امام حسین (علیہ السلام) کی طرف سے یمن ہجرت کی تجویز کو قبول نہ کرنے کا سبب
-
- شائع
-
- مؤلف:
- الشيخ محمّد صنقور- ترجمہ: یوسف حسین عاقلی
- ذرائع:
- شيخ محمد صنقور حفظه الله کی ویب سائٹ سے ماخوذ
امام حسین (علیہ السلام) کی طرف سے یمن ہجرت کی تجویز کو قبول نہ کرنے کا سبب
الشيخ محمّد صنقور
ترجمہ: یوسف حسین عاقلی
اصل اعتراض:
امام حسین (علیہ السلام) نے ان کی طرف پیش کردہ یمن ہجرت کی تجویز کو کیوں قبول نہیں کیا، جبکہ یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی سنت کے مطابق تھا؟
آپ (ص) نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی تھی اور اپنے بعض اصحاب کو حبشہ ہجرت کا حکم دیا تھا۔
جواب:
ان دونوں معاملوں میں بڑا فرق ہے۔ یمن کی طرف پناہ لینے، وہاں چھپنے اور بنی امیہ کے ظلم سے اپنے آپ کو محفوظ کرنے کی تجویز اس غلط فہمی سے پیدا ہوئی تھی کہ حسین (علیہ السلام) کا کوئی اصلاحی منصوبہ نہیں تھا، بلکہ وہ صرف بیعت سے انکار کرنے والے تھے۔ اور چونکہ حسین (علیہ السلام) کا بیعت سے انکار بنی امیہ کی طرف سے ان کے تعاقب اور انہیں بیعت پر مجبور کرنے یا قتل کرنے کا سبب بنتا، لہٰذا اگر معاملہ ایسا ہوتا تو مناسب یہ تھا کہ کوئی ایسا ملک تلاش کیا جائے جہاں وہ چھپ سکیں، لیکن معاملہ ایسا نہ تھا۔ بلکہ حسین (علیہ السلام) کا ایک اصلاحی منصوبہ تھا جس کا انہوں نے کئی مقامات پر اعلان کیا تھا۔ چنانچہ انہوں نے بتایا کہ وہ اپنے نانا (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی امت میں اصلاح کے طلب میں نکلے ہیں، اور یہ کہ وہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کرنا چاہتے ہیں اور اپنے نانا اور والد (علیہ السلام) کی سیرت پر چلنا چاہتے ہیں۔ [1]
اور جب یہ ان کا مقصد تھا، تو واقعات کے میدان سے چھپ کر یہ انتظار کرنا مناسب نہ تھا کہ حالات کیا نتیجہ نکالتے ہیں۔ اگر حالات ان کی خواہش کے مطابق ہوتے، یعنی امت کا اموی نظام کے خلاف بغاوت کرنا، پھر اسے گرانا، اور پھر ان کے لیے وفاداری اور بیعت کا اعلان کرنا، تو وہ ان کے پاس نکل آتے اور حکومت کی باگ ڈور سنبھال لیتے۔ اور اگر امت ایسا نہ کر پاتی، تو وہ اپنی جان اور اہل خانہ کو بچا لیتے، اور انہیں بنی امیہ کے ظلم سے کوئی نقصان نہ پہنچتا۔
اس قسم کی سوچ نفع پرست قائدین کے شایانِ شان ہے جو دوسروں کے ثمرات اٹھاتے ہیں، اور انہیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ اگر لوگوں کی کھوپڑیاں پیس دی جائیں، بشرطیکہ وہ اپنے مقاصد تک پہنچنے کا راستہ ہو۔
رہے وہ پیغمبرانہ قائدین جو اللہ کی رضا اور لوگوں کو ہر قسم کے ظلم، فساد اور گمراہی سے نجات دلانے کے خواہاں ہیں، تو ان کی تبدیلی کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ وہ امت کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں اور ظلم کے خلاف صفِ اول میں ہوتے ہیں، چنانچہ وہ اسی آگ میں جھلس جاتے ہیں جس میں لوگ جھلس رہے ہوتے ہیں، بلکہ وہ سب سے زیادہ مشکل کردار کی ذمہ داری اٹھانے کے لیے تیار ہوتے ہیں، چنانچہ ان پر سب سے زیادہ بھاری پڑتا ہے اور ظلم ان پر سب سے زیادہ سخت ہوتا ہے۔ اور اسی طرح حسین شہید (علیہ السلام) تھے، کیونکہ وہ ایک الٰہی شخصیت تھے جنہیں آسمان نے اہل زمین کے لیے عطا کیا تھا اور ان پر الٰہی امانت کی ذمہ داری سونپی تھی۔ اسی لیے انہوں نے کسی خیرخواہ کی بات نہ سنی، کیونکہ جو بھی حسین (علیہ السلام) کو امت کے راستے کو درست کرنے کے عزم سے ہٹانے کی کوشش کرتا، وہ یا تو اس بات سے غافل تھا جو حسین (علیہ السلام) ارادہ کر رہے تھے، یا وہ حسین (علیہ السلام) کے موقف کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتا تھا، اور ہم نے یہ بات پہلے سوال کے جواب میں واضح کر دی ہے۔
رہی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی مدینہ منورہ ہجرت، تو یہ پیغام رسانی کے میدان سے پسپائی نہ تھی، جیسا کہ یہ چھپنے اور قریش و مشرکین کے ظلم سے بچاؤ کے لیے نہ تھی، بلکہ یہ ایک منصوبہ بند ہجرت تھی، جیسا کہ اس پر عقبہ کی بیعت اور ہجرت سے پہلے مصعب بن عمیر کو مدینہ بھیجنا گواہ ہے تاکہ وہ وہاں کے ماحول کو ان کے لیے ہموار کرے [2]۔ چنانچہ آپ کی ہجرت کا مقصد ایک ایسی ریاست کی بنیاد رکھنا تھا جو آپ کی دعوت اور اس کے کارناموں کی حفاظت کر سکے اور اس پر ایمان لانے والوں کی حفاظت کر سکے، جبکہ مکہ مکرمہ میں یہ ممکن نہ تھا، اور اس کا مقصد تبلیغ و دعوت کا پھیلاؤ اور دائرہ وسیع کرنا تھا۔
اور حسین شہید (علیہ السلام) کی عراق کی طرف ہجرت بھی اسی مقصد کے لیے تھی جس کے لیے رسول اللہ (ص) نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی تھی، جبکہ مکہ اور مدینہ منورہ ان کی تحریک کو سمیٹنے کے قابل نہ رہے تھے۔
رہی مسلمانوں کی حبشہ ہجرت، تو وہ اگرچہ مشرکین کے ظلم سے اپنی جان بچانے کے لیے تھی، لیکن حالات مختلف تھے اس سے جو حسین (علیہ السلام) کی تحریک کے حالات تھے۔ یہ لوگ اپنے دین سے اکھاڑ پھینکے جانے یا فتنے میں ڈالے جانے سے ڈرتے تھے، اور وہ اتنی تبدیلی کے خواہاں نہ تھے جتنا کہ وہ اپنے دین کو بچانے کے خواہاں تھے۔ ان کے پاس اپنی جانوں اور اپنے دین کی حفاظت کے لیے ہجرت کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ رہے حسین (علیہ السلام) تو وہ اپنے دین سے فتنے میں ڈالے جانے سے نہیں ڈرتے تھے، جیسا کہ وہ اپنی جان اور اہل خانہ کی حفاظت کے خواہاں نہ تھے، اور اگر چاہتے تو یہ ممکن تھا۔
حسین (علیہ السلام) جیسا کہ ہم نے کہا، ان کا ایک اصلاحی منصوبہ تھا، اور وہ اپنی تحریک سے اللہ کی رضا کے طالب تھے، اور یہ ضروری تھا کہ وہ لوگوں کو متحرک کرنے اور تحریک کے محرکات و اہداف سے آگاہ کرنے کے لیے میدان میں موجود ہوں۔
اور یہی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی سنت کے مطابق تھا، جیسا کہ حسین (علیہ السلام) نے خود ارشاد فرمایا:
عن الحسين (ع): ۔۔۔"أيّها الناس قال رسول الله (ص) : مَن رأى مِنكم سلطاناً جائراً مستحلاًّ لِحُرَمِ الله ناكثاً عهده مخالفاً لسنَّة رسول الله (ص)، يعمل في عباد الله بالإثم والعدوان فلم يُغيِّر عليه بفعلٍ ولا قول كان حقّاً على الله أنْ يُدخله مدخله، ألا وإنَّ هؤلاء قد لزموا الشيطان وتركوا طاعة الرحمن وأظهروا الفساد وعطَّلوا الحدود واستأثروا بالفيء وأحلُّوا حرام الله وحرَّموا حلاله وأنا أحقُّ مَنْ غيَّر..." . [3]
"اے لوگو! رسول اللہ (ص) نے فرمایا: تم میں سے جو کوئی کوئی جائر حاکم دیکھے جو اللہ کی حرام کردہ چیزوں کو حلال کر رہا ہو، اللہ کے عہد کو توڑ رہا ہو، رسول اللہ (ص) کی سنت کے خلاف کر رہا ہو، اور اللہ کے بندوں میں گناہ اور زیادتی کے ساتھ کام کر رہا ہو، اور پھر وہ اسے فعل یا قول سے تبدیل نہ کرے، تو اللہ پر حق ہے کہ اسے اس کے (اسی حاکم کے) مقام میں داخل کرے۔ آگاہ رہو! یہ لوگ شیطان کے ساتھ لگ گئے ہیں اور رحمان کی اطاعت چھوڑ دی ہے، انہوں نے فساد پھیلا دیا ہے، حدود کو معطل کر دیا ہے، فیء کو اپنے پاس خاص کر لیا ہے، اللہ کی حرام کو حلال اور حلال کو حرام کر دیا ہے، اور میں اس تبدیلی کا سب سے زیادہ حقدار ہوں..."
والحمد لله ربِّ العالمين[۴]
حوالہ جات:
۱-كتاب الفتوح - أحمد بن أعثم الكوفي - ج 5 ص 21/ بحار الأنوار - العلامة المجلسي - ج 44 ص 329/ العوالم، الإمام الحسين (ع) - الشيخ عبد الله البحراني - ص 179.
۲-الاستيعاب- ابن عبد البر- ج 4 ص 1473/ ناقب آل أبي طالب لابن شهراشوب ج1 ص 157/ الطبقات الكبرى لابن سعد ج1 ص 220، 234 ، اسد الغابة لابن الأثير ج4 ص 269.
۳- تاريخ الطبري - الطبري - ج 4 ص 304/ تاريخ الطبري - الطبري - ج 4 ص 304/ الكامل في التاريخ - ابن الأثير - ج 4 ص 48/ مقتل الحسين (ع) - أبو مخنف الأزدي - ص 85.
۴-المصدر : موقع سماحة الشيخ محمد صنقور حفظه الله

