امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک

امام حسین علیہ السلام کی زوجہ کا واقعہ کربلا کی روایت میں کردار

0 ووٹ دیں 00.0 / 5

امام حسین علیہ السلام کی زوجہ کا واقعہ کربلا کی روایت میں کردار
ترجمہ : یوسف حسین عاقلی
منبع: پایگاه فکر و فرهنگ مبلغ
“بانو رباب” 
یہ خاتون ان شخصیات میں سے ہیں جنہوں نے ۶۱ ہجری کے واقعہ عاشورا میں موجود رہیں اور جو کچھ اس دن اور سرزمین کربلا میں گزرا، اس کی روایت کے ذریعے اپنا نمایاں کردار جاری رکھا۔
امام حسین علیہ السلام ۶۰ ہجری میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ مدینہ سے مکہ اور پھر وہاں سے عراق کی طرف روانہ ہوئے۔
 راستے میں دوسرے بہت سارےخاندان اور مرد بھی آپ سے جا ملے اور محرم ۶۱ ہجری میں واقعہ عاشورا نے اسلامی ثقافت پر گہرا اور حیرت انگیز اثر ڈالا۔
 اس واقعہ میں ان مردوں کی  شجاعت اوربہادری کا ذکر آیا جنہوں نے ظلم کے سامنے ڈٹ کر مقابلہ کیا، جبکہ عشق و شهادت کے میدان کی شیرزنوں کا نام بہت کم لیا گیا ہے۔
اب ان خواتین کا مختصراً جائزہ لیتے ہیں جو اس عظیم حادثہ میں امام حسین علیہ السلام کے ہمراہ تھیں۔ ان خواتین میں سے ایک جنہوں نے اس عظیم واقعہ میں بہت نمایاں کردار ادا کیا اور عاشورا کے بعد بھی ان کا کردار بہت اہم رہا، "زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا "
وہ زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا ہیں، جو امام علی علیہ السلام کی بیٹی اور امام حسن و امام حسین علیہما السلام کی بہن ہیں۔ ایک اور خاتون جنہوں نے اس عظیم واقعہ میں کردار ادا کیا، وہ حضرت ام کلثوم سلام اللہ علیہا ہیں، جو امام علی علیہ السلام کی دوسری بیٹی اور امام حسین علیہ السلام کی پدری بہن ہیں۔ 
اس سلسلہ کی ایک قسط میں ہم نے کربلا میں ان کی بہادری کا ذکر کیا تھا۔ امام حسن علیہ السلام کے فرزندان اور اہل بیت نے بھی کربلا کے واقعہ میں بھرپور شرکت کی اور اس سلسلہ کی ایک تحریر میں ہم نے ان کے بارے میں لکھا تھا، اور اب اس مرتبہ امام حسین علیہ السلام کی بیٹیوں اور ان کے اہل بیت کے بارے میں بات کرتے ہیں۔
امام حسین علیہ السلام کی بیٹیوں میں سے فاطمہ اور سکینہ اور آپ کی زوجہ رباب بلاشبہ واقعہ عاشورا میں موجود تھیں۔ فاطمہ، امام حسین علیہ السلام کی بیٹی، جن کی والدہ فاطمہ بنت اسحاق تھیں، اپنے زمانے کی با فضیلت اور نمونہ خواتین میں سے تھیں۔ انہوں نے اپنے والد امام حسین علیہ السلام، فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا، ابن عباس اور بلال مؤذن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حدیث روایت کی ہے۔ فاطمہ کا نکاح امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے فرزند حسن مثنیٰ سے ہوا تھا۔
وہ اپنے والد اور شوہر کے ہمراہ کربلا آئیں۔ امام سجاد علیہ السلام نے نقل کیا کہ امام حسین علیہ السلام نے شہادت کے قریب ایک لپٹا ہوا خط اپنی بیٹی فاطمہ کو دیا اور انہیں زبانی وصیت بھی کی،
 پھر فرمایا: "بیٹی! یہ میرے سب سے بڑے بیٹے کو دے دو" کیونکہ اس وقت امام سجاد علیہ السلام بیمار تھے۔
 بعد میں فاطمہ نے وہ خط امام سجاد کو سپرد کیا اور وہ ہم تک پہنچا۔
فاطمہ دختر امام حسین علیہ السلام نے راستے میں لوگوں کے سامنے خطبات بھی پڑھے۔ ایک موقع پر جب وہ تقریر کر رہی تھیں تو لوگوں کے رونے اور چلّانے کی آواز اس قدر بلند ہوئی کہ لوگ کہنے لگے: "بس کرو اے پاک لوگوں کی بیٹی! تم نے ہمارے دلوں کو آگ لگا دی اور ہمارے جگر کباب کر دیے"۔ پھر وہ خاتون خاموش ہو گئیں۔
فاطمہ کے شوہر (حسن مثنیٰ) کی عمر روز عاشورا صرف ۱۷ سال تھی۔ انہوں نے دشمنوں سے جنگ میں کئی افراد کو ہلاک کیا، بہت سے زخم اٹھائے اور ان کا دایاں ہاتھ کٹ گیا، درحقیقت وہ کربلا کے زخمیوں (جانبازوں) میں شامل تھے اور قیدیوں کے ساتھ کوفہ لائے گئے۔
 اسماء بن زیاد، جو ابن زیاد کے حامیوں میں سے تھے اور ان کے ماموں تھے، نے انہیں قیدیوں سے الگ کر کے علاج کروایا اور مدینہ بھیج دیا، لیکن فاطمہ قیدیوں کے قافلے کے ساتھ شام گئیں۔ اس شادی سے پانچ اولادیں ہوئیں: فاطمہ، عبداللہ، ابراہیم، حسن اور زینب۔ وہ سلسلۂ قیام جو بنی امیہ اور بنی عباس کے خلاف علویوں نے کیے، ان سب کا سلسلہ فاطمہ دختر امام حسین علیہ السلام کی نسل سے تھا۔ پہلا قیام محمد المعروف نفس زکیہ، جو عبداللہ بن حسن مثنیٰ کے بیٹے تھے، نے کیا۔ 
(کتاب:نقش زنان در حماسہ عاشورا، مزینانی، ص ۲۳۱-۲۲۴)۔
---
کیسے تسلیم کر لے موت کو وہ شخص جس کا کوئی یار و مددگار نہ ہو
---
سکینہ امام حسین علیہ السلام کی دوسری بیٹی ہیں اور ان کی والدہ رباب ہیں۔ وہ اپنے زمانے کی خواتین کی سردار تھیں۔ عقل، ادب، اخلاق اور عفّت میں دوسری خواتین پر فضیلت رکھتی تھیں۔ انہیں اپنے زمانے کی عفیفہ، سخاوت کرنے والی، باوقار اور نیکوکار ترین خاتون قرار دیا گیا ہے۔ سکینہ کی عمر واقعہ عاشورا میں بارہ یا پندرہ سال تھی۔
 ان کے شوہر عبداللہ حسن، روز عاشورا شہید ہوئے۔ وہ اپنے زمانے کی شاعرات میں سے تھیں اور شاعر ان کی خدمت میں آتے اور اپنے اشعار پیش کرتے اور وہ اشعار کی خرابیوں کو بتاتی تھیں۔ نیز وہ راویان حدیث میں سے ہیں اور انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ حدیث نقل کی ہے:

حملة القران عرفاء اهل الجنة یوم القیامة
قرآن کے حاملین (اور عاملین) روز قیامت اہل جنت کے سردار ہیں۔
عاشورا کے واقعہ کے بعد سکینہ سے امویوں کے خلاف بہت سے ردِّ عمل منقول ہیں۔ مثلاً منقول ہے کہ جب مروان بن حکم امام علی علیہ السلام کو برا بھلا کہتا تو سکینہ اس کے سامنے کھڑی ہو جاتی تھیں۔ سکینہ جمعہ کے دن مکمل پردے میں خواتین اور خادموں کے ایک گروہ کے ساتھ نماز جمعہ کے لیے جاتی تھیں اور ابن مطیرہ (خالد بن عبدالملک بن حارث بن حکم) کے سامنے کھڑی ہو کر علی علیہ السلام کی بدگوئی کا جواب دیتی تھیں اور اسے برا بھلا کہتی تھیں۔ انہیں جرأت نہیں تھی کہ سکینہ سے براہ راست ٹکرائیں، لہٰذا انہوں نے ان کے ساتھیوں کو مارا پیٹا۔ مشہور روایت یہ ہے کہ انہوں نے عاشورا کے بعد دوسری شادی نہیں کی۔
ان کا ایک اہم کردار واقعہ کربلا کی روایت کرنا بھی ہے۔ وہ نقل کرتی ہیں کہ جب امام علیہ السلام نے دیکھا کہ اہل بیت اور تمام ساتھی شہید ہو چکے ہیں، تو رخصتی کے لیے خیمے میں آئے اور سکینہ اور دیگر خواتین کو سلام کیا۔
سکینہ نے کہا:
 "یا اَبِ! اَسْتَسْلَمْتِ لِلْمَوْتِ؟"
 (اے والد! کیا آپ موت کے آگے ہتھیار ڈال رہے ہیں؟)  
امام علیہ السلام نے فرمایا:
کَیْفَ لاَ یَسْتَسْلِمُ لِلْمَوْتِ مَنْ لاَ نَاصِرَ لَهُ وَ لاَ مُعِینَ؟
وہ شخص کیسے موت کو تسلیم نہ کرے جس کا کوئی یار و مددگار نہ ہو؟

امام کی شہادت کے بعد جب ہاشمی خواتین کو قید کیا گیا اور قیدیوں کے قافلے کو شہداء کے پاس سے گزارا گیا تو سکینہ اپنے آپ کو والد کے جسم پر ڈال کر انہیں گلے لگا لیں اور شدتِ غم سے بے ہوش ہو گئیں، اس حالت میں انہوں نے سنا کہ والد فرما رہے ہیں:
شِیعَتِی مَهْمَا شَرِبْتُمْ مَاءً عَذْباً فَاذْکُرُونِی  
أَوْ سَمِعْتُمْ بِغَرِیبٍ أَوْ شَهِیدٍ فَانْدُبُونِی

اے میرے شیعیو! جب بھی تم میٹھا پانی پیو تو مجھے یاد کرو، اور جب کسی غریب یا شہید کا ذکر سنو تو میرے لیے گریہ و ماتم کرو۔

سکینہ والد کے جسدِ مطہر کو چھوڑنے پر راضی نہ تھیں، یہاں تک کہ اعراب کے ایک گروہ نے انہیں زبردستی باپ کے بدن سے جدا کیا۔
نیز منقول ہے کہ جب قیدیوں کا قافلہ یزید کے محل میں لے جایا گیا تو اچانک سکینہ کی نظر یزید کے سامنے رکھے ہوئے والد کے سرِ مبارک پر پڑی، تو سکینہ نے چیخ مار کر کہا:
یَا عَمْتَاهْ إِنَّ یَزِیدَ یَنْکُثُ ثَنَایَا أَبِینَا بِقَضِیبِهِ
اے عمہ! یزید اپنی چھڑی سے ہمارے والد کے سامنے کے دانتوں کو نوچ رہا ہے۔
سکینہ نے مزید کہا:
وَالله مَا رَأَیْتُ أَقْسَی مِنْ یَزِیدَ وَ لاَ رَأَیْتُ کَافِراً وَ لاَ مُشْرِکاً شَرّاً مِنْهُ وَ لاَ أَفْجَی مِنْهُ
خدا کی قسم! میں نے یزید سے زیادہ سخت دل، اس سے بڑھ کر کوئی کافر یا مشرک اور اس سے زیادہ ظالم و جفا کار کوئی نہیں دیکھا۔

جب قیدیوں کا قافلہ مدینہ پہنچا تو سکینہ امام سجاد علیہ السلام کے گھر میں تھیں اور وہاں انہوں نے عزاء کی مجلس برپا کی۔
بعض نے امام حسین علیہ السلام کی بیٹیوں میں رقیہ اور فاطمہ صغریٰ کا بھی ذکر کیا ہے، لیکن منابع میں ان کا کوئی خاص نشان نہیں ملتا۔
رباب، امرؤ القیس کی بیٹی ہیں، جو سکینہ اور عبداللہ رضیع کی والدہ ہیں۔ رباب عقل، ادب اور جمال میں با فضیلت خاتون تھیں۔ امام حسین علیہ السلام نے رباب کے بارے میں فرمایا:
لَعَمْرُکَ أَنَّنِی لأُحِبُّ دَاراً  
تَحُلُّ بِهَا سَکِینَةُ وَ الرَّبَابُ  
أُحِبُّهُمَا وَ أَبْذُلُ فَوْقَ جَهْدِی  
وَ لَیْسَ لِعَاتِبٍ عِنْدِی عِتَابُ

تیری جان کی قسم! میں اس گھر سے محبت کرتا ہوں جس میں سکینہ اور رباب رہتی ہیں۔ میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں اور اپنی طاقت سے بڑھ کر ان پر خرچ کرتا ہوں، اور کسی ملامت کرنے والے کو مجھ پر ملامت کا حق نہیں۔

رباب امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد ہمیشہ غمگین اور زرد چہرے والی رہیں اور کبھی چھت کے نیچے نہیں گئیں یہاں تک کہ دنیا سے رخصت ہو گئیں۔ یہ خاتون عاشورا کے واقعہ کے صرف ایک سال بعد زندہ رہیں۔ (نقش زنان در حماسہ عاشورا، مزینانی، ص ۲۵۱-۲۲۴)۔
---
کیا شہر بانو، والدہ امام سجاد علیہ السلام، روز عاشورا کربلا میں موجود تھیں؟

شیخ صدوق نے کتاب عیون اخبار الرضا میں ایک حدیث نقل کی ہے جس کے مطابق یہ خاتون امام سجاد علیہ السلام کی ولادت کے وقت وفات پا چکی تھیں اور اصلاً واقعہ عاشورا میں موجود نہیں تھیں۔ (ہمان، ص ۲۵۴)۔

لیلا، والدہ حضرت علی اکبر علیہ السلام اور فرزند امام حسین کے بارے میں بھی یہی امر مذکور ہے اور غالباً وہ بھی اس وقت دنیا میں موجود نہیں تھیں۔ (ہمان، ۲۵۶)۔

آپ کا تبصرہ شامل کریں

قارئین کے تبصرے

کوئی تبصرہ موجودنہیں ہے
*
*

امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک