امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک

محرم الحرام میں عزاداری کے انسانی زندگی پر کیا اثرات ہیں؟

1 ووٹ دیں 05.0 / 5

محرم الحرام میں عزاداری کے انسانی زندگی پر کیا اثرات ہیں؟  
سخن: آیت اللہ محمد تقی مصباح یزدی کے عاشورائی دروس 
ترجمہ :یوسف حسین عاقلی
منبع: پایگاه فکر و فرهنگ مبلغ
 خلاصہ:
محرم کا مہینہ اورعاشورا کا دن کوئی واقعہ نہیں بلکہ ایک ثقافت ہے؛ جو اسلام ناب محمدی کے متن سے ابھری ہے اور جس نے اسلام کے جڑوں کو مضبوط کرنے، شاخوں کو پھلانے اور اس کے پھل و بار کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
 عاشورا کی تحریک کبھی کسی خاص وقت اور جغرافیہ میں محدود نہیں رہی، بلکہ ہمیشہ تشیع کو اس کی تحریکوں، جنبشوں اور حقیقی قیاموں کے ساتھ ساتھ بہت سی دوسری آزادی پسند تحریکوں کے لیے ظلم، کفر اور نفاق کے مراکز کے خلاف الہام کا ذریعہ رہی ہے۔
علماء اور مسلمان دانشوروں نے ہمیشہ ثقافت عاشورا کے کیان اور قلعہ کی حفاظت کے لیے نہ صرف اسے صدیوں تک بیان کیا ہے بلکہ اس کی بازسازی  و تعمیراور اس سے پیدا ہونے والی اقدار کی پاسداری بھی کی ہے۔ ہر عصر اور زمانے میں ثقافت عاشورا کے بلند مضامین اور مفاہیم کی بازسازی نے اس وقت کی ضروریات کے مطابق، معارف اور اسلام ناب کی ثقافت کی نشر و اشاعت جیسے مقدس اہداف کو آگے بڑھانے میں بہت گہرا اور تعمیری اثر ڈالا ہے۔ شیعہ تاریخ ان بازسازیوں کی صادق اور روشن گواہ ہے۔
مرحوم آیت اللہ مصباح یزدی کا کلام اگرچہ استحکام اور متانت کا حامل تھا، مگر اس میں ایک خاص بے پیرایگی بھی تھی، اور یہ اس شخصیت عظیم کی وجودی برکات سے صادر ہوتا تھا جس کی زبان قرآنی بیان، دل الٰہی عشق سے لبریز، اور جان حضرت ختمی مرتبت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہل بیت عصمت و طهارت علیہم السلام کی محبت و ارادت سے سرشار تھی۔

محرم الحرام میں عزاداری کے انسانی زندگی پر کیا اثرات ہیں؟

جو کچھ آپ آگے پڑھ رہے ہیں وہ آیت اللہ محمد تقی مصباح یزدی کے عاشورائی دروس کے سلسلے کا تیسرا حصہ ہے جو محرم ۱۴۲۱ میں ارشاد فرمایا گیا:
مَیں نے پہلے یہ سوال پیش کیا تھا جو نوجوانوں اور جوانوں کے ذہن میں قدرتی طور پر آتا ہے کہ:
 ہمیں محرم اور دیگر ایام میں سید الشہداء علیہ السلام کی عزاداری کیوں کرنی چاہیے؟ 
عرض کیا کہ یہ سوال خود چار ذیلی سوالوں میں تقسیم ہوتا ہے اور ان کے جوابات تفصیل سے دیے۔ جوابات کا حاصل یہ تھا کہ اگر واقعہ کربلا نے تاریخ اسلام میں تعیین کننده کردار ادا کیا ہے تو اس کی یاد کو زندہ رکھنا بھی ہمارے مستقبل کے لیے مؤثر ہو سکتا ہے۔ یعنی ان تمام جوابات میں ایک پیش فرض تھا اور وہ یہ کہ داستان کربلا کا اسلام اور مسلمانوں کے لیے تعیین کننده کردار رہا ہے۔

عاشورا کا اسلام کی بقا میں کردار

اب اگر کوئی سوال کرے کہ ہمیں کیسے معلوم ہو کہ داستان کربلا نے اسلام کی ترقی، اسلام کی بقا اور بالآخر انسانوں کی سعادت میں اتنا تعیین کننده کردار ادا کیا ہے اور کر سکتا ہے؟ اس بارے میں بھی جہاں تک ہماری وسعت اور وقت اجازت دے، بات کریں گے۔

جس بات پر دوست اور دشمن دونوں متفق ہیں وہ یہ ہے کہ داستان کربلا اگر انسانیت کی دنیا میں کوئی منفرد داستان نہیں ہے تو کم از کم بہت کم نظیر واقعات میں سے ہے۔
 البتہ ہم ائمہ اطہار علیہم السلام سے جو کچھ حاصل کیا ہے، اس کی بنیاد پر اس داستان کو منفرد سمجھتے ہیں اور عقیدہ رکھتے ہیں کہ اس جیسی داستان ماضی میں نہیں تھی اور مستقبل میں بھی نہ ہوگی۔
 لیکن احتیاطاً اور ان لوگوں کے سامنے جو فطری طور پر ہم سے دلیل و سند مانگتے ہیں اور اس بحث میں نہ پڑنے کے لیے، ہم کہتے ہیں کہ تمام مورخین اور تاریخِ بشر سے آشنا لوگوں کا اتفاق ہے کہ اگر واقعہ عاشورا منفرد نہیں ہے تو دنیا کے کم نظیر ترین واقعات میں سے ہے؛ ایسا واقعہ جو نہ تو وقوع کے معیار کے لحاظ سے، نہ مصیبت کی عظمت کے لحاظ سے، اور نہ ہی لوگوں میں اس کی یاد کی بقا اور اس پر مرتب ہونے والے سماجی اثرات کے لحاظ سے کسی دوسرے واقعے سے موازنہ کیا جا سکتا ہے۔ خود عزاداریوں کا یہ سلسلہ جو ہمارے ملک میں دیکھتے ہیں، ہمارے لیے ایک ہشدار اور بیدار کرنے والا عنصر ہو سکتا ہے کہ کوئی دوسرا واقعہ اس واقعے کے برابر نہیں ہے۔ ایسا واقعہ جس کے لیے اتنا وقت صرف ہوتا ہے، اتنا خرچہ ہوتا ہے اور اتنی آنسو بہائے جاتے ہیں، کس واقعے اور حادثے سے تشبیہ دی جا سکتی ہے؟

سید الشہداء علیہ السلام کے لیے عزاداری کی وسعت، اہمیت اور اثر

یہ عزاداریاں صرف ہمارے شہر اور ملک کے لیے مخصوص نہیں ہیں۔ شاید بہت سے لوگ گمان کریں کہ یہ عزاداریاں صرف قم، مشہد یا ایران کے دوسرے شہروں میں ہوتی ہیں؛ لیکن مَیں آپ کو بتاؤں کہ دنیا کے دور دراز ترین مقامات پر بھی ایام محرم اور صفر اور خاص طور پر روز عاشورا اسی طرح کے پروگرام منعقد ہوتے ہیں جو آپ اپنے شہر میں دیکھتے ہیں۔ نیویارک میں جو دنیا کے بڑے شہروں میں سے ہے، روز عاشورا پاکستانی، ایرانی، عراقی، لبنانی اور بعض دوسرے ممالک کے شیعوں کی طرف سے سینہ زنی کے دستے نکلتے ہیں جو تمام لوگوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کر لیتے ہیں۔ اس شہر کی سب سے بڑی سڑک لوگوں سے بھر جاتی ہے کہ آمد و رفت مشکل ہو جاتی ہے۔

شیعوں کے علاوہ، بہت سے سنی ممالک میں بھی اہل سنت کی طرف سے عاشورا کے ایام میں ایسی محفلیں منعقد ہوتی ہیں؛ یا اگر شیعہ جلسے منعقد کریں تو اہل سنت برادران خود کو ان میں شرکت کا پابند سمجھتے ہیں۔
 ہمارے بہت سے اہل سنت بھائی برصغیر (ہندوستان، بنگلہ دیش اور پاکستان) میں، جہاں ہندوستان میں مسلمانوں کی تعداد پورے ایران کی کل آبادی سے دوگنا ہے، اجر رسالت ادا کرنے کے طور پر اپنے اوپر سید الشہداء علیہ السلام کی عزاداری کی محفلوں میں شرکت کو واجب سمجھتے ہیں۔ کیونکہ قرآن میں ہے:

قُلْ لا أَسْئَلُکُمْ عَلَیْهِ أَجْراً إِلاَّ الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبیٰ (سورہ شوریٰ، ۲۳)

کہہ دو کہ میں اس (رسالت) پر تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا سوائے قرابت داروں سے محبت کے۔

اسی بنیاد پر وہ بھی اہل بیت علیہم السلام سے اظہار مودت کو اجر رسالت سمجھتے ہیں اور اسے اپنے ذمہ واجب شمار کرتے ہیں۔ اسی لیے جب سید الشہداء علیہ السلام کی عزاداری برپا ہوتی ہے تو وہ بھی اہل بیت علیہم السلام سے محبت اور اظہارِ تعلق اور اس ذمہ داری کو ادا کرنے کے لیے شرکت کرتے ہیں؛ بلکہ حتیٰ کہ بت پرست جو شریعت اسلام کے قائل نہیں ہیں، وہ بھی عزاداری سید الشہداء علیہ السلام کی برکات دیکھ کر عزاداری کی محفلیں منعقد کرتے ہیں اور ان کے لیے بہت سی نذریں دیتے ہیں۔ یہ وہ چیزیں ہیں جو پوری دنیا میں دکھائی دیتی ہیں اور کفار بھی جانتے ہیں کہ ایسے معاملات موجود ہیں۔ 
آپ دنیا میں کوئی ایسا واقعہ نہیں دکھا سکتے جس کا اتنا اثر ہو اور مختلف قوموں کو متاثر کیا ہو۔
اثر کی طوالت کے لحاظ سے، تیرہ سو سال سے زیادہ عرصے سے یہ اپنی تازگی اور طراوت برقرار رکھے ہوئے ہے اور گویا یہ واقعہ کل پیش آیا ہے اور لوگ آج بھی سوز و گداز کے ساتھ روتے ہیں اور سر و سینہ پیٹتے ہیں۔ شاید عزاداری کی کچھ دوسری رسومات ہوں جن کی تاریخ زیادہ پرانی ہو۔ ایک مثال جو دی جا سکتی ہے وہ عزاداری ہے جو مسیحی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سولی چڑھائے جانے پر کرتے ہیں۔ حضرت عیسیٰ علی نبینا و آله و علیہ السلام کے سولی چڑھائے جانے کی سالگرہ انہیں بہار کے ایام میں آتی ہے۔ البتہ ہم اعتقاد رکھتے ہیں کہ ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔

قرآن فرماتا ہے:
وَ ما قَتَلُوهُ وَ ما صَلَبُوهُ وَ لکِنْ شُبِّهَ لَهُمْ (سورہ نساء، ۱۵۷)
اور انہوں نے اسے قتل نہیں کیا اور نہ اسے سولی دی، بلکہ ان کے لیے مشتبہ کر دیا گیا۔

لیکن وہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سولی دی گئی، دفن کیا گیا اور تین دن بعد قبر سے نکل کر آسمان پر چلے گئے۔

لہٰذا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی سالگرہ سولی پر عزاداری کی محفلیں منعقد کرتے ہیں۔ مَیں ایک سال ویٹیکن میں تھا جو حضرت مسیح علیہ السلام کی عزاداری کی راتوں کے ساتھ مصادف تھا۔
 یہ تقریب روم کے بڑے گرجا گھر، سینٹ پیٹر کے گرجا گھر میں خود پوپ کی موجودگی میں منعقد ہوتی تھی اور پروگرام ایسے بنا کہ ہم نے بھی اس میں شرکت کی۔ ظاہر ہے کہ اس تقریب میں جس میں پوپ جو ایک عظیم عالمی شخصیت ہیں، شرکت کریں اور دنیا بھر سے اسے دیکھنے کے لیے لوگ جمع ہوں اور دنیا کے سب سے بڑے گرجا گھر میں منعقد ہو، وہ ایک شاندار تقریب ہوگی۔ 
اس تقریب میں سیاہ لباس پہنتے ہیں، شمعیں روشن کرتے ہیں اور مذہبی نغمے جو ہماری نوحہ خوانی سے ملتے ہیں، آہستہ سے پڑھتے ہیں۔
ایسی تقریب منعقد کرتے ہیں، لیکن یہ تمام تقریب ہمارے کسی عالم دین کی مجلس ترحیم کے برابر بھی رونق نہیں رکھتی۔ چونکہ حضرت مسیح علیہ السلام کی ولادت کو دو ہزار سال گزر چکے ہیں، اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس عزاداری کی تقریب کو منعقد کرنے کی تاریخ تقریباً دو ہزار سال پرانی ہے اور یہ تقریب اب بھی منعقد ہوتی ہے اور قابل احترام ہے۔ لیکن اسی طرح مدھم اور بہت معمولی انداز میں منعقد ہوتی ہے۔
 اگر آپ اس تقریب کا موازنہ قم یا تہران میں منعقد ہونے والی عزاداری کی کسی مجلس سے کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ مسلمانوں خصوصاً شیعیان کے اس عقیدت و محبت میں جو وہ دل کی گہرائیوں سے ظاہر کرتے ہیں، اور دنیا کے سب سے بڑے مذاہب کی طرف سے حضرت مسیح علیہ السلام کے لیے منعقد ہونے والی تقریب میں کتنا فرق ہے۔ بہرحال آپ خود بہتر جانتے ہیں اور محسوس کرتے ہیں کہ اس کے معیار کا موازنہ کسی دوسری تقریب سے نہیں کیا جا سکتا۔

ان باتوں میں تاریخ میں شیعیوں کی قربانیوں کو شامل کر لیں۔ یہ قربانیاں اس لیے تھیں کہ وہ یہ تقریبات منعقد کر سکیں اور سید الشہداء علیہ السلام کی قبر کی زیارت کو پہنچ سکیں۔ ہمیشہ ایسی تقریبات کا انعقاد اور اس حضرت علیہ السلام کی قبر کی زیارت اتنی آسان نہیں تھی۔

البتہ اب بھی زیادہ آسان نہیں ہے؛ لیکن وہ وقت تھا کہ اگر کوئی سید الشہداء علیہ السلام کی قبر کی زیارت کرنا چاہتا تھا تو اسے اپنی جان ہتھیلی پر رکھنی پڑتی تھی۔ عباسی حکومت کے افسران، خاص طور پر متوکل کے زمانے میں، اتنی سختی کرتے تھے کہ کسی کو جرئت نہیں ہوتی تھی کہ وہ حرم حسینی کے قریب پہنچ سکے۔ اور آخرکار سید الشہداء علیہ السلام کی قبر کو منہدم کر دیا، اس پر پانی بہا دیا اور زمین کو ہل چلا کر اس قبر کے آثار کو مکمل طور پر مٹا دیا۔ لیکن شیعہ اس لیے کہ وہ سید الشہداء علیہ السلام کی قبر کی زیارت کر سکیں، ہاتھ دینے، پاؤں دینے، جان دینے پر تیار تھے، لیکن جا کر قریب سے سلام ضرور کرتے تھے۔
ایسی چیز یقیناً تاریخِ بشر میں بے مثال ہے۔ اگر ہم ہر دوسرے پہلو سے کہیں کہ اس کا دوسرے واقعات سے مشابہت ہے، تو اس پہلو سے کسی دوسرے واقعے سے مشابہت نہیں رکھتی۔ کوئی واقعہ اس واقعے سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔

یقیناً یہ واقعہ اتفاقی نہیں ہے؛ یہ سچ ہے کہ خداوند متعال نے مومنین کے دلوں میں سید الشہداء علیہ السلام کے لیے محبت رکھی ہے اور اس معاملے میں ایک غیبی عنصر ہے، لیکن الٰہی کام عموماً ظاہری اسباب کے بغیر نہیں ہوتے؛ کبھی بغیر ظاہری اسباب کے کوئی کام ہو جائے تو وہ استثناء ہے۔ یہ اتفاقی نہیں تھا کہ شیعہ اس قدر شیدا ہوئے۔ یہاں تک کہ اہل سنت اور حتیٰ کہ بت پرستوں نے بھی اس کام کی برکات اور اثرات دیکھے ہیں۔ لیکن شاید سب سے اہم بات وہ سفارشیں تھیں جو خود پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ائمہ و اہل بیت علیہم السلام کی طرف سے پہلے ہی سے زیارت، بزرگداشت، عزاداری، رونے اور ماتمی تقریبات منعقد کرنے پر کی گئیں اور ان پر زور دیا گیا تھا۔

