شرح زیارت عاشورا
-
- شائع
-
- مؤلف:
- سخن: حجۃ الاسلام میرباقری - ترجمہ: یوسف حسین عاقلی
- ذرائع:
- ماخوذ از :مرکز تحقیقات کامپیوتری علوم اسلامی
بسم اللہ الرحمن الرحیم
شرح زیارت عاشورا
سخن: حجۃ الاسلام میرباقری
ترجمہ: یوسف حسین عاقلی
زیارت عاشورا کی فضیلت کے لیے یہی کافی ہے کہ دیگر زیارات کے برعکس جو معصومین (علیہم السلام) سے نقل ہوئی ہیں، یہ زیارت حدیث قدسی کی شکل میں روایت ہوئی ہے؛ یعنی جبرئیل امین اسے خداوند متعال کی طرف سے پیامبر گرامی اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے لیے لائے اور ائمہ ہدی (علیہم السلام) نے بھی اسے پیامبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) سے نقل کیا ہے۔
---
معنیٰ "اباعبداللہ"
زیارت عاشورا چند سلاموں کے ساتھ شروع ہوتی ہے۔ مختصراً عرض کیا کہ سلام کا معنیٰ کیا ہے؟ یہ خدائی سلامتی اور الهی سلام کی دعا ہے اور ہم خداوند متعال سے اس کی برکات کی نزول کی درخواست کرتے ہیں۔ دوسرے، یہ عناوین جو ان سلاموں میں آئے ہیں، خاص عناوین ہیں۔ پہلا عنوان "اباعبداللہ" ہے۔ شاید اس کا ایک معنیٰ یہ ہے کہ حضرت (امام حسین) تمام بندوں کے والد ہیں اور ہر عبودیت امامت اور امامت کی دستگیری کا نتیجہ ہے۔ جہاں کہیں عبودیت ہے، وہ بندگیِ خداست۔ یہ عبودیت اور بندگی حضرت سے صادر ہوتی ہے۔
---
فرزند پاک، پاک دامن میں پرورش پاتا ہے
لیکن ہم حضرت کو چند سلام پیش کرتے ہیں:
«السَّلَامُ عَلَیک یا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ السَّلَامُ عَلَیک یا ابْنَ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ وَ ابْنَ سَیِّدِ الْوَصِیِّینَ السَّلَامُ عَلَیک یا ابْنَ فَاطِمَةَ سَیِّدَةِ نِسَاءِ الْعَالَمِینَ» [۱]
شاید اس کا نکتہ یہ ہے کہ یہ عظیم شخصیت ان ہی اولیاء کی گود میں پرورش پا سکتی ہے۔ اور امام حسین (علیہ السلام) اور ان تین مقدس ہستیوں کے درمیان خاص رشتہ ہے۔ یہ رشتہ صرف ظاہری باپ بیٹے کا رشتہ نہیں ہے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے واقعے میں خداوند متعال فرماتا ہے: چونکہ مریم صدیقہ پاکدامن تھیں، اس لیے ان میں یہ صلاحیت تھی کہ عیسیٰ ان کی گود میں پرورش پائے۔ ایسا نہیں کہ ہر گود ہر بچے کی پرورش کے لیے موزوں ہو۔ اگر نسل پاک ہونی چاہیے تو جڑیں بھی پاک ہونی چاہئیں۔
---
ماں کی تکریم
خداوند متعال فرماتا ہے:
«وَ وَصَّیْنَا الْإِنْسانَ بِوالِدَیْهِ إِحْساناً حَمَلَتْهُ أُمُّهُ کُرْهاً وَ وَضَعَتْهُ کُرْهاً» [۲]
ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ نیکی اور احسان کرنے کی وصیت کی ہے۔
اگر وہ ان کے لیے کوئی نیک کام کرے تو اسے کراہت کے ساتھ نہ کرے، کیونکہ
«حَمَلَتْهُ أُمُّهُ کُرْهاً»
(اس کی ماں نے اسے مشقت کے ساتھ حمل میں رکھا) اور
«وَ وَضَعَتْهُ کُرْهاً»
(اور مشقت کے ساتھ اسے جنم دیا)۔
---
شانِ نزولِ آیت
اس آیت کریمہ کے تحت ایسی روایات ہیں جو اس آیت کو سید الشہداء (علیہ السلام) سے منسوب کرتی ہیں:
