امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک

حق؛ امام حسین(ع) کے قیام کا محور

0 ووٹ دیں 00.0 / 5

حق؛ امام حسین(ع) کے قیام کا محور
مرجع بزرگوار تقلید حضرت آیت اللہ آقا مجتبی تہرانی 
محرم اور صفر سال 1386 
ترجمہ: یوسف حسین عاقلی
«و لاتلبسوا الحق بالباطل و تکتموا الحق و أنتم تعلمون» (بقره:42)
حق پر قائم ہونا اور حق تک پہنچنے کے راستے میں استقامت کا انحصار چار چیزوں پر ہے: حق کی تشخیص، حق تک پہنچنے کے لیے سیدھے راستے کی پہچان، اس راستے میں حق کی طرف حرکت، اور اس حرکت و سفر میں پائیداری۔ میری بحث کی بنیاد یہ ہے کہ حق کیا ہے؟ حق اور باطل کے درمیان تقابل کیسا ہے؟ باطل کیا ہے؟ 
پہلے میں معصومین (صلوات اللہ علیہم اجمعین) کی چند روایات کی طرف اشارہ کرتا ہوں۔ پھر ان کو امام حسین(ع) کی تحریک پر منطبق کروں گا۔
علی(ع) نے فرمایا: 
«قلیل الحق یدفع کثیر الباطل کما أن القلیل من النار یحرق کثیر الحطب» (غررالحکم:68) 
حق اگرچہ کم ہو، باطل اگرچہ زیادہ ہو، یہ اسے دفع کر دیتا ہے، پھر مثال دیتے ہیں کہ جیسے آگ اگرچہ کم ہو، لکڑیاں زیادہ ہوں، وہ سب کو ختم کر دیتی ہے۔ 
«الحق سیف علی أهل الباطل» (ایضاً) 
حق باطل کے خلاف ایک کاٹ دینے والا اسلحہ ہے۔ آخر کار باطل کو ختم کر دیتا ہے۔ پھر حضرت نے فرمایا: 
«الغالب بشر مغلوب» (ایضاً: 106)
 وہ شخص جو بظاہر باطل کا سہارا لے کر نام نہاد غلبہ حاصل کر لیتا ہے، جان لو کہ وہ جلد مٹ جائے گا۔ 
«من یطلب العزه بغیر حق یذل» (کافی8: 20) 
جو شخص حق کے سوا کسی اور راستے سے عزت حاصل کرنا چاہے وہ ذلیل ہو جاتا ہے۔ 
اس سے پہلے کہ میں اپنی بحث میں داخل ہوں، مدینہ سے حسین(ع) کی تحریک پر ایک اجمالی نظر ڈالتا ہوں۔ معاویہ مر گیا، یزید نے مدینہ کے والی کو خط لکھا کہ امام حسین(ع) سے بیعت لے۔ اس نے بھی امام حسین(ع) کو طلب کیا۔ یہ پہلا ٹکراؤ ہے جو امام حسین(ع) - جو حق کا مظہر ہیں - کا باطل کے مظہر کے ساتھ ہوتا ہے۔ میں امام حسین(ع) کی گفتگو سے آغاز کرنا چاہتا ہوں۔ 

پس حسین(ع) نے فرمایا: 
«یا کذا قد علمت أنا أهل بیت الکرامه و معدن الرساله و اعلام الحق»
 یہ ہماری نشانیاں ہیں۔ یہیں سے حق کا آغاز کیا۔ 
«الذین أودعه الله عز و جل قلوبنا و أنطق به ألسنتنا و نطقت باذن الله عزوجل»
 ہم وہ ہیں جن کے دلوں میں خداوند عالم نے حق کو ودیعت کیا ہے۔ ہم حق کے ساتھ کلام کرتے ہیں۔ آپ نے باطن سے لے کر ظاہر تک کا تذکرہ کیا۔ حق میرے دل میں ہے۔ حق میری زبان پر ہے۔ حق میرا پیکر ہے۔ «أعلام حق»! اسی پہلی نشست میں۔ ایک روایت میں ہے کہ 
«ثم أقبل علی

 (وہی ولید جو مدینہ کا والی تھا)

فقال أیها الأمیر نا أهل بیت النبوه و معدن الرساله و مختلف الملائکه و بنا فتح الله و بنا ختم الله و یزید رجل فاسق
 (حق اور باطل کا مقابلہ بیان فرما رہے ہیں)
 شارب الخمر، قاتل النفس الحرمه، معلن بالفسق و مثلی لایبایع مثله و لکن نصبح و تصبحون و ننظر و تنظرون أینا أحق بالبیعه و بالخلافه ثم خرج علیه السلام» (لہوف:22)
 جاؤ سوچو کہ حق کہاں ہے میں بھی جا کر سوچتا ہوں۔ حسین(ع) نے بالآخر مدینہ سے مکہ کی طرف جانے کا فیصلہ کر لیا۔ اپنے بھائی محمد بن حنفیہ کے نام ایک وصیت نامہ لکھتے ہیں:
 «اشهد أن لا له لا الله وحده لاشریک له و اشهد أن محمدا عبده و رسوله جاء بالحق (یعنی پیغمبر) من عند الحق و أن الجنه و النار حق»
 (دیکھیے اسی طرح تاکید کر رہے ہیں)... 
«فمن قبلنی بقبول الحق فالله أولا بالحق و من رد علی هذا أصبر حتی یقضی الله بینی و بین القوم بالحق و هو خیر الحاکمین» (بحارالانوار44 :329) 
آپ دستبردار نہیں ہوتے۔ ہم جتنا بھی دیکھتے ہیں، یہی پاتے ہیں کہ حسین(ع) اسی محور پر ہیں۔ پھر حضرت مکہ کی طرف جاتے ہیں۔ وہاں پہنچتے ہیں تو بارہ ہزار خطوط آتے ہیں۔ 
ایک خط وہ ہے جو سلیمان بن صرد، مسیب، رفاعہ بن شداد اور حبیب بن مظاہر نے لکھا ہے۔ خط مفصل ہے، اس کا ایک جملہ میں پڑھتا ہوں۔ لکھتے ہیں: 
«لیس علینا امام فأقب ل لعل الله أن یجمعنا معک علی الحق» (ایضاً: 334) 
آئیے ہمیں حق پر جمع کیجیے۔ محور حق ہے، اس کے گرد گھومنا ہے۔ امام حسین(ع) مسلم بن عقیل کو کوفہ بھیجنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ حضرت مسلم کے نام ایک خط لکھتے ہیں۔ خط میں یہ ہے کہ: 
«اما بعد فن هانی و سعیدا قدما ألی بکتبکم»،
 ہانی اور سعید دو قاصد تھے جو تمہارے خطوط میرے پاس لائے، 
«و کانا آخر من قدم علی من رسلکم» 
یہ آخری خط تھا جو مجھے موصول ہوا 
«فقد فهمت کل الذی اقتصصتم»، 
جو کچھ تم نے لکھا تھا ان تمام مضامین سے میں آگاہ ہو گیا۔ 
«أنه لیس علینا امام فاقبل لعل الله أن یجمعنا معک علی الحق و الهدی»
 وہ جملہ جو حبیب کے خط میں تھا بعینہ وہی اس خط میں استعمال کیا ہے۔
 «لیس علینا امام فاقبل لعل الله أن یجمعنا معک علی الحق»، 
فرماتے ہیں کہ میں نے سب کو پڑھا، ان میں سے جو نچوڑ میں نے نکالا جو کہ حق ہے وہ یہ ہے؛
 «لیس علینا امام ... .» «فلعمری بخدا قسم «من امام الحاکم بالکتاب القائم بالقسط الدائن بدین الحق الحابس نفسه علی ذات الله و السلام» (ایضاً: 335) 
اجمالی نظر سے دیکھا جائے تو پہلی ملاقات حق ہے، تحریک کا آغاز کرنا حق ہے۔
 خطوط آتے ہیں۔ جب جواب دینا چاہتے ہیں، جب فیصلہ کرنا چاہتے ہیں تو وہ بھی حق ہے۔پس اس لیے امام حسین(ع) کے لیے جو چیز مرکزی اہمیت رکھتی تھی، وہ حق کا قیام، حق کی طرف پیش قدمی اور اس راستے میں استقامت دکھانا تھا۔

آپ کا تبصرہ شامل کریں

قارئین کے تبصرے

کوئی تبصرہ موجودنہیں ہے
*
*

امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک