سلام
بسم اللہ الرحمن الرحیم
سلام
تحریر: شیعہ ویکی
ترجمہ: یوسف حسین عاقلی
"سلام" کے معنیٰ سلامتی، امنیت اور صلح کے ہیں جو اسلام میں تحیّت (مبارکباد) اور درود کہنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ قرآن اور روایات میں سلام کرنے پر زور دیا گیا ہے اور اسے مؤکّد مستحبات میں شمار کیا گیا ہے۔ سلام کا جواب دینا حتیٰ کہ نمازگزار پر بھی فوری واجب ہے اور جماعت کی نماز میں جماعت میں سے ایک فرد کے جواب دینے سے دوسروں پر جواب دینا واجب نہیں رہتا۔ سلام کے مخصوص آداب اور احکام ہیں اور قرآن و سنت میں اس کے متعدد استعمالات پائے جاتے ہیں۔
معنی و عبارت
معنی سلام
سلام لغت میں سلامتی، امنیت اور صلح کے معنیٰ میں آتا ہے[۱] جو فارسی میں "درود" سے ترجمہ ہوا ہے[۲]۔ اسلام میں لفظ «سلام» کو تحیّت کے لیے اس لیے منتخب کیا گیا ہے کہ یہ جسمانی اور دینی آفتوں سے سلامتی کی دعا پر دلالت کرتا ہے؛ نیز مسلمانوں کا ایک دوسرے کو سلام کرنا ان کے درمیان جان، مال اور آبرو کی حفاظت کے لیے ایک عہد کی حیثیت رکھتا ہے۔[۳]
قرآن کریم بھی سلام کرنے کو مؤمنین پر خدا کی طرف سے ایک پربرکت اور پاکیزہ تحیّت قرار دیتا ہے:
«فَسَلِّمُوا عَلیٰ أَنْفُسِکُمْ تَحِیةً مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُبٰارَکةً طَیبَةً»[۴].
عبارت سلام
فقہاء کے درمیان معروف قول کے مطابق، چار عبارتوں میں سے کسی ایک کے ساتھ سلام شروع کیا جا سکتا ہے:
«سلامٌ علیک»، «السّلامُ علیک»، «سلامٌ علیکم» اور «السّلام علیکم»۔[۵]
بعض علماء نے سلام شروع کرنے کے لیے صرف ان چار ترکیبوں کو معتبر قرار دیا ہے[۶] جبکہ بعض کے نزدیک کوئی بھی ایسی عبارت جس پر تحیّت اور سلام کا عنوان صادق آتا ہو، سلام کے لیے کافی ہے؛ خواہ وہ «سلام علیکم» کی ترکیب ہو، «علیکم السّلام» ہو یا حتیٰ کہ صرف «سلام» کہنا۔[۷]
سلام (صفات خداوند)
"سلام" خداوند کے ناموں میں سے ایک ہے جو تین معانی میں استعمال ہوتا ہے۔
پہلا معنیٰ صفات سلبیہ (منفی صفات) میں سے ہے اور ذاتِ حق کی کسی بھی کمی سے پاکی کو ظاہر کرتا ہے[۸]۔
اس طرح صفتِ سلام کا مطلب یہ ہے کہ حق تعالیٰ مخلوقات کی نسبت دی جانے والی کمیوں مثلاً زوال، موت وغیرہ سے پاک ہے[۹]۔
شیخ صدوق نے اس معنیٰ کی توضیح میں آیت
«لَهُمْ دٰارُ السَّلٰامِ عِنْدَ رَبِّهِمْ»[۱۰]
کی تفسیر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے: سلام خدا ہے اور دار (گھر) بہشت ہے اور بہشت کو دارالسلام اس لیے کہا گیا ہے کہ وہ دنیاوی آفتوں سے محفوظ ہے[۱۱]۔
دوسرا معنیٰ سلام صفاتِ فعل میں سے ہے اور اس کا مطلب سلامتی بخشنے والا ہے۔ سلام بطور صفتِ الٰہی کے معنیٰ
«معطی السلامة»
(سلامتی عطا کرنے والا) کے ہیں اور سلامتی اسی کی طرف سے صادر ہوتی ہے[۱۲]۔
تیسرا معنیٰ بھی سلام کے لیے بطور صفتِ خداوندی ذکر کیا گیا ہے جس میں سلام بمعنیٰ سلام کرنے والا، صفتِ ثبوتیہ اور صفاتِ ذات میں شمار ہوتا ہے[۱۳]۔
اہمیت
قرآن نے سلام کو بہشتیوں کی تحیّت قرار دیا ہے[۱۴] اور اس کا حکم دیا ہے[۱۵]۔ روایات میں بھی سلام کو رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی سنتوں میں سے اور مؤکّد مستحبات میں شمار کیا گیا ہے۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی روایت میں ہے: «جس نے سلام ادا کیے بغیر بات شروع کی، اسے جواب نہ دو»۔[۱۶]
آداب
آشکار سلام کہنا
امام باقر (علیہ السلام) نے فرمایا: بے شک خداوند عز و جل آشکار سلام کرنا پسند کرتا ہے۔[۱۷]
فیض کاشانی نے آشکار سلام کہنے کی وضاحت میں لکھا ہے:
اس کا مطلب یہ ہے کہ جس سے بھی ملیں سلام کریں، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ کیسا شخص ہے۔[۱۸]
مراتب کا خیال رکھنا
امام صادق (علیہ السلام) نے فرمایا:
چھوٹا بڑے کو سلام کرے، راہ گیر بیٹھے ہوئے کو سلام کرے، اور تھوڑے لوگ زیادہ لوگوں کو سلام کریں۔[۱۹]
پہلے سلام کرنا
امام صادق (علیہ السلام) نے فرمایا: جو شخص پہلے سلام کرے، وہ خدا اور اس کے رسول کے زیادہ قریب ہے۔[۲۰]
اچھے طریقے سے سلام کرنا
امام صادق (علیہ السلام) نے فرمایا: جو کوئی کہے
«السلام علیکم»،
اس کے لیے دس نیکیاں ہیں، اور جو کہے
«السلام علیکم و رحمة اللَّه»،
اس کے لیے بیس نیکیاں ہیں، اور جو کہے
«السلام علیکم و رحمة اللَّه و برکاته»،
اس کے لیے تیس نیکیاں ہیں۔[۲۱]
اسلامی آداب میں ہر سلام اور تحیّت کا جواب بھی اس سے بہتر یا کم از کم اس کے برابر ہونا چاہیے۔
قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
«وَ إِذا حُییتُمْ بِتَحِیةٍ فَحَیوا بِأَحْسَنَ مِنْها أَوْ رُدُّوها إِنَّ اللَّهَ کانَ عَلی کلِّ شَیءٍ حَسیباً:
جب تمہیں تحیّت دی جائے تو اس سے بہتر جواب دو یا (کم از کم) ویسا ہی جواب دو! بے شک اللہ ہر چیز کا حساب رکھنے والا ہے»۔[۲۲]
نیز سلام کرتے وقت غیر مسافر کا ہاتھ ملانا اور مسافر کو گلے لگانا مستحب ہے۔[۲۳]
احکام سلام
سلام اور اس کے جواب کے لیے احکام بیان کیے گئے ہیں:
سلام کرنا
مسلمانوں کو سلام میں سبقت کرنا مؤکّد مستحب ہے اور اس کا ترک مکروہ ہے،[۲۴]
مگر نمازگزار جس کے لیے سلام میں سبقت کرنا جائز نہیں ہے۔[۲۵]
نیز مستحب ہے کہ انسان جب کسی گھر میں داخل ہو جہاں کوئی نہ ہو، تو اپنے اوپر اس طرح سلام کرے:
«السّلامُ عَلَینا مِنْ عِنْدِ رَبِّنا»۔[۲۶]
نیز مجلس میں موجود لوگوں کو سلام کرنا اور اس سے اٹھتے وقت اور ان سے رخصت ہوتے وقت سلام کرنا مستحب ہے؛[۲۷]
لیکن اس کے جواب کے مستحب یا واجب ہونے میں اختلاف ہے۔[۲۸]
سلام کرنا عورت کا نامحرم مرد کو اور اس کا عکس جائز ہے، مگر جب گناہ کا اندیشہ ہو۔[۲۹]
البتہ بعض نے مرد کا جوان نامحرم عورت کو سلام کرنے کی کراہت کی تصریح کی ہے۔[۳۰]
سلام کا جواب
سلام کرنا مستحب ہے؛ لیکن اس کا جواب دینا حتیٰ کہ نمازگزار پر بھی واجب ہے۔[۳۱]
سلام کا جواب فوری واجب ہے؛[۳۲]
یعنی جواب دینے میں جلدی کرنی چاہیے۔[۳۳]
سلام کا جواب کفائی واجب ہے اور جماعت میں سے ایک فرد کے جواب دینے سے دوسروں سے ساقط ہو جاتا ہے۔[۳۴] مشہور قول کے مطابق، سلام کا جواب اس طرح ہونا چاہیے کہ سلام کرنے والا اسے سن سکے؛[۳۵]
لیکن بعض نے اس کی وجوب میں تردید کی ہے؛[۳۶]
بلکہ بعض نے نماز کی حالت میں آہستہ جواب کو بھی جائز قرار دیا ہے۔[۳۷]
با واسطہ سلام کا جواب واجب نہیں؛[۳۸]
اگرچہ مستحب ہے کہ جواب دینے والا واسطہ سے خطاب کرتے ہوئے کہے: «علیک و علیه السلام: (یعنی) تجھ پر اور اس پر سلام ہو»۔[۳۹]
خط (خطاب) کے ذریعے سلام کا جواب دینا بھی واجب نہیں، بلکہ مستحب ہے۔[۴۰]
فقہاء سوشل میڈیا اور خط کے ذریعے سلام کے جواب کو واجب نہیں سمجھتے۔[۴۱]
نماز میں سلام کہنا
نمازگزار کے لیے پہلے سلام کرنا جائز نہیں؛[۴۲] لیکن سلام کا جواب دینا اس پر واجب ہے۔[۴۳]
مشہور قول کے مطابق، نماز کی حالت میں سلام کے جواب میں ویسا ہی جواب دینا چاہیے جیسا سلام تھا؛ اس طرح کہ اگر کسی نے کہا
«سلام علیکم»،
تو نمازگزار پر واجب ہے کہ جواب میں
«سلام علیکم»
کہے اور دوسرے الفاظ مثلاً
«علیکم السلام»
کے ساتھ جواب دینا جائز نہیں۔[۴۴]
کافر کو سلام
بعض کے صریح قول کے مطابق، کافر کو سلام کرنا ضرورت کے علاوہ جائز نہیں۔[۴۵]
اس بارے میں کہ کافر کے سلام کا جواب دینا واجب ہے یا نہیں، اختلاف ہے۔[۴۶]
مشہور قول کے مطابق، کافر کے جواب میں «علیک» کہا جاتا ہے[۴۷]
لیکن اس کے جواب میں «سلام» کا لفظ کہنے کی جواز میں اختلاف ہے۔[۴۸]
لیکن اس حکم کی علت بیان کرنے کے بعد علامہ طباطبائی نے حکم کی استثنائات بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے:
"کبھی مصلحت یہ تقاضا کرتی ہے کہ انسان ظالموں سے تقرب حاصل کرے تاکہ دین خدا کی تبلیغ کر سکے، اس طرح کہ اگر ان کے ساتھ سازگاری نہ کرے تو وہ لوگوں میں تبلیغِ دین نہیں ہونے دیتے، یا اس لیے کہ کلمۂ حق ان تک پہنچا سکے، اور یہ تقرب حاصل نہیں ہوتا مگر انہیں سلام کرنے سے، تاکہ وہ ہم سے مکمل طور پر مانوس ہو جائیں اور ان کے دل ہمارے دلوں سے گھل مل جائیں۔ اسی وجہ سے جب کبھی مصلحت ایسا تقاضا کرتی ہے تو رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) بھی اس راہ پر مامور ہوئے۔ جیسا کہ آیت میں ہے:
«فَاصْفَحْ عَنْهُمْ وَ قُلْ سَلامٌ؛
پس (اب جب کہ حال یہ ہے) ان سے منہ موڑ لو اور کہہ دو: سلام ہے تم پر»۔[۴۹]
نیز جیسا کہ مؤمنین کی صفت میں فرمایا:
«وَ إِذا خاطَبَهُمُ الْجاهِلُونَ قالُوا سَلاماً؛
رحمان کے خاص بندے وہ ہیں جو زمین پر آرام اور بے تکبری کے ساتھ چلتے ہیں اور جب جاہل انہیں (بیہودہ) خطاب کریں تو کہتے ہیں: سلام (اور بے پروائی اور بزرگواری کے ساتھ گزر جاتے ہیں)»۔[۵۰][۵۱]
سلام در قرآن (140مرتبہ)
مادہ «س-ل-م» اور اس کے مشتقات قرآن کریم میں ایک سو چالیس مرتبہ استعمال ہوئے ہیں[۵۲]۔
غروی نے کتاب «السلام فی القرآن و الحدیث» میں کہا ہے کہ سلام قرآن میں متعدد معانی میں استعمال ہوا ہے اور ان استعمالات کے مطالعے سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ بالآخر سلام کے قرآن میں چار بنیادی معانی ہیں[۵۳]:
۱. بمعنی اسم خداوند:
«هُوَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلَامُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ»؛
وہ اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، بادشاہ، پاک، منزہ، سلامتی دینے والا ہے۔۔۔۔[۵۴]
۲. ترک جنگ اور صلح:
«وَ لَا تَقُولُواْ لِمَنْ أَلْقَی إِلَیکمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنً»؛
اور اس شخص سے جو تمہارے سامنے سرِ تسلیم خم کرے (یعنی اسلام لائے) یہ نہ کہو کہ تم مؤمن نہیں ہو۔[۵۵]
۳. ابتدائی عالمی صلح:
«یأَیهَا الَّذِینَ ءَامَنُواْ ادْخُلُواْ فی السِّلْمِ کافَّةً»؛
اے ایمان والو! سب کے سب صلح و آشتی میں داخل ہو جاؤ۔[۵۶]
۴. تحیّت اور درود:[۵۷]
سلام بہت سی آیات میں بمعنی تحیّت استعمال ہوا ہے اور یہ استعمال سلام کے دوسرے معانی کے ساتھ جمع ہو سکتا ہے کیونکہ سلام لغت میں وسیع معنیٰ رکھتا ہے اور ہر صحت و عافیت کو شامل ہے[۵۸]۔
وہ آخر میں کہتے ہیں کہ قرآن کی دس آیات میں سلام بمعنی تحیّت آیا ہے۔[۵۹]
سلام نماز
«سَلام» (تسلیم) نماز کا آخری حصہ ہے جو آخری تشہد کے بعد پڑھا جاتا ہے۔ سلام نماز کے واجبات غیر رکنی میں سے ہے اور نماز میت کے علاوہ تمام نمازوں میں موجود ہے۔ آخرِ نماز میں تین سلام پڑھے جاتے ہیں:
۱. «اَلسَّلامُ عَلَیکَ اَیهَا النَّبِی وَ رَحْمَةُ اللَّه وَبَرَکاتُهُ»؛
یعنی سلام بر تو اے پیغمبر اور اللہ کی رحمت اور برکتیں تجھ پر ہوں۔
۲. «اَلسَّلامُ عَلَینا وَ عَلی عِبادُ اللَّه الصّالِحینَ»؛
یعنی سلام ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر۔
۳. «اَلسَّلامُ عَلَیکمْ وَ رَحْمَةُ اللَّه وَ بَرَکاتُهُ»؛
یعنی سلام اور اللہ کی رحمت اور برکتیں تم مؤمنین پر ہوں۔[۶۰]
حوالہ جات:
1. معجم الوسیط، ذیل سلم
2. معنای کلمه سلام
3. معجم المصطلحات و الألفاظ الفقهیة، دارالفضیلة، قاهره،ج۲، ص۲۸۴
4. سوره نور، آیه ۶۱.
5. جواهر الکلام، ج ۱۱، ص۱۰۳
6. الحدائق الناضرة، ج ۹، ص۷۲
7. مختلف الشیعة، موسسة النشر الاسلامی التابعة لجماعة المدرسین بقم المشرفه، ۱۴۱۲- ۱۴۱۹ق، ج ۲، ص۲۰۴ ؛ جواهر الکلام، دارالکتب الاسلامیه و المکتبة الاسلامیه، تهران، ۱۳۶۲- ۱۳۶۹ش،ج ۱۱، ص۱۰۴
8. روح الأرواح، ۲۱
9. التوحید، ۲۰۴
10. الانعام، ۱۲۷
11. التوحید، ۲۰۵
12. التوحید، ۲۰۴؛ مصباح کفعمی، دار الرضی، قم-ایران، ۱۴۰۵ق،ص ۳۱۸
13. لوامع البینات، مکتب الکلیات الازهریة، قاهره،ص ۱۸۸
14. سوره یونس، آیه ۱۰.
15. سوره نور، آیه ۶۱.
16. «مَنْ بدأ بالکلامِ قَبْلَ السّلامِ فَلاتُجیبُوهُ» (کلینی، اصول کافی، ج۴، ص۴۵۹).
17. کلینی، الکافی، ج۲، ص۶۴۵
18. فیض کاشانی، الوافی، ج۵، ص۵۹۶
19. مصطفوی، ترجمه أصول الکافی، ج۴، ص۴۶۲.
20. مصطفوی، ترجمه أصول الکافی، ج۴، ص۴۶۰
21. مصطفوی، ترجمه اصول الکافی، ج۴، ص۴۶۱
22. سوره نساء، آیه ۸۶.
23. وسائل الشیعة، ج ۱۲، ص۷۳
24. وسائل الشیعة ج ۱۲، ص۵۷
25. العروة الوثقی، ج ۳، ص۱۵
26. وسائل الشیعة، ج ۱۲، ص۸۰-۸۱
27. وسائل الشیعة، ج ۱۲، ص۸۳
28. تذکرة الفقهاء، ج ۹، ص۲۳ ؛ بحار الأنوار، ج ۸۴، ص۲۷۶ ؛ غنائم الأیام، ج ۳، ص۲۳۶ ؛ صراط النجاة، ج ۳، ص۲۹۱
29. الحدائق الناضرة، ج ۹، ص۸۳ ؛ مستند الشیعة، ج ۷، ص۷۳؛ العروة الوثقی، ج ۳، ص۲۵
30. غنائم الأیام، ج ۳، ص۲۳۷
31. مفتاح الکرامة، ج ۴، ص۹۷۳ ؛ مستند الشیعة، ج ۷، ص۶۷
32. مفتاح الکرامة، ج ۴، ص۹۶۹ ؛ جواهرالکلام، ج ۱۱، ص۱۱۱
33. ذخیرة المعاد، ص۳۶۷ ؛ الحدائق الناضرة، ج ۹، ص۸۱
34. جواهر الکلام، ج ۱۱، ص۱۰۶
35. ذخیرة المعاد، ص۳۶۶ ؛ جواهر الکلام، ج ۱۱، ص۱۰۸
36. مجمع الفائدة، ج ۳، ص۱۱۹-۱۲۰
37. المعتبر، ج ۲، ص۲۶۴
38. یعنی کسی بگوید فلانی به شما سلام رساند.
39. الحدائق الناضرة، ج ۹، ص۸۲
40. جواهر الکلام، ج ۱۱، ص۱۱۰-۱۱۱
41. «استفتائات جدید (بهمن ماه)»، وبگاه اطلاع رسانی دفتر مقام معظم رهبری؛ «احکام سلام کردن و جواب سلام دادن در نماز و غیر نماز» وبگاه آیتالله سیستانی.
42. العروة الوثقی، ج ۳، ص۱۵
43. مفتاح الکرامة، ج ۴، ص۹۷۳ ؛ مستند الشیعة، ج ۷، ص۶۷
44. جواهر الکلام، ج ۱۱، ص۱۰۱
45. الحدائق الناضرة، ج ۹، ص۸۴-۸۵ ؛ مستند الشیعة، ج ۷، ص۷۴
46. مفتاح الکرامة، ج ۴، ۹۷۲-۹۷۳ ؛ مستند الشیعة، ج ۷، ص۷۴
47. مستند الشیعة، ج ۷، ص۷۴
48. مستند الشیعة، ج ۷، ص۷۴ ؛ مفتاح الکرامة، ج ۴، ص۹۷۳ ؛ مستمسک العروة، ج ۶، ص۵۶۹-۵۷۰
49. الزخرف: ۸۹
50. الفرقان: ۶۳
51. موسوی همدانی، سید محمد باقر، ترجمه تفسیر المیزان، انتشارات جامعه مدرسین، قم، ۱۳۷۴، چاپ پنجم، ج۵، ص۵۲
52. روحانی، المعجم الإحصائی، ج۱، ص۴۸۵
53. الغروی، السلام فی القران و الحدیث، ص۲۸-۲۹
54. الحشر: ۲۳
55. النساء: ۹۴
56. البقرة: ۲۰۸
57. الصافات: ۷۹ و ۱۰۹ و ۱۲۰ و ۱۳۰ و ۱۸۱؛ هود: ۴۸؛ النمل: ۵۹؛ الأنعام: ۵۴؛ الذاریات: ۲۵؛ الرعد: ۲۳-۲۴
58. الغروی، السلام فی القران و الحدیث، ص۲۹
59. الغروی، السلام فی القران و الحدیث، ص۱۹ و ص۵۶
60. ترجمه تشهد و سلام نماز
منابع
ابنادریس، محمد بن احمد، کتاب السرائر الحاوی لتحریر الفتاوی، موسسة النشر الاسلامی التابعة لجماعة المدرسین بقم المشرفه، ۱۴۱۰ق.
«احکام سلام کردن و جواب سلام دادن در نماز و غیر نماز» وبگاه آیتالله سیستانی، تاریخ بازدید: ۳ اردیبهشت ۱۴۰۳ش.
«استفتائات جدید (بهمن ماه)»، وبگاه اطلاع رسانی دفتر مقام معظم رهبری، تاریخ درج مطلب: ۲ بهمن ۱۴۰۲ش؛ تاریخ بازدید: ۳ اردیبهشت ۱۴۰۳ش.
انصاری، مرتضی بن محمدامین، صراط النجاة، کنگره جهانی بزرگداشت دویستمین سالگرد تولد شیخ اعظم انصاری، ۱۴۱۵ق.
بروجردی، مرتضی، مستند العروة (الصلاة)، تقریر: خوئی، ابوالقاسم، نشر لطفی، ۱۴۱۴ق.
بحرانی، یوسف بن احمد، الحدایق الناضره فی احکام العتره الطاهره، موسسة النشر الاسلامی التابعة لجماعة المدرسین بقم المشرفه، ۱۴۰۵ ۱۴۱۶ق.
حر عاملی، محمد بن حسن، تفصیل وسائل الشیعه الی تحصیل مسائل الشریعه، مؤسسه آل البیت علیهم السلام لاحیاء التراث، ۱۴۱۴ق.
حسینی عاملی، محمدجواد بن محمد، مفتاح الکرامه فی شرح قواعد العلامه، دارالتراث، بیروت، ۱۴۱۷ ۱۴۱۸ق.
حکیم، محسن، مستمسک العروه الوثقی، مکتبة آیة الله مرعشی نجفی، ۱۳۸۸ ۱۳۹۱ق.
خمینی، روح الله، تحریر الوسیله، دارالکتب العلمیه، اسماعیلیان، ۱۴۰۸ق.
رضی بهابادی، بیبی سادات، عوامل سلام و لعن در قرآن کریم، «تحقیقات قرآن و حدیث»، زمستان ۹۳، شماره ۴،
روحانی، محمود، المعجم الإحصائی، مشهد، نشر الاستانة الرضویة المقدسة، چاپ دوم،
سمعانی، احمد بن منصور، روح الارواح فی شرح اسماء الملک الفتاح، شرکت انتشارات علمی و فرهنگی، تهران، ۱۳۸۴ ش.
شیخ صدوق، ابن بابویه محمد بن علی، التوحید، جامعه مدرسین، قم-ایران، ۱۳۸۹ق.
طباطبائی یزدی، محمد کاظم، العروة الوثقی، مؤسسة النشر الاسلامی التابعه لجماعه المدرسین، قم، ۱۴۱۷ ۱۴۲۰ق.
عبدالاعلی، موسوی سبزواری، مهذب الاحکام فی بیان الحلال و الحرام، موسسة المنار، ۱۴۱۳ ۱۴۱۷ق.
علامه حلی، حسن بن یوسف، تذکرة الفقهاء، موسسة آل البیت (علیهم السلام) لإحیاء التراث، قم، ۱۴۱۴ ۱۴۲۰ق.
علامه حلی، حسن بن یوسف، مختلف الشیعه فی احکام الشریعه، موسسة النشر الاسلامی التابعة لجماعة المدرسین بقم المشرفه، ۱۴۱۲ ۱۴۱۹ق.
الغروی، محمد، السلام فی القران و الحدیث، دارالاضواء بیروت، ۱۴۱۱ق،
فرهنگ فقه مطابق مذهب اهل بیت علیهم السلام، ج۴، ص۵۱۴-۵۱۷.
فخر رازی، محمد بن عمر، شرح أسماء الحسنی (لوامع البینات)، مکتب الکلیات الازهریة، قاهره.
فیض کاشانی، محمد محسن بن شاه مرتضی، الوافی، کتابخانه امیرالمومنین علیهالسلام، اصفهان، ۱۴۰۶ق.
کفعمی، ابراهیم بن علی، المصباح،دار الرضی، قم-ایران، ۱۴۰۵ق.
کلینی، محمد بن یعقوب بن اسحاق، الکافی، محقق علی اکبر غفاری،دار الکتب الاسلامیة، تهران، ۱۴۰۷ ق.
مصطفوی، سید جواد، أصول الکافی/ترجمه مصطفوی، علمیه اسلامیه، تهران، چاپ اول، ۱۳۶۹ ش.
محقق سبزواری، محمد باقر بن محمد مومن، ذخیرة المعاد فی شرح الارشاد، موسسة آل البیت علیهم السلام لاحیاء التراث، (طبع حجری).
محقق حلی، جعفر بن حسن، المعتبر فی شرح المختصر النافع، موسسة سید الشهداء(ع)، قم، ۱۳۶۴ش.
مجلسی، محمدباقر، بحار الأنوار، موسسة الوفا، بیروت، ۱۴۰۳ق.
محمود عبد الرحمن، معجم المصطلحات و الألفاظ الفقهیة، دارالفضیلة، قاهره.
محمد بن یعقوب کلینی، اصول کافی، ترجمه و شرح: سید جواد مصطفوی، تهران، انتشارات وفا، ۱۳۸۲ش.
مقدس اردبیلی، احمد بن محمد، مجمع الفایده و البرهان فی شرح ارشاد الاذهان، موسسة النشر الاسلامی التابعة لجماعة المدرسین بقم المشرفه، ۱۴۰۳ ۱۴۱۶ق.
میرزای قمی، ابو القاسم بن محمد حسن، غنایم الایام فی مسایل الحلال و الحرام، مکتب الاعلام الاسلامی، فرع خراسان، ۱۴۱۷ ۱۴۲۰ ق.
نراقی، احمد بن محمد مهدی، مستند الشیعه فی احکام الشریعه، موسسه آل البیت لاحیاء التراث، ۱۴۰۸ ۱۴۰۹ ق.
نجفی، محمد حسن، جواهر الکلام فی شرح شرایع الاسلام، دارالکتب الاسلامیه و المکتبه الاسلامیه، تهران، ۱۳۶۲ ۱۳۶۹ش.

