قرآن کے نقطہ نظر سے اسلامی مزاحمت کو مضبوط بنانے میں قومی عزم کا کردار
-
- شائع
-
- مؤلف:
- مصنف: محمد علی محمدی-مترجم: یوسف حسین عاقلی
- ذرائع:
- مضمون کا ماخذ: جریدہ: مجموعہ مقالات ہمایش ملی مقاومت اسلامی از نگاه قرآن کریم
مصنف: محمد علی محمدی
مترجم: یوسف حسین عاقلی
کلیدی الفاظ: 11264
خلاصہ
قرآن کریم کی آیات سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ «اسلامی استقامت» اور «قومی عزم» بنیادی مفاہیم میں سے ہیں جن پر اسلامی معاشرے کا استحکام منحصر ہے۔ اسلامی مزاحمت (مقاومت) کا قومی عزم کے ساتھ ہم آہنگ ہونا، جس کا مطلب ہے حق کے راستے پر ناہمواریوں کے مقابلے میں ثبات قدمی، اور قومی عزم، جس کا مطلب ہے کسی معاشرے کے تمام افراد کا کاموں کو انجام دینے اور مسائل حل کرنے کے لیے سنجیدہ عزم، بے شمار ثمرات رکھتا ہے جن کی وضاحت اسلامی حکومت کو مضبوط بنانے میں بنیادی کردار ادا کر سکتی ہے۔ اس اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے، پیش نظر تحریر میں قرآنی نگاہ سے قومی عزم کی بنیاد پر مزاحمت کے ثمرات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ یہ تحریر اس نظریے پر قائم ہے کہ «قومی عزم اور اسلامی استقامت کے درمیان مضبوط رشتہ ہے جس میں سے ہر ایک کی مضبوطی دوسرے کی مضبوطی کا باعث بنتی ہے۔» تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ قومی عزم اور اسلامی مزاحمت کا ہم آہنگ ہونا ثقافتی، معاشی، سیاسی اور فوجی ثمرات رکھتا ہے اور اسلامی مزاحمت، قومی عزم کے بغیر، مطلوبہ کارآمدی نہیں رکھتی۔
a. تعارف
سیاسی اور سماجی علوم کے دو شعبوں میں اہم مباحث میں سے ایک قومی عزم ہے جس کا حصول افراد اور معاشروں کی دنیوی اور اخروی ترقی کی راہ میں بے شمار فوائد رکھتا ہے۔ مادی اور معنوی جامع ترقی میں معاونت (یوسف: ۴۷)، بیرونی اور اندرونی دشمنوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ (آل عمران: ۱۵۲)، عمومی اتحاد و یکپارچگی، سخت اور نرم طاقت میں اضافہ (آل عمران: ۱۸۶)، فردی اور اجتماعی ارادے کی مضبوطی (طه: ۱۱۵، لقمان: ۱۷)، قومی عزم کے آثار میں سے ہیں جو قرآن سے مستفاد ہیں۔ اسلامی پائداری بھی فرد اور معاشرے دونوں شعبوں میں اثر انگیز مباحث میں سے ہے اور فرد اور معاشرے پر اس کے شگرف آثار ہیں، استقامت کے بعض آثار جن پر قرآن میں بھی تاکید ہوئی ہے درج ذیل ہیں: سکون (فصلت: ۳۰)، خدائی امداد (فصلت: ۳۱)، دشمنوں پر فتح (بقره: ۲۴۹-۲۵۱)، کامیابی (انفال: ۴۵)، خدا کی محبت کا حصول (آل عمران: ۱۴۶ و ۱۴۸)، فرشتوں کی بشارت (فصلت: ۳۰) وغیرہ۔
اس مقالے میں جس مسئلے پر بحث کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ «قومی عزم» اور «اسلامی استقامت» کی مضبوطی کے درمیان کیا تعلق ہے؟ کیا قرآن کریم کی آیات ہمیں ان دونوں کے مابین معنی خیز تعلق کی راہنمائی کرتی ہیں؟ اس مسئلے کے ساتھ ساتھ دیگر مسائل بھی سامنے آتے ہیں جن میں شامل ہیں: یہ دونوں تصورات ایک دوسرے پر کیسے اثر انداز ہو سکتے ہیں؟ ہر ایک کے دوسرے پر کیا آثار ہیں؟
b. مفهوم شناسی
«عزم» لغت میں «مضبوط فیصلہ» کے معنی میں ہے اور اس جگہ استعمال ہوتا ہے جہاں شخص کسی کام کے کرنے کا قطعی فیصلہ کر لے۔ (طريحی، ۱۳۷۵، ج ۶، ص ۱۱۳) اور کبھی کبھی ہر یقینی امر (فراهیدی، ۱۴۰۹ق، ج۱، ص ۳۶۳) اور ہر مضبوط چیز کو بھی عزم کہا جاتا ہے۔ (ابن منظور، ۱۴۱۴ق، ج۱۲، ص ۳۹۹)۔ راغب اصفہانی کے مطابق، عزم سے مراد دل کا کام کو انجام دینے اور ختم کرنے کا فیصلہ ہے۔ (راغب، ۱۴۱۲ق، ص ۵۶۵) اولوالعزم پیغمبر، مضبوط اور زیادہ قوی ارادے کے حامل تھے اور ان میں خاص خصوصیت تھی۔ (طريحی، ۱۳۷۵، ج۶، ص ۱۱۳۔ طبرسی، ۱۳۷۲، ج۹، ص۱۴۳)
ملی فارسی زبان میں یعنی قوم سے منسوب، قوم کا طرفدار اور حامی، وہ جو قوم کے اختیار میں ہو (دهخدا، ۱۳۴۱، ص۲۰۶۳۔ معین، ۱۳۸۱، ج۲، ص ۱۸۱۸) قوم کا طرفدار، قوم کا حامی (معین، ایضاً)۔
ملت (قوم) موجودہ اصطلاح میں افراد کے اس مجموعے کو کہتے ہیں جو درج ذیل تمام یا اکثر عوامل یعنی نسل، سرزمین، زبان، ثقافت اور تاریخ، عقائد اور عالمگیر نظریے میں اشتراک کی وجہ سے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہوں اور مشترک تعلق اور شناخت کا احساس رکھتے ہوں (شیخ شعاعی، ۱۳۸۶، ص۱۱) بعض نے ملت کے تصور میں معلوم جغرافیائی فریم کو شامل کیا ہے اور خیال کیا ہے کہ جب بھی کوئی آبادی حتیٰ کہ عادات، زبان اور مذہبی عقائد میں اختلاف کے باوجود ایک معین و مشخص جغرافیائی فریم میں ایک دوسرے کے ساتھ پرامن ہم زیستی رکھتی ہو اور اپنے معاشرے کی بلندی کے لیے کوشاں ہو تو بین الاقوامی قانون کے اعتبار سے وہ ایک ملت تشکیل دیتی ہے۔ (بابایی زارچ، ۱۳۸۳، ص ۳۲-۳۱) لیکن ملت کے تصور میں جغرافیائی فریم موجود نہیں بلکہ جب اسے ملک (کشور) کے ساتھ شامل کیا جائے تو اس وقت جغرافیائی فریم سمجھ میں آتا ہے۔ جو چیز ملت کے تصور کو استحکام دیتی ہے وہ معاشرہ اور مجموعہ ہے جو ایک یا چند عوامل یعنی زبان، ثقافت، سرزمین، عقائد وغیرہ کی وجہ سے مشترک شناخت رکھتے ہیں۔ اسی لیے ملتِ مسلمہ، ملتِ شیعہ، ملتِ ترک، ملتِ بلوچ، ملتِ کفر وغیرہ کا استعمال ہوتا ہے اگرچہ وہ ایک ملک میں نہ ہوں۔
مجموعی طور پر «قومی عزم» سے مراد کسی معاشرے کے تمام افراد کا کاموں کو انجام دینے اور مسائل حل کرنے کے لیے سنجیدہ فیصلہ ہے جس کا نتیجہ ملک کی ترقی اور معاشرتی مسائل کے حل میں تیز رفتار تبدیلی ہو گی اور امام خامنہ ای کے ارشاد کے مطابق: ایک قوم جب تک راسخ عزم نہ رکھے، کہیں نہیں پہنچ سکتی.... (بیانات في حرم مطهر رضوی، ۱۳۹۳/۰۱/۰۱)
قومی عزم کی اصطلاح مغربی اصطلاحی مفہوم میں پہلی بار ژاں ژاک روسو[1] نے پیش کی۔ (رشيد و مرادى، ۱۳۹۱، ص۱۰۷)
انہوں نے قومی عزم کے لیے National Will کا لفظ استعمال کیا ہے۔ لیکن مذکورہ لفظ قومی ارادے کے معنی میں ہے۔ دیگر مغربی مفکرین نے عموماً قومی عزم کو اجتماعی ارادے (اراده همگانی) کا مترادف قرار دیا ہے۔
آج کل «قومی عزم» کے لیے National determination کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔
مغربی مفکرین نے قومی عزم کی چند تعریفیں پیش کی ہیں، بہترین تعریف پیٹر پیس Peter Pace[2] نے اس طرح پیش کی ہے: «لوگوں کا کسی مشترک ہدف اور مقصد تک پہنچنے یا دشمن کے مقابلے میں ثابت قدم رہنے کے لیے عقائد اور صلاحیت کو قبول کرنا» (ایضاً)
مزاحمت (مقاومت) فارسی زبان میں پائداری کرنا، مقابلہ کرنا، ثابت قدم رہنا، استقامت ورزیدن اور اصرار کرنے کے معنی میں ہے۔ (دهخدا، ۱۳۴۱، ج۲۹، ذیل لفظ مقاومت)
اس لفظ کی جڑ «ق۔و۔م» ہے اور مقاومت باب مفاعلہ کا مصدر ہے جو عربی میں مقابلہ کرنے، صبر، برداشت، دفاع کرنے اور دوسروں کے مقابلے میں ثابت قدم رہنے کے معنی میں آتا ہے۔ (ابن منظور، ۱۴۱۴ق، ج۱۲، ص۴۹۸؛ طريحی، ۱۳۷۵، ج۶، ص۱۴۸؛ شفيعینيا، ۱۴۳۲ق، ص۳۴)
مزاحمت جب اسلامی لفظ کے ساتھ شامل ہو تو اس سے مراد دین اور حق کی راہ پر ہر ناحق، کجی اور ناانصافی کے مقابلے میں ثبات ہے۔ جیسا کہ استقامت قرآن کے تصور میں بھی دین میں ثبات اور حق کے راستے پر کجیوں کے مقابلے میں پائداری ہے۔ (رک: ابن عربی، ] بے تا [ ، ج۲، ص۲۱۷)
c. پیشینہ
کوئی کتاب یا مقالہ جو قومی عزم اور اسلامی مزاحمت کے تعلق کا تجزیہ کرتا ہو، نہیں ملا البتہ «قومی عزم» یا «اسلامی مزاحمت» کے موضوع پر مقالات اور کتابیں موجود ہیں جن میں شامل ہیں:
کتاب تحليلي بر مسئله اقتصاد و فرهنگ با عزم ملي و مديريت جهادي، نوشته عبدالمجيد دشتي برازجاني، انتشارات كريمه اهل بيت (ع)، ۱۴۴ صفحه
مقاله «ابعاد فرهنگ و مدیریت جهادی در تحقق اقتصاد مقاومتی در نیروی انتظامی، داود دعاگویان، لطف علی بختیاری فصلنامه پژوهش های مدیریت انتظامی، سال دوازدهم شماره ۱ (بهار ۱۳۹۶)، صص ۱۱۹ -۱۳۶
کتاب ايران ۱۴۲۷: عزم ملي براي توسعهي علمي و فرهنگي، نوشته رضا منصوری، ۳۰۹ صفحه
کتابهایی در موضوعِ« مقاومت اسلامی لبنان»، «مقاومت مردم فلسطین»، «مقاومت ایران در نبرد» وغیرہ۔ مذکورہ کتابوں اور مقالات میں سے کسی نے بھی قومی عزم اور اسلامی مزاحمت کے تعلق کی وضاحت نہیں کی ہے۔
d. قومی عزم اور اسلامی استقامت قرآن کی تعلیمات میں
قرآن کریم میں مادۂ عزم نو مرتبہ دہرایا گیا ہے جن میں بعض مقامات پر بڑے پیغمبروں (أحقاف: ۳۵) خصوصاً رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ) (آل عمران: ۱۵۹) کے بارے میں اور بعض موارد میں لقمان کے اپنے بیٹے کو نصیحت (لقمان: ۱۷) اور نکاح (بقره: ۲۳۵) اور طلاق (بقره: ۲۲۷) کے بارے میں مطالب آئے ہیں۔
لفظ ملت قرآن میں کئی بار آیا ہے۔ (رک: بقره: ۱۳۰ و ۱۳۵، آل عمران: ۹۵، نساء: ۱۲۵، انعام: ۱۶۱، يوسف: ۳۷-۳۸، نحل: ۱۲۳، حج: ۷۸، ص: ۷ و اعراف: ۸۸-۸۹) لیکن اس کا قرآنی مفہوم فارسی اصطلاح سے مختلف ہے۔ قرآن کریم میں ملت سے مراد آئین اور طریقہ ہے اور ملت کو بطور سیاسی اصطلاح اس لفظ کے ہم معنی نہیں سمجھا جا سکتا۔ لفظ امت بھی قرآن میں آیا ہے (رک: بقره: ۱۲۸ و ۱۳۴ و ۱۴۱ و ۱۴۳ و ۲۱۳، آل عمران: ۱۰۴ و ۱۱۳ و…) جس سے بعض آیات میں وہ گروہ مراد ہے جو مشترک عقائد کی پیروی کرتے ہیں؛ جیسے ابراہیم (علیہ السلام) اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ) کے پیروکار اور اہل کتاب؛ لیکن امت کا اصل مفہوم وہ گروہ ہے جسے کسی ایک امر نے جمع کیا ہو۔ مذکورہ امر دین، زمانہ یا ایک جگہ ہو سکتا ہے۔ نیز وہ جبری یا اختیاری بھی ہو سکتا ہے۔ (راغب، ۱۴۱۲ق، ص ۸۵) لفظ قوم بھی قرآن میں بہت استعمال ہوا ہے (رک: يونس: ۹۸؛ هود: ۸۹؛ أنبياء: ۷۴؛ فرقان، ۳۷؛ شعراء: ۱۱؛ دخان: ۱۷؛ ذاريات: ۴۶؛ نجم: ۵۲) یہ لفظ امت کے مقابلے میں ملت کو بطور سیاسی اصطلاح کے زیادہ قریب ہے۔ اگرچہ بعض موارد میں امت اور قوم کے معنی تقریباً برابر ہیں، لیکن قرائن موجود ہیں کہ قوم معنی کے اعتبار سے امت سے وسیع تر ہے؛ جیسے: «من قوم موسي امة» (اعراف: ۱۵۹)
مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ اگرچہ لفظ ملت اپنے سیاسی اصطلاحی مفہوم میں قرآن میں نہیں آیا لیکن امت اور قوم کے الفاظ بعض موارد میں ملت کی موجودہ اصطلاح کا تصور دلا سکتے ہیں۔
لفظ «مقاومت» بھی قرآن میں نہیں آیا لیکن استقامت کے فعلی اور اسم فاعلی صیغے قرآن کریم میں ۴۷ مرتبہ استعمال ہوئے ہیں (جن میں سے رک: فصلت: ۳۰۔ احقاف: ۱۳۔ جن: ۱۶)۔ نیز ثبات (انفال: ۱۲ و ۴۵۔ بقره: ۲۵۰۔ ابراهیم: ۱۴)؛ صبر (آل عمران: ۲۰۰۔ اعراف: ۱۳۷۔ نحل: ۱۱۰)، عزم (آل عمران: ۱۸۶۔ لقمان: ۱۷) یہ مزاحمتی مفاہیم ہیں جو قرآن میں آئے ہیں۔
قرآن کریم کی بعض آیات «قومی عزم» اور «اسلامی مزاحمت» کے ہم آہنگی اور ہم افزائی پر دلالت کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر، خداوند سورہ آل عمران کی آخری آیت میں ارشاد فرماتا ہے:
«يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اصْبِرُوا وَ صابِرُوا وَ رابِطُوا وَ اتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ»؛ (آل عمران: ۲۰۰)
اے ایمان والو! صبر کرو اور (دشمنوں کے مقابلے میں) صبر کرو اور سرحدوں کی حفاظت کرو اور اللہ سے ڈرو، امید ہے کہ تم کامیاب ہو جاؤ۔
اس مقدس آیت میں چند احکام دیئے گئے ہیں جن پر عمل قومی عزم اور اسلامی استقامت کے ہم آہنگی اور تعاون کے سائے میں ممکن ہے اور اس کا نتیجہ معاشرے کی فلاح و کامیابی ہے۔ مذکورہ احکام درج ذیل ہیں: ۱- «اصبروا» یعنی حوادث کے مقابلے میں استقامت، صبر اور ثبات ۲- «صابروا» یہ "مصابره" (باب مفاعلہ) سے ہے جس کے معنی دوسروں کے صبر و استقامت کے مقابلے میں صبر و استقامت، اور دوسرے الفاظ میں اجتماعی اور گروہی استقامت (مکارم شيرازی و ديگران، ۱۳۷۵، ج۳، ص ۲۳۴) ہے جو مسائل کے مقابلے میں قومی عزم اور اجتماعی استقامت ہے۔ یعنی اگر دشمن مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے لیے صبر کرنے والے ہیں تو مسلمانوں کو چاہیے کہ مضبوط عزم کے ساتھ ان کے صبر کے مقابلے میں زیادہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں تاکہ فتح پائیں۔ (ابن عاشور، ۱۴۲۰ق، ج۳، ص ۳۱۸۔ فضل الله، ۱۴۱۹ق، ج۶، ص ۴۷۵) مذکورہ مصابره اور مزاحمت میں تمام ثقافتی، سماجی، سیاسی اور معاشی میدان شامل ہیں۔ (صادقی تهرانی، ۱۳۶۵، ج۶، ص ۱۳۸) اور مومنین صرف اسلامی امت کی استقامت اور قومی عزم کے ذریعے اس الٰہی حکم پر عمل کر سکتے ہیں۔ ۳- «رابطوا»، اور اس کا مصدر یعنی مرابطہ کے معنی سرحدوں کی نگرانی کے آئے ہیں۔ "مرابطہ" کا وسیع مفہوم ہے جو اپنے اور اسلامی معاشرے کے دفاع کے لیے ہر قسم کی تیاری کو شامل کرتا ہے۔ یہ تصور بھی اجتماعی اور عمومی حکم ہے اور اسلامی امت کی استقامت کے ذریعے قومی عزم کے سائے میں حقیقی مرابطہ تک پہنچا جا سکتا ہے۔ (ابن عاشور، ۱۴۲۰ق، ج۳، ص ۳۱۸) بعض روایات میں علماء اور دانشوروں کو بھی "مرابط" کہا گیا ہے۔ کیونکہ وہ اسلامی عقائد اور ثقافت کے محافظ ہیں؛ جبکہ زمینی سرحدوں کے محافظ جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہیں، (طبرسی، ۱۴۲۱ق، ج، ص ۱۷)
یقیناً جس قوم کے عقیدتی اور ثقافتی سرحدوں پر دشمن حملہ کرے اور وہ اچھی طرح ان کا دفاع نہ کر سکے تو وہ مختصر مدت میں سیاسی اور فوجی طور پر بھی شکست کھا جائے گی۔ پس ثقافتی جہاد میں قومی عزم زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ مرابطہ اس وقت اپنے حقیقی معنی و مفہوم کو پا سکتا ہے جب جنگ اور عبادت گاہ اور تمام میدانوں میں اس کی طرف توجہ دی جائے۔ (صادقی تهرانی، ۱۳۶۵، ج۶، ص ۱۳۸)
آل عمران کی آیت ۱۵۲ بھی ان آیات میں سے ہے جو قومی عزم اور اسلامی استقامت کے درمیان گہرے تعلق کی بات کرتی ہے۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی استقامت اور ان کے قومی عزم کے درمیان دو طرفہ تعلق ہے، جہاں قومی عزم کمزور ہو، وہاں قوم کی مزاحمت بھی آسانی سے ٹوٹ جاتی ہے اور جہاں قوم کا عزم مضبوط اور پختہ ہو، وہاں قومی مزاحمت فتح کا باعث بنتی ہے:
«وَ لَقَدْ صَدَقَكُمُ اللَّهُ وَعْدَهُ إِذْ تَحُسُّونَهُمْ بِإِذْنِهِ حَتَّي إِذا فَشِلْتُمْ وَ تَنازَعْتُمْ فِي الْأَمْرِ وَ عَصَيْتُمْ مِنْ بَعْدِ ما أَراكُمْ ما تُحِبُّونَ مِنْكُمْ مَنْ يُريدُ الدُّنْيا وَ مِنْكُمْ مَنْ يُريدُ الْآخِرَةَ ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ لِيَبْتَلِيَكُمْ وَ لَقَدْ عَفا عَنْكُمْ وَ اللَّهُ ذُو فَضْلٍ عَلَي الْمُؤْمِنينَ»؛ (آل عمران: ۱۵۲)
یہ آیات نبرد سرنوشتساز احد کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ (زمخشری، ۱۴۰۷ق، ج۱، ص ۴۲۷۔ طبرسی، ۱۳۷۲، ج۲، ص ۸۵۸) تفسیری اور تاریخی رپورٹوں کے مطابق (ایضاً، ایضاً) نبرد احد کے آغاز میں جب مسلمانوں نے مضبوط عزم کے ساتھ حملہ آوروں کے مقابلے میں مزاحمت کی تو انہیں فتح حاصل ہوئی لیکن جب ان کا راسخ اور اجتماعی عزم کمزوری اور فردی مال اندوزی کی طرف مائل ہوا تو صورتحال بدل گئی اور مسلمانوں کو سخت شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
سورہ ہود کی آیت ۱۱۲ بھی قومی عزم اور اسلامی استقامت کے ہم آہنگی اور باہمی تعاون پر دلالت کرتی ہے۔ خداوند اس آیت میں ارشاد فرماتا ہے: «فَاسْتَقِمْ كَما أُمِرْتَ وَ مَنْ تابَ مَعَكَ ...؛ پس اسی طرح جیسا کہ تمہیں حکم دیا گیا ہے، استقامت کرو اور وہ لوگ بھی جو تمہارے ساتھ (خدا کی طرف) آئے ہیں (انہیں بھی استقامت کرنی چاہیے)»
عمومی استقامت جو اس آیت میں تمام مومنین سے طلب کی گئی ہے، صرف قومی عزم کے ذریعے قابل حصول ہے۔
خداوند متعال نے آیت ۱۸۶ سورہ آل عمران میں مومنین کو یاد دہانی کرائی ہے کہ الٰہی سنت «ابتلاء» سب کو شامل ہے اور وہ آزمائے جائیں گے۔ پھر انہوں نے یہودیوں کی بعض باتوں کی طرف اشارہ کیا ہے جو مومنین کے عزم کو نقصان پہنچا سکتی ہیں اور اس نکتے پر تاکید کی ہے کہ مومنین اہل کتاب اور کافروں سے بہت سی آزار دہ باتیں سنیں گے اور پھر ارشاد فرماتا ہے:
«وَ إِنْ تَصْبِرُوا وَ تَتَّقُوا فَإِنَّ ذلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ» (آل عمران: ۱۸۶)
پس مومنین پر لازم ہے کہ صبر اور الٰہی تقویٰ اختیار کریں تاکہ خداوند انہیں لغزشوں سے بچائے اور وہ راسخ عزم اور قوی ارادے کے حامل ہو جائیں۔ (طباطبایی، ۱۴۱۷ق، ج۴، ص۸۴) اس آیت میں قومی عزم اور اسلامی استقامت کا ہم آہنگ ہونا بخوبی عیاں ہے۔
سورہ محمد (ص) کی آیت ۲۱ بھی جہاد کے لیے اجتماعی عزم اور قومی مزاحمت کی ضرورت پر گفتگو کرتی ہے۔ یہ آیت ان کمزور ایمان والے مومنین کے بارے میں ہے جو جہاد سے پیچھے ہٹ جاتے تھے۔ (طباطبایی، ۱۴۱۷ق، ج۱۸، ص۲۴۰) اس آیت میں پہلے خداوند متعال اس نکتے کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اگر وہ اطاعت کریں اور اچھی اور مناسب باتیں کہیں تو ان کے لیے بہتر ہے۔ پھر ارشاد فرماتا ہے:
«فَإِذا عَزَمَ الْأَمْرُ فَلَوْ صَدَقُوا اللَّهَ لَكانَ خَيْراً لَهُمْ»؛
اگر وہ اس وقت جب معاملہ مضبوط ہو جائے اور جہاد کا حکم قطعی ہو جائے، خدا سے سچ کہیں اور صدق و صفا کے ساتھ آگے آئیں تو ان کے لیے بہتر ہے۔
جملہ "عزم الامر" دراصل کام کے مضبوط ہونے کی طرف اشارہ ہے (طباطبایی، ۱۴۱۷ق، ج۱۸، ص ۲۳۹) لیکن پچھلی اور اگلی آیات کے قرینے سے اس سے مراد "جہاد" (مکارم شیرازی و دیگران، ۱۳۷۵، ج۲۱، ص ۴۶۴) اور اس راستے میں استقامت ہے۔ سورہ احقاف کی آیت ۱۳ بھی اسلامی معاشرے کے عزم اور استقامت کے تعلق پر گفتگو کرتی ہے:
«إِنَّ الَّذِینَ قالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقامُوا فَلا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لا هُمْ یَحْزَنُونَ۔
مذکورہ آیت کے مطابق، نہ ڈرنے اور نہ غمگین ہونے کی شرط، توحیدی تحریک پر ثبات اور استمرار ہے اور یہ اہم امر صرف استقامت کے سائے میں حاصل ہو گا۔
قرآن کریم، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ابراہیمی ملت کو استقامت کی نمونہ ہائے عمل کے طور پر متعارف کراتا ہے جو قومی عزم کے سائے میں تمام اقوام اور ملل کے لیے نمونۂ حسنہ بن گئے:
قَدْ كانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ في إِبْراهيمَ وَ الَّذينَ مَعَهُ إِذْ قالُوا لِقَوْمِهِمْ إِنَّا بُرَآؤُا مِنْكُمْ وَ مِمَّا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ كَفَرْنا بِكُمْ وَ بَدا بَيْنَنا وَ بَيْنَكُمُ الْعَداوَةُ وَ الْبَغْضاءُ أَبَداً حَتَّى تُؤْمِنُوا بِاللَّهِ وَحْدَهُ (ممتحنه: ۴)
خداوند متعال نے مذکورہ آیت اور اسی سورہ کی چھٹی آیت میں «ابراہیمی مومنین» کا ذکر کیا ہے جن کے اہداف اور نعرے «مشرکین سے بیزاری»، «بت پرستوں سے ابدی دشمنی»، «خدا پر توکل»، «اللہ کی طرف رجوع»، (ایضاً) «فتح کی تمنا» اور «مغفرت» (ایضاً، ۶) تھے۔ ان اہداف تک رسائی اور ان آرزوؤں کا حصول اسلامی امت کے قومی عزم اور استقامت کے ہم آہنگ ہونے کے سائے میں ممکن ہے۔
قرآن کے نقطۂ نظر سے، جس طرح مسلمانوں کی قومی عزم استقامت کو مضبوط کرتا ہے، اسی طرح کمزور عنصر ہونا بھی مزاحمت کو کمزور کرے گا۔ قرآن کریم حضرت آدم (ع) کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے:
«وَ لَقَدْ عَهِدْنا إِلى آدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِيَ وَ لَمْ نَجِدْ لَهُ عَزْماً (طه: ۱۱۵)»
ہم نے پہلے آدم سے عہد و پیمان لیا تھا لیکن وہ بھول گیا اور ہمیں اس میں «عزم» نہ ملا۔ اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ حضرت آدم (ع) راسخ عزم کے سائے میں ترک اولیٰ سے بچ سکتے تھے اور مشکلات کا شکار نہ ہوتے۔
صدر اسلام میں مسلمانوں کا ایک چھوٹا سا گروہ کمزور ایمان اور راسخ عزم سے عاری بھی تھا جو شیطانی وسوسوں اور مشرکین کے دباؤ کے آگے ہتھیار ڈال کر کفر کی طرف مائل ہو جاتے تھے۔ قرآن کریم ان افراد کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:
بیشک وہ لوگ جو ہدایت کا راستہ روشن ہونے کے بعد پیچھے پلٹ گئے، شیطان نے انہیں بہکایا اور لمبی لمبی آرزوؤں میں ڈال دیا، کیونکہ انہوں نے ان لوگوں سے جنہیں وحی کا نزول ناگوار تھا [کافروں] کہا: ہم بعض امور میں تمہاری پیروی کریں گے، حالانکہ خدا ان کی پوشیدہ باتوں سے آگاہ ہے۔ (محمد: ۲۵-۲۶)
قرآن کریم تاریخ کے ان ادوار کی طرف اشارہ کرتا ہے جب بعض اقوام نے کمزور عنصر ہونے اور قومی عزم نہ رکھنے کی وجہ سے اپنی مزاحمت کھو دی اور اپنی «دینی شناخت» برقرار نہ رکھ سکیں چنانچہ وہ بے شمار مشکلات میں مبتلا ہو گئے۔ قرآن ارشاد فرماتا ہے:
«وَ جاوَزْنا بِبَني إِسْرائيلَ الْبَحْرَ فَأَتَوْا عَلي قَوْمٍ يَعْكُفُونَ عَلي أَصْنامٍ لَهُمْ قالُوا يا مُوسَي اجْعَلْ لَنا إِلهاً كَما لَهُمْ آلِهَةٌ قالَ إِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُونَ»؛ (اعراف: ۱۳۸)
اور ہم بنی اسرائیل کو (سلامت) دریا سے گزار لائے۔ پھر راستے میں ان کا گزر ایک ایسی قوم پر ہوا جو اپنے بتوں کے گرد عاجزی اور خضوع کے ساتھ جمع تھے۔ (اس وقت بنی اسرائیل نے) موسیٰ سے کہا: «آپ بھی ہمارے لیے ایک معبود مقرر کریں جس طرح ان کے معبود (اور خدا) ہیں!» موسیٰ نے کہا: «تم ایسے لوگ ہو جو جاہل و نادان ہیں!»
مذکورہ آیت اس زمانے میں بنی اسرائیل کی کمزور عنصر ہونے کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے جو موسیٰ کے اتنے معجزات دیکھے تھے، چونکہ وہ کمزور عنصر قوم تھے، بت اور بت پرستی دیکھ کر اپنے نفس کے وسوسے کے آگے مزاحمت نہ کر سکے چنانچہ انہوں نے بت پرستی کا مطالبہ کیا۔ واضح ہے کہ اگر یہودی معاشرے میں بت اور بت پرستی کے خلاف مبارزہ کے لیے اجتماعی عزم ہوتا تو وہ کبھی ایسا مطالبہ نہ کرتے۔ کیونکہ وہ اپنے جد امجد ابراہیم (علیہ السلام) کے توحیدی آئین پر تھے اور ان میں سے اسحاق، یعقوب اور یوسف جیسے انبیاء نبوت کے لیے منتخب ہوئے تھے جو سب انہیں توحید کی دعوت دیتے تھے لیکن بظاہر وہ مادی قوم تھے جو حس پر اعتماد کرتے تھے۔ (طباطبایی، ۱۴۱۷ق، ج۸، ص۲۳۴) اسی لیے ان میں بت پرستی کے خلاف مبارزے کے لیے سنجیدہ عزم نظر نہیں آتا تھا۔
جو کچھ گذرا اس سے واضح ہوتا ہے کہ الٰہی سنت کے مطابق، جب کوئی معاشرہ کامیابی، فتح اور نجات کی سعادت حاصل کر سکتا ہے جب اس کے پاس مضبوط عزم اور استقامت ہو؛ اس طرح کہ راسخ عزم اور مزاحمت ایک دوسرے کے لازم و ملزوم ہیں اور ان میں سے ایک کے بغیر دوسرا بھی نامکمل اور بے نتیجہ ہے۔ مقام معظم رہبری کی گہری نگاہ سے بھی قومی عزم، افراد اور قوموں کی لیاقت کا معیار اور قومی مزاحمت میں اضافے کا باعث ہے (بیانات في دانشگاه افسرى و تربيت پاسدارى امام حسين (علیهالسلام) ، ۳۰/۰۲/۱۳۹۴)
e. قومی عزم کی بنیاد پر مزاحمت کے ثمرات
قرآن کریم کے نقطۂ نظر سے، مزاحمت کا قومی عزم کے ساتھ ہم آہنگ ہونا بے شمار ثمرات رکھتا ہے جن میں سے اہم ترین کی طرف ذیل میں اشارہ کرتے ہیں:
i. قومی عزم اور مزاحمت کے معاشی ثمرات
۱۔ ترقی و پیشرفت
حضرت یوسف (علیہ السلام) کے قصے پر غور کرنے سے ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ قومی عزم کا استقامت کے ساتھ ہم آہنگ ہونا، اس وقت اور بڑے قحط سے پہلے زراعت کی ترقی کے دو اہم عوامل تھے۔ جب مصر کے عزیز نے اپنا خواب یوسف کو سنایا تو حضرت یوسف نے ان سے کہا کہ وہ انتہائی جدوجہد کے ساتھ زراعت کریں:
«قالَ تَزْرَعُونَ سَبْعَ سِنينَ دَأَباً فَما حَصَدْتُمْ فَذَرُوهُ في سُنْبُلِهِ إِلاَّ قَليلاً مِمَّا تَأْكُلُونَ»؛ (يوسف: ۴۷)
(یوسف) نے کہا: «تم سات سال مسلسل کھیتی کرو گے اور جو کچھ تم کاٹو اسے اس کی بالیوں میں ہی رہنے دو، سوائے تھوڑے سے جسے تم کھاؤ گے (اور ذخیرہ کرو گے)۔
لفظ «دَأَباً» سے مراد مسلسل کھیتیاں اور غیر معمولی محنت کے ساتھ کئی سالہ زراعت ہے (طبرسی، ۱۳۷۲، ج۵، ص۳۶۴) جو زراعت اور معاشی رونق کے لیے قومی عزم اور عمومی استقامت کو ظاہر کرتا ہے۔ آخرکار ان کی کوشش رنگ لائی اور قحط سے نجات، معاشی استقلال اور دوسرے ممالک کا ان پر محتاج ہونا باعث بنا۔ یہ سنت دوسری قوموں کے بارے میں بھی موجود ہے۔ اگر کسی معاشرے میں ترقی و پیشرفت کے لیے اجتماعی عزم و ارادہ اور استقامت و پائداری موجود نہ ہو تو ایسے معاشرے پر ترقی و پیشرفت مسلط کرنا انتہائی مشکل اور شاید ناممکن ہے۔ اسی وجہ سے جمہوری اسلامی ایران کے وژن دستاویز ۱۴۰۴ کے افق میں درج ہے: لا یزال الٰہی قدرت پر بھروسہ کرتے ہوئے اور ایمان، قومی عزم اور اجتماعی طور پر منصوبہ بند اور دانشمندانہ کوششوں کی روشنی میں اور آئین کے اصولوں اور اہداف کے حصول کی راہ میں، اقتصادی، سائنسی اور تکنیکی ترقی حاصل کی جا سکتی ہے (رک: سند چشمانداز جمهوري اسلامي ايران در افق ۱۴۰۴ ، سایت مقام معظم رهبری: ۱۲/۰۸/۱۳۸۲)
۲۔ معاشی مشکلات کا برداشت
قومی عزم اور استقامت دو مضبوط ستون ہیں جو معاشی مشکلات کا برداشت آسان بنا سکتے ہیں۔ مقام معظم رہبری کے نقطۂ نظر سے، قومی عزم، ایک طرف ترقی کا عامل ہے اور دوسری طرف، عوام کو مشکلات برداشت کرنے میں مدد دیتا ہے۔ آپ نے ارشاد فرمایا: «ہم دیکھ رہے ہیں کہ بحمداللہ قومی عزم کا ظہور و نمود ہوا۔ ہماری قوم نے اپنا راسخ عزم بعض مشکلات کو برداشت کرنے میں بھی دکھایا جو اس کے سامنے تھیں۔ (پيام نوروزي به مناسبت آغاز سال ۱۳۹۴ ، ۰۱/۰۱/۱۳۹۴)
تاریخ خصوصاً صدر اسلام کی تاریخ کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ صدر اسلام میں مسلمانوں کا قومی عزم اور استقامت اس کا باعث تھی کہ وہ بخوبی مشکلات برداشت کر سکتے تھے۔ نبی اکرم اور دیگر بنی ہاشم کا محاصرہ اور دین کی راہ میں ان کی استقامت، مذکورہ دعوے کی بہترین مصادیق میں سے ایک ہے۔ صدر اسلام میں مشرکین جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ) کو دباؤ، تشدد وغیرہ کے ذریعے اسلام کی دعوت سے روکنے میں ناکام ہو گئے تو انہوں نے معاشی دباؤ کا راستہ اختیار کیا اور بنی ہاشم اور بنی مطلب کے ساتھ معاشی و سماجی معاملات اور لین دین ترک کرنے کا معاہدہ لکھا جس کے تحت جب تک بنی ہاشم نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ) کو مشرکین کے حوالے نہ کر دیں، ان کے ساتھ معاملہ ممنوع تھا، اس طریقہ کار کو اپناتے ہوئے بعثت کے ساتویں سال محرم کی پہلی رات (ابن سعد، ۱۴۱۰ق، ج۱، ص۱۶۳) انہوں نے بنی ہاشم کو معاشی محاصرے میں لے لیا۔ آہستہ آہستہ شعب (وادی) میں زندگی سخت ہو گئی اور حضرت خدیجہ کی تمام دولت شعب میں محصورین کی ضروریات پر خرچ ہو گئی۔ (یعقوبی، ]بے تا[، ج ۲، ص ۳۱) کبھی کبھی بعض مکہ والے کھانا پہنچا کر بنی ہاشم کی مدد کرتے تھے (حلبی، ۱۴۲۷ق، ج ۱، ص۴۷۵)، یا حرمت والے مہینوں میں بنی ہاشم اپنی بعض ضروریات مہیا کر سکتے تھے، (ابن شهر آشوب، ]بے تا[، ج ۱، ص ۶۵)
لیکن معاشی پابندی اتنی شدید تھی کہ بعض مواقع پر انہیں درخت کی چھال کھانے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ (حلبی، ۱۴۲۷ق، ج ۱، ص ۴۷۵) اور بنی ہاشم اور مسلمان راسخ عزم اور قابل ستائش مزاحمت کے ساتھ ان دباؤ کو برداشت کرتے تھے۔ مذکورہ محاصرہ تین سال تک جاری رہا۔ (ابن سعد، ۱۴۱۰ق، ج ۱، ص۱۶۳) لیکن بنی ہاشم کی مزاحمت ٹوٹ نہیں۔
اگرچہ تمام بنی ہاشم، نبی اکرم کی جان کے دفاع میں ثابت قدم تھے لیکن اس دوران نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ) کے دین کی ترویج میں غیر معمولی عزم اور اس وقت بنی ہاشم کی قیادت یعنی حضرت ابوطالب کے راسخ عزم کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ (رک: عروسی حویزی، ۱۴۱۵ق، ج ۴، ص ۴۴۲)
f. قومی عزم اور اخلاقی ثمرات
قومی عزم کا مزاحمت کے ساتھ ہم آہنگ ہونا بے شمار اخلاقی ثمرات رکھتا ہے جن میں سے اجتماعی صبر کی مضبوطی اور غفلت زدائی شامل ہیں۔
۱۔ اجتماعی صبر کی مضبوطی
صبر اسلام میں انتہائی قیمتی فضائل میں سے ہے۔ قرآن کریم کے نقطۂ نظر سے، صبر کا مقام اتنا ہے کہ خداوند اولوالعزم انبیاء کی تعریف میں انہیں صبر کرنے والوں کے وصف سے یاد کرتا ہے (احقاف: ۳۵)۔
قرآن کی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ صبر دو قسم کا ہے: فردی اور اجتماعی۔ جیسا کہ گذرا، آیت ۲۰۰ آل عمران میں لفظ « صابروا » باہمی تعلق کو ظاہر کرتا ہے (مکارم شیرازی و دیگران، ۱۳۷۵، ج۳، ص ۲۳۴) اور اجتماعی صبر کی طرف ناظر ہے۔ اور اجتماعی صبر صرف «قومی عزم» کے سائے میں حاصل ہوتا ہے۔ خداوند متعال نے دو آیات میں صبر کو «عزم الامور» میں شمار کیا ہے۔ (آل عمران: ۱۸۶؛ لقمان: ۱۷)
عزم الامور کا مطلب یہ ہے کہ انسان اس کے حصول کے لیے عاقبت اندیشی، تدبر، تفکر، مشورہ کرے تاکہ یقین تک پہنچے، اس طرح کہ اس کے ارادے میں کمزوری، بے رغبتی، کراہت، تردید، شک اور نفرت نہ آئے اور وہ اس کے کرنے کے لیے پختہ ارادہ کر لے۔ (جوادی آملی، ۱۳۸۸، ج۷، ص۶۴۵)
آیت اللہ جوادی آملی نے آیت ۲۰۰ سورہ آل عمران کی تفسیر و وضاحت میں لکھا ہے: اپنے صبروں کو ایک دوسرے سے تبادلہ کرو۔ یہ نہیں کہ ہر ایک تنہا صبر کرے کیونکہ ہر انسان کا صبر محدود ہے اور کچھ لوگ تنگ آ جاتے ہیں اور تھک جاتے ہیں۔ پس فرمان (صابروا) کے مطابق انسان سماجی معاملات میں دوسرے ہم نوعوں کے ساتھ صبر کرنے اور دوسروں کی کمزوری کو اپنے صبر سے پورا کرنے کا پابند ہے۔ جس طرح اس کی کمزوری بھی دوسروں کے صبر سے پوری ہو گی۔ (جوادی املی، ۱۳۸۸، ج۱۶، ص۷۷۰) « مصابره » یعنی صبروں کو ایک دوسرے پر رکھنا اور ایک ساتھ صبر کرنا اور دوسروں کے صبر میں مدد کرنا اور انفرادی کمزوریوں کو اجتماعی طاقت سے دور کرنا اور ایک دوسرے کی بے صبری کو اپنے حلم و بردباری سے پورا کرنا ہے (ایضاً)
قرآن کریم کا جائزہ لینے پر ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ قومی عزم، «اجتماعی صبر» اور فتح کے درمیان گہرا تعلق ہے۔ بنی اسرائیل کو ان اقوام کی مثال میں شمار کیا جا سکتا ہے جنہوں نے ایک عرصے میں قومی عزم کے ذریعے اپنے پامال شدہ حقوق واپس حاصل کیے۔ خداوند نے سورہ اعراف میں فرعون کی قوم کی تباہی اور ان کی طاقت کو پاش پاش کرنے کا ذکر کیا ہے اور پھر ارشاد فرماتا ہے:
«وَ أَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِينَ كانُوا يُسْتَضْعَفُونَ مَشارِقَ الْأَرْضِ وَ مَغارِبَهَا الَّتِي بارَكْنا فيها وَ تَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْني عَلي بَنِي إِسْرائِيلَ بِما صَبَرُوا وَ دَمَّرْنا ما كانَ يَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَ قَوْمُهُ وَ ما كانُوا يَعْرِشُونَ»؛ (أعراف: ۱۳۷)
اور ہم نے ان کمزور بنائے گئے لوگوں کو زمین کے ان مشرقوں اور مغربوں کا وارث بنا دیا جن میں ہم نے برکت رکھی اور تیرے رب کا نیک وعدہ بنی اسرائیل کے حق میں ان کے صبر کی وجہ سے پورا ہوا اور جو کچھ فرعون اور اس کی قوم بناتی تھی اور جو چیزیں وہ کھڑی کرتے تھے ہم نے تباہ کر دیں!
اس آیت کے مطابق، بنی اسرائیل نے مذکورہ عرصے میں حق کی راہ میں صبر و استقامت کی وجہ سے آخرکار فرعون کی قوم پر فتح پائی اور ان کے وسیع و عریض علاقوں کے وارث بن گئے۔ جس چیز نے اس مظلوم قوم کو ظلم کے بوجھ سے نکلنے اور اپنے حقوق واپس لینے کا باعث بنایا وہ ان کا صبر، استقامت اور عزم تھا اسی لیے خداوند نے مذکورہ آیت میں ارشاد فرمایا: تیرے رب کا نیک وعدہ بنی اسرائیل کی فتح کے بارے میں- ان کے صبر و استقامت کی وجہ سے- پورا ہوا۔ (اعراف: ۱۳۷)
اگرچہ اس آیت میں صرف بنی اسرائیل اور فرعونیوں کے مقابلے میں ان کی استقامت کے انجام کا ذکر ہے، لیکن جیسا کہ قرآن کی دوسری آیات سے معلوم ہوتا ہے، یہ معاملہ کسی خاص قوم یا ملت سے مخصوص نہیں، بلکہ ہر مظلوم جماعت جو اٹھ کھڑی ہو اور اپنی غلامی اور استعمار کی گرفت سے نجات کے لیے کوشش کرے اور اس راستے میں استقامت و ثابت قدمی دکھائے، آخرکار فتح یاب ہو گی اور وہ سرزمینیں جو ظالموں اور جابروں کے قبضے میں ہیں، آزاد ہو جائیں گی۔ (مکارم شیرازی و دیگران، ۱۳۷۵، ج۶، ص ۳۳۰)
قرآن کریم نے آیت ۱۲۸ سورہ اعراف میں بھی اس نکتے کی طرف اشارہ کیا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو استقامت کی دعوت دی اور اس نکتے پر تاکید کی کہ انجام کار متقیوں کے لیے ہے: «قالَ مُوسي لِقَوْمِهِ اسْتَعينُوا بِاللَّهِ وَ اصْبِرُوا إِنَّ الْأَرْضَ لِلَّهِ يُورِثُها مَنْ يَشاءُ مِنْ عِبادِهِ وَ الْعاقِبَةُ لِلْمُتَّقينَ». مذکورہ آیت کے مطابق، دشمن پر فتح کے لیے خدا پر توکل کے بعد سب سے اہم رکن، اجتماعی صبر اور عمومی استقامت ہے جو قومی عزم کے سائے میں حاصل ہو گا۔
۲۔ غفلت زدائی
قومی عزم کے اخلاقی ثمرات میں سے ایک، معاشرے سے غفلت کا زوال اور سماجی اصلاحی تحریکوں کا تسلسل ہے۔ قومی عزم کی موجودگی میں معاشرے کی سماجی تحریکیں بھی ترقی اور فروغ پاتی ہیں، اور قومی عزم کے بغیر اصلاحی تحریکیں زوال پذیر ہو کر ناکامی سے دوچار ہوتی ہیں۔ شاید کہا جا سکتا ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے جنت میں قیام کے نامکمل رہنے کی سب سے اہم وجہ کمزور عزم تھا۔ قرآن کریم ان کی جنت سے شکست اور اخراج کی وجہ کمزور عزم کو قرار دیتا ہے: «وَ لَقَدْ عَهِدْنا إِلي آدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِيَ وَ لَمْ نَجِدْ لَهُ عَزْماً»؛ (طه: ۱۱۵) ہم نے اس سے پہلے آدم سے عہد لیا تھا لیکن وہ بھول گیا اور ہمیں اس میں کوئی مضبوط عزم نہ ملا۔
مذکورہ آیت کے مطابق، پروردگار نے حضرت آدم (ع) کو ممنوعہ درخت سے منع کیا تھا لیکن شیطان کی قسم نے اس بات کا باعث بنا کہ وہ اسے کھا لیں، آرام کی نعمت سے محروم ہو جائیں اور مشکل زندگی میں مبتلا ہو جائیں۔ جملہ «لَمْ نَجِدْ لَهُ عَزْماً» اس نکتے کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ حضرت آدم (ع) نے کمزور فیصلے کی وجہ سے گندم کھانے کا اقدام کیا۔ اس کمزوری کا نتیجہ غفلت اور بالآخر جنت سے اخراج تھا۔ یہ پہلا امتحان تھا جو خداوند نے انسانیت کے پہلے فرد پر کیا (حسيني همداني، ۱۴۰۴ق، ج۱۰، ص۵۲۰) لیکن یہ صرف حضرت آدم (ع) کے ساتھ خاص نہیں۔ انسانی نظامِ خلقت کی صالحیت بھی اسی طرح ہے، یعنی قومی عزم کا نہ ہونا غفلت اور ناکامی کا باعث بن سکتا ہے۔
بعض اوقات ممکن ہے کہ کچھ عارضی لہروں کی وجہ سے کوئی قوم انقلاب کرے اور حتیٰ کہ کامیابیاں بھی حاصل کر لے، لیکن اگر قوم کے پاس قومی عزم اور استقامت نہ ہو تو تھوڑی دیر بعد وہ غفلت کا شکار ہو جاتی ہے اور کبھی وہی ظالم اور جابر ایک نئے روپ میں دوبارہ میدان میں آ کر انقلاب کو ناکام بنا دیتے ہیں۔ مصدق کی شکست اور ۲۸ مرداد ۱۳۳۲ شمسی کا امریکی بغاوت اس سلسلے میں ایک روشن اور سبق آموز مثال ہے۔ کیونکہ قومی عزم کا کمزور ہونا، اور معاشرے اور انقلابیوں کا استقامت نہ کرنا، انقلاب کی تباہی اور شاہ کی دوبارہ اقتدار میں واپسی کے دو عوامل بنے۔ جس معاشرے کے پاس قومی عزم اور استقامت ہو، اس کا میدان میں مستقل موجود رہنا اس بات کا باعث بنتا ہے کہ سماجی اصلاحی تحریکیں روز بروز زیادہ شاداب ہوں اور قدم بہ قدم حتمی فتح کے قریب تر ہو جائیں۔ امام خامنہ ای اس بارے میں فرماتے ہیں: «ملت ایران نے اپنی سرگرمی، اپنا جذبہ، اپنا عزم و ارادہ، اپنی موقع شناسی... دکھایا.... ملت عظیم ایران نے... دکھایا کہ ایسے حالات میں جہاں بین الاقوامی تقاضے موجود ہیں، وہ اپنے فرائض کو زیادہ گرم جوشی اور گیرائی، زیادہ پرانگیزہ اور پرجوش طریقے سے انجام دیتی ہے۔ (خطبہهای نماز عید سعید فطر، ۱۹/۰۶/۱۳۸۹)
ii. قومی عزم اور مزاحمت کے سیاسی ثمرات
قومی عزم کا اسلامی مزاحمت کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کے اہم ترین ثمرات کا ایک حصہ سیاسی مسائل کے میدان میں ظاہر ہوتا ہے جن میں سے چند نمونوں کی طرف ذیل میں اشارہ کرتے ہیں:
۱۔ قومی اتحاد
انسانی معاشروں میں تفاوت کا ہونا فطری اور ناقابل انکار ہے۔ اس دوران بیرونی یا اندرونی عوامل اس تفاوت کو اختلاف، انتشار اور افراتفری میں بدل کر معاشرے کو تباہ کر سکتے ہیں۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے بہترین طریقوں میں سے ایک قومی عزم کو مضبوط کرنا اور معاشروں کی مزاحمت میں اضافہ کرنا ہے۔ رہبر معظم انقلاب نے قوم کے بعض مسائل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ان مسائل اور چیلنجوں کو دور کرنے کا راستہ قومی عزم ہے:
«ہمارے اندرونی چیلنج یہ ہیں: ملک کے اندر اختلافات میں مشغول ہو جانا... قوم کی یکجہتی کا کھو جانا... سستی اور بے جوشی کا شکار ہو جانا، کم کاری کا شکار ہو جانا، مایوسی اور ناامیدی کا شکار ہو جانا، ... قومی عزم اور جہادی مدیریت ان تمام گرہوں کو کھول سکتی ہے۔ یہ سب ہمارے اندرونی چیلنج ہیں جن کا ہمیں مقابلہ کرنا چاہیے۔ (بیانات در مراسم بیست و پنجمین سالروز رحلت حضرت امام خمینی، ۱۴/۰۳/۱۳۹۳)
رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ) کے سیرت کا جائزہ لینے سے بھی یہ نکتہ بخوبی واضح ہوتا ہے کہ آپ کے اندرونی اختلافات کو دور کرنے، قومی مزاحمت میں اضافہ اور معاشرے کے اتحاد کو مستحکم کرنے کے لیے اہم ترین اقدامات میں سے ایک اتحاد و یکجہتی کے لیے قومی عزم و ارادے پر توجہ دینا تھا۔ آپ نے اس سلسلے میں توحید کی بنیاد پر ایک متحد معاشرہ تشکیل دے کر اندرونی اختلافات کو کم کیا۔ آپ کے اقدامات کی ایک مثال مسلمانوں کے درمیان بھائی چارے کا عقد تھا۔ (مجلسي، ۱۴۰۳ق، ج ۱۹، ص ۳۷)
خداوند نے «آیت اخوت» میں مومنین کو ایک دوسرے کے دینی بھائی قرار دیا ہے اور ان کے درمیان صلح و سازش کا حکم دیا ہے: «إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخوَيْكُمْ وَ اتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ» (حجرات: ۱۰)۔ اس آیت کے نزول کے بعد، رسول اکرم (ص) نے مسلمانوں کے درمیان ان کے مرتبے کی بنیاد پر بھائی چارے کا رشتہ قائم کیا؛ ابوبکر کو عمر کے ساتھ، عثمان کو عبدالرحمن کے ساتھ اور... علی (علیہ السلام) کو اپنا بھائی قرار دیا اور فرمایا: تم میرے بھائی ہو اور میں تمہارا بھائی ہوں۔ (حسيني، ۱۳۶۳ش، ج ۱۲، ص ۱۸۶) مسلمانوں نے ابتدا میں اسی بھائی چارے کی بنیاد پر ایک دوسرے سے وراثت بھی پائی۔ (قمی، ۱۳۶۷، ج ۱، ص ۱۳۷۔ طبرسی، ۱۳۷۲، ج ۴، ص ۸۶۵) اس اقدام نے مسلمانوں کے استقامت کے لیے اجتماعی عزم کو مضبوط کیا اور ان کے اتحاد کو زیادہ نمایاں کیا۔
۲۔ خودباوری
قومی عزم اور استقامت کی ہم آہنگی کے سیاسی ثمرات میں سے ایک خودباوری ہے۔ جن افراد اور معاشروں میں خودباوری نہ ہو، وہ آسانی سے دشمن کے القاء سے متاثر ہو کر اپنا وجود کھو بیٹھتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں، جو افراد اور معاشرے اپنے آپ اور اپنی معاشروں کی صلاحیتوں پر اعتماد رکھتے ہیں، وہ آسانی سے دشمن کے سامنے مزاحمت کرتے ہیں، اسی لیے مستکبروں نے پوری تاریخ میں دوسروں سے خودباوری کا جذبہ چھیننے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے دوسری اقوام کو حقیر جان کر آسانی سے ان پر حکومت کرنے کی کوشش کی۔ مثال کے طور پر قرآن کریم فرعون کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے: «فَاستَخَفَّ قَومَهُ فَاطاعوهُ انَّهُم كانوا قَومًا فاسِقين» (زخرف: ۵۴)۔
اس نقطۂ نظر کے مقابلے میں اسلام کا نقطۂ نظر ہے کہ مسلمانوں کا فرض ہے کہ خودباوری اور اعتمادِ نفس کے ساتھ استقامت کریں۔ قرآن کے نقطۂ نظر سے مسلمان اس کھیتی کی مانند ہیں جس کی جوانیں آہستہ آہستہ مضبوط ہو کر اپنے پاؤں پر کھڑی ہو جاتی ہیں اور کسانوں کو حیران کر دیتی ہیں:
«مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَ الَّذينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَماءُ بَيْنَهُم.... وَ مَثَلُهُم فِى الانجيلِ كَزَرعٍ اخرَجَ شَطَهُ فَازَرَهُ فَاستَغلَظَ فَاستَوى عَلى سوقِهِ يُعجِبُ الزُّرّاعَ لِيَغيظَ بِهِمُ الكُفّارَ ...» (فتح: ۴۸، ۲۹)
یہ تشبیہ، خاص طور پر «فَاستَوى عَلى سوقه» کے تعبیر کے ساتھ، حقیقی مومنین کے اعتمادِ نفس کی طرف ایک واضح اشارہ ہے۔ مذکورہ اعتمادِ نفس صرف قومی عزم کے سائے میں قابل حصول ہے۔
نبی اکرم اور ائمہ (علیہم السلام) نے بھی ہمیشہ اپنے ساتھیوں کو اعتمادِ نفس کی ترغیب دی اور ان میں «ہم کر سکتے ہیں» کا جذبہ پروان چڑھایا۔ (رک: کلینی، ۱۳۶۵، ج ۲، ص۱۳۹)
اسی لیے امام امت اور آیت اللہ خامنہ ای نے ہمیشہ خودباوری اور اس کی مضبوطی پر تاکید فرمائی ہے۔ مثال کے طور پر امام امت نے فرمایا:
ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ ہم سب کچھ ہیں اور کسی سے کم نہیں۔ ہم نے جو اپنے آپ کو کھو دیا تھا، اس کھوئے ہوئے «خود» کو ڈھونڈنا ہے اور یہ سوچ جو ہم پر مسلط کی گئی تھی کہ «اگر غیر کا ہاتھ چھوٹ جائے تو مر جائیں گے» کو پوری طاقت سے ختم کرنا ہے۔ اور آپ نے دیکھا کہ ایک قوم نے خالی ہاتھوں کے ساتھ بڑی طاقتوں اور قوتوں کے سامنے مقابلہ کیا اور اس تحریک نے ایک لہر اٹھائی جو امید ہے کہ عنقریب نہیں رکے گی.... میں دہراتا ہوں: ہمیں یقین ہو جانا چاہیے کہ ہم کچھ ہیں۔ اگر ہمیں یقین ہو گیا کہ ہم ہر کام کر سکتے ہیں، تو ہم قادر ہو جائیں گے۔ آپ بھی یقین کر لیں کہ آپ کر سکتے ہیں۔ دماغوں کو دھونا ہو گا اور خود پر انحصار کرنے والے دماغ اس کی جگہ لیں گے۔ (امام خمینی، ۱۳۸۹، ج۱۵، ص۳۱۰)
۳۔ رہبری کی مضبوطی
قومی عزم کے مزاحمت کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کے اہم ترین سیاسی ثمرات میں سے ایک رہبری اور اسلامی حکومت کی مضبوطی ہے۔ بہت سی روایات کے مطابق، مصابره اور مرابطہ کی جن کا ذکر سورہ آل عمران کی آیت ۲۰۰ میں کیا گیا ہے، ان کی مثالوں میں سے ایک رہبری کے ساتھ ہم آہنگی ہے۔ مثال کے طور پر، امام صادق (علیہ السلام) سے روایت ہے کہ: «فرائض پر صبر کرو اور مصائب میں ہم صبری کرو اور ائمہ کے ساتھ بستگی پیدا کرو»۔ (کلینی، ۱۳۶۵، ج۲، ص ۸۱) نیز انہی سے نقل ہے کہ «مصائب پر صبر کرو اور فرائض میں صبر و شکیبائی کرو اور ائمہ کے ساتھ بستگی پیدا کرو»۔ (قمی، ۱۳۶۷، ج۱، ص۱۳۰۔ همچنین رک: بحرانی، ۱۴۱۶ق، ج۱، ص۷۳۰)
مذکورہ روایات قومی عزم کے استقامت کے لیے رہبری کی مضبوطی کے ساتھ کردار پر بخوبی دلالت کرتی ہیں؛ کیونکہ تمام لوگوں کا فرض ہے کہ اجتماعی صبر کے ساتھ ائمہ کے ساتھ ہم بستگی کریں اور عہد بندھیں۔ یہ روایات مصداق بیان کرنے کی قبیل سے ہیں جو مقامات کی مقتضیات کے مطابق بیان ہوئی ہیں (ثقفي تهراني، ۱۳۵۸، ج۱، ص ۵۵۸)۔ اس لیے احادیث کا مقصد ان مثالوں کے بیان سے، معاشرے کی رہبری اور اس کی ہم بستگی کے درمیان گہرے تعلق کو بیان کرنا ہے۔ کیونکہ جس معاشرے کے افراد کے پاس مزاحم قومی عزم ہو اور وہ ایک عادل اور زمان شناس رہبر کے حکم کے تحت ہوں، وہ اپنے امام کے حکم کی تمام معاملات بشمول دشمنوں کے ساتھ جہاد میں اطاعت کریں گے۔ جیسا کہ دوسرے معاملات مثلاً جمعہ اور جماعت کی نماز میں شرکت، امام زمانہ کے ظہور کا انتظار اور اس کے لیے زمینہ سازی، اور دیگر نیک کاموں میں ایک دوسرے کے مددگار ہیں اور الٰہی تقویٰ سے مدد لے کر ایک سالم معاشرہ تشکیل دیں گے۔
iii. قومی عزم اور مزاحمت کے سماجی ثمرات
قومی عزم کا مزاحمت کے ساتھ ہم آہنگ ہونا بے شمار سماجی ثمرات بھی رکھتا ہے جن میں سے بعض کی طرف ذیل میں اشارہ کرتے ہیں:
۱۔ معاشرے کی روحانی سرگرمی (نشاط)
جس معاشرے میں قومی عزم حاکم ہو، وہ معاشرہ زندہ، متحرک، پرنشاط اور بالندہ ہوتا ہے۔ ایسے معاشرے میں لوگ بخوبی مستکبرین کے سامنے استقامت اور پائداری کر سکتے ہیں۔ مستکبرین کی معاشروں کو تباہ کرنے اور گھٹنے ٹیکنے کے لیے مستقل حکمت عملیوں میں سے ایک معاشرے میں مایوسی کا روح پھونکنا ہے۔ قومی عزم کا وجود اس ہتھیار کو بے اثر کر سکتا ہے اور معاشرے میں امید کی روح واپس لا سکتا ہے۔ آیت اللہ خامنہ ای اس بارے میں فرماتے ہیں: «... ہمارے عزیز لوگوں کے رویے اور گفتار میں جذبہ موج زن ہے.... جس قوم میں ایسی امید ہو، جو مستقبل کی طرف اس طرح پرامید نگاہ اور عزم و ارادے کے ساتھ دیکھتی ہو، وہ قوم یقیناً اور حتماً اور تحقیقاً عروج کو پہنچ جائے گی۔ (خطبہهای نماز عید سعید فطر، ۱۹/۰۶/۱۳۸۹)
اس کے مقابلے میں، جس معاشرے میں قومی عزم نہ ہو، وہ ایک سست اور مردہ معاشرہ ہو گا۔ آیت اللہ خامنہ ای کا خیال ہے: «قوم کی یکجہتی کا کھو جانا ہمارے چیلنجوں میں سے ہے۔ سستی اور بے جوشی کا شکار ہو جانا، کم کاری کا شکار ہو جانا، مایوسی اور ناامیدی کا شکار ہو جانا ... ہمیں عزم رکھنا چاہیے، قومی عزم اور جہادی مدیریت ان تمام گرہوں کو کھول سکتی ہے۔ (بیانات در مراسم بیست و پنجمین سالگرد رحلت امام خمینی، ۱۳۹۳/۰۳/۱۴)
اسلامی تاریخ کا جائزہ بھی مذکورہ بات کو بخوبی ثابت کرتا ہے۔ صدر اسلام کی تاریخ ان افراد سے بھری پڑی ہے جنہوں نے اسلام قبول کرنے سے پہلے شخصیت کی کمی محسوس کی اور انہیں ذلیل کیا جاتا تھا۔ اسلام کا ظہور اور اس کی زندگی بخش تعلیمات اس کا باعث بنی کہ ان افراد نے اپنی شناخت پہچانی اور اسلام کی بہاری ہوا نے ان کی روحوں پر مسیحائی اثر ڈالا اور اسلام نے معاشرے کو جو عزم دیا اس نے انہیں زندہ کر دیا۔ مولا متقیان نے بعثت سے پہلے عربوں کے بے روح اور مردہ معاشرے کی افسوسناک حالت اس طرح بیان کی ہے: خداوند نے پیغمبر اسلام، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تمام جہانوں کے لیے ڈرانے والا بنا کر مبعوث فرمایا تاکہ وہ وحی الٰہی کا امین اور نگہبان ہو، اس وقت جب تم عرب قوم، بدترین دین رکھتی تھی اور بدترین گھروں میں زندگی گزارتی تھی، غاروں، سخت پتھروں اور سننے سے محروم زہریلے سانپوں کے درمیان رہتی تھی، آلودہ پانی پیتی تھی اور ناگوار کھانے کھاتی تھی، ایک دوسرے کا خون ناحق بہاتی تھی اور رشتہ داری توڑتی تھی، تمہارے درمیان بتوں کی پرستش ہوتی تھی اور فسادات اور گناہوں نے تمہیں گھیر رکھا تھا۔ (نهج البلاغه، خطبہ ۲۶)
اسلام کے ظہور کے ساتھ، مسلمانوں میں ایک مضبوط عزم پیدا ہوا کہ وہ اپنے دین کو بچانے کے لیے دوسرے ممالک کی غربت کا سفر اپنے لیے آسان کرنے پر آمادہ ہو گئے۔ مسلمانوں کا معاشرہ غربت میں بھی نہ صرف کمزور نہیں ہوا بلکہ ان کا عزم مزید سخت ہو گیا اور ان کا یقین بڑھ گیا۔ ان گروہوں میں سے جنہوں نے اپنے دین کی حفاظت کے لیے دوسری سرزمینوں کی طرف ہجرت کی، حبشہ کے مہاجرین تھے۔ ان مہاجرین کے باقی ماندہ اشعار سے واضح ہوتا ہے کہ مذکورہ پولادین ارادے نے ان میں غیر معمولی اور حیرت انگیز سرگرمی پیدا کی تھی۔ مثال کے طور پر ایک مہاجر نے کہا:
«جب ہم حبشہ کی سرزمین میں اترے... تو ہمیں اپنے دین کی حفاظت میں امن ملا اور ہم آزادانہ طور پر خدا کی عبادت کرتے رہے۔ نہ ہمیں کوئی اذیت پہنچی اور نہ ہم نے کوئی ایسی بات سنی جو ہمیں تکلیف دے... اے راہگیر! میرا پیغام ان لوگوں تک پہنچا دو جو خدا کا پیغام اور اس کا دین سننا چاہتے ہیں، خاص طور پر خدا کے ان بندوں تک جو مکہ شہر میں اذیت اور تشدد کا شکار ہیں۔ ان سے کہو کہ ہم نے خدا کی زمین کو وسیع پایا اور ہم ذلت و تحقیر اور بے سامانی سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ پس تم ہم سے آ ملو اور خود کو ذلیل نہ کرو اور ذلت اور رسوائی کے ساتھ نہ مرو۔ (ابن هشام، ]بے تا[، ج ۱، ص ۳۳۴) مذکورہ باتیں حبشہ کے مہاجرین کی روحانی سرگرمی کے عروج کو ظاہر کرتی ہیں جو انہوں نے اسلام سے حاصل کردہ اجتماعی عزم کے سائے میں حاصل کی تھی۔
اس دوران کافروں نے مسلمانوں کا قومی عزم توڑنے اور ان کی مزاحمت کو کمزور کرنے کے لیے کچھ افراد کو حبشہ بھیجا۔ (مجلسي، ۱۴۰۳ق، ج ۱۸، ص ۴۱۵) لیکن مسلمانوں کی روحانی سرگرمی اور ان تمام افراد کا مضبوط عزم، خاص طور پر جعفر بن ابی طالب کا، اتنا قابل ستائش تھا کہ دوست اور دشمن دونوں حیران رہ گئے۔ انہوں نے پہلے بادشاہ کے سامنے جاہلیت کے مردہ اور بے جان معاشرے کی حالت بیان کی، پھر اسلام کے آئین کی وضاحت کی اور نجاشی سے درخواست کی کہ وہ انہیں حبشہ میں ہی رہنے دیں۔ جعفر کی گفتگو کی تاثیر اور دین اور اپنے آئین کے بارے میں ان کی سنجیدگی نے نجاشی کو اپنے ساتھیوں کی درخواست کے باوجود مشرکین کے مطالبے کے آگے سر تسلیم خم نہ کرنے اور مسلمانوں کو ان کے حوالے نہ کرنے پر مجبور کر دیا۔ اجلاس کے اختتام پر مسلمانوں میں ناقابل بیان خوشی پھیل گئی اور انہوں نے قومی عزم اور اجتماعی استقامت کے سائے میں روحانی سرگرمی کا شیریں ذائقہ چکھا۔ (ابن هشام، ]بے تا[، ج ۱، ص ۳۳۴)
iv. قومی عزم اور مزاحمت کے نظامی (فوجی) ثمرات
جب قومی عزم اسلامی مزاحمت کے ساتھ ہم آہنگ ہو، تو مذکورہ ثمرات کے علاوہ نظامی نتائج بھی حاصل ہوتے ہیں، جن میں شامل ہیں:
۱۔ دشمن کی غیر فعالی (انفعال)
دشمن ہمیشہ چاہتا ہے کہ وہ خود کو فعال موقف میں اور اپنے حریف کو غیر فعال موقف میں رکھے۔ لیکن اگر معاشرے میں مزاحمت کے لیے قومی عزم موجود ہو تو دشمن غیر فعال موقف میں آ جائے گا۔ امام خامنہ ای اس بارے میں فرماتے ہیں: «اس کے برعکس جو ظاہر کیا جاتا ہے کہ وہ فعال موقف میں ہیں، ایسا نہیں ہے؛ دشمن ملت ایران کے مقابلے میں غیر فعال موقف میں ہے۔ ایک قوم جو مضبوط عزم، بصیرت، ایمان رکھتی ہے، جانتی ہے کہ کیا چاہتی ہے، راستہ بھی جانتی ہے، اور مشکلات کو پوری بہادری کے ساتھ برداشت کرتی ہے» (بیانات در دیدار مردم آذربایجان، ۱۸/۱۱/۱۳۹۱) اس کی عملی مثال صدر اسلام میں رسول اللہ کے دشمن ہیں۔ شعب ابی طالب میں بنی ہاشم کے قومی عزم نے دشمنوں کو غیر فعال موقف میں ڈال دیا اور انہوں نے خود اپنا لکھا ہوا معاہدہ باطل قرار دے کر بنی ہاشم سے دوستی کا اعلان کیا اور شکست قبول کی۔ (رک: حلبی، ۱۴۲۷ق، ج ۱، ص ۴۷۵)
مکہ کی خونریزی کے بغیر آسان فتح، مسلمانوں کے قومی عزم کی کافروں کو غیر فعال موقف میں ڈالنے کی ایک اور مثال ہے۔ قریش کے کافروں کے عہد شکنی کے بعد، نبی اکرم (ص) نے مکہ شہر کو فتح کرنے کا فیصلہ کیا۔ قریش کے ماضی کے پیش نظر سب کو امکان تھا کہ مسلمانوں اور کافروں کے درمیان خونریز جنگ ہو گی؛ لیکن جب ابوسفیان اور دیگر قریش کے کافروں نے رسول اللہ کے ساتھیوں کا اجتماعی عزم اور دشمنوں کے مقابلے میں ان کی استقامت دیکھی تو وہ مکمل طور پر مطیع ہو گئے اور ابوسفیان جو خود کبھی کفر کے لشکر کا سردار تھا اور اس نے اسلام پر کئی خونریز جنگیں مسلط کی تھیں، مکمل طور پر غیر فعال موقف میں آ گیا اور دوسرے مشرکین کو مطیع ہونے کی ترغیب دی۔ سورہ نصر کی آیات مذکورہ معاملے اور مکہ کی فتح کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ (رک: طبرسی، ۱۳۷۲، ج۱۰، ص ۸۴۴)
۲۔ ناقابل شکست ہونا
قومی عزم کے اسلامی مزاحمت کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کے آثار اور نتائج میں سے ایک معاشرے کا ناقابل شکست ہونا ہے۔ انقلاب اسلامی کے کپتان کی گہری نگاہ سے: «جب کوئی قوم بیدار ہو جائے، جب کوئی قوم اپنے عزم و ارادے کی قدر کو سمجھ لے، جب کوئی قوم جان لے کہ اگر وہ چاہے اور فیصلہ کرے اور عمل کرے تو کوئی طاقت اس کے مقابلے میں نہیں ٹھہر سکتی، تو ایسی قوم سے لڑنا ممکن نہیں رہتا»۔ (بیانات در دیدار فرماندهان و کارکنان نیروی هوائی ارتش، ۱۹/۱۱/۱۳۸۷)
غزوہ بدر پر ایک مختصر نگاہ اس نکتے پر بخوبی دلالت کرتی ہے کہ قومی عزم اور عمومی پولادین ارادہ، استقامت کے ساتھ، ایک چھوٹی اور کم ساز و برگ قوم کو ناقابل شکست قوم بنا سکتا ہے۔
غزوہ بدر، مسلمانوں اور قریش کے کافروں کے درمیان پہلی اور اہم ترین جنگ ہے جس کا قرآن نے ذکر کیا (آل عمران: ۱۲۳) اور خاص عنایت کے ساتھ اسے سورہ انفال اور آل عمران جیسی سورتوں میں وسیع پیمانے پر لایا اور اس کے بارے میں نکات بیان کیے ہیں۔ (رک: ابن کثیر، ۱۴۰۹ق، ج ۲، ص ۹۸)
تاریخی رپورٹوں کے مطابق، بدر میں مجاہدوں کی تعداد تین سو چند تھی۔ (ر. ک: ابن سعد، ۱۴۱۰ق، ج ۲، ص ۱۴۔ بخاری، ۱۴۲۲ق، ج ۵، ص ۷۳۔ طبرسی، ۱۳۷۲، ج ۲، ص ۷۰۸-۷۰۹) جبکہ مشرکین ۹۵۰ یا ۱۰۰۰ افراد کے ساتھ، گلوکاروں اور خوانندوں اور مکمل ساز و برگ کے ساتھ اور خاص تکبر و غرور کے ساتھ مکہ سے نکلے اور ۱۰۰ گھوڑے بھی خود نمائی کے لیے ساتھ لے کر چلے۔ (یعقوبی، ]بے تا[، ج ۲، ص ۴۵) آیت «إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ» (انفال: ۹) ظاہر کرتی ہے کہ مسلمان پریشان تھے اور خدا سے مدد و یاری مانگ رہے تھے۔ رسول اللہ (ص) نے اتنی دعا کی کہ آپ کی مبارک چادر آپ کے کندھے سے گر گئی۔ (طبرسی، ۱۳۷۲، ج ۴، ص ۸۰۹) خداوند نے بھی نبی کی یہ دعا قبول کی اور ایک چھوٹا مگر پولادین عزم رکھنے والا گروہ، ایک بڑے اور کمزور عزم والے مشرک گروہ پر فتح یاب ہو گیا (مرکز فرهنگ و معارف قرآن، ۱۳۸۶ش، ج۵، ص ۳۸۸)
g. نتائج پژوهش
۱۔ قومی عزم، اسلامی مزاحمت کے بنیادی ارکان میں سے ایک ہے اور اس کے بغیر اسلامی مزاحمت تحقق نہیں پائے گی۔
۲۔ ترقی اور معاشی مشکلات کو برداشت کرنے کی صلاحیت میں اضافہ، مزاحمت کے معاشی ثمرات میں سے ہے۔
۳۔ اجتماعی صبر کی مضبوطی اور غفلت زدائی، قومی عزم کے اسلامی مزاحمت کے ساتھ ہم آہنگی کے سیاسی ثمرات میں سے ہیں۔
۴۔ قومی عزم کا اسلامی مزاحمت کے ساتھ ہم آہنگ ہونا معاشرے کی روحانی سرگرمی (نشاط) کا باعث بنتا ہے۔
۵۔ دشمن کو غیر فعال موقف میں ڈالنا اور ناقابل شکست ہونا، قومی عزم اور اسلامی استقامت کے ہم آہنگی کے نظامی ثمرات میں سے ہیں۔
h. منابع
1.قرآن کریم
2.نہج البلاغہ ، سید رضی، (1412 ق) بہ كوشش عبدہ، قم، دارالذخائر،
3.ابن سعد ، الطبقات الکبری، (1410ق) بہ کوشش محمد عبدالقادر، بیروت، دار الکتب العلمیہ، .
4.ابن شہر آشوب ، مناقب آل ابی طالب، (بی تا)انتشارات علامہ، قم.
5.ابن عاشور ، التحریر والتنویر، (1420ق) بیروت:موسسہ التاریخ العربی،
6.ابن عربی، محمدبن علی، الفتوحات المکیة، بی تا، بیروت: دارصادر
7.ابن منظور، لسان العرب، (1414 ق) دار صادر، بيروت، چاپ سوم.
8.ابن ہشام، عبدالملک، السیرة النبویة، (بی تا)بیروت دارالمعرفة،
9.ابن کثیر ، تفسیر ابن کثیر (تفسیر القرآن العظیم)، ( 1419ق) بیروت، دار الكتب العلمية.
10. احمد بن یعقوب ، تاریخ الیعقوبی، (1415ق)بیروت، دار صادر.
11. بابایی زارچ، ، علی محمد؛ امت و ملت در اندیشہ امام خمینی، (1383) تہران، مرکز اسناد انقلاب اسلامی
12. بحرانى، سيد ہاشم، البرہان فى تفسير القرآن، (1416 ق) بنياد بعثت - تہران، چاپ اول.
13. بخاری، صحیح البخاری، (1422ق)، بیروت، دار طوق النجاة.
14. ثقفی تہرانی ، محمد ، روان جاوید ، (1358ش) تہران، برہان.
15. جوادی آملی، عبداللہ ، 1388، تفسیر تسنیم، قم موسسہ اسراء
16. حسینی شاہ عبدالعظیمی، حسین ، تفسیر اثنی عشری، (1363ش)تہران، میقات.
17. حسینی ہمدانی ، انوار درخشان ، ( 1404ق) قم، چاپخانہ علمیہ.
18. حلبی، علي بن إبراہيم بن أحمد، السیرة الحلبیہ ، (1427ق) بیروت: دار الكتب العلمية ، چاپ دوم.
19. خمینی(امام)، روح اللہ، صحیفہ امام (1389)، تہران: موسسہ تنظيم و نشر آثار امام خمينى( س)
20. دہخدا، علی اکبر، لغت نامہ، (1341) تہران، دانشگاہ تہران
21. راغب اصفہاني، حسين بن محمد، المفردات في غريب القرآن، (1412 ق.) تحقيق: داودي، صفوان عدنان، دمشق، بيروت، دارالقلم، الدار الشامية، چاپ اول.
22. رشید، غلامعلی و مرادی، حجت الہ، «راہکارہای حفظ و ارتقاء روحیہ و عزم ملی در نسل چہارم جنگ ہا»، (1391)، مجلہ مطالعات دفاعی استراتژیک، شمارہ 49
23. زمخشری، جاراللہ، الكشّاف عن حقايق التنزيل، (1407 ق) بیروت: دار الكتاب العربي.
24. سند چشمانداز جمہوري اسلامي ايران در افق ۱۴۰۴ ، سایت مقام معظم رہبری: 12/08/1382
25. شفیعی نیا، احمد، 1432ق، فقہ المقاومة، تہران: المجمع العالمی للتقریب بین المذاہب الاسلامیة
26. شیخ شعاعی، محمدعلی؛ ناسیونالیسم از دیدگاہ اسلام، (1386) قم: دفتر عقل.
27. صادقی تہرانی، محمد ، الفرقان ، (1365ش) تہران، فرہنگ اسلامی.
28. طباطبائی، محمد حسین ، المیزان، (1417 ق) قم: دفتر انتشارات اسلامى جامعہى مدرسين حوزہ علميہ قم،
29. طبرسی ، فضل بن حسن، مجمع البیان، (1415ق)بہ کوشش گروہی از علماء، بیروت، اعلمی.
30. طبرسی، احمد بن علی، الاحتجاج، (1421ق)بیروت:موسسہ الاعلمی للمطبوعات.
31. طریحی، فخر الدین ، مجمع البحرین، (1375) تہران: كتابفروشى مرتضوى .
32. عروسی حویزی، عبد علی بن جمعہ، نور الثقلین، (1415ق)قم: اسماعیلیان.
33. فراہیدی، خلیل بن احمد، کتاب العین، (1409ق)قم: انتشارات ہجرت.
34. فضل اللہ ، سید محمد حسین ، من وحی القرآن، (1419ق) بیروت، دار الملاک.
35. قمی، علی بن ابراہیم، تفسیر القمی، (1367) بہ کوشش الجزائری، قم، دار الکتاب، .
36. کلینی، محمد ، کافی، (1365ش) بہ کوشش غفاری، تہران، دار الکتب الاسلامیہ.
37. مجلسى ، محمد تقی، بحارالانوار، (1403 ق) بیروت، موسسہ الوفاء، .
38. مرکز فرہنگ و معارف قرآن، دائرہ المعارف قرآن کریم، (1386)، قم، بوستان کتاب.
39. مصطفوي، حسن، التحقيق في کلمات القرآن الکريم، (1360) تہران، ترجمہ و نشر کتاب.
40. معین، محمد، فرہنگ معین، (1381) تہران، انتشارات ادنا، چاپ چہارم،
41. مکارم شیرازی و دیگران، نمونہ، (1375) تہران، دار الکتب الاسلامیہ.
[1]۔ اٹھارویں صدی کے سوئس مفکر (پیدائش 1712، وفات 1778)
[2]۔ امریکی ماہرِ نظریات اور امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے سابق وائس چیئرمین