«حَمَلَتْهُ أُمُّهُ کُرْهاً وَ وَضَعَتْهُ کُرْهاً»؛
یعنی اس کا حمل اور اس کی وضع دونوں مشقت کے ساتھ تھیں۔ یہ «کُره» اس لیے تھا کہ خداوند متعال نے رسول گرامی (صلی اللہ علیہ و آلہ) اور حضرت فاطمہ (علیہا السلام) کو خبر دی تھی کہ یہ فرزند جو تم پیدا کرو گے، اسی مقصد (شہادت) کے لیے ہے اور اسے اس طرح شہید ہونا ہے۔ اور ابتداء میں حضرت فاطمہ اور رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے عرض کیا: خدایا! اگر یہ ہمارے اختیار میں ہے تو ہم ایسے فرزند کو نہیں چاہتے۔ یہاں تک کہ خداوند متعال نے وعدہ دیا کہ اس شہادت کے بدلے میں میں اس فرزند کی نسل میں امامت رکھ دوں گا؛ یعنی یہ شہادت اس بات کا سبب بنے گی کہ یہ امام ائمہ بعد کے والد بنیں۔ یعنی باقی ائمہ (علیہم السلام) کسی نہ کسی طرح امام حسین (علیہ السلام) کی قربانی اور ایثار کے مرہونِ منت ہیں۔ جب خدا نے یہ وعدہ دیا تو صدیقہ طاہرہ (علیہا السلام) راضی ہو گئیں کہ خدا یہ فرزند عطا فرمائے اور وہ یہ بار اٹھائیں اور پھر اس کی شہادت پر راضی ہو جائیں، تاکہ یہ امامت باقی رہے۔
---
دعائے سید الشہداء (علیہ السلام)
سید الشہداء (علیہ السلام) دعائے عرفہ میں ایک شریف جملہ فرماتے ہیں اور خداوند سے عرض کرتے ہیں:
«إِلَهِی أَمَرْتَ بِالرُّجُوعِ إِلَی الْآثَارِ فَارْجِعْنِی إِلَیْک بِکِسْوَةِ الْأَنْوَارِ وَ هِدَایَةِ الِاسْتِبْصَارِ حَتَّی أَرْجِعَ إِلَیْک مِنْهَا کَمَا دَخَلْتُ إِلَیْک مِنْهَا مَصُونَ السِّرِّ عَنِ النَّظَرِ إِلَیْهَا؛» [۳]
(میں نے تمام آثار اور مخلوقات سے منہ موڑ لیا تھا اور تجھے پا لیا تھا۔ تو نے مجھے ان کی طرف لوٹنے کا حکم دیا۔ پھر ایک بار پھر تیری طرف سیر کی ہے۔ یہ رجوع تیرے حکم سے ہے۔ میں نے ان سب سے گزر کر تجھ تک پہنچا ہوں۔ میں صرف تیرے حکم سے واپس آیا ہوں۔)
انسان جو دنیا کی لذتوں اور نہ صرف دنیا کی لذتوں بلکہ جنت اور جنت سے بالاتر کی لذتوں کا تجربہ نہیں کرتا، شاید ان کا تجربہ کرنا چاہے، لیکن جب وہ حق تک پہنچ جاتے ہیں تو سب کچھ پیچھے چھوڑ دیتے ہیں اور جب دنیا کی طرف لوٹتے ہیں تو صرف اپنی ذمہ داری اور تکلیف کی وجہ سے لوٹتے ہیں۔
من که ملول گشتمی از نفس فرشتگان
قال و مقال عالمی میخرم از برای تو
پس معصوم (علیہ السلام) کے تمام کام خدا کے لیے ہیں۔
---
اس شخص کی اہمیت جو انسان کی پرورش کرتا ہے
خداوند متعال فرماتا ہے:
«إِذْ قالَتِ امْرَأَتُ عِمْرانَ رَبِّ إِنِّی نَذَرْتُ لَک ما فی بَطْنی مُحَرَّراً» [۴]
اور پھر فرماتا ہے:
«فَتَقَبَّلَها رَبُّها بِقَبُولٍ حَسَنٍ» [۵]
اور پھر فرماتا ہے:
«وَ کَفَّلَها زَکَرِیّا» [۶]
یعنی ہم نے زکریا (علیہ السلام) کو ان کا کفیل بنایا تاکہ وہ ان کی گود میں پرورش پائیں۔ جب خداوند متعال موسیٰ کلیم (علیہ السلام) کو نبوت کے لیے تیار کرنا چاہتا ہے، تو مصر سے فرار کے بعد انہیں شعیب (علیہ السلام) نبی تک پہنچاتا ہے اور موسیٰ دس سال شعیب کی شاگردی کرتے ہیں۔