عجیب و غریب تاکیدیں 
یہاں تک کہ سید الشہداء علیہ السلام کو ایک بار سلام کرنے کا ثواب حج اور عمرہ کے برابر ہے۔ سلام جو حضور قلب اور صدق دل سے ادا ہو وہ حج مستحب کا ثواب رکھ سکتا ہے۔ زیارت سید الشہداء علیہ السلام کی فضیلت میں اتنا ثواب آیا ہے کہ کتابیں اس قسم کے مواد سے بھری پڑی ہیں۔ 
ائمہ اطہار علیہم السلام کے اس تقریب کی بزرگداشت میں اپنے کردار پر بھی توجہ فرمائیں۔ مثلاً وہ لوگ جو مرثیہ کہتے اور شعر پڑھتے تھے، انہیں بہت زیادہ صِلے دیتے، ان کی بڑی تعریف کرتے اور ان کی عزت کرتے تھے۔ عزاداری کے ایام میں اپنے گھروں میں عزاداری کی محفلیں منعقد کرتے، کسی شاعر کو دعوت دیتے، وہ آکر مرثیہ پڑھتا۔ چنانچہ زبانی سفارشیں، عملی سیرت، اور زیارت اور عزاداری کی بزرگداشت کے لیے ان تمام ثوابوں کا ذکر، اور آخر کار وہ محبت جو خدا نے پاک مومنوں کے دلوں میں رکھی ہے، اس واقعے کو تاریخِ بشر میں ایک منفرد واقعہ بنا دیا ہے۔

اچھا، ان سب کا انسانوں کی زندگیوں پر کیا اثر ہوا ہے؟ ہم اعتقاد رکھتے ہیں کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقام ائمہ اطہار علیہم السلام سے بالاتر ہے۔ پھر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات پر اس طرح عزاداری کیوں نہیں کرتے؟ جب کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقام تمام ائمہ اطہار علیہم السلام سے بالاتر ہے، تو ان کی زیارت اور عزاداری کے لیے اتنی سفارشیں کیوں نہیں آئیں؟ 
ہمارے بارہ معصوم امام ہیں، اگر ائمہ کی فضیلت کی بنیاد پر بات کریں تو خود انہوں نے فرمایا ہے کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام کا مقام سب سے بلند ہے۔ یہ درست ہے کہ ہم امیرالمؤمنین علیہ السلام کی شہادت پر بھی بہت عزاداری کرتے ہیں، لیکن اس کا موازنہ سید الشہداء علیہ السلام سے نہیں کیا جا سکتا۔

مصیبت حسین علیہ السلام میں کیا خاصیت ہے کہ اسے اتنی اہمیت دی گئی اور اتنی تاکیدیں کی گئیں؟ چھوڑیں ان روایات کو جو کہتی ہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام کے زمانے سے ذکر حسین علیہ السلام اور ان کی مصیبت پر رونا جاری تھا۔ ایسی روایات ہیں کہ تمام انبیاء، اولیاء اور آسمان کے فرشتوں نے سید الشہداء علیہ السلام کے لیے گریہ کیا ہے۔ یہ خاصیت جس کے بارے میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بزرگوار کے بارے میں فرمایا:

حُسَیْنُ مِنّی وَ أَنَا مِنْ حُسَیْن (بحارالانوار، ج ۴۳، ص ۲۶۱، باب ۱۲، روایت ۱)

حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں۔

اس کا کیا مطلب ہے؟ 
"حسین منی" کا مفہوم تو واضح ہے، لیکن
 "انا من حسین" 
بہت اہم ہے۔ یا وہ مشہور جملہ جو عموماً حسینیوں میں لکھا جاتا ہے اور اسی روایت سے ماخوذ ہے:

اِنَّ الْحُسَیْنَ ابنَ عَلِیٍّ فِی السَّماءِ أَکْبَرُ مِنْهُ فِی الاْرْضِ فَاِنَّهُ لَمَکْتُوبٌ عَنْ یَمینِ عَرْشِ اللّهِ مِصْباحُ هُدیً وَ سَفینَةُ نَجاة
بیشک حسین ابن علی آسمان میں زمین سے بڑے ہیں، کیونکہ وہ عرش الٰہی کے دائیں جانب ہدایت کا چراغ اور نجات کی کشتی کے طور پر لکھے ہوئے ہیں۔

حسین علیہ السلام ہدایت کا چراغ اور نجات کی کشتی ہیں۔ اچھا، ہمارے تمام امام علیہ السلام ہدایت کا چراغ رہے ہیں، سبھی نجات کی کشتی ہیں۔
 زیارت جامعہ میں پڑھتے ہیں کہ آپ سب نجات کی کشتی ہیں، جو آپ سے تمسک کرتا ہے نجات پاتا ہے، اور جو آپ سے دور اور پیچھے رہ جاتا ہے ہلاک ہو جاتا ہے۔ تمام اہل بیت علیہم السلام ایسے ہی ہیں۔ 
پھر حسین علیہ السلام میں کیا خاصیت ہے؟
بلاشبہ سید الشہداء علیہ السلام کی شخصیت اور حالات جو الٰہی تقدیر کے مطابق ان کی زندگی میں پیش آئے، نے ان کی زندگی اور خاص طور پر ان کی شہادت کو ایک خاصیت عطا کی ہے جس سے یہ برکات پیدا ہو سکتی ہیں۔ اسی طرح ہم اعتقاد رکھتے ہیں کہ تمام ائمہ اطہار علیہم السلام ایک نور ہیں؛ کوئی دوسرا امام بھی امام حسین علیہ السلام کی جگہ ہوتا تو یہی پروگرام انجام دیتا۔ اگر ائمہ علیہم السلام کے طرز عمل میں کوئی فرق نظر آتا ہے تو وہ ان کے وقت کے سماجی حالات کی وجہ سے ہے۔
 مثلاً امام حسن علیہ السلام نے پہلے جنگ کی اور پھر صلح کی۔ جو مشہور ہے کہ امام حسن علیہ السلام سید الشہداء علیہ السلام کے مقابلے میں صلح کے علمبردار تھے، اس کا یہ مطلب نہیں کہ اسلام کی دو قسم کی سلیقے اور دو طرح کی قرأتیں تھیں، ایک صلح پسند اور دوسری تشدد آمیز؛ نہیں، ہم اعتقاد رکھتے ہیں کہ اگر امام حسین علیہ السلام بھی امام حسن علیہ السلام کی جگہ ہوتے تو وہی کچھ کرتے جو امام حسن علیہ السلام نے کیا، اور اگر امام حسن علیہ السلام امام حسین علیہ السلام کے حالات میں ہوتے تو وہی کچھ کرتے جو امام حسین علیہ السلام نے کیا، اور باقی ائمہ علیہم السلام بھی اسی طرح۔

طریقوں اور طرز عمل میں فرق خاص سماجی حالات کی وجہ سے تھا جنہوں نے ان ذمہ داریوں کا تقاضا کیا۔ پس یہ خاص حالات تھے جو ابی عبد اللہ علیہ السلام کے لیے پیش آئے اور ایسا پس منظر فراہم کیا کہ انہوں نے تاریخِ بشر اور انسانوں کی راہنمائی میں ایسا کردار ادا کیا جو کسی دوسرے فرد کو میسر نہیں ہو سکا۔ انہی حالات نے ایسا طرز عمل متعین کیا؛ یا مذہبی زبان میں یہ الٰہی تقدیر تھی، خدا کی مرضی تھی۔ کیونکہ سماجی حالات بھی خدا کے ہاتھ میں ہیں، سب کچھ الٰہی ارادہ کی طرف منتهی ہوتا ہے۔ یہ دو باتیں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں؛ چاہے ہم کہیں کہ خدا نے امام حسین علیہ السلام کو یہ خاصیت عطا کی، یا یہ کہ ابی عبد اللہ علیہ السلام کی زندگی کے حالات نے ان خصوصیات کا تقاضا کیا۔ کیونکہ یہ حالات بھی خدا کی مرضی کے تابع ہیں اور اس کی تقدیر کے مطابق انجام پاتے ہیں۔

اب ہمیں دیکھنا چاہیے کہ سید الشہداء علیہ السلام کو یہ خاصیت کیسے حاصل ہوئی کہ وہ یہ برکات رکھ سکیں اور لوگ ان کی مصیبت میں عزاداری کے سائے میں اپنی دنیوی اور خاص طور پر اپنی اخروی مصلحتیں حاصل کر سکیں؛ کیونکہ مومن کے لیے دنیا آخرت میں کمال کے لیے ایک مقدمہ ہے اور حقیقی زندگی وہاں ہے۔ یہاں ایک جنینی دور ہے جو ہم گزار رہے ہیں۔

حقیقی زندگی موت کے بعد شروع ہوتی ہے، جیسا کہ فرمایا:


وَ إِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِیَ الْحَیَوَانُ (سورہ عنکبوت، ۶۴)

اور یقیناً آخرت کا گھر ہی حقیقی زندگی ہے۔

بہرحال، ہماری دنیوی اور اخروی مصلحتیں سید الشہداء علیہ السلام سے توسل، ان کی طرف توجہ، ان کے لیے عزاداری، ان کے لیے رونا اور ان سے اظہار ارادت کے سائے میں ہیں۔ آپ سب نے اس عزاداری سے حاصل ہونے والے معجزات اور کرامات کے بارے میں اتنا سنا ہے کہ مَیں جو بھی کہوں گے زیرہ کرمان پہنچانا ہوگا؛ اس لیے اس حصے میں نہیں پڑتا۔
یہاں تک کہ کیچڑ والی مٹی جو عزادارانِ سید الشہداء علیہ السلام پیشانی پر ملتے تھے، وہ حضرت آیت اللہ بروجردی رحمۃ اللہ علیہ کی بینائی کی شفا کا سبب بنی۔ یہ کہانی سب نے سنی ہے کہ آپ کو ایک آنکھ کی بیماری تھی جو علاج نہیں ہو رہی تھی۔ یہاں تک کہ ایام عاشورا میں بروجرد میں سینہ زنوں کا ایک دستہ آپ کے گھر آیا۔

مرحوم آیت اللہ بروجردی نے عزادارانِ حسینی کے چہرے اور سر پر لگی ہوئی کیچڑ میں سے کچھ اٹھا کر اپنی آنکھ پر لگایا تو ان کی آنکھ کا درد ٹھیک ہو گیا اور آخر عمر تک انہیں آنکھ کی کوئی تکلیف نہیں رہی اور بغیر شیشے کے باریک ترین خطوط پڑھ لیتے تھے اور یہ برکت اس کیچڑ کی تھی جو سید الشہداء علیہ السلام کی سینہ زنی کرنے والوں کے سر اور پیشانی سے گری تھی۔

ایسی کرامات اور معجزات بیشمار ہیں۔ آپ سب اس تقریب میں ایک آنسو جو بہاتے ہیں، اس کی نورانیت کو پہلے خود محسوس کرتے ہیں۔ جو حاجات پوری ہوتی ہیں اور بہت سی آفات و مصائب جو آپ سے ٹل جاتی ہیں اور آپ کو معلوم نہیں ہوتیں، وہ دوسرے مرحلے میں ہیں۔ ایک نکتہ جو پرانتز میں عرض کر رہا ہوں اور دعاؤں میں اس کی طرف اشارہ ہوا ہے، وہ یہ ہے کہ ہم اکثر صرف ان حاجات کو شمار کرتے ہیں جو ہم خدا سے مانگتے ہیں اور پوری ہو جاتی ہیں؛ لیکن ہمیں معلوم نہیں کہ کونسی مصیبتیں ہم پر وارد ہونے والی تھیں اور خدا نے ان مصیبتوں کو ہم سے ہٹا دیا اور ہمیں ان کا علم نہیں ہوتا؛ جبکہ سید الشہداء علیہ السلام کے نام کی برکت سے لوگوں پر جو برکات نازل ہوتی ہیں اس سے دس گنا زیادہ آفات اور مصیبتیں ان سے ہٹا دی جاتی ہیں اور ہمیں خبر نہیں ہوتی اور ہم انہیں شمار نہیں کرتے۔ اگر ایسا ہے تو کیا لوگوں کا اتنا رونے اور عزاداری کرنے پر اصرار کرنا بے جا ہے؟

آپ کا تبصرہ شامل کریں

قارئین کے تبصرے

کوئی تبصرہ موجودنہیں ہے
*
*

امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک