام) سے مراد درحقیقت نفس پیغمبر (ص) ہے، اس لیے ناچار آپ کا مقصد یہ ہے کہ نفس علی نفس رسول کے مانند ہے اور اس کا لازمہ یہ ہے کہ یہ نفس تمام جہت سے اس نفس کے برابر ہے۔ اور اس کلیت سے صرف دو چیزیں خارج ہیں: ایک نبوت اور دوسرے افضلیت، کیونکہ اس پر سب کا اتفاق ہے کہ علی (علیہ السلام) پیغمبر نہیں ہیں اور نہ ہی وہ پیغمبر (ص) سے افضل ہیں۔ ان دو مطالب کے علاوہ، دوسرے تمام امور و مسائل میں یہ اطلاق اپنی جگہ باقی ہے اور اس پر اجماع ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام انبیائے الہی سے افضل ہیں، لہذا علی (علیہ السلام) بھی ان سب سے افضل ہوں گے۔“
مزید اس نے کہا ہے:
”اس استدلال کی ایک ایسی حدیث سے تائید ہوتی ہے، جس کو موافق و مخالف سب قبول کرتے ہیں اور وہ حدیث وہ قول پیغمبر اکرم (ص) ہے کہ جس میں آپ نے فرمایا: جو آدم (علیہ السلام) کو ان کے علم میں، نوح (علیہ السلام) کو ان کی اطاعت میں اور ابراہیم (علیہ السلام) کو ان کی خلّت میں، موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی ہیبت میں اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی صفوت میں دیکھنا چاہے تو اسے علی بن ابی طالب (علیہ السلام) پر نظر ڈالنا چاہیے۔“
فخر رازی نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے مزید لکھا ہے:
”شیعہ علماء مذکورہ آیت شریفہ سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ علی (علیہ السلام) تمام اصحاب سے افضل ہیں۔ کیونکہ جب آیت دلالت کرتی ہے کہ نفس علی (علیہ السلام) نفس رسول (ص) کے مانند ہے، سواء اس کے جو چیز دلیل سے خارج ہے اور نفس پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام اصحاب سے افضل ہے، لہذا نفس علی (علیہ السلام) بھی تمام اصحاب سے افضل قرار پائے گا۔“
فخر رازی نے اس استدلال کے ایک جملہ پر اعتراض کیا ہے کہ ہم اس آیت شریفہ سے مربوط سوالات کے ضمن میں آیندہ اس کا جواب دیں گے۔
علی (ع) کو نفس رسول جاننے والی احادیث
حضرت علی علیہ السلام کو نفس رسول (ص) کے طور پر معرفی کرنے والی احادیث کو تین گروہوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
پہلا گروہ:
وہ حدیثیں جو آیت مباہلہ کے ذیل میں بیان ہوئی ہیں:
ان احادیث کا ایک پہلو خامس آل عبا علیہم السلام کے مباہلہ میں شرکت سے مربوط تھا کہ جس کو پہلے بیان کیا گیا ہے اور یہاں خلاصہ کے طور پر ہم پیش کرتے ہیں:
الف: ابن عباس آیت شریفہ کے بارے میں اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں: ”وعلي نفسہ“ ”علی (ع) نفس پیغمبر (ص) ہیں۔“ یہ ذکر آیت مباہلہ میں آیا ہے۔۲۰
ب: شعبی، اہل بیت علیہم السلام کے بارے میں جابر بن عبداللہ کا قول نقل کرتے ہوئے کہتے ہیں: ”ابناءنا“ سے حسن و حسین (علیہما السلام)، ”نساءنا“ سے جناب فاطمہ (سلام اللہ علیہا) اور ”انفسنا“ سے علی بن ابی طالب (علیہ السلام) مراد ہیں۔۲۱
ج: حاکم نیشابوری، عبداللہ بن عباس اور دیگر اصحاب سے، پیغمبر اکرم (ص) کے ذریعہ مباہلہ میں علی، فاطمہ، حسن اور حسین علیہم السلام کو اپنے ساتھ لانے والی روایت کو متواتر جانتے ہیں اور نقل کرتے ہیں کہ ”ابناءنا“ سے حسن و حسین علیہما السلام، ”نساءنا“ سے فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا اور ”انفسنا“ سے علی بن ابی طالب علیہ السلام مراد ہیں۔۲۲
د: حضرت علی علیہ السلام کی وہ حدیث، جس میں آپ (ع) نے اصحاب شوریٰ کو قسم دے کر اپنے فضائل کا ان سے اعتراف لیا ہے، آپ فرماتے ہیں:
”نشدتکم اللّه هل فيکم أحد أقرب الی رسول اللّه (ص) فی الرحم و من جعله رسول اللّه نفسه و ابناءه... غيري؟“۲۳
”یعنی: میں تمہیں خدا کی قسم دیتا ہوں! کیا تم لوگوں میں قرابت اور رشتہ داری کے لحاظ سے کوئی ہے جو مجھ سے زیادہ رسول اللہ (ص) کے قریب ہو؟ کوئی ہے جسے آنحضرت (ص) نے اپنا نفس اور اس کے بیٹوں کو اپنا بیٹا قرار دیا ہو؟ انہوں نے جواب میں کہا: خدا شاہد ہے کہ ہم میں کوئی ایسا، نہیں ہے۔“
دوسرا گروہ:
وہ حدیثیں جو قبیلہ بنی ولیعہ سے مربوط ہیں: یہ احادیث اصحاب کے ایک گروہ جیسے ابوذر، جابر بن عبداللہ اور عبداللہ بن حنطب سے نقل ہوئی ہیں۔ ان حدیثوں کا مضمون یہ ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) نے (ابوذر کے بقول) فرمایا:
”وَلَيَنْتَهِيَنَّ بَنُو وَلِيعَةَ أَوْ لَأَبْعَثَنَّ إِلَيْهِمْ رَجُلًا كَنَفْسِي يَمْضِي فِيهِمْ أَمْرِي فَيَقْتُلُ الْمُقَاتِلَةَ وَيَسْبِي الذُّرِّيَّةَ...“۲۴
”اور ضرور باز آ جائیں گے بنی ولیعہ (ایک قبیلہ) ورنہ میں ان کی طرف ضرور بھیجوں گا ایک شخص جو میرے نفس کی طرح (میرے جیسا) ہو گا، جو ان میں میرے حکم کو نافذ کرے گا، پس قتل کرے گا لڑنے والوں کو اور قیدی بنا لے گا ان کی اولاد کو (اور عورتوں کو)۔“
عمر، جو میرے پیچھے کھڑے تھے، انہوں نے کہا: آنحضرت (ص) کا اس سے مراد کون ہے؟ میں نے جواب دیا تم اور تمہارا دوست (ابوبکر) اس سے مراد نہیں ہے۔ تو اس نے کہا کون مراد ہے؟ میں نے کہا: اس سے مراد وہ ہے جو اس وقت اپنی جوتیوں کو پیوند لگانے میں مصروف ہے۔ کہا تو پھر علی (علیہ السلام) ہیں جو اپنی جوتیوں کو ٹانکے میں مصروف ہیں۔ (محقق نے اس ضمن میں کہا ہے: اس حدیث کی سند میں موثق راوی موجود ہیں۔)
تیسرا گروہ:
وہ حدیثیں جو پیغمبر (ص) کے نزدیک محبوب ترین افراد کے بارے میں ہیں۔
بعض ایسی حدیثیں ہیں کہ جس میں پیغمبر اکرم (ص) سے سوال ہوتا ہے کہ آپ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ جواب کے بعد آنحضرت (ص) سے علی (علیہ السلام) کی محبوبیت یا افضلیت کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے۔ پیغمبر اکرم (ص) اپنے اصحاب سے مخاطب ہو کر فرماتے ہیں: ”إنّ هذا سألني من نفسي“ یعنی: یہ سوال مجھ سے خود میرے بارے میں ہے! یعنی علی (علیہ السلام) میرا نفس ہے۔۲۵ ان میں سے بعض احادیث میں، حضرت فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیہا) پیغمبر اسلام (ص) سے سوال کرتی ہیں، کیا آپ نے علی (علیہ السلام) کے بارے میں کچھ نہیں فرمایا ہے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:
”عليّ نفسي فمن رأيته أن يقول في نفسه شيئاً“۲۶
یعنی: علی (علیہ السلام) میرا نفس ہے، تم نے کس کو دیکھا ہے، جو اپنے نفس کے بارے میں کچھ کہے؟ یہ احادیث عمرو عاص، عائشہ اور جد عمرو بن شعیب جیسے بعض اصحاب سے نقل ہوئی ہیں۔
اس طرح کی حدیثیں مختلف زبانوں سے روایت ہوئی ہیں اور ان کی تعداد زیادہ ہے۔ جس سے یہ استفادہ ہوتا ہے کہ علی علیہ السلام، نفس پیغمبر (ص) ہیں اور آیت شریفہ کی دلالت پر تاکید کرتی ہے، سواء اس کے کہ کوئی قطعی ضرورت اور خارجی دلالت کی وجہ سے اس اطلاق سے خارج ہوا جائے (جیسے نبوت جو اس سے خارج ہے) لہذا آنحضرت (ص) کے دوسرے تمام عہدے من جملہ تمام امت اسلامیہ پر آپ (ص) کی فضیلت نیز قیادت و زعامت اس اطلاق میں داخل ہے۔
پانچواں محور
آیت کے بارے میں چند سوالات اور ان کے جوابات
آلوسی سے ایک گفتگو:
آلوسی، اپنی تفسیر ”روح المعانی“۲۷ میں اس آیت شریفہ کی تفسیر کے سلسلہ میں کہتا ہے:
”اہل بیت پیغمبر (ص) کے آل اللہ ہونے کی فضیلت کے بارے میں اس آیت شریفہ کی دلالت کسی بھی مومن کے لیے ناقابل انکار ہے اور اگر کوئی اس فضیلت کو ان سے جدا کرنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ ایک قسم کی ناصبیت و عناد ہے اور عناد و ناصبیت ایمان کے نابود کرنے کا سبب ہے۔“
شیعوں کا استدلال
اس کے بعد (آلوسی) آیت مذکورہ سے رسول خدا (ص) کے بعد علی علیہ السلام کے بلافصل خلیفہ ہونے کے سلسلہ میں شیعوں کے استدلال کو بیان کرتا ہے اور اس روایت سے استناد کرتا ہے کہ آیت کریمہ کے نازل ہونے کے بعد پیغمبر اسلام (ص) مباہلہ کے لیے علی، فاطمہ، اور حسنین علیہم السلام کو اپنے ساتھ لائے، اس کے بعد کہتا ہے:
”اس طرح سے ”أبناءنا“ کا مراد حسن و حسین (علیہما السلام)، ”نساءنا“ سے مراد فاطمہ (سلام اللہ علیہا) اور ”أنفسنا“ سے مراد علی (علیہ السلام) ہیں۔ جب علی (علیہ السلام) نفس رسول قرار پائیں گے تو اس کا اپنے حقیقی معنی میں استعمال محال ہو گا (کیونکہ حقیقت میں علی علیہ السلام خود رسول اللہ (ص) نہیں ہو سکتے ہیں) لہذا قہراً اس کے معنی یہ ہوں گے کہ وہ آنحضرت (ص) کے مساوی و مماثل ہیں۔ چونکہ پیغمبر اسلام (ص) امور مسلمین میں تصرف کرنے کے سلسلہ میں افضل اور اولیٰ ہیں، لہذا جو بھی ان کے مماثل ہو گا وہ بھی ایسا ہی ہو گا۔ اس طرح سے پوری امت کے حوالے سے حضرت علی (علیہ السلام) کی افضیلت اور امت پر ان کی سرپرستی اس آیت شریفہ سے ثابت ہوتی ہے۔“
شیعوں کے استدلال پر اعتراض
آلوسی کا پہلا اعتراض
اس کے بعد آلوسی شیعوں کے استدلال کا جواب دیتے ہوئے کہتا ہے: شیعوں کے اس قسم کے استدلال کا جواب یوں دیا جا سکتا ہے:
ہم تسلیم نہیں کرتے ہیں کہ ”انفسنا“ سے مراد حضرت امیرالمؤمنین (علیہ السلام) ہوں گے، بلکہ نفس سے مراد خود پیغمبر (ص) ہی ہیں اور حضرت امیر (علیہ السلام) ”ابناءنا“ میں داخل ہیں کیونکہ داماد کو عرفاً بیٹا کہتے ہیں۔
اس کے بعد شیعوں کے ایک عظیم مفسر شیخ طبرسی کا بیان نقل کرتا ہے کہ انہوں نے کہا ہے کہ ”انفسنا“ سے مراد خود پیغمبر (ص) نہیں ہو سکتے ہیں، کیونکہ انسان کبھی بھی اپنے آپ کو نہیں بلاتا ہے، اس نے (شیخ کی) اس بات کو ہذیان سے نسبت دی ہے؟!
اس اعتراض کا جواب
آلوسی اپنی بات کی ابتداء میں اس چیز کو تسلیم کرتا ہے کہ آیت کریمہ پیغمبر (ص) و خاندان کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے اور اس فضیلت سے انکار کو ایک طرح کے بغض و عناد سے تعبیر کرتا ہے۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ اس عظیم فضیلت کو آنحضرت (ص) کے خاندان سے منحرف کرنے کے لیے کس طرح وہ خود کوشش کرتا ہے اور اپنے اس عمل سے اس سلسلہ میں بیان کی گئی تمام احادیث کی مخالفت کرتا ہے اور جس چیز کو ابن تیمیہ نے بھی انجام نہیں دیا ہے (یعنی ”انفسنا“ کے علی علیہ السلام پر انطباق سے انکار کرنا) اسے انجام دیتا ہے۔
اگرچہ ہم نے بحث کی ابتداء میں ”انفسنا“ کے بارے میں اور یہ کہ اس سے مراد خود پیغمبر اسلام (ص) نہیں ہو سکتے ہیں، بیان کیا ہے، لیکن یہاں پر بھی اشارہ کرتے ہیں کہ اگر ”انفسنا“ سے مراد خود پیغمبر اسلام (ص) ہوں اور علی علیہ السلام کو ”ابناءنا“ کے زمرے میں داخل کر لیا جائے تو یہ غلط ہے اور دوسرے یہ کہ خلاف دلیل ہے۔
اس کا غلط ہونا اس لحاظ سے ہے کہ آیت شریفہ میں ”بلانا“ اپنے حقیقی معنی میں ہے۔ اور جو آلوسی نے بعض استعمالات جیسے ”دعتہ نفسہ“ کو رائج و مرسوم جانا ہے، اس نے اس نکتہ سے غفلت کی ہے کہ اس قسم کے استعمالات مجازی ہیں اور ان کے لیے قرینہ کی ضرورت ہوتی ہے اور آیت مذکورہ میں کوئی ایسا قرینہ موجود نہیں ہے، بلکہ یہاں پر ”دعتہ نفسہ“ کے معنی اپنے آپ کو مجبور و مصمم کرنا ہے نہ اپنے آپ کو بلانا اور طلب کرنا۔
اس کے علاوہ ”ابناءنا“ کے زمرے میں امیرالمؤمنین (علیہ السلام) کو شامل کرنا صرف اس لیے کہ وہ آنحضرت (ص) کے داماد تھے، گویا لفظ کو اس کے غیر معنی موضوع لہ میں ہے اور لفظ کو اس کے معانی مجازی میں بغیر قرینہ کے حمل کرتا ہے۔
اس لیے ”ابناءنا“ کا حمل حسنین علیہما السلام کے علاوہ کسی اور ذات پر درست نہیں ہے اور ”انفسنا“ کا لفظ حضرت علی علیہ السلام کے علاوہ کسی اور پر منطبق نہیں ہوتا ہے۔
اگر کہا جائے کہ: کون سا مرجح ہے کہ لفظ ”ندع“ کا استعمال اس کے حقیقی معنی میں ہو اور ”انفسنا“ کا استعمال حضرت علی علیہ السلام پر مجازی ہو؟ بلکہ ممکن ہے کہا جائے ”انفسنا“ خود انسان اور اس کی ذات پر اطلاق ہو جو حقیقی معنی ہے اور ”ندع“ کے معنی میں تصرف کر کے ”نحضر“ کے معنی لیے جائیں، یعنی اپنے آپ کو حاضر کریں۔
جواب یہ ہے کہ: اگر ”ندع“ کا استعمال اپنے حقیقی معنی میں ہوتو ایک سے زیادہ مجاز در کار نہیں ہے اور وہ ہے ”انفسنا“ کا حضرت علی علیہ السلام کی ذات پر اطلاق ہونا لیکن اگر ”ندع“ کو اس کے مجازی معنی پر حمل کریں تو اس سے دوسرے کا مجاز ہونا بھی لازم آتا ہے یعنی علی علیہ السلام کا ”ابناءنا“ پر اطلاق ہونا، جو آنحضرت (ص) کے داماد ہیں اور اس قسم کے مجاز کے لیے کوئی قرینہ موجود نہیں ہے۔
لفظ ”انفسنا“ کے علی علیہ السلام کی ذات پر اطلاق ہونے کا قرینہ ”ندع“ و ”انفسنا“ کے درمیان پائی جانے والی مغایرت ہے کہ جو عقلاً و عرفاً ظہور رکھتی ہے۔ اس فرض میں ”ندع“ بھی اپنے معنی میں استعمال ہوا ہے اور ”ابناءنا“ بھی اپنے حقیقی معنی میں استعمال ہوا ہے۔
لیکن یہ کہ آلوسی کی بات دلیل کے خلاف ہے، کیونکہ اتنی ساری احادیث جو نقل کی گئی ہیں وہ سب اس بات پر دلالت کرتی تھیں کہ ”انفسنا“ سے مراد علی علیہ السلام ہیں اور یہ دعویٰ تواتر کے ذریعہ بھی ثابت ہے،۲۸ لہذا وہ سب احادیث اس قول کے خلاف ہیں۔
شیعوں کے استدلال پر دوسرا اعتراض
آلوسی کا دوسرا اعتراض
شیعوں کے استدلال پر آلوسی کا دوسرا جواب یہ ہے: اگر فرض کریں کہ ”انفسنا“ کا مقصود علی (علیہ السلام) ہوں، پھر بھی آیت شریفہ حضرت علی (ع) کی بلافصل خلافت پر دلالت نہیں کرتی ہے۔ کیونکہ ”انفسنا“ کا اطلاق حضرت علی (ع) پر اس لحاظ سے ہے کہ نفس کے معنی قربت و نزدیک ہونے کے ہیں اور دین و آئین میں شریک ہونے کے معنی میں ہے اور اس لفظ کا اطلاق حضرت علی (ع) کے لیے شاید اس وجہ سے ہوا کہ ان کا پیغمبر (ص) کے ساتھ دامادی کا رشتہ تھا اور دین میں دونوں کا اتحاد تھا۔ اس کے علاوہ اگر مقصود وہ شخص ہو جو پیغمبر اکرم (ص) کے مساوی ہے تو کیا مساوی ہونے کا معنی تمام صفات میں ہے یا بعض صفات میں؟ اگر تمام صفات میں مساوی ہونا مقصود ہے تو اس کا لازمہ یہ ہو گا کہ علی (علیہ السلام) پیغمبر (ص) کی نبوت و خاتمیت اور تمام امت پر آپ کی بعثت میں شریک ہیں اور اس قسم کا مساوی ہونا متفقہ طور پر باطل ہے۔ اور اگر مساوی ہونے کا مقصد بعض صفات میں ہے، یہ شیعوں کی افضلیت و بلافصل امامت کے مسئلہ پر دلالت نہیں کرتا ہے۔
اس اعتراض کا جواب
آلوسی کے اس اعتراض و استدلال کا جواب دینا چند جہتوں سے ممکن ہے:
سب سے پہلے تو یہ کہ: ”نفس کے معنی قربت و نزدیکی“ اور دین و آئین میں شریک ہونا کسی قسم کی فضیلت نہیں ہے، جبکہ احادیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ اطلاق حضرت علی علیہ السلام کے لیے ایک بہت بڑی فضیلت ہے اور جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہوا ہے ایک حدیث کے مطابق سعد بن ابی وقاص نے معاویہ کے سامنے اسی معنی کو بیان کیا اور اسے حضرت علی علیہ السلام کے خلاف سب و شتم سے انکار کی دلیل کے طور پر پیش کیا ہے۔
دوسرے یہ کہ: ”نفس“ کے معنی کا اطلاق دین و آئین میں شریک ہونا یا رشتہ داری و قرابت داری کے معنی مجازی ہے اور اس کے لیے قرینہ کی ضرورت ہے اور یہاں پر ایسا کوئی قرینہ موجود نہیں ہے۔
تیسرے یہ کہ: جب نفس کے معنی کا اطلاق اس کے حقیقی معنی میں ممکن نہ ہو تو اس سے مراد وہ شخص ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جانشین ہو اور یہ جانشینی اور مساوی ہونا مطلقاً ہے اور اس میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تمام اوصاف اور عہدے شامل ہیں، صرف نبوت قطعی دلیل کی بنا پر اس دائرہ سے خارج ہے۔
چوتھے یہ کہ: اس صورت میں آلوسی کی بعد والی گفتگو کے لیے کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی ہے کہ مساوات تمام صفات میں ہے یا بعض صفات میں، کیونکہ مساوات تمام صفات میں اس کے اطلاق کی وجہ سے ہے، صرف وہ چیزیں اس میں شامل نہیں ہیں جن کو قطعی دلائل کے ذریعہ خارج و مستثنیٰ کیا گیا ہے جیسے نبوت و رسالت۔ لہذا پیغمبر اکرم (ص) کی افضیلت اور امت کی سرپرستی نیز اسی طرح کے اور تمام صفات میں حضرت علی علیہ السلام پیغمبر کے شریک نیز ان کے برابر کے جانشین ہیں۔
شیعوں کے استدلال پر تیسرا اعتراض
آلوسی کا تیسرا اعتراض
آلوسی کا کہنا ہے: اگر یہ آیت حضرت علی (علیہ السلام) کی خلافت پر کسی اعتبار سے دلالت کرتی بھی ہے تو اس کا لازمہ یہ ہو گا کہ: حضرت علی (ع) پیغمبر (ص) کے زمانہ میں امام ہوں اور یہ متفقہ طور پر باطل ہے۔
اگر یہ خلافت کسی خاص وقت کے لیے ہے تو سب سے پہلی بات یہ کہ اس قید کے لیے کوئی دلیل نہیں ہے اور دوسرے یہ کہ اہل سنت بھی اسے قبول کرتے ہیں یعنی حضرت علی (ع) ایک خاص وقت، میں کہ جو ان کی خلافت کا زمانہ تھا، اس میں وہ اس منصب پر فائز تھے۔
اس اعتراض کا جواب
سب سے پہلی بات یہ کہ: حضرت علی علیہ السلام کی جانشینی آنحضرت (ص) کے زمانہ میں ایک ایسا مسئلہ ہے کہ جو بہت سی احادیث سے ثابت ہے اور اس کے لیے واضح ترین حدیث، حدیث منزلت ہے جس میں حضرت علی علیہ السلام کو پیغمبر (ص) کی نسبت کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ان کی مثال ایسی ہی تھی جیسے ہارون کی حضرت موسیٰ علیہ السلام سے، واضح رہے کہ حضرت ہارون حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی میں ان کے جانشین تھے کیونکہ قرآن مجید حضرت ہارون علیہ السلام کے بارے میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا قول ذکر کرتا ہے کہ آپ نے فرمایا ”اخلفنی فی قومی“۲۹ ”تم میری قوم میں میرے جانشین ہو۔“
اس بنا پر جب کبھی پیغمبر اکرم (ص) حاضر نہیں ہوتے تھے حضرت علی علیہ السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جانشین ہوتے تھے (چنانچہ جنگ تبوک میں ایسا ہی تھا) اس مسئلہ کی حدیث منزلت میں مکمل وضاحت کی گئی ہے۔۳۰
دوسرے یہ کہ: حضرت علی علیہ السلام کا نفس پیغمبر (ص) قرار دیا جانا جیسا کہ آیت شریفہ مباہلہ سے یہ مطلب واضح ہے، اور اگر کوئی اجماع واقع ہو جائے کہ آنحضرت (ص) کی زندگی میں حضرت علی علیہ السلام آپ کے جانشین نہیں تھے، تو یہ اجماع اس اطلاق کو آنحضرت (ص) کی زندگی میں مقید و محدود کرتا ہے۔ نتیجہ کے طور پر یہ اطلاق آنحضرت (ص) کی رحلت کے وقت اپنی پوری قوت کے ساتھ باقی ہے۔
لہذا یہ واضح ہو گیا کہ آلوسی کے تمام اعتراضات بے بنیاد ہیں اور آیت شریفہ کی دلالت حضرت علی علیہ السلام کی امامت اور بلافصل خلافت پر بلا مناقشہ ہے۔
فخر رازی کا اعتراض:
فخر رازی نے اس آیت شریفہ کے ذیل میں محمود بن حسن حصمی۳۱ کے استدلال کو، کہ جو انھوں نے اسے حضرت علی علیہ السلام کی گزشتہ انبیاء علیہم السلام پر افضلیت کے سلسلہ میں پیش کیا ہے، نقل کرنے کے بعد (ان کے استدلال کو تفصیل سے ذکر کیا ہے) اپنے اعتراض کو یوں ذکر کیا ہے:
ایک تو یہ کہ اس بات پر اجماع قائم ہے کہ پیغمبر (ص) غیر پیغمبر سے افضل ہوتا ہے۔
دوسرے: اس بات پر بھی اجماع ہے کہ (علی علیہ السلام) پیغمبر نہیں تھے۔ مذکورہ ان دو مقدمات کے ذریعہ ثابت ہو جاتا ہے کہ آیت شریفہ حضرت علی (علیہ السلام) کی گزشتہ انبیاء (علیہم السلام) پر افضلیت کو ثابت نہیں کرتی ہے۔
فخر رازی کے اعتراض کا جواب
فخر رازی کے اعتراض کا جواب ہم فخر رازی کے جواب میں کہتے ہیں:
پہلی بات یہ کہ اس پر اجماع ہے کہ ”ہر نبی غیر نبی سے افضل ہے“ اس میں عمومیت نہیں ہے کہ جس سے یہ ثابت کریں کہ ہر نبی دوسرے تمام افراد پر حتیٰ اپنی امت کے علاوہ دیگر افراد پر بھی فوقیت و برتری رکھتا ہے، بلکہ جو چیز قابل یقین ہے وہ یہ کہ ہر نبی اپنی امت سے افضل ہوتا ہے۔ اور اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے یہ کہا جائے: ”مرد عورت سے افضل ہے“ اور یہ اس معنی میں ہے کہ مردوں کی صنف عورتوں کی صنف سے افضل ہے نہ یہ کہ مردوں میں سے ہر شخص تمام عورتوں پر فضیلت و برتری رکھتا ہے۔ اس بنا پر اس میں کوئی منافات نہیں ہے کہ بعض عورتیں ایسی ہیں جو مردوں پر فضیلت رکھتی ہیں۔
دوسرے یہ کہ: مذکورہ مطلب پر اجماع کا واقع ہونا ثابت نہیں ہے، کیونکہ شیعہ علماء نے ہمیشہ اس کی مخالفت کی ہے اور وہ اپنے ائمہ معصومین (علیہم السلام) کو قطعی دلیل کی بنا پر گزشتہ انبیاء سے برتر جانتے ہیں۔
ابوحیان اندلسی کا ایک اعتراض اور اس کا جواب
ابوحیان اندلسی نے تفسیر ”البحر المحیط“۳۲ میں شیعوں کے استدلال پر (کہ آیت میں نفس سے مراد تمام صفات میں ہم مثل و مساوی ہونا ہے) فخر رازی۳۳ کا ایک اور اعتراض نقل کیا ہے جس میں یہ کہا ہے:
”نفس کے اطلاق میں یہ ضروری نہیں ہے تمام اوصاف میں یکسانیت و یکجہتی ہو، چنانچہ متکلمین نے کہا ہے: ”صفات نفس میں یکجہتی و یکسوئی“ یہ متکلمین کی ایک اصطلاح ہے، اور عربی لغت میں یکسانیت کا بعض صفات پر بھی اطلاق ہوتا ہے۔ عرب کہتے ہیں: ”هذا من أنفسنا“ یعنی: یہ ”اپنوں میں سے ہے“، یعنی ہمارے قبیلہ میں سے ہے۔“
اس کا جواب یہ ہے کہ تمام صفات یا بعض صفات میں یکسانیت و یکجہتی، یہ نہ تو لغوی بحث ہے اور نہ ہی کلامی، بلکہ یہ بحث اصول فقہ سے مربوط ہے، کیونکہ جب نفس کا اس کے حقیقی معنی میں استعمال ناممکن ہو تو اس سے اس کے مجازی معنی پر عمل کرنا چاہیے اور اس کے حقیقی معنی سے نزدیک ترین معنی کہ جس کو اقرب المجازات سے تعبیر کیا جاتا ہے (کو اخذ کرنا چاہیے) اور ”نفس“ کے حقیقی معنی میں اقرب المجازات مانند و مثل ہونا ہے۔
یہ مانند و مثل ہونا مطلق ہے اور اس کی کوئی محدودیت نہیں ہے اور اس اطلاق کا تقاضا ہے کہ علی علیہ السلام تمام صفات میں پیغمبر اکرم (ص) کے مانند و مثل ہیں، صرف نبوت و رسالت جیسے مسائل قطعی دلائل کی بنا پر اس مانند و مثل کے دائرے سے خارج ہیں۔ اس وضاحت کے پیش نظر تمام اوصاف اور عہدے اس اطلاق میں داخل ہیں لہذا من جملہ تمام انبیاء پر فضیلت اور تمام امت پر سرپرستی کے حوالے سے آپ (علیہ السلام) علی الاطلاق رسول (ص) کے مانند ہیں۔
ابن تیمیہ کا اعتراض
ابن تیمیہ حضرت علی علیہ السلام کی امامت پر علامہ حلی کے استدلال کو آیت مباہلہ سے بیان کرتے ہوئے کہتا ہے:
”یہ کہ پیغمبر اکرم (ص) مباہلہ کے لیے علی، فاطمہ اور حسن و حسین (علیہم السلام) کو اپنے ساتھ لے گئے، یہ صحیح حدیث میں آیا ہے،۳۴ لیکن یہ علی (علیہ السلام) کی امامت اور ان کی افضلیت پر دلالت نہیں کرتا ہے، کیونکہ یہ دلالت اسی صورت میں ہو سکتی ہے جب آیت شریفہ علی (علیہ السلام) کے پیغمبر (ص) کے مساوی ہونے پر دلالت کرے حالانکہ آیت میں ایسی کوئی دلالت نہیں ہے کیونکہ کوئی بھی شخص پیغمبر (ص) کے مساوی نہیں ہے، نہ علی (علیہ السلام) اور نہ ان کے علاوہ کوئی اور۔
دوسرے یہ کہ ”انفسنا“ کا لفظ عربی لغت میں مساوات کے معنی میں نہیں آیا ہے۳۵ اور صرف ہم جنس اور مشابہت پر دلالت کرتا ہے۔ اس سلسلہ میں بعض امور مشابہت، جیسے ایمان یا دین میں اشتراک کافی ہے اور اگر نسب میں بھی اشتراک ہو تو اور اچھا ہے۔ اس بنا پر آیت شریفہ میں ”انفسنا“ سے مراد وہ لوگ ہیں جو دین اور نسب میں دوسروں سے زیادہ نزدیک ہوں۔ اس لحاظ سے آنحضرت (ص) نے بیٹوں میں سے حسن و حسین (علیہما السلام) اور عورتوں میں سے فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیہا) اور مردوں میں سے علی (علیہ السلام) کو اپنے ساتھ لے گئے اور آنحضرت (ص) کے لیے ان سے زیادہ نزدیک تر کوئی نہیں تھا۔ دوسرے یہ کہ مباہلہ اقرباء سے انجام پاتا ہے نہ ان افراد سے جو انسان سے دور ہوں، اگرچہ یہ دور والے افراد خدا کے نزدیک افضل و برتر ہوں۔“
ابن تیمیہ کہ جس نے رشتہ کے لحاظ سے نزدیک ہونے کا ذکر کیا ہے اور دوسری طرف پیغمبر (ص) کے چچا حضرت عباس کہ جو رشتہ داری کے لحاظ سے حضرت علی علیہ السلام کی بہ نسبت زیادہ قریب تھے اور زندہ تھے، کے بارے میں کہتا ہے:
”عباس اگرچہ زندہ تھے، لیکن سابقین اولین (دعوت اسلام کو پہلے قبول کرنے والے) میں ان کا شمار نہیں تھا اور پیغمبر اکرم (ص) کے چچیرے بھائیوں میں بھی کوئی شخص علی (علیہ السلام) سے زیادہ آپ سے نزدیک نہیں تھا۔ اس بنا پر مباہلہ کے لیے علی (علیہ السلام) کی جگہ پر کرنے والا پیغمبر (ص) کے خاندان میں کوئی ایسا نہیں تھا کہ جس کو آپ انتخاب کرتے، یہ مطلب کسی بھی جہت سے علی (علیہ السلام) کے آنحضرت (ص) سے مساوی ہونے پر دلالت نہیں کرتا ہے۔“
ابن تیمیہ کے اعتراض کا جواب
ابن تیمیہ کے اعتراض کا جواب چند نکات میں دیا جا سکتا ہے:
۱۔ اس کا کہنا ہے: ”پیغمبر (ص) کے مساوی و مانند کوئی نہیں ہو سکتا ہے“۔ اگر مساوی ہونے کا مفہوم و مقصد تمام صفات، من جملہ نبوت و رسالت میں ہے تو یہ صحیح ہے۔ لیکن جیسا کہ بیان ہوا مساوی ہونے کا اطلاق پیغمبر (ص) کی ختم نبوت پر قطعی دلائل کی وجہ سے مقید ہے اور اس کے علاوہ دوسرے تمام امور میں پیغمبر کے مانند و مساوی ہونا مکمل طور پر اپنی جگہ باقی ہے اور اس کے اطلاق کو ثابت کرتا ہے۔ دوسری طرف سے اس کی یہ بات کہ ”انفسنا“ کا لفظ عربی لغت میں مساوات کے معنی کا اقتضاء نہیں کرتا ہے“ صحیح نہیں ہے اگرچہ اس نے قرآن مجید کی چند ایسی آیتوں کو بھی شاہد کے طور پر ذکر کیا ہے جن میں ”انفسهم یا انفسکم“ کا لفظ استعمال ہوا ہے، حتیٰ کہ ان آیتوں میں بھی مساوی مراد ہے۔ مثلاً لفظ ”ولا تلمزوا أنفسکم“ یعنی ”اپنی عیب جوئی نہ کرو“ جب لفظ ”انفس“ کا اطلاق دوسرے افراد پر ہوتا ہے، تو معنی نہیں رکھتا ہے کہ وہ حقیقت میں خود عین انسان ہوں۔ ناچار ان کے مساوی اور مشابہ ہونے کا مقصد مختلف جہتوں میں سے کسی ایک جہت میں ہے اور معلوم ہے کہ وہ جہت اس طرح کے استعمالات میں کسی ایمانی مجموعہ یا قبیلہ کے مجموعہ کا ایک جزو ہے۔
اس بنا پر ان اطلاقات میں بھی مساوی ہونے کا لحاظ ہوا ہے، لیکن اس میں قرینہ موجود ہے کہ یہ مساوی ایک خاص امر میں ہے اور یہ اس سے منافات نہیں رکھتا ہے اور اگر کسی جگہ پر قرینہ نہیں ہے تو مساوی ہونے کا قصد مطلق ہے، بغیر اس کے کہ کوئی دلیل اسے خارج کرے۔
۲۔ ابن تیمیہ نے قرابت یا رشتہ داری کو نسب سے مربوط جانا ہے، یہ بات دو دلائل سے صحیح نہیں ہے:
سب سے پہلی بات تو یہ، مطلب آیت شریفہ ”نسائنا و نسائکم“ سے سازگار نہیں ہے، کیونکہ ”نسائنا“ کا عنوان نسبی رشتہ سے کوئی تعلق نہیں رکھتا ہے۔ البتہ یہ منافی نہیں ہے کہ حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا آنحضرت (ص) کی دختر گرامی تھیں اور آپ سے نسبی قرابت رکھتی تھیں، کیونکہ واضح ہے کہ آنحضرت (ص) سے ”بناتنا“ ”ہماری“ بیٹیاں (جو نسبی قرابت کی دلیل ہے) کے ذریعہ تعبیر نہیں کیا گیا ہے، بلکہ ”نساءنا“ کی تعبیر آئی ہے، اس لحاظ سے چونکہ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا اس خاندان کی عورتوں میں سے ہے اس لیے اس مجموعہ میں شامل ہے۔ اس کے علاوہ کوئی اور عورت کہ جو اس لائق ہو کہ مباہلہ میں شریک ہو سکے، وجود نہیں رکھتی تھی۔
دوسرے یہ کہ اگر معیار قرابت نسبی و رشتہ داری ہے تو آنحضرت (ص) کے چچا حضرت عباس (ع) اس جہت سے آنحضرت (ص) سے زیادہ نزدیک تھے لیکن اس زمرے میں انہیں شریک نہیں کیا گیا ہے، جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا ہے۔
اس لحاظ سے قرابت، یعنی نزدیک ہونے سے مراد پیغمبر اکرم (ص) سے معنوی قرابت ہے۔ جس کا ابن تیمیہ نے مجبور ہو کر اعتراف کیا ہے اور کہتا ہے:
”علی (علیہ السلام) سابقین و اولین میں سے تھے، اس لحاظ سے دوسروں کی نسبت آنحضرت (ص) سے زیادہ نزدیک تھے۔“
احادیث کے مطابق مباہلہ میں شامل ہونے والے افراد پیغمبر اسلام (ص) کے خاص رشتہ دار تھے کہ حدیث میں انہیں اہل بیت رسول علیہم السلام سے تعبیر کیا گیا ہے۔
ان میں سے ہر ایک اہل بیت پیغمبر (علیہم السلام) ہونے کے علاوہ ایک خاص عنوان کا مالک ہے، یعنی ان میں سے بعض ”ابناءنا“ کے عنوان میں شامل ہیں اور بعض ”نسائنا“ کے عنوان میں شامل ہیں اور بعض دوسرے ”انفسنا“ کے عنوان میں شامل ہیں۔
مذکورہ وضاحت کے پیش نظر یہ واضح ہو گیا کہ ”انفسنا“ کے اطلاق سے نسبی رشتہ داری کا تبادر و انصراف نہیں ہوتا ہے اور علی علیہ السلام کا پیغمبر خدا (ص) کے مانند و مساوی ہونا تمام صفات، خصوصیات اور عہدوں سے متعلق ہے، مگر یہ کہ کوئی چیز دلیل کی بنا پر اس سے خارج ہوئی ہو۔
اہل بیت علیہم السلام کے مباہلہ میں حاضر ہونے کا مقصد واضح ہو گیا کہ مباہلہ میں شریک ہونے والے افراد کی دعا رسول خدا (ص) کی دعا کے برابر تھی اور ان افراد کی دعاؤں کا بھی وہی اثر تھا جو آنحضرت (ص) کی دعا کا تھا اور یہ اس مقدس خاندان کے لیے ایک بلند و برتر مرتبہ و مقام ہے۔
---
حواشی:
۱۔ تفسیر الکشاف، ج۱، ص۳۷۰، دارالکتاب العربی، بیروت۔
۲۔ روح المعانی، ج۳، ص۱۸۹، دارإحياء التراث العربي، بیروت۔
۳۔ اس کے نظریہ پر اعتراضات کے حصہ میں تنقید کریں گے۔
۴۔ التفسیر الکبیر، فخر رازی، ج۸، ص۸۰، داراحیاء التراث العربی۔
۵۔ تفسیر کبیر فخر رازی، ج۸، ص۸۰، داراحیاء التراث العربی۔
۶۔ شاید مقصود یہ ہو کہ ”خداوندا! تیرے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نزدیک بھی محبوب ترین مخلوق علی (علیہ السلام) ہیں۔“
۷۔ تاریخ مدینہ دمشق، ج۴۲، ص۴۳۱، دارالفکر۔
۸۔ معرفة علوم الحدیث، ص۵۰، دارالکتب العلمیة، بیروت۔
۹۔ احکام القرآن / جصاص / ج۲ / ص۱۴ دارالکتاب العربی بیروت، اختصاص مفید / ص۵۶ / من منشورات جماعة المدرسین فی الحوزة العلمیة، اسباب النزول / ص۶۸ / دارالکتب العلمیة بیروت، اسد الغابة / ج۴ / ص۲۵ / داراحیاء التراث العربی بیروت، الاصابة / ج۲ / جزء ۴ / ص۲۷۱، البحر المحیط / ج۳ / ص۴۷۹ / داراحیاء التراث العربی بیروت، البدایة و النهایة / ج۵ / ص۴۹ دارالکتب العلمیة بیروت، البرهان / ج۱ / ص۲۸۹ / مؤسسہ مطبوعاتی اسماعیلیان، التاج الجامع للاصول / ج۳ / ص۳۳۳ / داراحیاء التراث العربی بیروت، تاریخ مدینہ دمشق / ج۴۲ / ص۱۳۴ / دارالفکر، تذکرہ خواص الامة / ص۱۷ / چاپ نجف، تفسیر ابن کثیر / ج۱ / ص۳۷۸ / دارالمعرفة بیروت، تفسیر بیضاوی / ج۱ / ص۱۶۳ / دارالکتب العلمیة بیروت، تفسیر خازن (الباب التأویل) / ج۱ / ص۲۳۶ / دارالفکر، تفسیر الرازی / ج۸ / ص۸۰ / داراحیاء التراث العربی بیروت، تفسیر السمرقندی (بحرالعلوم) / ج۱ / ص۲۷۴ دارالکتب العلمیة بیروت، تفسیر طبری / ج۳ / ص۳۰۱-۲۹۹ / دارالفکر، تفسیر طنطاوی / ج۲ / ص۱۳۰ / دارالمعارف القاہرة، تفسیر علی بن ابراہیم قمی / ج۱ / ص۱۰۴، تفسیر الماوردی / ج۱ / ص۳۸۹ و ۳۹۹ / مؤسسة الکتب الثقافیة / دارالکتب العلمیة بیروت، التفسیر المنیر / ج۳ / ص۲۴۵، ۲۴۸، ۲۴۹ / دارالفکر، تفسیر النسفی (در حاشیۂ خازن) / ج۱ / ص۲۳۶ / دارالفکر، تفسیر
۱۰۔ تفسیر علی بن ابراہیم، مطبعة النجف، ج۱، ص۱۰۴، البرہان ج۱، ص۲۸۵
۱۱۔ تفسیر البرہان، ج۱، ص۲۸۹، مؤسسہ مطبوعاتی اسماعیلیان
۱۲۔ انعام / ۳۸
۱۳۔ انعام / ۸۴-۸۵
۱۴۔ البرہان، ج۱، ص۲۸۹، مؤسسہ مطبوعاتی اسماعیلیان
۱۵۔ الاختصاص، ص۵۶، من منشورات جماعة المدرسین فی الحوزة العلمیة
۱۶۔ المنار، ج ۳، ص۳۲۲، دارالمعرفة بیروت
۱۷۔ اس سلسلہ میں بحث، آیت تطہیر کی طرف رجوع کیا جائے۔
۱۸۔ میزان الاعتدال، ج۲، ص۱۵۴، دارالفکر
۱۹۔ سیر اعلام النبلاء
۲۰۔ معرفة علوم الحدیث، ص۵۰، دارالکتب العلمیہ، بیروت
۲۱۔ اسباب النزول، ص۴۷، دارالکتب العلمیہ، بیروت
۲۲۔ معرفة علوم الحدیث، ص۵۰، دارالکتب العلمیہ، بیروت
۲۳۔ تاریخ مدینۃ دمشق، ج۴۲، ص۴۱۳۱، دارالفکر
۲۴۔ السنن الکبیر للنسائی، ج۵، ص۱۲۷، دارالکتب العلمیہ، بیروت۔
۲۵۔ جامع الاحادیث، سیوطی، ج۱۶، ص۲۵۷-۲۵۶، دارالفکر، کنز العمال، ج۱۳، ص۱۴۳-۱۴۲، مؤسسہ الرسالہ
۲۶۔ مناقب خوارزمی، ص۱۴۸، مؤسسہ النشر الاسلامی، مقتل الحسین علیہ السلام، ص۴۳، مکتبہ المفید۔
۲۷۔ روح المعانی، ج۳، ص۱۸۹، داراحیاء التراث العربی
۲۸۔ معرفة علوم الحدیث، ص۵۰، دارالکتب العلمیہ، بیروت
۲۹۔ اعراف / ۱۴۲
۳۰۔ اس سلسلہ میں مصنف کا پمفلٹ ”حدیث غدیر، ثقلین و منزلت کی روشنی میں امامت“ ملاحظہ فرمائیں۔
۳۱۔ شیعوں کا ایک بڑا عقیدہ شناس عالم جس کا پہلے ذکر آیا ہے۔
۳۲۔ البحر المحیط، ج۲، ص۴۸۱، مؤسسہ التاریخ العربی، داراحیاء التراث العربی
۳۳۔ اگر ابوحیان کا رازی سے مقصود وہی فخر رازی ہے تو ان اعتراضات کو اس کی دوسری کتابوں سے پیدا کرنا چاہیے، کیونکہ تفسیر کبیر میں صرف وہی اعتراضات بیان کیے گئے ہیں جو ذکر ہوئے۔
۳۴۔ ابن تیمیہ نے قبول کیا ہے کہ آیت شریفہ میں ”انفسنا“ مذکورہ حدیث کے پیش نظر علی علیہ السلام پر انطباق کرتا ہے۔
۳۵۔ ابن تیمیہ نے اپنی بات کے ثبوت میں قرآن مجید کی پانچ آیتوں کو بیان کیا ہے، من جملہ ان میں یہ آیتیں ہیں:
الف۔ و لولا اذ سمعتموہ ظن المؤمنون والمؤمنات بأنفسہم خیراً (نور / ۱۲) ”آخر ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب تم لوگوں نے اس تہمت کو سنا تو مومن و مومنات اپنے بارے میں خیر کا گمان کرتے“
مقصود یہ ہے کہ کیوں ان میں سے بعض لوگ بعض دوسروں پر اچھا گمان نہیں رکھتے ہیں۔ ب۔ ”ولا تلمزوا أنفسکم“ (حجرات / ۱۱) ”آپس میں ایک دوسرے کو طعنے نہیں دینا“۔

