امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک

امام حسین (علیہ السلام) نے پرامن آپشن کو کیوں اختیار نہیں کیا؟

0 ووٹ دیں 00.0 / 5

امام حسین (علیہ السلام) نے پرامن آپشن کو کیوں اختیار نہیں کیا؟
الشيخ محمّد صنقور
ترجمہ: یوسف حسین عاقلی
اعتراض  کا متن:
آپ اس گفتگو کا جائزہ کیسے لیتے ہیں جو اس بارے میں کی جاتی ہے کہ امام حسین (علیہ السلام) خلیفہ کے خلاف پرتشدد طریقے سے خروج کر رہے تھے، اگر ہم اس موضوع کا تاریخی شکل میں جائزہ لیں؟
 یا دوسرے الفاظ میں، کیا تاریخ نے امام حسین (علیہ السلام) کے لیے خون بہانے کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن درج کیا ہے جسے آپ (علیہ السلام) نے ترک کر دیا؟
جواب:
دوسرا آپشن مصالحت اور بیعت تھا، جو ظلم کے تسلسل بلکہ اس کی جڑ پکڑنے اور مضبوط ہونے، اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے وضع کردہ دینی راستے سے انحراف میں گہرائی اختیار کرنے کا سبب بنتا۔ یہ بات اس وقت واضح ہوتی ہے جب ہم دو امور پر توجہ دیتے ہیں:
پہلا امر: 
یہ کہ معاویہ کی حکومت کے امور پر ولایت ایک عارضی اور غیر معمولی حالات کا نتیجہ تھی۔ اس کی ولایت اسلامی خطوط کے دائرے میں واقع نہ تھی بلکہ ایک سیاسی انحراف تھا جسے حالات نے جنم دیا۔ اہل بیت (علیہ السلام) اور ان کے شیعوں کے نزدیک وہ ایسا ہی تھا، اور خلفاء کے مکتب کے نزدیک بھی وہ ایسا ہی تھا۔
اسی وجہ سے صلح (امام حسن) کے اہم ترین شروط میں سے ایک یہ تھا کہ معاویہ کے بعد حکومت کا معاملہ امام حسن (علیہ السلام) کے پاس جائے گا، اور اگر وہ نہ ہوں تو پھر امام حسین (علیہ السلام) کے پاس۔[1]
اور وہ صحابہ و تابعین جو اہل بیت (علیہ السلام) کے لیے خلافت میں کوئی خصوصی حق نہیں سمجھتے تھے، وہ بھی معاویہ کی ہلاکت کے بعد خلیفہ کی تعیین کے لیے اہل حل و عقد یا صحابہ کے بعض چہروں سے رجوع کرنے کے قائل تھے، کیونکہ ان کا خیال تھا کہ معاویہ نے جس ذریعے سے حکومت حاصل کی وہ جائز نہیں تھا، اور نہ ہی اس کی شخصیت اس کے لیے موزوں تھی۔
پس امت اپنے تمام طبقات کے ساتھ اس خطرناک صورت حال سے آگاہ تھی جس پر حالات پہنچ چکے تھے، اور خلافت و حکومت کے راستے میں اصلاح کی ضرورت کو سمجھتی تھی، لیکن معاویہ ان سب کی پرواہ نہیں کرتا تھا اور اس نے اس غیر معمولی صورت حال کو جڑ پکڑنے کا کام کیا، اور اس نے انحراف کو رسالی خطوط سے گہرا کرنے کا عزم کیا، اور اس کے لیے ہر اس ذریعے کو بروئے کار لایا جو اسے میسر تھا، اس حالت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جو نفسیاتی انتشار کی تھی جس میں امت مبتلا تھی، چنانچہ اس نے خلافت کو ایک جبری بادشاہت اور وراثت بنا دیا جس پر اولاد کے بعد پوتے پھرتے ہیں۔
دوسرا امر: 
یزید کی شخصیت، جو فسق و فجور کے اظہار، شراب نوشی، اور تمام مسلمانوں کے نزدیک بے وقوفی و بے راہ روی کے لیے مشہور تھی، اور گانے بجانے، بندروں کے ساتھ کھیل کود کے لیے بدنام تھی۔[2]
اس کی کوئی بھی صفت اسے مذہبی مناصب میں سے حقیر ترین منصب کے لیے بھی موزوں نہیں کرتی، پھر یہ کہ وہ اس امت کے انتظامی امور کی دیکھ بھال کیسے کر سکتا ہے، جو اولیاء کا منصب ہے؟!
یہ معاملہ بے مثال تھا اور انحراف کی وسعت کا خطرہ تھا، اور اس پر آنکھیں بند کرنا اور اسے نظر انداز کرنا واپسی کے ناممکن ہونے کا سبب بنتا۔
جدوجہد اور انقلاب کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن نہ تھا، یہ واحد زبان تھی جسے یزید سمجھتا تھا۔ اس کے والد کی موت کے فوراً بعد اس نے مدینہ کے والی کے پاس سخت پیغام بھیجا جس میں اسے حکم دیا کہ وہ امام حسین (علیہ السلام) سے سخت گیری سے بیعت لے، اور اگر وہ انکار کریں تو گردنیں اڑا دے[3]۔ وہ کسی کی بات سننے کے لیے تیار نہ تھا۔ یا تو بیعت اور استسلام، یا تلوار۔ یہاں تک کہ خاموشی اور بیعت نہ کرنے کا آپشن بھی یزید کے نزدیک قابل قبول نہ تھا۔
ممکن ہے کہ کہا جائے: کیوں نہ امام حسین (علیہ السلام) بیعت قبول کر لیتے اور اس پر یزید سے شرط رکھتے کہ وہ بندوں پر ظلم نہ کرے اور نہ ہی انحراف و فساد میں زیادتی کرے؟
ہم کہتے ہیں: بیعت کا قبول کرنا خود اپنے آپ میں ظلم اور انحراف کی جڑ پکڑنے کے مترادف ہے، جس کا خاتمہ معاویہ کی ہلاکت پر ہونا مقدر تھا۔ یہ اموی منصوبے کو شرعی حیثیت فراہم کرتا ہے جو اسلامی اصولوں کے منافی ہے۔ اسی وجہ سے امام حسین (علیہ السلام) کے لیے بیعت قبول کرنا ممکن نہ تھا، چاہے وہ شرط کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ اس طرح وہ اس انحرافی منصوبے کو مستحکم کرنے میں حصہ ڈالیں گے جو ابھی تک غیر مستحکم تھا، اور اس صورت میں امام حسین (علیہ السلام) معاویہ سے بہتر حالت میں نہ ہوں گے، کیونکہ معاویہ نے منصوبہ بنایا اور امام حسین (علیہ السلام) اسے مستحکم کریں گے۔ یہ اس لیے کہ امام حسین (علیہ السلام) کا ایک ممتاز دینی مقام تھا جسے تمام مسلمان جانتے تھے۔
اسی وجہ سے آپ کا بیعت سے انکار کرنا بنی امیہ کے لیے اپنے انحرافی منصوبے کو پاس کرنے کا موقع ضائع کرنے کے مترادف تھا، چنانچہ وہ اپنے منصوبے کو شرعی حیثیت دینے کا کوئی ذریعہ نہیں پائیں گے، کیونکہ امام حسین (علیہ السلام) وہ تھے جنہوں نے بیعت سے انکار کے ذریعے عدم مشروعیت کا اعلان کیا۔
نیز آپ کا انقلاب کا اعلان، جبکہ آپ لوگوں میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) سے سب سے زیادہ قریب اور ان کی سنت سے سب سے زیادہ واقف تھے، اس کا مطلب فاسد نظام کے خلاف مزاحمت کو شرعی حیثیت دینا ہے، اس کے برعکس جو بنی امیہ پروپیگنڈا کر رہے تھے۔ اس طرح آپ امت کے لیے اپنے راستے کی اصلاح کا راستہ بتاتے ہیں جو بھٹک گیا تھا، اور اموی نظام کو موت اور فنا کے خط میں ڈال دیتے ہیں۔
والحمد لله ربِّ العالمين ۔ [4]


حوالہ جات:
۱-الإستيعاب لابن عبد البر قال : " ولا خلاف بين العلماء أنّ الحسن إنما سلَّم الخلافة لمعاوية حياته لا غير ، ثم تكون له من بعده ، وعلى ذلك انعقد بينهما ما انعقد في ذلك" ج1 ص387 ، فتح الباري لابن حجر ج 13 ص 55 / سير أعلام النبلاء - الذهبي - ج 3 ص 378 / البداية والنهاية - ابن كثير - ج 8 ص 87 تاريخ الخلفاء للسيوطي ص 209 ، الإمامة والسياسة لابن قتيبة الدينوري ج1 ص 140 ، الإصابة لابن حجر ج 2 ص 65 ، ذخائر العقبى لأحمد الطبري 139.
۲-البداية والنهاية - ابن كثير - ج 8 ص 239/ مثير الأحزان - ابن نما الحلي - ص 17ا/ النزاع والتخاصم - المقريزي - ص 56/ تاريخ الطبري - الطبري - ج 4 ص 368/ شرح نهج البلاغة - ابن أبي الحديد - ج 20 ص 133/ الكامل في التاريخ - ابن الأثير - ج 4 ص 103/ الامامة والسياسة - ابن قتيبة الدينوري، تحقيق الزيني - ج 1 ص 174و ص 163/ سير أعلام النبلاء - الذهبي - ج 3 ص 324/ تاريخ الإسلام - الذهبي - ج 5 ص 27.
۳- كتاب الفتوح - أحمد بن أعثم الكوفي - ج 5 ص 10/ الفصول المهمة في معرفة الأئمة - ابن الصباغ - ج 2 ص 777/ مناقب آل أبي طالب - ابن شهر آشوب - ج 3 ص 240/ مثير الأحزان - ابن نما الحلي - ص 13/ اللهوف في قتلى الطفوف - السيد ابن طاووس - ص 16/ روضة الواعظين - الفتال النيسابوري - ص 171/ الإرشاد - الشيخ المفيد - ج 2 ص 33/ تاريخ مدينة دمشق - ابن عساكر - ج 28 ص 202/ تاريخ الإسلام - الذهبي - ج 4 ص 169.
۴-المصدر : موقع سماحة الشيخ محمد صنقور حفظه الله

 

 

آپ کا تبصرہ شامل کریں

قارئین کے تبصرے

کوئی تبصرہ موجودنہیں ہے
*
*

امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک