امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک

کیا امام حسین علیہ السلام نے خودکشی کی تھی؟

0 ووٹ دیں 00.0 / 5

کیا امام حسین علیہ السلام نے خودکشی کی  تھی؟

مؤلف: الشيخ محمدجواد مغنية

مترجم: یوسف حسین عاقلی

http://alhassanain.org/arabic/?com=content&id=6999

 

کوئی شخص سوال کر سکتا ہے: ابراہیم خلیل علیہ السلام نے اپنی قوم کے جذبات کو کیسے چیلنج کیا، اور انہیں ان کے معبودوں اور سب سے بڑی مقدسات میں ذلیل کیا، اور نمرود صاحبِ قوت و شوکت کی پروا نہیں کی؟!

 حالانکہ وہ ہتھیار، مال اور مددگار سے عاری تھے، یہاں تک کہ ان کے والدین بھی ان کی حمایت اور دفاع کی جرات نہ کر سکے۔ خلیل نے اپنی قوم کے معبودوں کو توڑ ڈالا، انہیں پاؤں تلے روند دیا، اور ہزاروں افراد سے کہا:

﴿ أُفٍّ لَكُمْ وَلِمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَفَلَا تَعْقِلُونَ ﴾ 1،

 اور انہوں نے ان کی گرفت اور اس آگ کا خوف نہ کیا جو انہیں زندہ جلانے کے لیے بھڑکائی گئی تھی۔ اور موسیٰ کلیم علیہ السلام جو ماریے ہوئے اور بھاگے ہوئے تھے، جنہوں نے زمین کی سبزی کھائی یہاں تک کہ ان کے پیٹ کی شفافیت سے اس کی سبزی نمایاں ہو گئی تھی، اور یہاں تک کہ انہوں نے اپنے رب سے روٹی کا ایک ٹکڑا مانگا اور گڑگڑا کر کہا:

﴿ ... رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنْزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ ﴾ 2۔

روٹی کے ٹکڑے کا یہ محتاج فرعون متاہلہ کے سامنے چلاتا ہے، جو نیل کا مالک اور وسیع و عریض سلطنت کا حاکم ہے، اور اس سے کہتا ہے: ”تو گمراہ اور گمراہ کرنے والا ہے! ... اور محمد یتیم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم 3

 جو دنیا کی کسی چیز کے مالک نہیں تھے 4،

انہوں نے عربوں کے سردار قریش کے خوابوں کو کیسے بے وقوف قرار دیا اور ان کے معبودوں کو برا بھلا کہا؟

اور کس طاقت سے انہوں نے مشرق کے بادشاہ کسریٰ اور مغرب کے بادشاہ قیصر کو دھمکایا، اور ہر ایک کو لکھا: اسلام لاؤ، سلامتی پاؤ 5؟!

 اور ایک لفظ میں، وہ طاقت کیا ہے؟

 اور وہ محرک کیا ہے جس نے انبیاء اور رسولوں کو ان مہم جوئیوں پر آمادہ کیا جن پر کوئی دیوانہ کے سوا قدم نہیں رکھتا جو نہیں جانتا کیا کہہ رہا ہے، یا کوئی رسول جو اپنی زبان سے نہیں بلکہ ایک خارق طاقت کی زبان سے بولتا ہے، اور تمام طاقتوں سے بالاتر ہے؟!

 اور اس میں کوئی شک نہیں کہ جب انبیاء جابر ظالموں اور صاحبِ جاہ و سلطنت لوگوں کو حق کی دعوت دیتے ہیں، تو وہ انہیں ایک ناقابلِ مزاحمت طاقت سے دھکیلتے ہوئے پکارتے ہیں، اور وہ اس اللہ کے نام سے انہیں مخاطب کرتے ہیں جس پر انہیں اپنی جانوں سے بھی زیادہ ایمان ہے، اور اس وحی کے نام سے جسے وہ اپنی عقلوں اور کانوں سے سنتے ہیں۔

فوج اپنے کمانڈر اور سربراہ کے حکم سے آگے بڑھتی ہے یا پیچھے ہٹتی ہے، اور سوار میدان میں نکلتے ہیں، قتل کرتے ہیں یا قتل ہوتے ہیں، اور جو قتل ہو جاتا ہے وہ شہید ہے، جس کے لیے تکریم اور تعظیم کی تقریبات منعقد کی جاتی ہیں، اور عوامی چوکوں میں اس کے لیے یادگاریں اور مجسمے بنائے جاتے ہیں، اور اس کی قبر پر پھولوں کے ہار رکھے جاتے ہیں۔ اور اسی طرح انبیاء اللہ کے حکم اور اس کی قیادت سے آگے بڑھتے ہیں، اور اہل قوت و سلطنت سے اللہ کے حکم اور ارادے سے ٹکراتے ہیں، تو یا تو فتح یاب ہوتے ہیں یا قتل ہو جاتے ہیں، اور وہ دونوں حالتوں میں عظیم ہیں، اللہ کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں اور اسی کے مطابق عمل کرتے ہیں، پس اگر وہ شہید ہو جاتے ہیں تو وہ شہید ہوتے ہیں جبکہ اللہ کا کلام اپنی مخلوق تک پہنچا رہے ہوتے ہیں، اور انسان کو اخلاص اور قربانی کی اعلیٰ ترین حالتوں میں پیش کرتے ہیں۔ یہ اہل دین اور عقل کا منطق ہے، اور یہی اہل ایمان اور وجدان کا عقیدہ ہے، رہے وہ ملحدین جو اس دور کے نوجوانوں میں سے ہیں اور اللہ اور آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، اور ان سے پہلے اور بعد کے سادہ لوح اور بے وقوف لوگ، تو وہ کہتے ہیں: حسین نے عراق کی طرف نکل کر جوکھم اٹھایا، کیونکہ وہاں کے لوگ دغاباز اور منافق تھے، اور ان کے والد اور بھائی کے ساتھی تھے، اور اگر وہ نکلے اور ان کے خطوط اور قاصدوں نے انہیں دھوکہ دیا، تو انہیں چاہیے تھا کہ جب انہوں نے اپنی جان اور اہل و عیال کا دفاع کرنے سے عاجز دیکھا تو ہتھیار ڈال دیتے۔

 انہوں نے یہ کہا جبکہ وہ سمجھتے ہیں کہ شہادت اس شخص کے لیے فضیلت ہے جو ایک ایسے قائد کے ساتھ شہید ہو جو اسلحہ اور افراد رکھتا ہو، جبکہ حسین ان کے نزدیک جوکھم اٹھانے والے تھے کیونکہ وہ بغیر کسی مددگار طاقت اور حامی سلطان کے شہید ہوئے۔ یہ کہنے والے سمجھنے میں خطا کرتے ہیں، اور اپنی ناک سے آگے نہیں دیکھتے، کہ حسین اپنی طرف سے نہیں اٹھے، اور نہ ہی وہ اس زندگی کی کسی چیز کی خواہش میں عراق گئے، بلکہ وہ اللہ کے حکم سے نکلے، اللہ کی مرضی سے لڑے، اور اللہ کی بارگاہ میں شہید ہوئے، جیسے ایک سپاہی کو جب اس کے کمانڈر اور افسر کے احکام صادر ہوتے ہیں تو اس کے لیے جنگ اور مقابلے کے سوا کوئی چارہ نہیں، اسی طرح حسین کے لیے بھی اللہ کے حکم کے بعد فرار اور بچاؤ کا کوئی راستہ نہ تھا ... جو کچھ انہوں نے کیا اور کیا، اس حقیقت کی تائید حسین کا وہ قول ہے جو انہیں نکلنے سے روکنے والوں کو کہا، چنانچہ ان کے پاس آنے والوں میں جابر بن عبداللہ انصاری بھی آئے، اور انہوں نے کہا: آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بیٹے اور ان کے دو نواسوں میں سے ایک ہیں، میری رائے میں آپ کو چاہیے کہ مصالحت کریں جیسا کہ آپ کے بھائی نے کیا، کیونکہ وہ ایک دانشمند موقف تھا۔

تو حسین نے ان سے کہا: اے جابر! میرے بھائی نے یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم سے کیا، اور میں بھی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم سے کر رہا ہوں۔ اور یہ جواب ہمیں حسین کی پوری زندگی میں ان کے رویے کی وضاحت کرتا ہے، اور کسی قائل کے لیے کوئی بات نہیں چھوڑتا، کہ وہ اللہ کے حکم سے اور اپنے نانا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت پر چل رہے ہیں، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حدیبیہ کا صلح مکہ کے مشرکین سے اللہ کے حکم سے کیا، اور صلح نامے سے

 ”بسم اللہ الرحمن الرحیم“

 اور ”محمد رسول اللہ“ کے الفاظ اللہ کے حکم سے مٹائے، اور ان کے والد (علی) نے صفین میں تحکیم کو اللہ کے حکم سے قبول کیا، اور ان کے بھائی حسن نے معاویہ سے اللہ کے حکم سے صلح کی، اور انہوں نے اپنی مبارک تحریک اللہ کے حکم سے شروع کی، جو لوگ حسین کی تحریک پر اعتراض کرتے ہیں، وہ چیزوں کی حقیقی تفسیر نہیں کرتے، نہ دینی تفسیر، بلکہ وہ انہیں ایک محض ذاتی اور شخصی تفسیر سے تعبیر کرتے ہیں جس کا علم اور دین سے کوئی تعلق نہیں، اور وہ اللہ کی حکمت اور اس کی بالغ حجت کو نہیں دیکھتے:

﴿ ... لِيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْ بَيِّنَةٍ وَيَحْيَىٰ مَنْ حَيَّ عَنْ بَيِّنَةٍ ... ﴾ 11۔

سید الشہدا نے اللہ کا کلمہ بیان کیا، حق کی دعوت دی، اور مخالفین کو ظلم و طغیان کے انجام سے ڈرایا، چنانچہ ان کا طف کے دن کا خطبہ ہے: ”تم پر لعنت ہو، اے امت کے غلاموں، گروہوں کے بکھرے ہوئے لوگو، کتاب کے نکالے ہوئے، شیطان کے پھینکے ہوئے، گناہوں کی جماعت، کتاب کو مسخ کرنے والوں، سنتوں کو بجھانے والوں، تم پر افسوس ...!

اور ہم سے تم کنارہ کشی کرتے ہو، ہاں اللہ کی قسم، تم میں خذلان مشہور ہے، تمہاری جڑیں اس پر پلی بڑھیں، اور تمہاری شاخوں نے اس پر تعاون کیا، اور تمہارے دلوں نے اس پر استقامت پائی، اور تمہارے سینوں کو ڈھانپ لیا، پس تم بدترین پھل بن گئے: دیکھنے والے کو پریشان کرنے والے، اور چھیننے والے کے لیے کھانے کی چیز۔

سنو! یہ دعی ابن دعی نے دو چیزوں کے درمیان کر دیا ہے:

 تلوار اور ذلت، اور ہم سے ذلت دور ہے، اللہ اور اس کا رسول اور مومنین ہمیں اس سے منع کرتے ہیں، اور پاکیزہ جدود، پاک دامن، بلند ناک، اور ابا کرنے والی نفوس، جو بدکاروں کی اطاعت کو شریفانہ موت کے میدان پر ترجیح نہیں دیتیں۔۔۔۔

اللہ کی قسم! تم اس کے بعد زیادہ دیر نہیں ٹھہرو گے مگر جتنی دیر میں گھوڑا سوار کو لے جائے، یہاں تک کہ وہ تمہیں چکی کی طرح گھمائے گا اور محور کی طرح ہلائے گا، یہ عہد میرے والد نے میرے نانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مجھے دیا ہے:

﴿ ... فَأَجْمِعُوا أَمْرَكُمْ وَشُرَكَاءَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُنْ أَمْرُكُمْ عَلَيْكُمْ غُمَّةً ثُمَّ اقْضُوا إِلَيَّ وَلَا تُنْظِرُونِ ﴾ 13؛ ﴿ إِنِّي تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ رَبِّي وَرَبِّكُمْ مَا مِنْ دَابَّةٍ إِلَّا هُوَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا إِنَّ رَبِّي عَلَىٰ صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ ﴾ 14۔

 

اور حسین نے جب انہیں ان کے کزن مسلم کی شہادت کی خبر ملی تو کہا:

وقال الحسين ، حين بلغه مقتل ابن عمّه مسلم : «وأيم الله لتقتلني الفئة الباغية ، وليلبسنّهم الله ذلا شاملا ، وسيفا قاطعا» 15  .

”اور اللہ کی قسم! یہ باغی گروہ مجھے ضرور قتل کرے گا، اور اللہ انہیں ایک جامع ذلت اور کاٹتی ہوئی تلوار پہنائے گا۔“

یہ قول اتفاقی پیشین گوئی نہیں تھا، اور نہ ہی واقعات کے تسلسل سے اخذ کیا گیا تھا، ہرگز نہیں، بلکہ یہ ویسا ہی تھا جیسا کہ امام نے فرمایا:

اللہ سبحانہ کی طرف سے اس کے نبی محمد کو عہد، اور اس سے امیرالمومنین کو، اور اس سے امام شہید کو، اور تاریخ نے اس کی تصدیق کی، اور اس میں کوئی کمی نہیں آئی،

 چنانچہ حسین علیہ السلام کے قاتل زیادہ عرصہ نہ گزرا کہ زمانے نے اپنے چکر انہیں گھمائے اور اپنی ضربیں لگائیں۔

لقد دعا نبيّ الله يحيى إلى الواحد الأحد ، فقتله جبّار أثيم ، وأهدى رأسه بطست إلى بغي 16

اللہ کے نبی یحییٰ نے واحد احد کی دعوت دی تو ایک ظالم جبار نے انہیں قتل کر دیا، اور ان کا سر ایک بدکار عورت کو طشت میں پیش کیا،

اور حسین نے حق اور عدل کی دعوت دی تو ظالموں نے انہیں قتل کر دیا اور ان کا سر ملعون یزید کو پیش کیا، اور زکریا اور دوسرے انبیاء کو قتل کیا گیا جبکہ وہ بشارت اور ڈر سناتے تھے، پس اگر حسین حق اور عدل کی خاطر اپنی شہادت میں خطا پر تھے، تو پھر انبیاء، اولیاء اور مصلحین بھی خطا پر تھے جنہیں اللہ کی راہ میں، حق کے کلمے کو بلند کرنے، اور باطل پر حجت قائم کرنے کے لیے قتل کیا گیا اور ستایا گیا۔

قال عليّ بن الحسين : «ما نزل أبي منزلا ، أو ارتحل عنه في مسيره إلى العراق إلّا وذكر يحيى بن زكريا». وقال يوما ، «من هوان الدّنيا على الله أنّ رأس يحيى بن زكريّا أهدي إلى بغي من بغايا بني إسرائيل ... 17  .

 علی بن حسین نے فرمایا: ”میرے والد عراق کی طرف اپنے سفر میں کوئی منزل نہیں اترے اور نہ ہی اس سے کوچ کیا مگر انہوں نے یحییٰ بن زکریا کا ذکر کیا۔“

 اور ایک دن فرمایا: ”دنیا کی اللہ کے نزدیک ذلت کی بات ہے کہ یحییٰ بن زکریا کا سر بنی اسرائیل کی ایک بدکار عورت کو پیش کیا گیا۔“

حسین نے یحییٰ کا ذکر دونوں کے درمیان مشابہت کی وجہ سے کیا، کیونکہ حسین کا سر بھی اموی بدکار عورتوں کو پیش کیا گیا جو عربوں اور مسلمانوں پر اس دور کے صہیونیوں سے زیادہ بری اور نقصان دہ تھیں۔ ۱۸

یزید نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت میں حسین کا سر نیزے پر چبھو کر کھجور کی شاخ سے مارا، کیونکہ اس شریف سر میں قرآن کریم اور عظیم رسول کا علم تھا۔

 

کیا شام کو فاطمہ کے بیٹے کا سر پیش کیا جائے *** اور اس کا دشمن اسے کھجور کی شاخ سے مارے

اور نبی کی عورتوں کو برہنہ سر قید کیا جائے *** جو اپنے غم میں ایک دوسرے کو تسلی دیتی ہیں

حسین کا سر نیزے پر انہیں جھلملاتا ہے *** تو وہ روتی ہیں اور ایک چمکتی ہوئی چیز انہیں صبر سے روکتی ہے-۱۹

 

_____________

 

    1. القران الكريم: سورة الأنبياء (21)، الآية: 67

    2. القران الكريم: سورة القصص (28)، الآية: 24

    3. ماتت أمّه ، وله ست سنين. انظر ، الخصائص الكبرى : ١ / ٨٠. الحاوي للفتاوي : ٢ / ٢٢ ، السّيرة ـ لزيني دحلان بهامش السّيرة الحلبيّة : ١ / ٥٧. السّيرة لابن هشام : ١ / ١٦٨ ، مروج الذّهب : ٢ / ٢٧٥ ، الطّبقات الكبرى لابن سعد : ١ / ١١٦ ، البداية والنّهاية لابن كثير : ٢ / ٢٥٥ ، تأريخ الطّبريّ : ٢ / ٢٧٢ ، الرّوض الأنف للسّهيلي : ١ / ٨ ، تأريخ اليعقوبيّ : ٢ / ٦ ، حاشية البجيرميّ : ٢ / ٢٤٩ ، مسالك الحنفا : ٦٣ ، دلائل النّبوّة للبيهقي : ١ / ١٨٨.

    4. كلّ ما ورثه النّبيّ صلى‌الله‌عليه‌وآله من أبويه أمة ، وهي أمّ أيمن ، وخمسة جمال ، وقطيعة غنم ، وقد أعتق أمّ أيمن حين تزوّج بخديجة. (منه قدس‌سره). انظر ، تركة النّبي : ١ / ١٠١.

    5. انظر ، صحيح البخاري : ١ / ٩ ، صحيح مسلم : ٣ / ١٣٩٦ ، مسند أحمد : ١ / ٢٦٢ ، صحيح ابن حبّان : ١٤ / ٤٩٥ ، مسند أبي عوانه : ٤ / ٢٦٨ ، السّنن الكبرى للبيهقي : ٩ / ١٧٦ ، معتصر المختصر : ١ / ٢٠٧ ، المعجم الكبير : ٨ / ١٥ ، تفسير ابن كثير : ٣ / ٣٩٥ ، تفسير البيضاويّ : ٤ / ٩ ، أسباب النّزول : ١٦٩.

    6. انظر ، العواصم من القواصم ، تحقّيق : محبّ الدّين الخطيب ـ طبع سنة (١٣٧١ ه‍) : ٢٣٢. مثل هذه الأكاذيث والمقولات الموضوعة ، أو الّتي لا تفسّر بشكلها الصّحيح هي الّتي شلّت حركة الأمّة ، وجعلتها قابعة تحت سيطرة الحاكم المستبد ، وأطفأت الرّوح الجهاديّة في الأمّة. هذا أوّلا.

    وثانيّا : ليست هذه هي المرّة الأولى الّتي نقرأ فيها الزّور ، والبهتان على الشّيعة ، فلقد عودنا بعض الكتّاب المستأجرين من المستعمرين ، والوهابيّين على شحنائهم ، وأسوائهم الّتي استفاده منها أعداء الإسلام والمسلمين ، ولم تضر الشّيعة شيئا ، ولكن الشّيء الجديد هو هذا الكذب الصّراح على الله والرّسول ، وتحريف آي الذّكر الحكيم ، والدّس في سنّة الرّسول العظيم ...

    ووليس من شكّ أنّ السّكوت عن الجبهان ، ومحبّ الدّين الخطيب ، وغيرهما ممّن كتب ونشر ، وحمل ـ وتحامل على الشّيعة والتّشيّع لآل الرّسول قد أدّى كنتيجة طبيعيّة إلى الكذب والإفتراء على الله وآياته ، والنّبيّ وعترته ، والإسلام وحماته.

    وثالثا : وهذه «رسالة العقيدة الواسطية» لابن تيميّة الّذي يقدّسه الوهابيون «فصل في سنّة رسول الله» جاء فيه : «ينزل ربّنا إلى سماء الدّنيا كلّ ليلة حين يبقى ثلث اللّيل الآخر فيقول : من يدعوني استجب له؟ من يسألني أعطيه؟ من يستغفرني فاغفر له؟» ثمّ قال ابن تيمية : هذا متفق عليه ... وأيضا جاء فيه : «لا تزال جهنّم يلقى فيها وهي تقول : هل من مزيد؟ حتّى يضع ربّ العزّة فيها رجله فتقول : قطّ قطّ» وقال أيضا : متفق عليه. انظر ، الفصل في الأهواء والملل والنّحل : ١ / ١٦٧. ورابعا : لقد وجد معاوية أبا هريرة ، وسمرة بن جندب يضعان الأحاديث الكاذبة على لسان الرّسول في مدح معاوية ، والطّعن على عليّ ؛ كما وجد ولده يزيد شيخا يقول : أنّ الحسين قتل بسيف جدّه! ... لم توجد هذه الكلمة في تأريخ ابن خلدون الموجود الآن ، وكأنّه ذكرها في النّسخة الّتي رجع عنها كما قال بعض المؤرّخين. انظر ، الضّوء اللّامع : ٤ / ١٤٧ ، فيض القدير شرح الجامع الصّغير : ١ / ٢٦٥ ح ٢٨١ و : ٥ / ٣١٣ ح ٧١٦٣.

    7. انظر ، الثّاقب في المناقب : ٣٢٢ ح ٢٦٦ ، معالم السّبطين : ١ / ٢١٦.

    8. في سنة خمس للهجرة خرج النّبيّ من المدينة إلى مكّة في ناس من أصحابه يريد العمرة ، فمنعه المشركون من دخولها ، ثمّ وقع الصّلح بينه وبينهم على أن يترك العمرة هذه السّنة إلى السّنة القادمة فيدخل مكّة بلا سلاح ، وأمر النّبيّ عليّا أن يكتب كتاب الصّلح ، فكتب بسم الله الرّحمن الرّحيم : هذا ما قاضى عليه محمّد رسول الله ، فأبى المشركون إلّا محو البسملة والشّهادة لمحمّد بالرّسالة ، فقال النّبيّ للإمام : أمح. فقال الإمام : إنّ يدي لا تنطلق بمحو اسمك من النّبوّة ، والتفت إلى مندوب المشركين ، وقال له : أنّه رسول الله رغم أنفك ، فتولى النّبيّ صلى‌الله‌عليه‌وآله المحو بنفسه. (منه قدس‌سره).

    انظر ، سنن التّرمذي : ٥ / ٢٩٨ ح ٣٧٩٩ ، الفضائل لأحمد : ٢ / ٦٤٩ ، مسند أحمد : ١ / ١٥٥ ، المستدرك للحاكم : ٢ / ١٣٧ ، تأريخ الطّبري : ٤ / ٤٨ ، مروج الذّهب : ٢ / ٤٠٤.

    9. لقد تكلّم الشّارحون عن حرب الخوارج ، ومروقهم ، وأطال المؤرخون الحديث عن أحوالهم ، ووضع فيهم العديد من المؤلفات ، ومن أحبّ معرفة التّفاصيل فليرجع إليها ، وإلى أقوال شارحي النّهج ... وغرضنا الآن أن نشير إلى موقف أمير المؤمنين عليه‌السلام منهم ، ويتلخص بأنّه حاول جهد المستطاع أن لا يهيجهم في شيء. ومن جملة ما قال لهم : «ألم أقل عند رفع المصاحف : إنّ معاوية ورهطه ليسوا بأصحاب دين ، ولا قرآن ، وإنّما هم يكيدون ، ويخدعون ، ويتّقون حرّ السّيف؟. فأبيتم إلّا إيقاف القتال ، والكف عنه ، وإلّا التّحكيم ، وإلّا الأشعريّ .. فرضيت مكرها خوف الفتنة ، ورضوخا لأهون الشّرين .. وأيضا قلت لكم بعد التّحكيم : أخذنا عليهما ألّا يتعدّيا القرآن فتاها عنه ، وتركا الحقّ ، وهما يبصرانه ، وكان الجور هواهما فمضيا عليه»؟.

    انظر ، نهج البلاغة من كلام له عليه‌السلام رقم (١٢٧) ، البداية والنّهاية : ٩ / ٣٣٩ ، الإحتجاج : ٢ / ٥٨ ، الإرشاد : ٢ / ١٦٥ ، أنساب الأشراف : ٢ / ٣٥٧ ، الأخبار الطّوال : ٢٠٩ ، تأريخ ابن خلدون : ق ٢ / ج ٢ / ١٧٧ ، ينابيع المودّة : ٢ / ٢٠ ـ ٢١ ، وقعة صفّين : ٥١٧ ، الإمامة والسّياسة : ١ / ١٦٨ ، الكامل لابن الأثير : ٢ / ٤٠٤.

    10. اختلف المؤرّخون اختلافا كثيرا فيمن بدر لطلب الصّلح ، فابن خلدون في تأريخه : ٢ / ١٨٦ ذهب إلى أنّ المبادر لذلك هو الإمام الحسن عليه‌السلام حين دعا عمرو بن سلمة الأرحبي وأرسله إلى معاوية يشترط عليه بعد ما آل آمره إلى الإنحلال ، وقال ابن الأثير في الكامل : ٣ / ٢٠٥ مثل ذلك ؛ لأنّ الإمام الحسن عليه‌السلام رأى تفرّق الأمر عنه ، وجاء مثله في شرح النّهج لابن أبي الحديد : ٤ / ٨.

    وأمّا ابن أعثم في الفتوح : ٢ / ٢٩٢ قال : ثمّ دعا الحسن بن عليّ بعبد الله بن نوفل بن الحارث بن عبد المطّلب بن هاشم وهو ابن اخت معاوية فقال له : صرّ إلى معاوية فقل له عنّي : إنّك إن أمنت النّاس على أنفسهم ... وقريب من هذا في تأريخ الطّبري : ٦ / ٩٢ ، والبداية والنّهاية : ٨ / ١٥ ، وابن خلدون : ٢ / ١٨٦ ، وتأريخ الخلفاء : ٧٤ ، والأخبار الطّوال : ٢٠٠ ، وتأريخ اليعقوبيّ : ٢ / ١٩٢.

    أمّا الفريق الآخر فقد ذكر أنّ معاوية هو الّذي طلب وبادر إلى الصّلح بعد ما بعث إليه برسائل أصحابه المتضمّنة للغدر والفتك به متى شاء معاوية أو أراد ، كما ذكر الشّيخ المفيد في الإرشاد : ٢ / ١٣ و ١٤ وصاحب كشف الغمّة : ١٥٤ ، ومقاتل الطّالبيّين : ٧٤ ، وتذكرة الخواصّ لسبط ابن الجوزي : ٢٠٦ ولكننا نعتقد أنّ معاوية هو الّذي طلب الصّلح ، وممّا يدل على ذلك خطاب الإمام الحسن عليه‌السلام الّذي ألقاه في المدائن وجاء فيه : ألا وإنّ معاوية دعانا لأمر ليس فيه عزّ ولا نصفه ...

    انظر ، الكامل في التّاريخ : ٣ / ٢٠٥ ، وتأريخ الطّبري : ٦ / ٩٣.

    11. القران الكريم: سورة الأنفال (8)، الآية: 42

    12. انظر ، تأريخ الطّبري : ٥ / ٤٢٥ ـ ٤٢٦ طبعة سنة ١٩٦٤ م ، الكامل في التّأريخ : ٣ / ٢٨٧ ـ ٢٨٨.

    13. القران الكريم: سورة يونس (10)، الآية: 71

    14. القران الكريم: سورة هود (11)، الآية: 56

    15. انظر ، الفتوح لابن أعثم : ٥ / ٧٩ ، مقتل الحسين عليه‌السلام للخوارزمي : ١ / ٢٢٦ ، مثير الأحزان : ٤٦ ، أعيان الشّيعة : ١ / ٥٩٥ ، اللهوف في قتلى الطّفوف : ٢٩.

    16. انظر ، الفتوح لابن أعثم : ٥ / ٤٢ مقتل الإمام الحسين : ١ / ١٩٢ ، اللهوف في قتلى الطّفوف : ١٢.

    17. انظر ، مستدرك الحاكم : ٢ / ٢٩٠ و : ٣ / ١٧٨ ، كنز العمّال : ١٢ / ١٢٧ ح ٣٤٣٢٠ ، فيض القدير : ١ / ٢٦٥ ، تفسير القرطبي : ١٠ / ٢١٩ ، الدّر المنثور : ٤ / ٢٦٤ ، تأريخ ابن عساكر : ١٤ / ٢٢٥ و : ٦٤ / ٢١٦ ، بغية الطّلب في تأريخ حلب : ١ / ٩٣ ، تأريخ بغداد : ١ / ١٥٢.

    18. انظر ، سنن التّرمذي : ٥ / ٦٥٩ ، موارد الظّمآن : ١ / ٥٥٤ ، مسند أبي يعلى : ٥ / ٢٢٨ ، المعجم الكبير : ٣ / ١٢٥ و : ٥ / ٢٠٦ و ٢١٠ ، تحفة الأحوذي : ١٠ / ١٩١ و ٣٠٧ ، سير أعلام النّبلاء : ٣ / ٢٦١ و ٣١٥ و ٣٢٠ ، تهذيب الكمال : ٦ / ٤٣٤ ، تأريخ واسط : ١ / ٢٢٠ ، فضائل الصّحابة لأحمد : ٢ / ٧٨٣ ، تأريخ الطّبري : ٣ / ٣٠٠ ، الإتحاف بحبّ الأشراف الشّيخ عبد الله بن محمّد بن عامر الشّبراوي : ١٥٢ ، بتحقّيقنا.

    19. المصدر : كتاب الحسين و بطلة كربلاء : 33 ، للعلامة الفقيد الشيخ محمد جواد مغنية رحمه الله .

آپ کا تبصرہ شامل کریں

قارئین کے تبصرے

کوئی تبصرہ موجودنہیں ہے
*
*

امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک