کیا امام سجاد علیہ السلام نےہی امام حسین (علیہ السلام) کو دفن کیا؟
-
- شائع
-
- مؤلف:
- الشيخ محمّد صنقور - ترجمہ: یوسف حسین عاقلی
- ذرائع:
- شيخ محمد صنقور حفظه الله کی ویب سائٹ سے ماخوذ
کیا امام سجاد علیہ السلام نےہی امام حسین (علیہ السلام) کو دفن کیا؟
الشيخ محمّد صنقور
ترجمہ: یوسف حسین عاقلی
شبہے کا متن:
کیا یہ صحیح ہے کہ امام حسین (علیہ السلام) کو دفن کرنے والا امام سجاد (علیہ السلام) تھا؟
اور اگر ایسا ہے تو پھر انہیں اپنے والد کی تدفین کا موقع کیسے ملا، جبکہ وہ اموی نظام کے ہاتھوں قید تھے، اور انہیں حسین (علیہ السلام) کے خاندان کے ہمراہ گیارہ محرم کو کوفہ لے جایا گیا تھا؟
جواب:
اہل سنت مورخین کے درمیان مشہور یہ ہے کہ حسین (علیہ السلام) اور ان کے ساتھ شہید ہونے والے شہداء کو دفن کرنے والے بنی اسد کے گاؤں غاضرہ کے لوگ تھے۔ چنانچہ انہوں نے ذکر کیا ہے کہ عمر بن سعد نے اموی لشکر کے مقتولین کو جمع کیا، ان پر نماز جنازہ پڑھی، پھر انہیں دفن کیا، اور حسین (علیہ السلام) اور ان کے ساتھی شہداء کو بغیر تجہیز و تکفین کے چھوڑ دیا، پھر وہ محرم کی گیارہ تاریخ کو دوپہر کے وقت کربلا کی سرزمین سے رخصت ہوا اور حسین (علیہ السلام) کے خاندان کو اسیران کی حالت میں اپنے ساتھ لے گیا۔ اس وقت غاضرہ کے بنی اسد کے لوگ نکلے اور شہداء کو نماز جنازہ پڑھنے کے بعد تجہیز و تکفین کرکے دفن کیا۔[1]
شیعہ علماء اور مورخین میں سے متعدد نے اس قول کو اپنایا ہے، جیسے شیخ مفید، سید ابن طاووس اور ابن شہر آشوب۔[2]
اس قول کے مقابلے میں ایک دوسرا قول بھی ہے جو حقیقت کے زیادہ قریب معلوم ہوتا ہے، حالانکہ یہ پہلے قول کے منافی نہیں ہے، اور وہ یہ کہ امام حسین (علیہ السلام) اور ان کے ہمراہ شہداء کے جسد مبارک کی تجہیز و تکفین کی ذمہ داری خود امام سجاد (علیہ السلام) نے انجام دی، اور اس میں غاضرہ کے بنی اسد کے لوگوں نے ان کی مدد کی۔
اس دعویٰ پر ان روایات سے استدلال کیا جا سکتا ہے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ امام کو صرف اسی جیسا امام غسل دیتا ہے۔ یہ روایات متعدد بلکہ مستفیض ہیں، بلکہ کوئی بھی یہ جرات نہیں کر سکتا کہ ان کے مجموعی طور پر صادر ہونے پر یقین نہ کرے، ان کی کثرت، مختلف طرق اور صحت سند والے روایات کے شامل ہونے کی وجہ سے۔
ان میں سے یہ روایت ہے کہ شیخ کلینی نے الکافی میں معتبر سند کے ساتھ احمد بن عمر الحلال یا کسی اور سے، امام رضا (علیہ السلام) سے روایت کی ہے، انہوں نے کہا: میں نے آپ سے عرض کیا: لوگ ہم سے حجت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ امام کو امام کے سوا کوئی غسل نہیں دیتا۔ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا: پھر انہیں کیا خبر کہ اسے کس نے غسل دیا؟ تم نے ان سے کیا کہا؟ میں نے عرض کیا: میں نے ان سے کہا: اگر کوئی کہے کہ اسے میرے رب کے عرش کے نیچے غسل دیا گیا تو وہ سچ کہے گا، اور اگر کہے کہ زمین کی تہہ میں غسل دیا گیا تو وہ بھی سچ کہے گا۔ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا: ایسا نہ کہو، پھر ان سے کیا کہا؟ میں نے عرض کیا: تو میں ان سے کیا کہوں؟ فرمایا: ان سے کہو: میں نے اسے غسل دیا۔ میں نے عرض کیا: کیا میں ان سے کہوں کہ آپ نے اسے غسل دیا؟ فرمایا: ہاں۔[3]
اس شریف روایت کا مفاد یہ ہے کہ (کچھ لوگ، بظاہر واقفیہ میں سے تھے) امام رضا (علیہ السلام) کی امامت کے نہ ہونے پر اس بنا پر حجت کرتے تھے کہ آپ نے امام موسیٰ بن جعفر (علیہ السلام) کو غسل دینے کا کام نہیں کیا، کیونکہ آپ مدینہ میں تھے جبکہ امام کاظم (علیہ السلام) بغداد میں شہید ہوئے، اور چونکہ امام کو امام کے سوا کوئی غسل نہیں دیتا، لہٰذا امام رضا (علیہ السلام) کا امام موسیٰ بن جعفر (علیہ السلام) کو غسل نہ دینا ان کے خیال میں امامت کی نشانیوں میں سے ایک سے محرومی ہے۔
اور چونکہ یہ احتجاج سننے والا راوی اس قضیہ پر ایمان رکھتا تھا کہ امام کو امام کے سوا کوئی غسل نہیں دیتا، اس لیے اس نے ایک نظری جواب تلاش کیا، اور جب اس نے بعد میں امام رضا (علیہ السلام) سے رجوع کیا تو آپ نے اس کے اس عقیدے کی تائید کی اور بتایا کہ خود آپ (علیہ السلام) نے ہی امام موسیٰ بن جعفر (علیہ السلام) کو غسل دینے کا کام انجام دیا۔ اگر یہ قضیہ جس پر احتجاج کیا گیا تھا باطل ہوتا تو امام (علیہ السلام) پر اسے واضح کرنا ضروری تھا، کیونکہ آپ (علیہ السلام) کے کلام کا انداز اس قضیہ کی تائید میں صریح ہے۔ اور جو شخص امام (علیہ السلام) سے خطاب سن رہا ہے، وہ آپ کے بغداد جانے کا انکار نہیں کر سکتا جبکہ آپ مدینہ میں تھے اور امام کاظم (علیہ السلام) کی شہادت کے دن، آپ کی سچائی اور معجزے کے طور پر اس کے ممکن ہونے کو تسلیم کرنے کے بعد۔
لہٰذا اس روایت سے استدلال کا تقریب یہ ہے کہ یہ شیعوں کے درمیان اس قضیہ کے مرکوز ہونے اور امام (علیہ السلام) کی اس ارتکاز کی تائید پر دلالت کرتی ہے۔
اور ان میں سے یہ روایت ہے کہ کلینی نے معتبر سند کے ساتھ مفضل بن عمر سے، ابو عبداللہ (علیہ السلام) سے روایت کی ہے، انہوں نے کہا: میں نے امام صادق (علیہ السلام) سے عرض کیا: فاطمہ (سلام اللہ علیہا) کو کس نے غسل دیا؟ آپ نے فرمایا: امیر المؤمنین (علیہ السلام) نے۔ راوی کہتا ہے: گویا میں نے آپ کے اس قول کو بڑا سمجھا، تو آپ نے فرمایا: شاید تم اس بات سے تنگ ہو گئے جو میں نے بتائی؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں، ایسا ہی ہوا۔ آپ نے فرمایا: تنگی نہ کرو، کیونکہ وہ صدیقہ تھیں اور صدیقہ کو صدیق ہی غسل دیتا ہے، کیا تم نہیں جانتے کہ مریم (علیہا السلام) کو عیسیٰ (علیہ السلام) کے سوا کسی نے غسل نہیں دیا؟[4]
اور ان میں سے وہ روایت ہے جو مسنداً اثبات الوصیہ وغیرہ میں ابی بصیر سے مروی ہے، انہوں نے کہا: امام موسیٰ بن جعفر (علیہ السلام) نے فرمایا: اس وصیت میں جو میرے والد نے مجھے کی، انہوں نے فرمایا: بیٹے! جب میں مر جاؤں تو مجھے تمہارے سوا کوئی غسل نہ دے، کیونکہ امام کو امام کے سوا کوئی غسل نہیں دیتا۔[5]
اور ان میں سے وہ روایت ہے جسے شیخ صدوق نے عیون اخبار الرضا (علیہ السلام) میں ہرثمہ بن اعین کی سند سے ایک طویل حدیث میں نقل کیا ہے جو ان کے اور امام رضا (علیہ السلام) کے درمیان شہادت سے کچھ پہلے ہوئی، جس میں آیا ہے: "پھر جب میں مر جاؤں گا تو (یعنی مأمون) کہے گا: میں خود اپنے ہاتھ سے انہیں غسل دوں گا۔ جب وہ ایسا کہے تو تم اس سے میری طرف سے کہنا کہ اس نے مجھ سے کہا: میرے غسل، کفن اور دفن میں مت پڑنا، کیونکہ اگر تم نے ایسا کیا تو تم پر وہ عذاب جلدی آئے گا جو تم سے ٹالا گیا تھا اور تم پر تمہاری ڈرتی ہوئی دردناک چیز نازل ہوگی، کیونکہ وہ باز آجائے گا... یہاں تک کہ آپ نے فرمایا: وہ تم پر نظر ڈالے گا اور کہے گا: اے ہرثمہ! کیا تم لوگ یہ نہیں کہتے تھے کہ امام کو امام کے سوا کوئی غسل نہیں دیتا؟ تو ابوالحسن علی بن موسیٰ اور ان کے بیٹے محمد کو جو مدینہ میں ہیں، حجاز کی سرزمین میں، اور ہم طوس میں ہیں، کون غسل دے گا؟ جب وہ تم سے ایسا کہے تو تم جواب دو اور کہو: ہم یہ کہتے ہیں کہ امام کو امام کے سوا غسل دینا ضروری نہیں ہے، اگر کوئی تعدی کرنے والا امام کو غسل دے دے تو غسل دینے والے کی تعدی سے امام کی امامت باطل نہیں ہوتی، اور نہ ہی اس کے بعد والے امام کی امامت اس وجہ سے باطل ہوتی ہے کہ وہ اپنے والد کے غسل سے محروم کر دیا گیا۔ اگر ابوالحسن علی بن موسیٰ (علیہ السلام) مدینہ میں چھوڑ دیئے جاتے تو ان کا بیٹا محمد کھلم کھلا انہیں غسل دیتا، لیکن اب وہ اسے اسی طرح غسل دے گا جہاں سے پوشیدہ ہو۔"[6]
اور بھی دوسری روایات ہیں جنہیں ہم طوالت کے خوف سے ذکر کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔
ان روایات سے استدلال کا تقریب یہ ہے کہ ان کا مفاد شرعاً مطلوب امام کے غسل کا غیر امام کے ہاتھوں ہونا محال ہے، اور اسی طرح صدیق کے غسل کا غیر صدیق کے ہاتھوں ہونا محال ہے۔
اور اس کا مطلب یہ نہیں کہ کبھی غیر امام امام کو غسل دینے کا کام نہیں کرتا، بلکہ یہ ظاہر میں ہوتا ہے اور حقیقت میں امام ضرور پچھلے امام کو غسل دیتا ہے۔ یہ روایات محض شرعی وظیفہ بیان کرنے کے لیے نہیں ہیں کہ امام پر شرعی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے سے پہلے امام کو غسل دے، بلکہ یہ ایک حتمی طور پر واقع ہونے والی حقیقی قضیہ کی حکایت کر رہی ہیں۔ یہی بات ہرثمہ کی روایت سے صراحتاً اور شیعوں کے فہم میں مرکوز ہونے سے مستفاد ہوتی ہے، جیسا کہ احمد بن عمر الحلال کی معتبر روایت سے ظاہر ہے، جہاں امام رضا (علیہ السلام) کی امامت کے منکرین نے آپ کی امامت کی نفی پر یہ حجت پیش کی کہ آپ نے امام موسیٰ بن جعفر (علیہ السلام) کو غسل دینے کا کام نہیں کیا، اور راوی نے ان پر اصل قضیہ کے ساتھ احتجاج کرنے کا انکار نہیں کیا حالانکہ اگر وہ باطل ہوتی تو اس کے لیے یہ آسان ہوتا، بلکہ اس نے ان پر صرف یہ انکار کیا کہ وہ یقین سے کہتے ہیں کہ امام نے اپنے والد کو غسل نہیں دیا، پھر امام رضا (علیہ السلام) نے اس کے اس ایمان پر کہ امام کو اگلا امام ضرور غسل دیتا ہے، تائید فرمائی اور یہ بتا کر شبیہہ حل کیا کہ حقیقت میں خود آپ نے ہی امام موسیٰ بن جعفر (علیہ السلام) کو غسل دیا۔ اگر امام کا اگلے امام کے ہاتھوں غسل پانا محض ایک شرعی وظیفہ ہوتا تو امامت کے نہ ہونے پر اس سے احتجاج کرنا جائز نہ ہوتا، کیونکہ یہ واضح ہے کہ شرعی وظیفے صرف قدرت کی حالت میں لازم ہوتے ہیں، اور منکرین اس سے غافل نہیں ہو سکتے۔
رہی مفضل کی معتبر روایت اور ابی بصیر کی روایت، تو وہ ہمارے استظہار کے منافی نہیں ہیں۔ کیونکہ امام (علیہ السلام) کا فرمان (اور صدیقہ کو صدیق ہی غسل دیتا ہے) ایک حقیقی امر کی حکایت سے بہت مناسبت رکھتا ہے کہ فاطمہ صدیقہ (علیہا السلام) کا غسل صدیق کے سوا کسی کے ہاتھوں ہونا ممکن نہ تھا، اور یہ ایک مقام ہے جو اللہ تعالیٰ نے فوت شدہ صدیق کو عطا کیا ہے کہ وہ ایک صدیق کو اس کے غسل کا کام انجام دینے کے لیے مہیا کرے۔ اسی طرح سیدہ مریم کے لیے ایک صدیق مہیا کیا جس نے انہیں غسل دیا، وہ مسیح عیسیٰ (علیہ السلام) تھے۔
چنانچہ امام صادق (علیہ السلام) کا مفضل کو مسیح عیسیٰ (علیہ السلام) کے اپنی ماں کو غسل دینے کی خبر دینا اس بات کا اظہار ہے (اگر ظاہر میں نہیں تو) کہ ایک الہی سنت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے صدیقین کے ساتھ جاری کیا ہے۔ اس کی تائید ابو معمر کی روایت سے ہوتی ہے جو امام رضا (علیہ السلام) سے مروی ہے، انہوں نے کہا: میں نے امام رضا (علیہ السلام) سے پوچھا: کیا امام کو امام غسل دیتا ہے؟ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا: یہ موسیٰ بن عمران (علیہ السلام) کی سنت ہے۔[7]
رہی ابی بصیر کی امام صادق (علیہ السلام) سے روایت، تو وہ بھی ہمارے استظہار کے مطابق ہے کہ امام (علیہ السلام) ایک حقیقی قضیہ بیان کرنے کے مقام میں تھے، نہ کہ محض شرعی وظیفہ بیان کرنے کے۔ کیونکہ اگر یہ محض شرعی وظیفہ ہوتا تو ابی بصیر کا اس سے کوئی خاص تعلق نہ تھا کہ امام (علیہ السلام) ابتداءً انہیں یہ بتاتے۔
پھر یہ کہا جا سکتا ہے کہ مذکورہ روایات سے زیادہ سے زیادہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ امام کو اگلا امام ضرور غسل دیتا ہے، جبکہ امام حسین (علیہ السلام) شہید تھے، اور شہید کو غسل نہیں دیا جاتا بلکہ اسی کپڑوں میں دفن کیا جاتا ہے۔ ہاں، اگر روایات میں یہ موجود ہوتا کہ امام پر اس جیسے امام کی طرف سے نماز جنازہ پڑھنا لازم ہے، تو وہ امام سجاد (علیہ السلام) کے اپنے والد (علیہ السلام) کی تجہیز و تکفین کے لیے حاضر ہونے پر استدلال کے لیے موزوں ہوتیں، لیکن یہ روایات اس پر دلالت سے خالی ہیں۔
اس اشکال کا جواب:
یہ ہے کہ یہ احتمال نہیں کہ غسل میں کوئی خصوصیت ہو جو اسے امام کے علاوہ کے ہاتھوں ہونے سے روکے، جبکہ تجہیز کے دیگر مراسم ایسے نہ ہوں۔ کیونکہ مذکورہ روایات سے عرفاً ظاہر ہے کہ یہ فوت شدہ امام کے لیے ایک اعزاز اور اگلے امام کے لیے ایک منصب ہے، اور ہم یہ احتمال نہیں دیتے کہ غسل کی خصوصیت ہو مثلاً نماز کے بغیر، خاص طور پر جبکہ نماز متشرعہ کے مرتکزات میں غسل سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔
اسی لیے جب کوئی باوقار شخص فوت ہوتا ہے تو امراء اور بڑے علماء اس کی امامت (نماز جنازہ) کے لیے آگے بڑھتے ہیں۔ لہٰذا مذکورہ روایات سے عرفاً یہ سمجھا جاتا ہے کہ امام کا معاملہ صرف اس جیسا امام ہی سنبھالتا ہے، اور یہ قاعدہ صرف غسل تک محدود نہیں ہے۔
اس استظہار کی تائید چند قرائن سے کی جا سکتی ہے:
پہلی قرینہ:
اس بات کا اجماع دعویٰ کیا گیا ہے کہ امام کا معاملہ امام کے سوا کوئی نہیں سنبھالتا، حالانکہ زیادہ تر روایات صرف غسل کے بارے میں ہیں۔ یہ اس بات کا اظہار ہے کہ متشرعہ نے مذکورہ روایات سے وہی معنی سمجھا جو ہم نے استظہار کیا ہے۔[8]
دوسری قرینہ:
بعض روایات میں اس کی صراحت ہے۔
ان میں سے کشی کی روایت ہے جس میں آیا ہے کہ علی بن ابی حمزہ بطائنی نے امام رضا (علیہ السلام) سے کہا: ہم نے آپ کے آباء سے روایت کی ہے کہ امام کا معاملہ امام کے سوا کوئی نہیں سنبھالتا۔ تو ابوالحسن الرضا (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا: مجھے بتاؤ، حسین بن علی (علیہ السلام) امام تھے یا غیر امام؟ انہوں نے کہا: وہ امام تھے۔ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا: تو ان کا معاملہ کس نے سنبھالا؟ انہوں نے کہا: علی بن الحسین (علیہ السلام) نے۔ آپ نے فرمایا: وہ کوفہ میں عبیداللہ بن زیاد کے ہاتھوں قید تھے۔ انہوں نے کہا: وہ نکلے اس حال میں کہ لوگوں کو علم نہ ہوا، یہاں تک کہ اپنے والد کا معاملہ سنبھالا، پھر واپس لوٹے۔ تو ابوالحسن (علیہ السلام) نے فرمایا: یہ علی بن الحسین (علیہ السلام) کے لیے ممکن ہوا کہ وہ کربلا آئیں اور اپنے والد کا معاملہ سنبھالیں، تو یہ صاحب الامر (امام مہدی) کے لیے ممکن ہے کہ وہ بغداد آئیں اور اپنے والد کا معاملہ سنبھالیں، پھر واپس جائیں، اور وہ نہ قید میں ہوں اور نہ اسیری میں۔[9]
یہ مذکورہ روایت اس بات میں صریح ہے کہ صرف غسل ہی وہ چیز نہیں ہے جس کا امام کے ہاتھوں ہونا ضروری ہے، ورنہ بطائنی کے لیے امام رضا (علیہ السلام) کو یہ جواب دینا آسان ہوتا کہ امام حسین (علیہ السلام) کو غسل نہیں دیا گیا تھا، لہٰذا سجاد (علیہ السلام) کا تجہیز میں حاضر ہونا ضروری نہ تھا۔
گویا کہ یہ روایت اگرچہ اس کے سند میں اشکال ہے، مگر یہ ہمارے استظہار پر قرینہ اور گواہ کے طور پر کام دے سکتی ہے، اور ان شاء اللہ ہم بعد میں اس پر ٹھہریں گے۔
اور ان میں سے وہ روایت ہے جسے کلینی نے روضۃ الکافی میں عبداللہ بن قاسم البطل کی سند سے ابو عبداللہ (علیہ السلام) سے اللہ تعالیٰ کے فرمان:
﴿... لَتُفْسِدُنَّ فِي الْأَرْضِ مَرَّتَيْنِ...﴾[10]
کے تحت نقل کیا ہے کہ اس کے ذیل میں آیا ہے: "اور وصی کو وصی کے سوا کوئی نہیں سنبھالتا۔"[11]
اس روایت میں یہ شامل ہے کہ امام سے امام کا جو معاملہ سنبھالنا ہے وہ صرف غسل نہیں بلکہ کفن، حنوط اور لحد میں رکھنا بھی ہے، اور یہ اس بات کی تائید کرتا ہے جو ہم نے استدلال والی روایات سے استظہار کیا ہے۔
اور ان میں سے وہ روایت ہے جسے ابن شہر آشوب نے مناقب میں نقل کیا ہے: "اور روایت ہے کہ ہم اہل بیت نبوت و رسالت و امامت ہیں... اور یقیناً امام کی ولادت، آنکھیں بند کرنا، غسل اور دفن امام کے سوا کوئی نہیں سنبھالتا مگر اس جیسا امام۔"[12]
اور ہم نے جو کچھ ذکر کیا ہے اس کے ذریعے ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ اس بات سے تمسک کرنا ممکن ہے جو کچھ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ امام کو امام کے سوا کوئی غسل نہیں دیتا (اس کے اطلاق کے ذریعے) یہ ثابت کرنے کے لیے کہ امام حسین (علیہ السلام) کی تجہیز و تدفین کا کام سنبھالنے والا امام سجاد (علیہ السلام) ہی تھے۔
اور ایک اور دلیل بھی ہے جس سے اس دعویٰ کو ثابت کرنے کے لیے تمسک کیا جا سکتا ہے، جو کئی امور پر مشتمل ہے جن کے مجموعے سے یہ وثوق حاصل ہوتا ہے کہ امام حسین (علیہ السلام) کی تجہیز و تدفین کا کام ان کے بیٹے امام سجاد (علیہ السلام) نے انجام دیا۔
پہلا امر:
وہ خاص روایات جو صراحتاً بتاتی ہیں کہ امام سجاد (علیہ السلام) نے اپنے والد شہید حسین (علیہ السلام) کی تجہیز و تکفین کا کام انجام دیا۔ اور ہمیں اس سلسلے میں دو روایات ملی ہیں:
پہلی: کشی کی وہ روایت جو ہم نے پہلے ذکر کی، اور اس پر دعویٰ کے تقریب دلالت یہ ہے کہ امام رضا (علیہ السلام) نے بطائنی کے اس دعوے پر اقراری فرمایا کہ امام حسین (علیہ السلام) کا معاملہ سنبھالنے والا سجاد (علیہ السلام) تھے، اور اگر حقیقت اس کے خلاف ہوتی تو امام (علیہ السلام) کے لیے اس کی تردید کرنا مناسب ہوتا۔
یہ تو دلالت کے بارے میں ہے (اور ہماری روایت کی طرف واپسی ہوگی)، رہا سند کا معاملہ، تو یہ روایت سنداً ضعیف ہے کیونکہ اس میں ارسال ہے اور احمد بن سلیمان اور اسماعیل بن سہل شامل ہیں، تاہم یہ اس بات کی مانع نہیں کہ اسے دعویٰ پر ایک گواہ سمجھا جائے۔
دوسری:
وہ روایت جسے علامہ مجلسی نے بحار الانوارمیں بصائر الدرجات سے احمد بن محمد اور احمد بن اسحاق کی سند سے قاسم بن یحییٰ سے، وہ ہمارے بعض اصحاب سے، وہ ابو عبداللہ (علیہ السلام) سے روایت کرتے ہیں، آپ (علیہ السلام) نے فرمایا: جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی روح قبض کی گئی تو جبرئیل اور وہ فرشتے اور روح جو شب قدر میں نازل ہوتے ہیں، اترے۔
آپ نے فرمایا: تو امیرالمؤمنین (علیہ السلام) کی آنکھوں کے سامنے سے پردہ اٹھا دیا گیا، انہوں نے انہیں آسمانوں کی انتہا سے زمین تک دیکھا کہ وہ نبی (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کو ان کے ساتھ غسل دے رہے تھے، اور ان کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے، اور ان کے لیے قبر کھود رہے تھے۔ اللہ کی قسم، ان کے سوا کسی نے ان کے لیے قبر نہیں کھودی۔ یہاں تک کہ جب وہ اپنی قبر میں رکھے گئے تو وہ ان کے ساتھ اترے جن کے ساتھ اترے تھے، اور انہیں رکھا۔ پھر نبی (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے کلام کیا، اور امیرالمؤمنین (علیہ السلام) کے کانوں پر سے پردہ اٹھا دیا گیا، انہوں نے سنا کہ وہ ان کے متعلق وصیت کر رہے تھے، تو وہ رو پڑے۔ اور انہوں نے سنا کہ وہ کہہ رہے تھے: ہم اس میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے، اور یہ تمہارے بعد ہمارا ساتھی ہے، مگر یہ ہمارے اس مرتبے کے بعد اپنی آنکھوں سے ہمیں نہیں دیکھے گا۔ یہاں تک کہ جب امیرالمؤمنین (علیہ السلام) کی روح قبض ہوئی تو حسن اور حسین (علیہ السلام) نے وہی دیکھا جو انہوں نے دیکھا تھا، اور انہوں نے نبی (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کو بھی دیکھا جو فرشتوں کی اس طرح مدد کر رہے تھے جیسے انہوں نے نبی (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے ساتھ کیا تھا۔ یہاں تک کہ جب حسن (علیہ السلام) فوت ہوئے تو حسین (علیہ السلام) نے ان سے وہی دیکھا اور نبی (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) اور علی (علیہ السلام) کو دیکھا جو فرشتوں کی مدد کر رہے تھے۔ یہاں تک کہ جب حسین (علیہ السلام) شہید ہوئے تو علی بن الحسین (علیہ السلام) نے ان سے وہی دیکھا اور نبی (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) اور علی اور حسن (علیہ السلام) کو دیکھا جو فرشتوں کی مدد کر رہے تھے۔ یہاں تک کہ جب علی بن الحسین (علیہ السلام) فوت ہوئے تو محمد بن علی (علیہ السلام) نے وہی دیکھا اور نبی (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) اور علی، حسن، حسین اور علی بن الحسین (علیہ السلام) کو دیکھا جو فرشتوں کی مدد کر رہے تھے۔ یہاں تک کہ جب محمد بن علی (علیہ السلام) فوت ہوئے تو جعفر (علیہ السلام) نے وہی دیکھا... یہ سلسلہ ہمارے آخری امام تک جاری رہے گا۔[13]
یہ روایت جیسا کہ آپ ملاحظہ کر رہے ہیں، اس بات میں صریح ہے کہ امام علی بن الحسین (علیہ السلام) نے اپنے شہید والد حسین بن علی (علیہ السلام) کی تجہیز و تکفین کا کام انجام دیا، البتہ یہ سنداً ضعیف ہے، اس لیے یہ دعویٰ پر ایک اور مؤید کے طور پر کام کرے گی۔
تیسرا امر:
جو کچھ وارد ہوا ہے کہ امام حسین (علیہ السلام) کو ایک علیحدہ قبر میں دفن کیا گیا، اور ان کے بڑے بیٹے علی بن حسین (علیہ السلام) کو ان کے پاؤں کی طرف دفن کیا گیا، اور بنی ہاشم کے شہداء کو ایک قبر میں دفن کیا گیا، اور غیر بنی ہاشم کے شہداء کو اجتماعی قبروں میں یا ایک قبر میں جو حسین (علیہ السلام) کے پاؤں کی طرف تھی، دفن کیا گیا، اور رہے عباس بن علی (علیہ السلام) تو وہ اسی جگہ دفن کئے گئے جہاں وہ شہید ہوئے، غاضرہ کے راستے پر۔[14]
یہ تفصیل، جو علماء اور شیعہ مورخین کے درمیان مسلم ہے، اس دعوے کے ساتھ مناسب نہیں ہے کہ غاضرہ کے بنی اسد کے لوگوں نے آزادانہ طور پر حسین (علیہ السلام) اور ان کے ہمراہ شہداء کی تجہیز و تکفین کی ذمہ داری لی، خاص طور پر جب اس بات پر غور کیا جائے کہ شہداء کے سر ان کے جسموں سے جدا کر دیئے گئے تھے۔ پھر بنی اسد کو شہداء کی پہچان کہاں سے ہوئی؟ وہ لوگ دیہاتی تھے اور جنگ کے گواہ نہیں تھے، اور ہو سکتا ہے کہ ان میں سے کوئی امام حسین (علیہ السلام) کو دیکھنے کا شرف بھی نہ رکھتا ہو، دوسرے شہداء (علیہم السلام) کو تو چھوڑ دیں۔
پھر یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے حسین (علیہ السلام) کے لیے قبر الگ کی، اور اکبر کو ان کے قریب ان کے پاؤں کی طرف دفن کیا؟ اور اگر ہم اس سے بھی تجاوز کر جائیں تو عباس (علیہ السلام) کو اکیلے دفن کرنے کی وجہ سے کیسے تجاوز کریں؟ جبکہ وہ یقیناً انہیں نہیں پہچانتے تھے، اور ان کے لیے یہ زیادہ آسان تھا کہ وہ انہیں دوسرے شہداء کے ساتھ اجتماعی قبر میں رکھ دیتے جو انہوں نے ان کے لیے کھودی تھی، پس کوئی ایسی چیز نہیں تھی جو انہیں الگ دفن کرنے پر مجبور کرتی، خاص طور پر جب ان کی پہچان نہ ہونے کا مفروضہ ہو۔ تو یہ اتنا بعید نہیں کہ ان کا الگ دفن کرنا ان کے لیے دوسرے شہداء کے ساتھ لے جا کر رکھنے سے زیادہ آسان ہوتا۔
یہ سب کچھ اس بات کا اظہار ہے کہ یہ تدفین مذکورہ طریقے سے اتفاقی اور بے ترتیب نہیں تھی، بلکہ ایک منصوبہ بندی کے تحت تھی جو غاضرہ کے بنی اسد کے لوگوں کی حقیقت کے مطابق نہیں ہے، اور یہ اس بات کی تائید کرتا ہے جو ہم نے دعویٰ کیا ہے کہ امام سجاد (علیہ السلام) وہ تھے جو امام حسین (علیہ السلام) کی تجہیز و تکفین کی نگرانی کر رہے تھے۔
پھر یہاں ایک روایت ہے جسے سید ابن طاووس نے اپنی کتاب مصباح الزائر میں نقل کیا ہے کہ جابر بن عبداللہ انصاری ۲۰ صفر کے روز زیارت قبر امام حسین (علیہ السلام) کے لیے عطیہ عوفی کے ہمراہ آئے، اور غسل کرکے خوشبو لگانے کے بعد قبر حسین (علیہ السلام) پر کھڑے ہوئے، تین بار تکبیر کہی، پھر بے ہوش ہو کر گر پڑے۔ جب افاقہ ہوا تو حسین (علیہ السلام) پر سلام کیا، اور جب سلام سے فارغ ہوئے تو چند رکعتیں پڑھیں، پھر علی بن حسین (علیہ السلام) کی قبر پر آئے اور کہا: "سلام ہو آپ پر اے میرے مولا اور مولا کے بیٹے، اللہ آپ کے قاتل پر لعنت کرے، آپ پر ظلم کرنے والے پر لعنت کرے، میں آپ کی محبت کے ذریعے اللہ کا قرب حاصل کرتا ہوں..." پھر اسے بوسہ دیا اور دو رکعتیں پڑھیں، پھر شہداء کی قبروں کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا: "سلام ہو ان ارواح پر جو ابو عبداللہ کی قبر کے پاس ٹھہری ہوئی ہیں، سلام ہو آپ پر اے اللہ کے شیعو اور اس کے رسول کے شیعو..."[15]
پھر وہ عباس بن امیرالمؤمنین (علیہ السلام) کی قبر پر آئے، اس پر ٹھہرے اور کہا: "سلام ہو آپ پر اے ابوالقاسم، سلام ہو آپ پر اے عباس بن علی، سلام ہو آپ پر اے امیرالمؤمنین کے بیٹے..."
یہ روایت اس بات میں صریح ہے کہ جابر بن عبداللہ انصاری کے لیے قبر حسین (علیہ السلام)، قبر علی بن حسین اکبر (علیہ السلام) اور قبر عباس بن علی (علیہ السلام) نمایاں تھیں، حالانکہ یہ زیارت اس سے پہلے ہوئی تھی کہ وہ شام سے واپس آنے والے حسینی قافلے سے ملیں (اگر یہ ملاقات ہوئی بھی ہو)، پھر جابر کو ان قبروں کے مقامات کا علم کہاں سے ہوا؟
یہاں دو امکان ہیں جن کے سوا کوئی تیسرا نہیں: یا تو ان قبروں پر ان کے مالکان کے نام لکھے گئے تھے، یا ان کی پہچان ان کے ذریعے ہوئی جو تدفین کی تقریب میں موجود تھے۔ دونوں صورتوں میں امام سجاد (علیہ السلام) کا تدفین کی تقریب میں موجود ہونا ضروری ہے، کیونکہ غاضرہ کے لوگوں کے لیے شہداء کی پہچان کرنا ممکن نہ تھا، جبکہ وہ قتل سے پہلے ان کی پہچان نہیں رکھتے تھے اور نہ ہی وہ جنگ کے گواہ تھے، اور شہداء کے سر ان کے جسموں سے جدا کر دیئے گئے تھے۔ اگر امام حسین (علیہ السلام) کے جسد مبارک کی پہچان ممکن تھی تو عباس (علیہ السلام) اور علی اکبر (علیہ السلام) کے جسموں کی پہچان بہت بعید ہے، بنا بر ان وجوہات جو ہم نے ذکر کیں۔
لہٰذا متعین یہ ہے کہ ان قبروں کے مقامات کی پہچان کا ذریعہ امام سجاد (علیہ السلام) کی رہنمائی اور ان کی طرف سے شہداء کی پہچان کروانا تھا، جب وہ ان کی تجہیز و تدفین کی نگرانی کر رہے تھے۔
چوتھا امر:
جو روایات میں وارد ہوا ہے کہ امام رضا (علیہ السلام) نے اپنے والد امام موسیٰ بن جعفر (علیہ السلام) کا معاملہ سنبھالا۔ چنانچہ شیخ صدوق وغیرہ نے روایت کیا ہے کہ امام رضا (علیہ السلام) بغداد حاضر ہوئے اور اپنے والد کو غسل دیا، کفن پہنایا اور دفن کیا۔ ہم نے پہلے وہ روایت نقل کی تھی جو کلینی نے احمد بن عمر الخلال کی معتبر سند سے اور ابو معمر سے روایت کی ہے۔ اس کے باوجود کہ امام رضا (علیہ السلام) اپنے والد کی شہادت کے وقت مدینہ میں تھے، روایات نے آپ کے بغداد میں اپنے والد کی تجہیز و تکفین کے لیے حاضر ہونے پر تاکید کی ہے۔
اور روایات میں آیا ہے کہ امام جواد (علیہ السلام) نے اپنے والد امام رضا (علیہ السلام) کا معاملہ سنبھالا، جیسا کہ ہرثمہ کی سابقہ روایت میں ہے اور ابی الصلت ہروی کی معتبر روایت میں، جس میں آیا ہے: "پس میں ایسے ہی تھا کہ اچانک میرے پاس ایک جوان آیا، خوبصورت چہرہ، گھونگھریالے بال، لوگوں میں سب سے زیادہ امام رضا (علیہ السلام) سے مشابہ تھا۔ میں اس کی طرف جلدی کیا اور اس سے کہا: تم کہاں سے آئے جبکہ دروازہ بند ہے؟ اس نے کہا: جس نے مجھے مدینہ سے اس وقت لایا، وہی مجھے دروازہ بند ہونے کی حالت میں گھر میں داخل کرنے والا ہے۔
میں نے اس سے کہا: اور تم کون ہو؟
اس نے مجھ سے کہا: میں اے اباصلت! تم پر اللہ کی حجت ہوں، میں محمد بن علی ہوں، پھر وہ اپنے والد کی طرف گیا... اور امام رضا (علیہ السلام) کا انتقال ہو گیا، تو ابوجعفر (علیہ السلام) نے فرمایا: اے اباصلت! اٹھو، مجھے خزانے سے غسل خانہ اور پانی لاؤ... پھر مجھ سے فرمایا: اے اباصلت! الگ ہٹ جاؤ، کیونکہ میرے لیے میرے سوا بھی مددگار ہیں۔ پھر انہوں نے انہیں غسل دیا، پھر مجھ سے فرمایا: خزانے میں جاؤ اور وہ صندوق نکالو جس میں ان کا کفن اور حنوط ہے... میں اسے ان کے پاس لے گیا تو انہوں نے انہیں کفن پہنایا اور ان پر نماز پڑھی۔"[16]
اس کے باوجود کہ امام جواد (علیہ السلام) اپنے والد کی شہادت کے وقت مدینہ میں تھے اور امام رضا (علیہ السلام) خراسان میں تھے، روایات نے آپ کے حاضر ہونے اور اپنے والد کی تجہیز و تکفین کا معاملہ سنبھالنے پر تاکید کی ہے۔
اور اہل بیت (علیہم السلام) سے ماثور روایات میں یہ بھی آیا ہے کہ امام صادق (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے امام کاظم (علیہ السلام) کو وصیت کی کہ وہ ان کے غسل کا معاملہ سنبھالیں، جیسا کہ ابی بصیر کی روایت میں ہے، اور انہوں نے بتایا کہ امام کو امام کے سوا کوئی غسل نہیں دیتا، اسی لیے امام کاظم (علیہ السلام) نے اپنے والد امام صادق (علیہ السلام) کی تجہیز و تکفین کا معاملہ سنبھالا، جیسا کہ روایات نے بتایا ہے۔ اس کے باوجود کہ امام کاظم (علیہ السلام) امام صادق (علیہ السلام) کے بڑے بیٹے نہیں تھے، لیکن چونکہ وہ اپنے والد کے بعد امام تھے، انہوں نے ہی دوسروں کے بجائے تجہیز کا معاملہ سنبھالا۔[17]
اور اسی طرح امام مہدی (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ) کے بارے میں بھی، باوجود غیبت کے حالات کے، انہوں نے خود اپنے والد پر نماز جنازہ پڑھی، جیسا کہ بعض روایات میں آیا ہے: "پھر جب ہم گھر میں داخل ہوئے تو میں نے دیکھا کہ حسن بن علی (علیہ السلام) اپنے تابوت پر کفن شدہ ہیں۔ تو جعفر بن علی (علیہ السلام) اپنے بھائی پر نماز پڑھانے کے لیے آگے بڑھے، جب انہوں نے تکبیر کہنے کا ارادہ کیا تو ایک بچہ نکلا جس کے چہرے پر سانولی رنگت تھی، اس کے بال گھونگھریالے تھے، اس کے دانتوں میں کشادگی تھی، اس نے جعفر بن علی کی چادر کھینچی اور کہا: پیچھے ہٹ جاؤ اے چچا! میں اپنے والد پر نماز پڑھانے کا زیادہ حقدار ہوں۔ تو جعفر پیچھے ہٹ گئے جبکہ ان کا چہرہ سیاہ اور زرد پڑ گیا، پھر وہ بچہ آگے بڑھا اور اپنے والد پر نماز پڑھی۔"[18]
اور ہم نے آپ کو قریب ہی عبدالرحمن بن سالم کی معتبر روایت نقل کی تھی جس میں تھا کہ امام امیرالمؤمنین (علیہ السلام) نے فاطمہ (علیہا السلام) کو غسل دیا، کیونکہ وہ صدیقہ تھیں اور صدیقہ کو صدیق کے سوا کوئی غسل نہیں دیتا، اور یہ بات دوسری روایات میں بھی آئی ہے۔ اس کے باوجود کہ عرف کا ذوق مرد کا اپنی بیوی کو غسل دینے سے عجیب لگتا ہے، خاص طور پر جب ہم جنس (عورت) موجود ہو، لیکن الہی اور لازم الادا ارادے نے یہ تقاضا کیا کیونکہ فاطمہ صدیقہ تھیں، اور اس سے بھی زیادہ عجیب یہ ہے کہ بیٹا اپنی ماں کو غسل دے، لیکن اس کے باوجود سیدنا مسیح (علیہ السلام) نے اپنی والدہ سیدہ مریم (علیہا السلام) کو غسل دیا، جیسا کہ امام صادق (علیہ السلام) نے عبدالرحمن بن سالم کی معتبر روایت میں یہ کہہ کر دلیل دی کہ صدیق کو صدیق کے سوا کوئی غسل نہیں دیتا۔
اس سے جو ہم نے یہاں ذکر کیا ہے، ہماری اس دعوے کی صحت پر زور پڑتا ہے کہ امام سجاد (علیہ السلام) نے اپنے شہید والد حسین (علیہ السلام) کی تجہیز و تکفین کا معاملہ سنبھالا۔ کیونکہ جو کچھ بیان ہوا، وہ اس بات کا اظہار ہے کہ ایک الہی سنت ہے جسے مالکِ حقیقی نے اپنے معصوم اولیاء (علیہم السلام) کے ساتھ جاری کیا ہے، یہ کوئی اتفاق نہیں کہ یہ منصب ان لوگوں کو سونپا گیا جو امام سجاد (علیہ السلام) سے پہلے تھے اور ان کے بعد معصومین (علیہ السلام) میں سے بھی۔ اور ہم اس بات میں کوئی رکاوٹ نہیں سمجھتے جو سید الشہداء میں اس الہی سنت کے جاری ہونے میں مانع ہو۔ اگر ظاہری رکاوٹیں مانع ہوتیں تو وہ امام رضا (علیہ السلام) کو بغداد پہنچنے سے روک دیتیں اور امام جواد (علیہ السلام) کو خراسان آنے سے مانع ہوتیں، حالانکہ متواتر روایات ان کرامات کی حکایت کر رہی ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے ولی اور برگزیدہ زین العابدین (علیہ السلام) کے ہاتھوں ظاہر فرمائیں۔
جب یہ بات واضح ہو گئی کہ ان چاروں امور کا مجموعہ ہمارے دعوے کی صحت پر اطمینان پیدا کرتا ہے، تو ہم بحث کی تکمیل کے لیے مختصراً ان اشکالات کی طرف اشارہ کریں گے جو بحث سے متعلق کچھ امور پر وارد ہو سکتے ہیں:
پہلا اشکال:
اس کا تعلق کشی کی اس روایت سے ہے جو ہم نے پہلے نقل کی تھی۔
اشکال کا خلاصہ یہ ہے کہ کہا جا سکتا ہے کہ اس روایت میں یہ ظاہر نہیں ہے کہ امام سجاد (علیہ السلام) نے اپنے والد حسین (علیہ السلام) کی تجہیز و تکفین کا معاملہ سنبھالا تھا، کیونکہ امام رضا (علیہ السلام) ابن ابی حمزہ بطائنی پر حجت قائم کرنے کے مقام میں تھے، تو زیادہ سے زیادہ جو روایت سے ظاہر ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ امام رضا (علیہ السلام) یہ کہنا چاہ رہے تھے کہ علی بن الحسین (علیہ السلام) کے لیے کربلا واپس آ کر اپنے والد کی تجہیز کرنا ممکن ہونے کا مفروضہ، بغداد میں آپ کے حاضر ہو کر اپنے والد امام موسیٰ بن جعفر (علیہ السلام) کی تجہیز کرنے کے امکان کو بھی لازم لاتا ہے، یعنی اگر پہلا مفروضہ عقلاً درست ہو سکتا ہے تو دوسرے کی صحت کا مفروضہ کیوں نہیں ہو سکتا؟ پس روایت میں اس بات کی کوئی دلالت نہیں کہ امام (علیہ السلام) نے پہلی قضیہ (یعنی سجاد (علیہ السلام) کا حسین (علیہ السلام) کی تجہیز کرنا) کے وقوع پر اقراری فرمایا۔
اس اشکال کا جواب:
یہ ہے کہ اگر ہم اس کے ہمارے دعوے پر ظہور نہ ہونے کو تسلیم کر لیں، تو بھی اس کا اس نتیجے پر اثر نہیں پڑتا جس پر ہم پہنچے ہیں، کیونکہ یہ اکیلی وہ چیز نہیں تھی جس سے ہم نے تمسک کیا تھا کہ اس کے گرنے سے دعویٰ گر جائے۔ نیز یہ کہنا کہ اس کا مطلوب پر ظہور نہیں ہے، بہت بے بنیاد ہے۔
یہ بات اس پر غور کرنے سے واضح ہوتی ہے کہ علی بن ابی حمزہ کس چیز کا انکار کر رہے تھے۔ روایت سے اور اس کے علاوہ سے بھی جو یقینی طور پر معلوم ہے، وہ یہ ہے کہ علی بن ابی حمزہ امام رضا (علیہ السلام) کی امامت کا انکار کر رہے تھے اور کاظم (علیہ السلام) کی موت نہ ہونے کا دعویٰ کر رہے تھے، اور وہ اور اس کے ساتھی امام رضا (علیہ السلام) کے پاس اپنی امامت کے انکار پر دلیل قائم کرنے کے لیے آئے تھے۔ چنانچہ انہوں نے پہلے پوچھا جیسا کہ روایت میں ہے: "آپ کے والد نے کیا کیا؟ آپ نے فرمایا: انتقال کر گئے۔ انہوں نے کہا: انتقال کیا؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ انہوں نے کہا: تو انہوں نے کس کو وصیت کی؟ آپ نے فرمایا: مجھے۔ انہوں نے کہا: تو آپ وہ امام ہیں جن کی اطاعت اللہ کی طرف سے فرض ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔"[18]
پھر ابن ابی حمزہ نے آپ پر احتجاج شروع کیا... انہوں نے کہا: ہم نے آپ کے آباء سے روایت کی ہے کہ امام کا معاملہ امام کے سوا کوئی نہیں سنبھالتا...[18]
تو وہ یہ کہنا چاہ رہا تھا کہ آپ اپنے والد کی تجہیز میں حاضر نہیں ہوئے جن کی آپ خلافت کا دعویٰ کرتے ہیں، اگر آپ امام ہوتے تو آپ ہی ان کی تجہیز کرتے، کیونکہ امام کا معاملہ امام کے سوا کوئی نہیں سنبھالتا۔ یہ قضیہ اپنی صغریٰ اور کبریٰ کے ساتھ اس نتیجے کو تقاضا کرتی ہے کہ امام رضا (علیہ السلام) امام نہیں تھے۔
اس نتیجے کو گرانے کے لیے درج ذیل طریقوں میں سے کسی ایک کو اختیار کرنا کافی ہے:
پہلا طریق:
کبریٰ کا انکار کیا جائے کہ "امام کا معاملہ امام کے سوا کوئی نہیں سنبھالتا"۔ چونکہ امام (علیہ السلام) نے اس کا انکار نہیں کیا، تو یہ اس کے اقراری اور اس کی تصدیق کا اظہار ہے۔ اور یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ اس کا انکار نہیں کر سکتے تھے کیونکہ وہ اسے ان سے قبول نہیں کریں گے (ان کی آپ کی امامت پر ایمان نہ رکھنے کی وجہ سے)، تو آپ کا انکار ان کے نزدیک بلا دلیل ہو گا، کیونکہ ان کے پاس یہ ہے کہ یہ کبریٰ اس دلیل پر مبنی ہے جو ہم آپ کے آباء سے روایت کرتے ہیں جن کی امامت آپ خود مانتے ہیں۔ اگر ایسا کہا جائے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اگر امام اس کبریٰ کو صحیح نہ سمجھتے تو ان کے لیے یہ ممکن تھا کہ وہ انہیں جھٹلائیں اور ان پر ان کی یہ روایت اپنے آباء سے کرنے کا انکار کریں، یہ کہہ کر کہ آپ کا یہ دعویٰ کہ یہ بات میرے آباء سے صادر ہوئی، جھوٹ اور افترا ہے۔ اس طرح وہ کبریٰ گر جاتی جو وہ اپنے مقصد کے لیے تمسک کرنا چاہتے تھے، کیونکہ وہ ثابت شدہ نہ رہی اور نہ ہی مخالف کے نزدیک مسلم تھی۔ لہٰذا ان کو جھٹلا دینا، اگر یہ قضیہ حقیقت پر مبنی نہ ہوتی، تو امام کے لیے ان کی دلیل کو گرانے کا آسان ترین طریقہ ہوتا۔
مزید یہ کہ اگر امام ان پر اس قضیے کا انکار کرتے تو ان کے لیے اپنے انکار پر دلیل قائم کرنا مشکل نہ تھا، جیسا کہ انہوں نے دوسری دلیل کے بارے میں کیا جو انہوں نے امام (علیہ السلام) پر پیش کی۔
چنانچہ اسی روایت میں آیا ہے کہ علی بن ابی حمزہ نے امام (علیہ السلام) سے کہا: آپ نے ایسی چیز ظاہر کر دی ہے جو آپ کے آباء میں سے کسی نے ظاہر نہیں کی اور نہ ہی اس کے بارے میں بات کی۔ تو امام (علیہ السلام) نے فرمایا: ہاں، اللہ کی قسم، میرے آباء میں سے بہتر، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے اس کے بارے میں بات کی تھی جب انہیں حکم دیا گیا کہ وہ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیں، انہوں نے اپنے اہل بیت میں سے چالیس آدمی جمع کیے اور ان سے کہا: میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں۔ ان میں سے سب سے زیادہ انہیں جھٹلانے اور لوگوں کو ان کے خلاف ابھارنے والے ان کے چچا ابولہب تھے، تو نبی (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے ان سے کہا... اگر مجھے کوئی خراش آئے تو میں نبی نہیں ہوں، تو یہ پہلی نشانی ہے جو میں تمہیں نبوت کی پیش کرتا ہوں، اور میں کہتا ہوں کہ اگر ہارون (یہاں کسی شخص کا نام؟) مجھے کوئی خراش پہنچائے تو میں امام نہیں ہوں، تو یہ وہ نشانی ہے جو میں تمہیں امامت کی پیش کرتا ہوں۔[18]
اس عبارت میں ابن ابی حمزہ نے امامت نہ ہونے پر یہ احتجاج کیا کہ ائمہ (علیہ السلام) کی قطعی سیرت یہ تھی کہ وہ اپنی امامت کو چھپاتے تھے اور اسے اس حد تک ظاہر نہیں کرتے تھے کہ سلطان کو علم ہو جائے۔ چونکہ امام رضا (علیہ السلام) نے اپنی امامت ظاہر کر دی تو یہ ائمہ (علیہ السلام) کی سیرت کے خلاف ہے، اور یہ ان کے خیال میں امامت نہ ہونے کی دلیل ہے۔
تو امام (علیہ السلام) کا جواب یہ تھا کہ :
انہوں نے اس کبریٰ کا انکار کیا جس سے علی بن ابی حمزہ نے تمسک کیا تھا، پھر آپ نے اپنے انکار پر دو چیزوں سے دلیل قائم کی: ایک تو آیت "اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤ" کی طرف اشارہ، اور دوسری یہ کہ آپ نے انہیں چیلنج کیا کہ ہارون (کوئی شخص) آپ کو کوئی برائی نہیں پہنچا سکتا، اور یہ غیب کی خبر تھی۔
پھر یہ کہ اپنے طاہر آباء پر ان کی موجودگی میں جھوٹ افترا کرنا مناسب نہیں ہے، خاص طور پر ایسے معاملے میں جو اس قدر اہم ہو کہ اس کی تردید نہ کرنے سے بہت سے لوگوں کی گمراہی لازم آتی ہے، پھر ایسا ہو اور وہ اس جھوٹے افترا کی تردید نہ کرے۔ خاص طور پر جبکہ امام کے اہم ترین فرائض میں سے ایک یہ ہے کہ وہ اعتقادی شبہات کو اس طرح رد کرے کہ ان کا گمراہ کن اثر ختم ہو جائے۔ اور یہ دعویٰ کہ امام کے جواب میں قضیہ کے تسلیم کرنے کا ظہور نہیں ہے، وہ اس کی صداقت کے انکار کی سطح تک نہیں پہنچتا، جو ایک طرف اس کے فرائض کے خلاف ہے اور دوسری طرف عدم تصریح انکار کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سنگین اثر کو نظر انداز کرنا ہے۔
لہٰذا امام (علیہ السلام) کا اس کبریٰ کا صراحتاً انکار نہ کرنا کہ "امام کا معاملہ امام کے سوا کوئی نہیں سنبھالتا" اس کے اقراری اور اس کی صحت پر تصدیق کے مترادف ہے۔
دوسرا طریق:
اس نتیجے کو گرانے کے لیے جس تک بطائنی پہنچنا چاہتا تھا (یعنی امام رضا (علیہ السلام) کی امامت نہ ہونا)، یہ ہے کہ امام رضا (علیہ السلام) اس کبریٰ کے اطلاق کی نفی کریں کہ یہ قضیہ ہر امام کے ساتھ جاری نہیں ہے، اور آپ (علیہ السلام) نے ایسا نہیں کیا، پس آپ نے اس کے اطلاق کی تمامیت کا اقراری کیا۔
اگر کہا جائے کہ امام (علیہ السلام) نے امام حسین (علیہ السلام) کے واقعے سے مثال دے کر اطلاق کی نفی کر دی، گویا وہ یہ کہنا چاہ رہے تھے کہ یہ قضیہ جاری نہیں ہے، اس لیے کہ امام حسین (علیہ السلام) آپ کے اقرار کے مطابق امام تھے، پھر بھی ان کا معاملہ سنبھالنے والا امام سجاد (علیہ السلام) نہیں تھا (کیونکہ وہ قید تھے)۔ تو امام حسین (علیہ السلام) کی مثال دینا اس قضیے کے جاری نہ ہونے کو قبول نہ کرنے کا ایک اور اظہار ہے۔
جواب:
اگر امام رضا (علیہ السلام) امام حسین (علیہ السلام) کی مثال سے کبریٰ کے اطلاق پر طعن کرنا چاہتے تو وہ بطائنی کے اس دعوے کا انکار کرتے کہ امام سجاد (علیہ السلام) قید سے نکلے جبکہ لوگوں کو علم نہ ہوا، اور انہوں نے اپنے والد کا معاملہ سنبھالا، پھر کوفہ واپس لوٹے۔ آپ کا اس پر انکار نہ کرنا بطائنی کو غالب کرنے والے کے طور پر ظاہر کرتا ہے، اور یہ کہ امام (علیہ السلام) اس قضیے کے جاری نہ ہونے کو ثابت کرنے کے لیے جس مثال کو پکڑنا چاہتے تھے وہ مکمل نہ تھی۔
پس اگر امام (علیہ السلام) کبریٰ کے اطلاق کی نفی کرنا چاہتے تو انہیں اس بات پر زور دینا چاہیے تھا کہ سجاد (علیہ السلام) کا حسین (علیہ السلام) کا معاملہ سنبھالنا جیسی دعویٰ کردہ بات واقع نہیں ہوئی، نہ کہ وہ ان سے مجاراة کریں تاکہ بعد میں انہیں بغداد میں اپنے والد کی تجہیز کے لیے حاضر ہونے کا امکان ثابت کر سکیں۔
کیونکہ یہ مجاراة اگر ایسی ہوتی تو وہی پہلا اشکال کھڑا ہوتا جو ہم نے ذکر کیا، یعنی کبریٰ اور اس کے اطلاق کا تسلیم کرنا، یا کم از کم اس میں انکار کا ظہور نہ ہونا جو تضلیل کا احتمال پیدا کرے، کیونکہ امام نے اس سے کبریٰ کی نفی نہیں کی اور نہ ہی بطائنی کے اس دعوے کا انکار کیا کہ سجاد (علیہ السلام) قید سے نکلے اور اپنے والد کا معاملہ سنبھالا۔ اس بنا پر امام نے صرف اتنا کیا کہ اس کے بعد ان کی طرف سے حاضر ہونے کا امکان ثابت کیا، جبکہ سجاد (علیہ السلام) قید میں ہونے کے باوجود کربلا آ سکتے تھے۔ یہ مقدار بحث کو ختم نہیں کرتی اور نہ ہی بطائنی کو شکست دیتی ہے، کیونکہ یہ بہت بعید ہے کہ بطائنی اس بات کو نہ سمجھتا ہو کہ امام کا بغداد آنا ممکن ہے، جبکہ وہ سات اماموں کی امامت پر ایمان رکھتا تھا اور اس نے اعتراف کیا کہ سجاد (علیہ السلام) قید میں ہونے کے باوجود کربلا آ سکتے تھے۔
لہٰذا متعین یہ ہے کہ امام رضا (علیہ السلام) نے امام حسین (علیہ السلام) کی مثال سے کبریٰ کے اطلاق پر نقض کرنے کا ارادہ نہیں کیا، بلکہ ان کا ارادہ ایک واضح اور مسلم قضیے کے ذریعے بطائنی کو استدراج کرنا تھا۔
اس بات کی تائید جو خود اسی مناظرے میں آیا ہے کہ امام (علیہ السلام) نے بطائنی کے اس دعوے کا انکار کیا کہ "امام اس وقت تک نہیں مرتا جب تک اپنی اولاد کو نہ دیکھ لے"۔ امام (علیہ السلام) نے اسے جواب دیا کہ یہ خبر اپنے اطلاق پر نہیں ہے، اور اس بات پر زور دے کر شبہے کو دور کرنے کی کوشش کی جو بطائنی پیش کرنا چاہ رہا تھا۔
"علی بن ابی حمزہ نے ان سے کہا: ہم نے روایت کی ہے کہ امام اس وقت تک نہیں مرتا جب تک اپنی اولاد کو نہ دیکھ لے؟ ابوالحسن (علیہ السلام) نے فرمایا: کیا تم نے اس حدیث میں اس کے علاوہ بھی کچھ روایت کیا ہے؟
انہوں نے کہا: نہیں۔
آپ نے فرمایا: ہاں، اللہ کی قسم، تم نے اس میں قائم (امام مہدی) کو چھوڑ کر روایت کیا ہے، اور تم نہیں جانتے کہ اس کا کیا مطلب ہے اور کیوں کہا گیا۔
علی نے ان سے کہا: ہاں، اللہ کی قسم، یہ حدیث میں موجود ہے۔ ابوالحسن (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا: تیری بربادی ہو، تم نے مجھ پر اس چیز کی جرات کیسے کی جس کا کچھ حصہ تم چھوڑ دیتے ہو۔"[18]
مناظرے کا یہ حصہ، جہاں امام (علیہ السلام) نے بہت واضح طور پر اطلاق کے دعوے کی نفی کی اور شبہے کو گزرنے کا موقع نہیں دیا، اس بات کی تائید کرتا ہے کہ امام (علیہ السلام) زیر بحث حصے میں اطلاق کی نفی کرنے کے درپے نہ تھے۔
تیسرا طریق:
اس نتیجے کو گرانے کے لیے جس تک بطائنی پہنچنا چاہتا تھا، یہ ہے کہ امام (علیہ السلام) دعویٰ کریں کہ وہ بغداد حاضر ہوئے اور اپنے والد امام موسیٰ بن جعفر (علیہ السلام) کا معاملہ سنبھالا، کیونکہ اس سے وہ اس حجت کو گرادیتے جسے بطائنی بنانا چاہتا تھا۔ یہ حجت دو مقدمات پر قائم تھی: پہلا، یہ قضیہ کہ امام کا معاملہ امام کے سوا کوئی نہیں سنبھالتا؛ دوسرا، یہ کہ علی بن موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے والد امام موسیٰ بن جعفر (علیہ السلام) کا معاملہ نہیں سنبھالا۔ اگر بطائنی دوسرا مقدمہ ثابت نہ کر سکے تو اس کی حجت گر جائے گی۔ چنانچہ جہاں پہلا مقدمہ تمام تھا، وہاں متعین یہ ہے کہ دوسرا مقدمہ تمام نہیں ہے۔
روایت سے واضح ہے کہ بطائنی امام رضا (علیہ السلام) کے بغداد حاضر نہ ہونے کو ثابت نہ کر سکا، ورنہ وہ اسے بیان کرتا اور کسی اور محور پر منتقل نہ ہوتا۔
کہا جا سکتا ہے کہ امام (علیہ السلام) نے مناظرے میں یہ نہیں کہا کہ وہ بغداد حاضر ہوئے اور اپنے والد کی تجہیز کی، گویا انہوں نے دوسرا مقدمہ تسلیم کر لیا، لہٰذا متعین یہ ہے کہ جس کی نفی کی گئی وہ پہلا مقدمہ ہے یا اس کا اطلاق۔ ہم نے کہا کہ پہلے واضح ہو چکا ہے کہ امام نے پہلے مقدمے کی تمامیت کا اقراری کیا، کیونکہ اس کا صراحتاً انکار نہ کرنا اگر وہ فاسد ہوتی تو تضلیل میں ڈالنے کا باعث بنتا، جو ان کے شرعی فریضے کے خلاف ہے اور مناظرے کے دوسرے حصوں میں ان کے طریقے سے بھی مناسبت نہیں رکھتا۔
اس سے متعین ہوتا ہے کہ کبریٰ کے اقراری کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے بغداد حاضر ہونے کی خبر دی، کیونکہ یہ معقول نہیں کہ وہ اپنی امامت کا دفاع کر رہے ہوں اور ساتھ ہی اس چیز کو تسلیم کر رہے ہوں جو ان کے مقصد کے منافی ہے، جب تک کہ کبریٰ کے اقراری کے ساتھ حاضر ہونے کی خبر دینا مقصود نہ ہو۔
کہا جا سکتا ہے کہ محض امام کا اپنے بغداد حاضر ہونے کی خبر دینا مخالف کے نزدیک حقیقت میں حاضر ہونے کو ثابت نہیں کرتا، کیونکہ وہ آپ کی امامت کو تسلیم نہیں کرتا۔
تو اس کا جواب ہے کہ :
امام کو یہ ثابت کرنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ وہ اس حجت کو دفاع کر رہے تھے جسے بطائنی تھامنا چاہتا تھا، اور اس کے گرنے کے لیے اتنا ہی کافی تھا کہ وہ صغریٰ کو تسلیم نہ کریں، اس کے بعد بطائنی پر یہ لازم آتا ہے کہ وہ صغریٰ کی صحت پر دلیل لائے (جو کہ بغداد میں امام کا حاضر نہ ہونا ہے)، ورنہ اس کی دلیل کی کوئی حیثیت نہیں۔
جیسے کوئی آکر کہے: کوئی چیز جانور نہیں ہو سکتی جب تک وہ حسین نہ ہو، اور مچھلی حساس نہیں ہے، لہٰذا وہ جانور نہیں ہے۔ تو اس نتیجے (مچھلی جانور نہیں) کو گرانے کے لیے اتنا کافی ہے کہ صغریٰ (مچھلی حساس نہیں) کو تسلیم نہ کیا جائے، پھر قیاس بنانے والے پر یہ لازم ہے کہ وہ صغریٰ کی صداقت پر دلیل لائے، نہ کہ دوسرے فریق پر کہ صغریٰ کی کذب پر دلیل لائے۔
کہا جا سکتا ہے: اگر کبریٰ "امام کا معاملہ امام کے سوا کوئی نہیں سنبھالتا" کا اقراری امام کے بغداد حاضر ہونے کی خبر دینے کے مترادف ہے، تو امام نے اپنے حاضر ہونے پر دلیل کیوں پیش نہیں کی تاکہ بطائنی کے دعوے کی تردید پر زور دیں؟
تو اس کا جواب ہے:
اسے ثابت کرنے کی کوئی صورت نہیں سوائے دو چیزوں کے:
یا تو وہ امام (علیہ السلام) کی صداقت پر ایمان رکھیں، اور وہ آپ کی صداقت پر ایمان نہیں رکھتے، نیز آپ کے گواہوں پر بھی اگر آپ ان کے پاس گواہ لے کر جاتے تو وہ کہتے کہ وہ آپ کے ساتھ ملی ہوئی ہیں، اور انہوں نے مناظرے کے آغاز میں ہی آپ کو جھٹلایا تھا جب آپ نے انہیں بتایا کہ آپ کے والد نے آپ کو وصیت کی ہے، وہ انتقال کر گئے ہیں، اور آپ فرض الاطاعت امام ہیں۔
دوسری صورت:
معجزے کے ذریعے، لیکن وہ ان کی ضد کی وجہ سے کارگر نہ ہوتی۔ آپ نے انہیں پہلی بحث میں ایک معجزاتی علامت دی تھی جہاں آپ نے یقین سے فرمایا کہ ہارون آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا، لیکن اس سے وہ قائل نہیں ہوئے۔
اگر وہ حقیقت کے طلب گار ہوتے تو انہیں صبر کرنا چاہیے تھا اور انتظار کرنا چاہیے تھا کہ آیا آپ کے غیب کا علم رکھنے کا دعویٰ سچ ہے یا جھوٹ، کیونکہ اس بات کا قوی امکان تھا کہ سلطان ہارون آپ کو کوئی برائی پہنچائے، پھر بھی آپ نے یقین سے کہا کہ وہ آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا، لیکن انہوں نے اس کی پرواہ نہ کی۔
اس کے علاوہ جیسا کہ ہم نے کہا، انہیں یہ ثابت کرنے کی ضرورت نہیں تھی کہ وہ بغداد حاضر ہوئے، محض حاضر ہونے کی خبر دینا ان کی دلیل کو گرانے کے لیے کافی تھا۔
اس سے جو ہم نے ذکر کیا، یہ واضح ہوتا ہے کہ امام رضا (علیہ السلام) کا امام حسین (علیہ السلام) کے واقعے کا ذکر، بغداد حاضر ہونے کے دعوے سے ہونے والی وحشت کو دور کرنے اور بطائنی کو استدراج کرنے کے لیے تھا تاکہ وہ بعد میں متعنت کے روپ میں ظاہر ہو۔ کیونکہ جب اس نے سجاد (علیہ السلام) کا اپنے والد (علیہ السلام) کا معاملہ سنبھالنا قبول کر لیا، باوجود اس کے کہ وہ کوفہ میں قید تھا، تو پھر بغیر دلیل کے امام رضا (علیہ السلام) کے بغداد حاضر ہونے کا انکار کرنا عناد اور ہٹ دھرمی پر مبنی تھا۔
پس امام رضا (علیہ السلام) نے امام حسین (علیہ السلام) سے مشابہت دے کر بغداد حاضر ہونے پر دلیل قائم کرنے کا ارادہ نہیں کیا،
کیونکہ یہ واضح ہے کہ اس سے حاضر ہونا ثابت نہیں ہوتا۔ اور نہ ہی انہوں نے حاضر ہونے کے امکان کو ثابت کرنے کا ارادہ کیا، کیونکہ اسے ثابت کرنے کی ضرورت نہیں تھی جبکہ امکان واضح تھا اور مخالف اس کا انکار نہیں کر رہا تھا۔ البتہ امام نے یہ کہنا چاہا کہ بطائنی جب سجاد (علیہ السلام) کے اپنے والد حسین (علیہ السلام) کا معاملہ سنبھالنے کے دعوے کو قبول کرتا ہے، حالانکہ اسے اس کا مشاہدہ نہیں تھا بلکہ وہ اخبار کے ذریعے جانتا تھا، تو پھر وہ امام رضا (علیہ السلام) کے بغداد حاضر ہونے کی خبر کا انکار کیوں کر رہا ہے؟ اور ظاہر ہے کہ بطائنی نے سجاد (علیہ السلام) کے اپنے والد کا معاملہ سنبھالنے کی خبر ائمہ سے براہِ راست حاصل نہیں کی تھی، ورنہ وہ کہتا "ہم نے آپ کے آباء سے روایت کی ہے" جیسا کہ وہ اس مناظرے میں ائمہ (علیہ السلام) سے روایت کردہ ہر خبر کے بارے میں کہتا رہا ہے۔ بلکہ اس نے یہ خبر راویوں سے حاصل کی تھی۔
اس سے یہ پختہ ہوتا ہے کہ امام نے حسین (علیہ السلام) کی مثال سے بطائنی کو اس کے متعنت ہونے کو ظاہر کرنے کے لیے استدراج کیا، کیونکہ یہ غیر منطقی ہے کہ وہ پہلی بات کو محض خبر کی بنا پر قبول کرے اور دوسری بات کا بغیر کسی دلیل کے انکار کرے۔ اسے اگر امام کی صداقت پر بھروسہ نہ تھا تو کم از کم امکان رکھنا چاہیے تھا، نہ کہ آپ کو جھٹلائے جیسا کہ اس کے کلام کے لہجے سے واضح ہے۔ اس لیے امام (علیہ السلام) نے یہ فرما کر کہ سجاد کے معاملے کی تصدیق کرنا ان کی اپنی بات کے مطابق ہی اس بات کے امکان کو تقاضا کرتا ہے، اور جب بھروسہ نہ ہو تو منطقی اور ذوقی طور پر صداقت کی علامت کا مطالبہ کرنا چاہیے، نہ کہ تکذیب سے کام لینا جو عناد پر دلالت کرتا ہے۔ اس نے صداقت پر دلیل کا مطالبہ نہیں کیا بلکہ دوسرے محور پر منتقل ہو گیا، اور یہ اس بات کو تقویت دیتا ہے کہ وہ محض عناد کی بنا پر انکار کر رہا تھا، اور یہی وہ چیز تھی جسے امام ظاہر کرنا چاہتے تھے، اور ایسا ہی ہوا۔
اس سے جو ہم نے ذکر کیا، یہ روایت اس بات پر ظاہر ہوتی ہے کہ امام رضا (علیہ السلام) نے اس کبریٰ کا اقراری کیا کہ "امام کا معاملہ امام کے سوا کوئی نہیں سنبھالتا" اور یہ کہ امام سجاد (علیہ السلام) نے خود حسین (علیہ السلام) کا معاملہ سنبھالا۔ اور اس سے مقصد ثابت ہو جاتا ہے، یعنی یہ روایت اس دعوے کے لیے گواہ ہونے کی اہلیت رکھتی ہے کہ حسین (علیہ السلام) کی تجہیز و تدفین کرنے والا امام سجاد (علیہ السلام) تھے۔
دوسرا اشکال:
یہ کہ یہ ثابت ہے جس میں کوئی شک نہیں کہ امام سجاد (علیہ السلام) دس محرم کی شام سے لے کر ایک ماہ سے زائد عرصے تک حسین (علیہ السلام) کے خاندان کے ہمراہ قید میں رہے۔ پھر ان کے لیے یہ کیسے ممکن ہوا کہ وہ امویوں کی گرفت سے بچ کر کربلا واپس جائیں اور اپنے والد حسین (علیہ السلام) اور ان کے ساتھی شہداء کو دفن کریں؟
جواب:
یہ اشکال امام سجاد (علیہ السلام) کی امامت اور اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کے بلند مرتبے پر ایمان رکھنے کے بعد زیادہ محنت طلب نہیں ہے۔ قدیم زمانے سے اللہ تعالیٰ کی قدرت اپنے ان اولیاء کے ہاتھوں ظاہر ہوتی رہی ہے جنہیں اس نے اپنی مخلوق میں اپنا راہنما منتخب کیا۔ یہ کوئی بعید یا عجیب بات نہیں کہ اللہ اپنے ولی، سید الساجدین، کے لیے وہ انتظام کرے جس سے وہ اللہ کے دشمنوں کی اسیری سے نجات پا کر کربلا پہنچ سکیں اور اپنے برگزیدہ اور مقرب سید الشہداء کو دفن کر سکیں، جنہوں نے اللہ کے کلمے کو بلند کرنے کے لیے اپنی جان تک قربان کر دی۔
وہی اللہ ہے جس نے یونس کو مچھلی کے پیٹ سے نکالا، جہاں وہ ایک مدت تک رہے تھے:
﴿... وَنَجَّيْنَاهُ مِنَ الْغَمِّ وَكَذَلِكَ نُنْجِي الْمُؤْمِنِينَ﴾ [19]،
اور اگر وہ تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتے تو اس کے پیٹ میں اس دن تک رہتے جب لوگ اٹھائے جائیں گے۔
اور وہی اللہ ہے جس نے نبی اللہ سلیمان کے ہمنشین کے لیے انتظام کیا کہ وہ بلقیس کا تخت اس سے پہلے لے آئے کہ سلیمان اپنی جگہ سے اٹھیں، اور آصف بن برخیا کے لیے کہ وہ بلقیس کا تخت سلیمان کی آنکھ جھپکنے سے پہلے لے آیا[20]۔
پہلا نبی نہ تھا اور نہ ہی دوسرا نبی تھا، ہاں وہ اللہ کے اولیاء اور اس کی مخلوق میں سے اس کے خالص بندے تھے جنہیں اس نے اپنی قدرت سے نوازا اور اپنے جلال و جبروت سے فیض یاب کیا۔
جب اس سے پہلے کے اولیاء کے ہاتھوں اس کی قدرت کا کچھ حصہ ظاہر ہونا جائز ہے، تو پھر اس کے بعد کے برگزیدوں اور صفیوں کے ہاتھوں کیوں نہیں ہو سکتا جنہیں اس نے اپنے دین کے لیے پسند کیا اور اپنی طرف اور اپنی رضا کی طرف وسیلہ بنایا؟ اور اگر ہم امام زین العابدین (علیہ السلام) کے بارے میں بات کر رہے ہوتے تو ہم ثقہ لوگوں سے آپ کے ہاتھوں ہونے والی عجیب کرامات کے متواتر واقعات نقل کرتے، لیکن جو اس پر وقوف چاہتا ہے اسے زیادہ محنت نہیں کرنی پڑے گی۔
تیسرا اشکال:
کچھ روایات یہ بتاتی ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے خود سید الشہداء حسین (علیہ السلام) کو دفن کیا۔[21]
جواب:
یہ روایات اس بات کے منافی نہیں ہیں جو ہم نے ذکر کیا، کیونکہ یہ بہت ممکن ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) غیب سے پردے میں سید الشہداء (علیہ السلام) کی تجہیز میں شریک ہوئے ہوں، بلکہ ہمیں اس میں کوئی شک نہیں۔ ہم نے وہ روایت نقل کی ہے جو بصائر الدرجات میں ابو عبداللہ صادق (علیہ السلام) سے مروی ہے کہ جب امام علی بن الحسین (علیہ السلام) اپنے والد کا معاملہ سنبھالتے ہیں تو اس میں ان کی مدد نبی کریم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)، علی بن ابی طالب، حسن بن علی (علیہ السلام) اور وہ فرشتے جو شب قدر میں اترتے ہیں (جن میں جبرائیل بھی ہیں) کرتے ہیں، اور یہ کہ وہ (علیہ السلام) انہیں غیب سے پردے میں دیکھتے ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کی آنکھوں سے پردہ اٹھا دیتا ہے جیسا کہ ان سے پہلے ائمہ (علیہ السلام) کے ساتھ بھی ہوتا تھا جب وہ اپنے سے پہلے کا معاملہ سنبھالتے تھے۔
یہ بات صرف ان کے لیے عجیب ہے جو غیب کا انکار کرتے ہیں۔ یہ دونوں فریقوں (شیعہ و سنی) سے ثابت ہے کہ فرشتے بعض مومنین کی تشییع و تدفین میں حاضر ہوتے ہیں[22]۔
ہاں، ہم اس حاضری کی حقیقت اور کیفیت کو اپنی قصور کی وجہ سے نہیں سمجھتے، لیکن یہ اس کی صداقت کو تسلیم کرنے سے مانع نہیں، خاص طور پر جب بتانے والا وہ ہے جس کی رسالت پر ہم ایمان رکھتے ہیں جو غیب لے کر آیا ہے۔
اور ہم نے جو کچھ ذکر کیا ہے اس کے مجموعے سے ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ حسین (علیہ السلام) اور ان کے ہمراہ شہداء کو دفن کرنے والا امام علی بن الحسین زین العابدین (علیہ السلام) ہے، ہاں ظاہر میں غاضرہ کے بنی اسد کے کچھ لوگوں نے ان کی مدد کی ہوگی۔
والحمد للہ رب العالمین۔[23]
حوالہ جات:
1. تاريخ الطبري - الطبري- ج3 ص 335/ أنساب الإشراف ? البلاذري ? ج 3 ض 5411/ مقتل الحسين ? لخوارزمي ج 2 ص 44 ، الأخبار الطوال - الدينوري - ص 260/ الكامل في التاريخ - ابن الأثير - ج 4 ص 80/ البداية والنهاية - ابن كثير - ج 8 ص 205/ مقتل الحسين (ع) - أبو مخنف الأزدي - ص 200.
2. الإرشاد - الشيخ المفيد - ج2 ص5114/ مناقب آل أبي طالب - ابن شهر آشوب - ج 3 ص 259/ اللهوف في قتلى الطفوف للسيد ابن طاووس ص 85 /العوالم، الإمام الحسين(ع) - الشيخ عبد الله البحراني - ص 306.
3. الكافي - الشيخ الكليني - ج 1 ص 385، باب أن الإمام لا يغسله إلا إمام من الأئمة(ع)./ بحار الأنوار - العلامة المجلسي - ج 27 ص 290/ مسند الإمام الرضا(ع) - الشيخ عزيز الله عطاردي - ج 1 ص 93.
4. الدعوات - قطب الدين الراوندي - ص 255/ الكافي - الشيخ الكليني - ج 1 ص 459/ تهذيب الأحكام - الشيخ الطوسي - ج 1 ص 440.
5. مناقب آل أبي طالب - ابن شهر آشوب - ج 3 ص 351/ بحار الأنوار - العلامة المجلسي - ج 46 ص 269.
6. عيون أخبار الرضا (ع) - الشيخ الصدوق - ج 1 ص 276/ دلائل الامامة - محمد بن جرير الطبري ( الشيعي) - ص 352/ مناقب آل أبي طالب - ابن شهر آشوب - ج 3 ص 481/ بحار الأنوار - العلامة المجلسي - ج 49 ص 294/ مسند الإمام الرضا(ع)- الشيخ عزيز الله عطاردي - ج 1 ص 197.
7. الكافي - الشيخ الكليني - ج 1 ص 385 باب: أن الإمام لا يغسله إلا إمام من الأئمة(ع)/ بحار الأنوار - العلامة المجلسي - ج 13 ص 364/ مسند الإمام الرضا(ع) - الشيخ عزيز الله عطاردي - ج 1 ص 93.
8. اختيار معرفة الرجال- الطوسي- ج2 حديث رقم 883.
9. روضة الكافي - الشيخ الكليني ج8 ص206 حديث رقم 250/ بحار الأنوار - العلامة المجلسي - ج 48 ص 270/ مسند الإمام الرضا(ع) - الشيخ عزيز الله عطاردي - ج 2 ص 441/ اختيار معرفة الرجال - الشيخ الطوسي - ج 2 ص 764.
10. القران الكريم: سورة الإسراء (17)، الآية: 4، الصفحة: 282.
11. الكافي - الشيخ الكليني - ج 8 ص 206 / مختصر بصائر الدرجات ? الحسن بن سليمان الحلي - ص 48 / مناقب آل أبي طالب - ابن شهر آشوب - ج 1 ص398.
12. مناقب آل أبي طالب - ابن شهر آشوب - ج 1 ص 398 / بصائر الدرجات - محمد بن الحسن الصفار- ص245.
13. بصائر الدرجات - محمد بن الحسن الصفار - ص 245/ بحار الأنوار - العلامة المجلسي - ج 22 ص 513.
14. الإرشاد - الشيخ المفيد - ج 2 ص 114/ بحار الأنوار - العلامة المجلسي - ج 45 ص 108/ العوالم، الإمام الحسين (ع) - الشيخ عبد الله البحراني - ص 368.
15. مصباح الزائر - السيد ابن طاووس - ص 286.
16. الأمالي - الشيخ الصدوق - ص 760/ عيون أخبار الرضا (ع) - الشيخ الصدوق - ج 1 ص 272/ روضة الواعظين - الفتال النيسابوري - ص 230/ مناقب آل أبي طالب - ابن شهر آشوب - ج 3 ص 482.
17. كمال الدين وتمام النعمة - الشيخ الصدوق -ص475-476/ عيون أخبار الرضا(ع) - الشيخ الصدوق - ج 1 ص 97.
18. a. b. c. d. e. اختيار معرفة الرجال - الشيخ الطوسي - ج2 حديث رقم 883.
19. القران الكريم: سورة الأنبياء (21)، الآية: 88، الصفحة: 329.
20. ﴿ قَالَ عِفْرِيتٌ مِنَ الْجِنِّ أَنَا آتِيكَ بِهِ قَبْلَ أَنْ تَقُومَ مِنْ مَقَامِكَ وَإِنِّي عَلَيْهِ لَقَوِيٌّ أَمِينٌ قَالَ الَّذِي عِنْدَهُ عِلْمٌ مِنَ الْكِتَابِ أَنَا آتِيكَ بِهِ قَبْلَ أَنْ يَرْتَدَّ إِلَيْكَ طَرْفُكَ ... ﴾ القران الكريم: سورة النمل (27)، الآية: 39 و 40، الصفحة: 380.
21. مناقب آل أبي طالب - ابن شهر آشوب - ج 3 ص 213/ الأمالي - الشيخ الطوسي - ص 315/ العوالم، الإمام الحسين(ع) - الشيخ عبد الله البحراني - ص 507.
22. مسند أبي يعلى - أبو يعلى الموصلي - ج 11 ص 231/ تفسير القرطبي - القرطبي - ج15 ص262/ الكامل - عبدالله بن عدي - ج7 ص265/ ميزان.
23. المصدر موقع سماحة الشيخ محمد صنقور حفظه الله.