سید الشہداء (علیہ السلام) وہ شخصیت ہیں جو انہی گودوں میں پرورش پائی؛ ورنہ وہ سید الشہداء نہ بن سکتے تھے۔ تمام نسب ناپائیدار ہیں۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا:
«کُلُّ حَسَبٍ وَ نَسَبٍ مُنْقَطِعٌ یَوْمَ الْقِیامَةِ إِلَّا حَسَبِی وَ نَسَبِی» [۷]
مگر میرے اور میری نسل کا رشتہ جو منقطع ہونے والا نہیں۔ لہٰذا، ان تین رشتوں (رسول، امیر المؤمنین اور فاطمہ) کی طرف توجہ، سید الشہداء (علیہ السلام) کے شان و مرتبہ کی طرف توجہ ہے کہ وہ رسول کے فرزند، امیر المؤمنین کے فرزند اور فاطمہ (علیہا السلام) کے فرزند ہیں۔ حتیٰ کہ بعض روایات میں پڑھتے ہیں کہ وہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی انگلی مبارک سے غذا لیتے تھے۔
---
معنیٰ "ثاراللہ" در زیارت عاشورا
لیکن اس کے دو اور سلام ہیں:
«السَّلَامُ عَلَیْک یا ثَارَ اللَّهِ»؛
سلام بر تو اے خون خدا۔
بعض نے کہا ہے: «ثاراللہ» یعنی وہ شخص جس کا خونخواہ خود خدا ہے۔ "خون خدا" یعنی ایسا خون جس کا کوئی خونخواہ خدا کے سوا نہیں۔ شاید «ثاراللہ» ہونے کا مطلب یہ ہو کہ جو بھی رزق اور جو بھی فائدہ کہیں اور کسی کو پہنچتا ہے، وہ سید الشہداء (علیہ السلام) کے فیض اور انہی کے واسطے سے پہنچتا ہے۔
خداوند متعال فرماتا ہے:
«یا أَیُّهَا الَّذینَ آمَنُوا اسْتَجیبُوا لِلَّهِ وَ لِلرَّسُولِ إِذا دَعاکُمْ لِما یُحْییکُمْ» [۸]
وہ حیات جس کی طرف خدا اور رسول دعوت دیتے ہیں، یہ ظاہری زندگی کے علاوہ ہے۔ یہ ساری حیات سید الشہداء (علیہ السلام) کی انگلیوں سے جاری ہے۔
---
معنیٰ "وتر الموتور" در زیارت عاشورا
دوسرا سلام «وَتَرَ الْمَوْتُورِ» (تنہا ہونے والا) ہے۔ اس عبارت کا ایک احتمال یہ ہے کہ شاید اس منظر کی طرف اشارہ ہے جو حضرت کے ساتھ پیش آیا کہ واقعی وہ تنہا رہ گئے۔ جب حضرت کربلا آئے، تو یزید کی مکر و فریب کی وجہ سے کوئی حضرت کی حمایت کے لیے نہ آیا اور وہ تنہا ہو گئے۔
البتہ دوسرے احتمالات بھی ہیں۔
---
سلام بر ارواح حاضر در حریمِ حضرت
«السَّلَامُ عَلَیْک وَ عَلَی الْأَرْوَاحِ الَّتِی حَلَّتْ بِفِنَائِک» [۹]
یہاں عناوین ختم ہو جاتے ہیں۔ «السَّلَامُ عَلَیْک» (سلام بر تو) - پچھلے سلام شاید ایک دوسرے سے مختلف تھے، لیکن اس سلام کے ساتھ ایک اور سلام ہے جو حضرت تک پہنچتا ہے۔ جو سلام اور سلامتی حضرت تک پہنچتی ہے، وہ رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی طرف سے ہے۔ وہ سلام جو «ثاراللہ» ہونے اور «وتر» ہونے کی وجہ سے حضرت تک پہنچتا ہے، کیونکہ انہوں نے تنہا یہ بار اٹھایا۔ واقعی جو بھی روح خود کو سید الشہداء (علیہ السلام) تک پہنچا سکتی ہے، وہ خدائی سلام کی مستحق ہے اور اس پر سلام اور برکات حق نازل ہوتی ہیں۔
---
سلامِ ابدی بر اباعبداللہ (علیہ السلام)
«عَلَیْکُمْ مِنِّی جَمِیعاً سَلَامُ اللَّهِ أَبَداً مَا بَقِیتُ وَ بَقِیَ اللَّیْلُ وَ النَّهَارُ» [۱۰]
ان سلاموں کے بعد ہم کہتے ہیں: تم پر میری طرف سے خدائی سلام ہو، ہمیشہ، جب تک شب و روز ہیں، جب تک میں ہوں، خداوند متعال توفیق دے اور اس کا سلام میری طرف سے تم تک پہنچائے۔
---
مصیبتِ اباعبداللہ (علیہ السلام) کی سنگینی
«یا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ لَقَدْ عَظُمَتِ الرَّزِیةُ وَ جَلَّتِ الْمُصِیبَةُ بِکَ عَلَیْنَا وَ عَلَی جَمِیعِ أَهْلِ الْإِسْلَامِ» [۱۱]
اے ابا عبداللہ! بے شک مصیبت (اور مصیبت) تمہاری وجہ سے ہم پر اور تمام اہل اسلام پر بہت بڑی اور عظیم ہوئی ہے۔ «جَلَّتِ وَ عَظُمَتِ الْمُصِیبَةُ» (مصیبت عظمت پیدا کر گئی)۔ یہ مصیبت نہ صرف ہم پر بلکہ تمام اہل اسلام پر ہے۔ یہ مصیبت تمام آسمانوں پر بھاری ہے۔ اس مصیبت میں وسعت بھی ہے، شدت بھی ہے اور عظمت بھی ہے۔
«وَ هَذَا یَوْمٌ فَرِحَتْ بِهِ آلُ زِیادٍ وَ آلُ مَرْوَانَ بِقَتْلِهِمُ الْحُسَیْنَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَیْهِ» [۱۲]
یہ وہ دن ہے جس پر آلِ زیاد اور آلِ مروان نے خوشی منائی، حسین (صلی اللہ علیہ و آلہ) کو قتل کر کے۔ محتشم کا مشہور شعر ہے جو گویا انہوں نے رسول گرامی اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے اشارے پر کہا ہے۔ وہ فرزند کے غم اور اندوہ سے سو جاتے ہیں اور خواب میں رسول گرامی اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ) کو دیکھتے ہیں جو فرماتے ہیں: "کیوں میرے حسین کے لیے شعر نہیں کہتے؟"
وہ کہتے ہیں: اے رسول اللہ! میں شعر نہیں کہہ سکتا، مجھے نہیں آتا۔ حضرت فرماتے ہیں: کہو! "باز این چه شورش است که در خلق عالم است..." اور محتشم اس کے بعد کہتا ہے۔
---
شیعیان کے جذبات در عزاداریِ سید الشہداء (علیہ السلام)
سید الشہداء (علیہ السلام) کی شہادت ایسی عظمت ہے جس نے عالم کی روح کو غمگین کر دیا۔ معصومین (علیہم السلام) کی عظیم روحیں اس بزرگوار کی ولادت سے پہلے بھی اس مصیبت کے غم میں تھیں۔ لہٰذا، یہاں وسعت، شوکت اور شدت کا ذکر ہے۔ یہ واقعہ نہایت شدت، انتہائی وسعت اور اعلیٰ ترین عظمت کے ساتھ ہے۔
«مُصِیبَتُنَا أَعْظَمُهَا وَ أَعْظَمُ رَزِیَّتِهَا فِی الْإِسْلَامِ»
(ہماری مصیبت سب سے بڑی ہے اور اسلام میں سب سے عظیم مصیبت ہے)؛ سید الشہداء کے جانے سے سب نے کچھ نہ کچھ کھو دیا، حتیٰ کہ اسلام بھی اپنے امام سے محروم ہو گیا۔
شیعہ کا جذبہ، کائنات میں سب سے زیادہ پختہ جذبہ ہے، کوئی جذبہ شیعہ کے جذبے کی پختگی تک نہیں پہنچتا، اس کے برعکس جو کہتے ہیں کہ شیعہ کے جذبات پختہ نہیں ہوئے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ان روں کا کیا نتیجہ ہے، ان روں کی کیا برکات ہیں۔
---
ذکرِ مصیبت
حضرت علی اکبر (علیہ السلام)
«السَّلَامُ عَلَیْک یا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ وَ عَلَی الْأَرْوَاحِ الَّتِی حَلَّتْ بِفِنَائِکَ عَلَیْک مِنِّی سَلَامُ اللَّهِ مَا بَقِیتُ وَ بَقِیَ اللَّیْلُ وَ النَّهَارُ وَ لَا جَعَلَهُ اللَّهُ آخِرَ الْعَهْدِ مِنِّی لِزِیارَتِکَ السَّلَامُ عَلَی الْحُسَیْنِ وَ عَلَی عَلِی بْنِ الْحُسَیْنِ وَ عَلَی أَصْحَابِ الْحُسَیْنِ» [۱۳]
اکبر من! قدری آہستہ رو قدت ببینم
این دم آخر یا از روی ماهت گل بچینم
وہ جنگِ عدوان کی طرف جاتے ہیں، خشک اور پیاسے گلے کے ساتھ۔ وہ سید الشہداء (علیہ السلام) کی خدمت میں آئے اور اجازت لی، پھر میدان کی طرف روانہ ہوئے۔ سید الشہداء نے اپنی سفید داڑھی ہاتھ میں پکڑ رکھی تھی اور علی (اکبر) کے پیچھے چلتے ہوئے کہہ رہے تھے: خدایا! تو خود گواہ ہو،
«أللّهمَّ اشهد علی هؤلاء القوم، فقد برز إلیهم غلام أشبه الناس خَلقاً وخُلُقاً ومنطقاً برسولک محمّد صلی الله علیه و آله» [۱۴]
خدایا! گویا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کا مجسمہ میدان میں جا رہا ہے۔ خدایا! وہ میرے لیے صرف بیٹا نہ تھا، جب بھی ہم تیرے رسول کے مشتاق ہوتے، اس کے قد و بالا کو دیکھتے تھے۔
میدانِ جنگ میں نمایاں ہوئے۔ نہ تو جنگ کرنے کی طاقت تھی، نہ ٹھہر سکتے تھے اور نہ واپسی کا راستہ کھلا تھا۔
جنگِ جبهہ کے ایک کمانڈر کی ماں کی یادداشتوں میں پڑھا: اس کا بیٹا آیا، میرے سجدے پر بیٹھا، دو رکعت نماز پڑھی اور کہا: ماں! میں دعا کرتا ہوں، تم آہستہ سے آمین کہنا۔ اس نے دعا کی، میں نے آمین کہا۔ پھر کہا: جانتی ہو کیا دعا کی؟ میں نے دعا کی کہ خدا مجھے شہادت نصیب کرے، کیونکہ میں جانتا تھا کہ یہ سال جو میں جبهہ گیا اور سالم واپس آیا، اس کی وجہ یہ تھی کہ تم راضی نہ تھی۔ میں چاہتا تھا کہ تم دعا کرو تاکہ میرے لیے شہادت کا راستہ کھل جائے۔
سید الشہداء (علیہ السلام) سے عرض کیا: والد! پیاس نے مجھے بے حال کر دیا ہے، اسلحے کے بوجھ نے مجھے تھکا دیا ہے، اگر اجازت دو تو میں جاؤں؟ سید الشہداء (علیہ السلام) نے کیا کیا؟ پہلے فرمایا: عزیزم! اپنی زبان میرے منہ میں رکھو۔ لیکن دیکھا کہ بابا بھی زیادہ پیاسے ہیں۔ ابا عبداللہ (علیہ السلام) پر کیا گزری؟ ان سے فرمایا: عزیزم! جاؤ، جاؤ! انشاء اللہ اپنے جد (رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ) کے ہاتھ سے سیراب ہو جاؤ گے۔
لیکن جب وہ اپنے جوان (علی اکبر) کے سرہانے آئے، پہلے خون کو اس کے منہ سے صاف کیا۔ مرحوم سید بن طاؤس (رحمۃ اللہ علیہ) لکھتے ہیں کہ ابھی ان میں جان تھی، انہوں نے خون صاف کیا، مٹی صاف کی، جھک کر اپنا چہرہ اپنے جوان کے چہرے پر رکھا اور فرمایا:
«عَلِی الدُّنْیا بَعْدَکَ الْعَفَا فَقَدِ اسْتَرَحْتَ مِنْ هَمِّ الدُّنْیا وَ غَمِّهَا وَ شَدَائِدِهَا، وَ قَدْ بَقِیَ أَبُوکَ وَحِیداً فَرِیداً» [۱۵]
(دنیا تجھ کے بعد خراب ہو، تو دنیا کے غم، اندوہ اور سختیوں سے فارغ ہو گیا، اور تیرا باپ تنہا اور بے کس رہ گیا)۔
---
حوالہ جات:
[1] بحارالأنوار، مجلسی، ج 98، ص 293.
[2] الأحقاف : 15.
[3] بحارالأنوار، مجلسی، ج 95، ص 226.
[4] آل عمران : 35.
[5] آل عمران : 37.
[6] همان.
[7] بحارالأنوار، مجلسی، ج 6، ص 319.
[8] الأنفال: 24.
[9] بحارالأنوار، مجلسی، ج 98، ص 293.
[10] همان.
[11] همان.
[12] همان.
[13] بحارالأنوار، مجلسی، ج98، ص 293.
[14] مع الرکب الحسینى ج 4، عزت الله مولایی، ص 359.
[15] بلاغ عاشورا، الشیخ جوادمحدثی، ص 27.

